اے ایم یو کورٹ میں خواتین نظر انداز کیوں؟

Share Article

اے یو آصف

یہ کیسی ستم ظریفی ہے کہ جس تعلیم گاہ میں خواتین کے کاز کے مسیحا ٹھاکر داس (شیخ عبداللہ عرف پاپا میاں) جیسے عظیم انسان رہے ہوں اور آج بھی جہاں کیمپس میں واقع عبداللہ کالج اور عبداللہ ہوسٹل اس کے ناقابل علیحدہ (Inseparable) اجزاء بنے ہوئے ہیں نیز 1920 میں یونیورسٹی کا درجہ پانے پر جس کی اولین چانسلر ایک خاتون نواب بھوپال سلطان جہاں بیگم رہی ہوں، آج اس کی فیصلہ ساز انجمن، اے ایم یو کورٹ میں تقریباً 200 اراکین میں ایک بھی منتخب رکن کوئی خاتون نہیں ہیں؟ ابھی حال میں بڑے دھوم دھام سے اس انجمن میں نئے 42 اراکین کا جو اعلان ہوا، ان میں بھی خواتین ندارد ہیں۔ اے ایم یو کورٹ میں خواتین کو نظر انداز کیے جانے پر ہندوستانی خواتین سخت ناراض ہیں، جس کا اندازہ چند سرکردہ خواتین کے ردِ عمل کو دیکھ کر ہوتا ہے۔

p-5اٹھارہ سو ستاون میں سرسید احمد خاں کے ذریعے علی گڑھ میں ’مدرستہ العلوم مسلمانانِ ہند‘ کے نام سے قائم کیا گیا تعلیمی ادارہ، جو کہ بعد میں محمڈن اینگلو اورینٹل کالج (ایم اے او کالج) بن گیا اور 1920 میں یونیورسٹی کا درجہ پاکر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کہلایا اور فی الوقت جس کے علی گڑھ میں اصل کیمپس کے علاوہ ملاپورم (کیرالہ) اور مرشد آباد (مغربی بنگال) میں پورے طور پر چل رہے دو آف کیمپس سنٹرس قائم ہیںاور کشن گنج (بہار) اور اورنگ آباد (مہاراشٹر) میں دو مزید سنٹرس کو قائم کرنے کی تیاریاں چل رہی ہیں، بلا شبہ ہندوستانی مسلمانوں کا سب سے اہم اور پر وقار تعلیمی مرکز ہے۔ یہ ملک میں مسلمانوں کی تعلیم و تربیت کی علامت بھی سمجھا جاتا ہے۔ یہاں سے گزشتہ 138 برسوں میں کئی لاکھ طلباء و طالبات تعلیم سے فراغت کے بعد نکلے اور قومی و بین الاقوامی طور پر مختلف شعبۂ حیات میں خدمات انجام دیں۔ ابتدا میں بچیوں کی تعلیم کا کوئی نظم نہیں تھا، مگر کشمیری باشندہ مہتہ گرمکھ سنگھ کے بیٹے ٹھاکر داس، جو کہ 1891 میں مشرف بہ اسلام ہو جانے کے بعد شیخ عبداللہ عرف پاپا میاں (1874-1965) بن گئے اور خود 1920 سے لے کر 1965 تک اے ایم یو کورٹ کے رکن رہے، کی سرسید سے قربت اور بچیوں کی تعلیم و تربیت میں خصوصی دلچسپی کے سبب اس تعلیم گاہ سے بچیوں نے خود خوب فائدہ اٹھایا اور اپنے آپ کو ایمپاور کیا، اس کا نام روشن کیا اور ساتھ ہی ساتھ اسے مختلف حیثیتوں میں فیض بھی پہنچایا۔
یہی وجہ ہے کہ مسلم خواتین کو اس عظیم دانش گاہ سے الگ کرکے ہرگز نہیں دیکھا جا سکتا ہے اور اس کی ترقی کا کوئی بڑا منصوبہ نہیں بنایا جا سکتا ہے۔ اس حقیقت کو کون جھٹلا سکتا ہے کہ 1920 میں یونیورسٹی کا درجہ ملنے کے بعد دانش کدہ کی اولین چانسلر نواب بھوپال سلطان جہاں بیگم تھیں۔
سرسید کے ذریعے ایم اے او کالج کے قیام کے 21 برس بعد ہی اساسی انجمن مسلم ایجوکیشنل کانفرنس میں بچیوں کی تعلیم کی اہمیت کے پیش نظر خواتین کی تعلیم کا ایک سیکشن بنایا گیا اور جسٹس کرامت حسین اس کے بانی سکریٹری بنے اور نواب محسن الملک، صاحبزادہ آفتاب احمد خاں، سلطان احمد اور حاجی اسمٰعیل خاں جیسی ہستیاں اس کاز کے لیے معاونین کے طور پر سامنے آئیں۔ بعد ازاں امید علی، غلام الثقلین اور حاجی اسمٰعیل خاں و دیگر شخصیات نے اس زمانے میں بچیوں کی تعلیم پر اٹھائے گئے سوالات کا ملک کے اخبارات و جرائد بشمول ’علی گڑھ انسٹیٹیوٹ گزٹ‘ میں مراسلے اور مضامین لکھ کر بھرپور جواب دیا اور مخالف ماحول کو سازگار بنایا۔ تب جاکر 1899 میں کولکاتا میں مسلم ایجوکیشنل کانفرنس کے سالانہ اجلاس میں ملک کے مختلف مقامات پر بچیوں کے اسکول کھولنے کا انقلابی فیصلہ لیا گیا۔ اس موقع پر یہ بھی طے کیا گیا کہ طالبات کے مجوزہ اسکولوں کے نصاب کی تیاری میں علماء سے مشورہ کیا جائے گا اور اسی کے ساتھ ساتھ نصاب میں سائنس اور سوشل سائنسز جیسے جدید موضوعات بھی اس نصاب میں شامل کیے جائیں گے۔ پھر دسمبر 1902 کے دہلی اجلاس میں سر آغا خاں کی صدارت میں منعقد اجلاس کے دوران پاپا میاں کو خواتین کی تعلیم کے پروجیکٹ کی نگرانی کے لیے سکریٹری بنایا گیا۔
اس طرح خواتین کی تعلیم کی تحریک پاپا میاں کی سرپرستی میں پورے ملک میں آگے بڑھی۔ اسی زمانے میں نومبر 1903 میں ’علی گڑھ منتھلی‘ کا خصوصی شمارہ خواتین کی تعلیم پر آیا، جس میں سید غلام نیرنگ، سید سجاد حیدر یلدرم، مولانا ابوالکلام آزاد اور مولوی محمد اختر جیسی ممتاز شخصیات کے مضامین اس میں شائع ہوئے۔ اسی کاز کو آگے بڑھانے کے لیے پاپا میاں نے علی گڑھ سے ’خاتون‘ نامی رسالہ نکالا، جس کی تحریک پر فیمیل ایجوکیشن ایسو سی ایشن نامی ادارہ وجود میں آیا اور ابھی بھی فعال ہے۔ مذکورہ رسالہ 1914 تک خواتین کی تعلیم کا نشان بنا رہا۔ دریں اثنا، پاپا میاں یونائٹیڈ پرووِنس کے لیفٹیننٹ گورنر کے پاس ایک وفد کو لے کر گئے اور علی گڑھ میں گرلس اسکول کھولنے کی اجازت مانگی۔ اسی دوران انہوں نے نواب بھوپال بیگم سلطان جہاں کے پاس بھی ایک تحریری تجویز ارسال کی، تب جا کر اس کاز کے لیے بیگم صاحبہ کی جانب سے 100 روپے کی ماہانہ اعانت کو منظوری ملی۔ اس طرح 19 اکتوبر، 1906 کو دو روپے ماہانہ کے کرایے کے ایک مکان میں 5 طالبات اور ایک استانی سے گرلس اسکول کھل گیا۔ اس کام میں پاپا میاں کو ان کی اہلیہ بیگم وحید جہاں عرف اعلیٰ بی سے زبردست تعاون ملا۔ بعد میں یہ اسکول مقبول ہونے پر علی گڑھ شہر ہی کے دوسرے مقام بنی اسرائیلیان میں منتقل ہو گیا۔ 1929 میں یہ اسکول انٹر میڈیٹ کالج اور 1930 میں شیخ الجامعہ سر راس مسعود کے دور میں ویمن کالج بن کر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے ملحق ہو کر اس کا جز بن گیا۔ پاپا میاں کی دو صاحبزادیاں اس کی پرنسپل رہیں۔ باقی اولاد بھی اس سے منسلک رہی۔ گویا، پاپا میاں کا پورا خاندان اس اہم کاز میں جڑا رہا۔

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے اس تاریخی اسکول، ویمن کالج نے بے شمار ممتاز خواتین ملک کو دیے، جن میں پاپا میاں کی چار صاحبزادیوں، بیگم خاتون جہاں اور بیگم ممتاز جہاں حیدر، خورشید جہاں اور برجیس جہاں کے علاوہ معروف افسانہ نگار عصمت چغتائی اور سلمیٰ صدیقی، معروف آرٹسٹ زرینہ ہشم، پاکستانی اداکارہ نیر سلطانہ، ہندی و سنسکرت اسکالر کُسُم انسل، سابق صدر جمہوریہ فخر الدین علی احمد کی اہلیہ بیگم عابدہ احمد، موجودہ نائب صدر جمہوریہ ہند محمد حامد انصاری کی اہلیہ سلمیٰ انصاری اور انڈین اکیڈمی آف سائنسز بنگلور کی فیلو ڈاکٹر قدسیہ تحسین قابل ذکر ہیں۔

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے اس تاریخی اسکول، ویمن کالج نے بے شمار ممتاز خواتین ملک کو دیے، جن میں پاپا میاں کی چار صاحبزادیوں، بیگم خاتون جہاں اور بیگم ممتاز جہاں حیدر، خورشید جہاں اور برجیس جہاں کے علاوہ معروف افسانہ نگار عصمت چغتائی اور سلمیٰ صدیقی، معروف آرٹسٹ زرینہ ہشم، پاکستانی اداکارہ نیر سلطانہ، ہندی و سنسکرت اسکالر کُسُم انسل، سابق صدر جمہوریہ فخر الدین علی احمد کی اہلیہ بیگم عابدہ احمد، موجودہ نائب صدر جمہوریہ ہند محمد حامد انصاری کی اہلیہ سلمیٰ انصاری اور انڈین اکیڈمی آف سائنسز بنگلور کی فیلو ڈاکٹر قدسیہ تحسین قابل ذکر ہیں۔
سوال یہ ہے کہ مسلمانانِ ہند کے اس مرکزی تعلیمی ادارے سے خواتین کو جس مشقت، محنت اور قربانی سے ہمارے بزرگوں نے جوڑا، جو کہ خواتین میں تعلیمی بیداری پیدا کرنے کا ایک بہت ہی مؤثر ذریعہ بنا، آج کس سازش کے تحت اس کے فیصلہ ساز ادارے اے ایم یو کورٹ سے انہیں الگ رکھا جا رہا ہے۔ عیاں رہے کہ تقریباً 200 اراکین میں صرف 6 ایکس آفیسیو (Ex-officio) خواتین ہیں، جو کہ اے ایم یو کی اسٹاف ہیں۔ یہ 6 خواتین اے ایم یو گرلس ہائی اسکول کی پرنسپل آمنہ ملک، ویمنس کالج کی پرنسپل بلقیس نسیم وارث، شعبۂ پیتھولوجی کی چیئر پرسن وینا مہیشوری، شعبۂ بایو ٹکنالوجی کی چیئر پرسن بلقیس بانو، شعبۂ اورل اینڈ ڈینٹل پیتھولوجی کی چیئر پرسن کوثر جہاں خواجہ اور شعبۂ سائنس کی ڈین ارونیما لعل ہیں۔ ان 6 ایکس آفیسیو خواتین کے علاوہ اے ایم یو کورٹ میں فی الوقت ایک بھی خاتون رکن نہیں ہیں۔
لہٰذا، صدرِ جمہوریۂ ہند پرنب مکھرجی، جو کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے وزیٹر ہیں، کی ذمہ داری بنتی ہے کہ یونیورسٹی کے فیصلہ ساز ادارے اے ایم یو کورٹ میں منتخب خواتین اراکین کی موجودگی کو یقینی بنانے کے لیے ضروری اقدامات کریں۔ ایک ایسے وقت، جب ہندوستانی پارلیمنٹ میں 33 فیصد خاتون کوٹہ کی بات کی جا رہی ہے، اے ایم یو کورٹ میں خواتین کی متناسب نمائندگی لازمی ہے۔

سرکردہ خواتین سخت ناراض
پاپا میاں کی تحریک کی کوکھ سے پیدا ہوئے فیمیل ایجوکیشن ایسو سی ایشن کی موجودہ سکریٹری پروفیسر اے ذکیہ صدیقی، جو کہ عبداللہ کالج کی پرنسپل اور اے ایم یو کورٹ کی ایکس آفیسیو رکن رہیں اور فی الوقت وزارتِ فروغ انسانی وسائل کے ذریعے گرلس ایجوکیشن کمیٹی کی چیئر پرسن ہیں، اے ایم یو کورٹ میں فی الوقت منتخب خاتون رکن کے نہ ہونے کو افسوس ناک بتاتی ہے اور اس کے لیے مردوں کی ذہنیت (Mindset) کو ذمہ دار قرار دیتی ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ ایسا نہیں ہے کہ قابل اور با صلاحیت خواتین کی کمی ہے۔ وہ حیرت کرتی ہوئی کہتی ہیں کہ جب اولڈ بوائز کی اے ایم یو کورٹ میں نمائندگی ہے، تو آخر خواتین منتخب اراکین میں موجود کیوں نہیں ہیں؟ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے دس برس قبل ریٹائر ہوئیں ذکیہ صدیقی اے ایم یو کورٹ میں کم از کم دس فیصد خواتین کی نمائندگی کا مطالبہ کرتی ہیں۔
پلاننگ کمیشن آف انڈیا کی رکن سیدہ سیدین حمید بہت ہی برہم ہوتے ہوئے کہتی ہیں کہ جب نئے 42 اراکین کورٹ کی فہرست دیکھی، تو خود میں نے اس بات کو محسوس کیا۔ یہ بہت بڑی کمی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اولین چانسلر کے طور پر شروعات تو ایک خاتون نے کر دی، مگر اس کے بعد ایک بھی خاتون کبھی چانسلر یا وائس چانسلر نہیں بنی۔ ان کے خیال میں یہ معاملہ مخصوص ذہنیت کا ہے، لہٰذا اسے بدلنے کی ضرورت ہے۔ سیدہ حمید جو کہ خواجہ الطاف حسین حالی کی نواسی بھی ہیں، کا کہنا ہے کہ خواجہ حالی اور مولانا آزنے اس ذہنیت کے خلاف آواز اٹھائی تھی۔ ان کے مطابق، سرسید نے خود کوئی پہل نہیں کی مگر پاپا میاں نے اس تعلق سے بہت کوشش کی اور اے ایم یو کو گرلس اسکول اور گرلس کالج دیا۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ جب یہ سماجی کارکن کے طور پر خواتین کے لیے 33 فیصد کوٹہ کا دیگر لوگوں کے ساتھ مطالبہ کر رہی تھیں، تب یہ سوال کیا جاتا تھا کہ کہاں ہیں قابل عورتیں جن کے لیے یہ کوٹہ مانگا جا رہا ہے، تب ہمارا جواب ہوتا تھا کہ خواتین مردوں کے شانہ بشانہ کھڑی ہیں اور قابلیت میں کسی سے کم نہیں ہیں۔ آج میرا سوال ہے کہ کیا اے ایم یو کورٹ میں شامل کرنے کے لیے انہیں قابل اور با صلاحیت خواتین نہیں مل رہی ہیں؟ سچ تو یہ ہے کہ ایسی ہزاروں خواتین ہیں، جو کہ لائق ہیں اور انہیں فیصلہ ساز ادارے میں شامل کیا جانا چاہیے۔
آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کی ایگزیکیوٹیو کمیٹی کی رکن ڈاکٹر اسماء زہرہ، جو کہ حیدرآباد کی معروف معالجہ ہیں، کہیں ہیں کہ اگر ہر ایک جگہ کوٹہ کی بات ہوتی ہے، تو اے ایم یو کورٹ میں بھی خواتین کے لیے کوٹہ ہونا چاہیے۔ ان کا کہنا ہے کہ جب خواتین نے جدو جہد کرکے مسلم پرسنل لاء بورڈ میں اپنا لوہا منوا لیا ہے، تو وہ یہاں بھی لوہا منوا سکتی ہیں۔ ان کے خیال میں اس تعلق سے صرف Male Chauvinism کو ذمہ دار قرار دینا مناسب نہیں ہے، کیوں کہ اس کے لیے دوسرے بہت سے فیکٹرس بھی ذمہ دار ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ مسئلہ صرف اے ایم یو کورٹ ہی کا نہیں ہے، تمام شعبوں اور اداروں میں بھی نمائندگی کی ضرورت ہے۔
اے ایم یو کی سابقہ طالبہ، جامعہ ملیہ اسلامیہ نئی دہلی کے شعبۂ جغرافیہ کی پروفیسر اور مسلم پرسنل لاء بورڈ کی رکن ڈاکٹر حسینہ حاشیہ کو اے ایم یو کورٹ کے اس طرزِ عمل پر سخت حیرت ہے کہ فی الوقت اتنے بڑے فیصلہ ساز ادارے میں کوئی بھی منتخب خاتون رکن نہیں ہے۔ یہ اسے بدقسمتی بتاتے ہوئے کہتی ہیں کہ ملت کی تعلیم نسواں تحریک یہیں سے شروع ہوئی ہے، لیکن کیسی بات ہے کہ وہیں کے اتنے اہم ادارے میں خواتین نظر انداز ہو رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’’میں ہی نہیں، اے ایم یو سے فارغ ہر لڑکی جو ملک یا بیرونِ ملک کہیں بھی موجود ہے، یہی چاہے گی کہ خواتین کی اس میں بھرپور نمائندگی ہو۔‘‘ اپنی بات پر زور ڈالتے ہوئے یہ مزید کہتی ہیں کہ اے ایم یو کا ایسا فیصلہ ساز ادارہ، جس پر پوری دنیا کی نظر ہے، کو چاہیے کہ خواتین کی نمائندگی دی جائے اور انہیں آگے بڑھایا جائے۔ یہ اس کے لیے مردوں کی مخصوص ذہنیت کے ساتھ ساتھ اے ایم یو کے ذمہ داران اور خواتین تنظیموں سبھی کو قصوروار مانتی ہیں۔
آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کی ایک اور رکن اور آل انڈیا ریڈیو میں 1973 سے لے کر 2004 تک مترجم اور انا ؤنسر رہ چکیں محمدوحہ ماجد، جن کا اڑیسہ سے تعلق ہے، کا خیال ہے کہ اے ایم یو کورٹ میں عورتوں کی صحیح نمائندگی کے لیے اسی طرح جدوجہد کرنی پڑے گی، جس طرح بورڈ میں جد و جہد کی گئی اور وہاں خواتین اراکین کی تعداد پہلے کی نسبت بڑھی۔ یہ بھی اس کے لیے مردوں کی مخصوص ذہنیت کو ذمہ دار مانتی ہیں اور اے ایم یو کورٹ میں خواتین کے کوٹہ کا مطالبہ پرزور انداز میں کرتی ہیں۔

 

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *