اے ایم یوانتظامیہ نے شہ زور و حملہ آور عناصر کی مجرمانہ حرکت کی شدید مذمت کی ، قانونی کارروائی کا مطالبہ

Share Article

amu01
اے ایم یو ٹیچرس ایسوسی ایشن اور نان ٹیچنگ اسٹاف ایسوسی ایشن نے طلبہ پر پولیس کارروائی کو غلط ٹھہرایا

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) انتظامیہ نے ہندو یوا وا ہنی کے کارکنوں کے ذریعہ اے ایم یو کے حدود کی خلاف ورزی اور قابل اعتراض و دہشت پیدا کرنے والے نعرے لگائے جانے کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی ٹیچرس ایسوسی ایشن (اموٹا) اور اے ایم یو نان ٹیچنگ اسٹاف نے بھی یونیورسٹی کے باہر سے دراندازی کرکے آئے حملہ آور شہ زور عناصر کی مجرمانہ حرکت کی شدید مذمت کی ہے اور ان کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ یونیورسٹی انتظامیہ نے زخمی طلبہ کے ساتھ گہری ہمدردی ظاہر کرتے ہوئے ضلع انتظامیہ سے جرائم پیشہ عناصر کو پکڑنے اورکیمپس کے امن و امان کو درہم برہم کرنے کے لئے ہندو یوا واہنی کے کارکنوں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ اے ایم یو وائس چانسلر پروفیسر طارق منصور نے کیمپس کی صورت حال اور اے ایم یو برادری کے جذبات سے ریاستی اور مرکزی حکام کو بھی مطلع کیا ہے۔ وائس چانسلر نے سبھی متعلقہ افراد سے خاص طور سے اس بحران کی گھڑی میں امن و امان برقرار رکھنے کی اپیل کی ہے۔

 

 

 

مزیدپڑھیں  ہندو مہاسبھا کے قومی صدرنے اے ایم یو کو بتایا’ منی پاکستان‘،آج بھی ہنگامہ

 

 

دریں اثناء علی گڑھ مسلم یونیورسٹی ٹیچرس ایسوسی ایشن (اموٹا) کی ایکزیکیٹیو کمیٹی نے اساتذہ اور اے ایم یو برادری کی طرف سے یونیورسٹی صدر دروازہ پرباہر سے آئے حملہ آوروں کی مجرمانہ حرکت کی سخت مذمت کی ہے۔ اموٹا کے اعزازی سکریٹری پروفیسر نجم الاسلام نے ایک بیان میں مطالبہ کیا کہ قصورواروں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے، جنھوں نے جان بوجھ کر یونیورسٹی کے پرامن ماحول کو خراب کیا۔ انھوں نے کہا ’’حملہ آوروں کے خلاف کارروائی کرنے کے بجائے اے ایم یو طلبہ پر لاٹھی چارج کیا گیا جو قابل مذمت ہے۔‘‘ انھوں نے کہاکہ اے ایم یو کے اساتذہ اپنے طلبہ کی مکمل حمایت کرتے ہیں اور اس صدمہ کی گھڑی میں ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ پروفیسر نجم الاسلام نے کہاکہ پولیس انتظامیہ کی سنگین لاپروائی اجاگر ہوئی ہے کیونکہ جس وقت یہ معاملہ ہوا یونیورسٹی گیسٹ ہاؤس میں سابق نائب صدر جمہوریہ موجود تھے ۔
انھوں نے کہاکہ ہم حکومت ہند سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اس معاملہ کی غیرجانبدارانہ جوڈیشیل انکوائری کرائے اور قصورواروں کو سزا دے۔ انھوں نے کہا’’ہم یہ بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ ان عناصر کے خلاف ایف آئی آر درج کی جائے جنھوں نے بھیڑ کو یونیورسٹی کی طرف بھیجا اور یونیورسٹی کے ماحول کو خراب کرکے طلبہ کو نشانہ بنایا‘‘۔
پروفیسر نجم الاسلام نے طلبہ سے اپیل کرتے ہوئے کہاکہ بحران کی اس گھڑی میں وہ صبر و سکون کا مظاہرہ کریں اور سازش کرنے والوں کے درپردہ عزائم کو ناکام کریں۔ انھوں نے مزید کہاکہ قانون توڑنے والے گرفتار ہوں گے اور ان کے خلاف کارروائی یقینی بنائی جائے گی۔
اے ایم یو نان ٹیچنگ اسٹاف ایسوسی ایشن نے ایک بیان میں 2؍مئی کو پیش آئے سانحہ کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہاہے کہ یہ ہمارے ادارے پر براہ راست حملہ ہے اور طلبہ کو بلاسبب بے رحمی سے پیٹا گیا جس میں کئی ایک کو سنگین چوٹیں آئی ہیں، پولیس کی کارروائی قابل مذمت ہے‘‘۔ ایسوسی ایشن کے سابق جنرل سکریٹری مسٹر مجیب الحق نے ایک بیان میں کہاکہ اے ایم یو پر یہ حملہ برداشت نہیں کیا جائے گا اور اس سلسلہ میں اساتذہ اور طلبہ کے ہر اقدام کی حمایت کی جائے گی۔ اس سلسلہ میں غیر تدریسی عملہ کی ایک میٹنگ ایڈمنسٹریٹو بلاک میں واقع کانفرنس ہال پر منعقد ہوئی جس میں طلبہ برادری کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے صدر جمہوریۂ ہند کی خدمت میں ایک میمورنڈم ضلع حکام کو پیش کیا گیا جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ واقعہ کی اعلیٰ سطحی جانچ کراکر ذمہ داران کے خلاف تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے۔

 

 

 

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی آفیسرس ایسوسی ایشن نے بھی اپنے ایک بیان میں اے ایم یو طلبہ پر ہوئے لاٹھی چارج کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔ ایسو سی ایشن کے صدر مسٹر ایس سلطان صلاح الدین نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ جس طرح سے اے ایم یو کے نہتے طلبہ پر لاٹھیاں برسائی گئیں اور سابق نائب صدر جمہوریۂ ہند کی میٹنگ میں رخنہ پیدا کیا گیا وہ قابلِ مذمت ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ طلبہ نے جس صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا وہ قابلِ ستائش ہے۔انہوں نے حکومتِ ہند سے مطالبہ کیا ہے کہ اس تمام معاملہ کی اعلیٰ سطحی جوڈیشیل انکوائری کرائے جانے کے بعد قصور واروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی ایمپلائز یونین کی ایکزیکیوٹو کمیٹی کی میٹنگ یونین کے دفتر واقع عماد الملک روڈ پر منعقد ہوئی جس میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے طلبہ پر پولیس کی بربریت پر مبنی بہیمانہ کارروائی پر غم و غصہ کا اظہار کرتے ہوئے ملک دشمن ہندو تنظیم اور اس کے حامیوں کے کیمپس میں کئے گئے ہنگامے کی سخت الفاظ میں مذمت کی گئی۔
ایسو سی ایشن کے صدر پروفیسر رمیش راوت، سینئر نائب صدر مسٹر راشد مصطفےٰ اور جنرل سکریٹری ڈاکٹر شمیم اختر نے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ اے ایم یو ایمپلائز یونین پوری طرح سے تمام طلبہ برادری اور گزشتہ دن کے سانحہ میں زخمی ہونے والے طلبہ کے ساتھ دامے درمے قدمے سخنے کاندھے سے کاندھا ملائے کھڑی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ جو طاقتیں یونیورسٹی کے پرسکون اور پر امن ماحول کو پراگندہ کرنے کی کوشش کر رہی ہیں ان سے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے اپیل کی ہے کہ یونیورسٹی کی کارکردگی نہایت پر امن ماحول میں انجام دی جاتی رہنی چاہئے اور یہی فرقہ پرستوں کی سب سے بڑی شکست ہوگی۔ اس موقع پر یونین کے جوائنٹ سکریٹری محمد امجد، نائب صدر نسیم الدین، فرزانہ پروین،مجاہدہ، چودھری مصطفےٰ، محمد سلیمان، بھوری سنگھ، آنند بابو اور راکیش کے علاوہ بڑی تعداد میں یونین کے اراکین موجود تھے۔

 

 

مزید پڑھیں   جناح کی تصویرکے بہانے اے ایم یومیں ہندتووادی کارکنوں کا حملہ،متعددطلبازخمی
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *