امیتابھ ٹھاکر کیس: ایس پی ای او ڈبلیو کی جانچ میں لاپرواہی برتنے کا الزام

Share Article

 

اقتصادی جرائم تفتیشی یونٹ (ای او ڈبلیو) کے ذریعہ آئی پی ایس افسر امیتابھ ٹھاکر کے خلاف آمدنی سے زیادہ جائیداد معاملے میں غور کے بعد انہیں مجرم نہیں پائے جانے سے متعلق حتمی رپورٹ کا مدعی مہیش سنگھ، سابق انسپکٹر، ویجلنس نے جرح کیا ہے۔

خصوصی جج پی سی ایکٹ-سیکنڈ لکھنؤ ونے کمار سنگھ کے سامنے پیش اپنی احتجاجی درخواست میں مہیش سنگھ نے کہا ہے کہ ای او ڈبلیو کے ایس پی سطح کے جانچ افسرنے لاپرواہ طریقے سے جانچ کیہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ امیتابھ کے والدین کی لکھنؤ کی جائیداد امیتابھ کی ملکیت ہے، جسے جانچ افسران نے غلط طریقے سے ان سے الگ کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل آر ٹی آئی فورم ٹرسٹ کا قیام فرضی طریقے سے ہوا تھا اور اس کی جائیداد بھی امیتابھ کی جائیداد مانی جانی چاہئے۔

سنگھ نے ان بنیادوں پر مقدمے کی پھر سے جانچ کرائے جانے کی اپیل کی ہے۔ معاملے میں اگلی سماعت 21 نومبر 2019 کو ہوگی۔ اس معاملے میں اتر پردیش حکومت کے ذریعہ رپورٹ منظورکرنے کے بعد ای او ڈبلیو نے کورٹ میں اپنی حتمی رپورٹ بھیجی تھی۔

آخری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہجانچ کے دوران جمع کئے گئے ثبوتوں سے امیتابھ ٹھاکر کی کل آمدنی 25376 131 روپے اور ان کا خاندانی خرچ اورجائیدادوں میں سرمایہ کاری 9164664 روپے پایا گیا۔ اس طرح امیتابھ کا آمدنی-اخراجات اس حساب سے نہیں پائے گئیاور ان کے خلاف الزام ثابت نہیں پائے گئے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *