امریکہ کے صدارتی انتخاب کی کچھ دلچسپ باتیں

Share Article

p-8امریکہ میں ہونے والے صدارتی انتخاب میں دو امیدوار مد مقابل ہوں گے۔رپبلکن جماعت کی طرف سے صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ ہیں جن کے بارے میں پچھلے سال تک کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ وہ صدارتی امیدوار کی دوڑ میں ہوں گے اور ڈیموکریٹ جماعت کی جانب سے صدارتی امیدوار ہلیری کلنٹن ہوں گی۔اس بار امریکہ میں ہونے والا الیکشن یقینا دلچسپ ہوگا کیونکہ دونوں امیدوار وں کے دلچسپ ہونے کے ساتھ ساتھ یہاں پر ایک اور دلچسپ پہلو ہے ،وہ ہے امریکہ میں صدر بننے والوں کی عمریں ۔

جب جنوری 2009 میں براک اوباما وائٹ ہاؤس میں پہلی بار داخل ہوئے اس وقت ان کی عمر 47 برس تھی اور وہ کم عمر صدور میں پانچویں نمبر پر تھے۔ تھیوڈور روزوولٹ 42 سال اور 322 دن کے تھے۔البتہ ان کے بعد جو بھی صدر ہوئے وہ ان سے عمر میں بڑے تھے مگر وہ بھی دلچسپ طریقے سے ڈونلڈ ٹرمپ 14 جون کو اپنی 70 ویں سالگرہ منائیں گے۔ اس طرح اگر وہ صدر بنے تو وہ امریکہ کے معمر ترین صدر ہوں گے۔ صدر رونلڈ ریگن جب صدر بنے تو وہ 69 سال کے تھے۔ہلیری کلنٹن انتخابات سے دو ہفتے قبل 69 سال کی ہو جائیں گی اور صدر بننے پر وہ معمر صدور کی فہرست میں دوسرے نمبر پر ہوں گی۔ولیم ہینری ہیریسن جو 1841 میں صدر بنے اب تک معمر صدور کی فہرست میں دوسرے نمبر پر ہیں۔یہ تو رہی عمر کی باتیں ۔اس بار ایک اور دلچسپ بات یہ ہے کہ ٹرمپ بمقابلہ کلنٹن 1944 کے بعد پہلا صدارتی معرکہ ہے جس میں دونوں امیدوار نیو یارک سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس سے قبل 1944 میں نیو یارک کے گورنر تھامس ای ڈیووی فرنکلن روزوولٹ کے خلاف لڑے تھے۔جو بھی یہ انتخابات جیتے وہ 71 سالوں میں وائٹ ہاؤس میں پہلا نیو یارکر ہو گا۔اگرچہ ہلیری کلنٹن شکاگو میں پیدا ہوئیں لیکن وہ نیو یارک سے سینیٹر منتخب ہوئیں اور نیو یارک ہی میں رہتی ہیں۔یہاں پر یہ جاننا بھی دلچسپی سے خالی نہ ہوگا کہ اگر ڈونلڈ ٹرمپ صدر بن جاتے ہیں تو وہ ایک ایسے صدر ہوں گے جنھوں نے انتخابی مہم میں سب سے کم رقم خرچ کی ہے۔ فیڈرل الیکشن کمیشن کے ریکارڈز کے مطابق انھوں نے اپریل تک اپنی مہم پر چار کروڑ 90 لاکھ ڈالر خرچے ہیں جن میں سے تین کروڑ 60 لاکھ ڈالر ان کی اپنی رقم تھی۔کسی بھی صدارتی امیدوار نے 2000 کے بعد سے اتنے کم پیسے مہم پر خرچ نہیں کیے۔ 2000 میں صدارتی امیدوار ایل گور نے 125 ملین ڈالر خرچ کیے تھے۔ دوسری جانب ہلیری کلنٹن نے اب تک 187 ملین ڈالر خرچ کیے ہیں۔ہاں یہ ہو سکتا ہے کہ ٹرمپ بھی بے تحاشہ پیسہ خرچ کریں، کیونکہ جولائی سے نومبر تک انھوں نے بہت مہم چلانی ہے۔ لیکن ایسا لگتا ہے کہ وہ براک اوباما سے کم ہی رقم خرچ کریں گے جنھوں نے 556 ملین ڈالر خرچ کریں۔ٹرمپ کی جیت ایک اور وجہ سے بہت اہم ہو گی۔ وہ وجہ یہ ہے کہ پچھلے 60 سالوں میں کوئی ایسا صدر منتخب نہیں ہوا جس کے پاس گورنر یا کانگریس کا تجربہ نہ ہو۔لیکن پھر بھی بغیر کسی سیاسی تجربے کے آخری صدر آئزن ہاور تھے جو 1953 میں صدر منتخب ہونے سے قبل جنگ عظیم دوئم میں الائیڈ فورسز کے سپریم کمانڈر تھے۔اس سے قبل 1929 سے 1933 میں ہربرٹ ہوور ایک انجینیئر تھے اور انسانی امدادی کارکن تھے۔اس کے علاوہ کوئی امیدوار کیسینو اور ہوٹلوں کے مالک نہیں تھے۔واشنگٹن کے اقتدار کی رہداریوں میں ہلیری کلنٹن بہت عرصے سے ہیں۔ لیکن ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ اگر وہ صدر منتخب ہوتی ہیں تو وہ پہلی خاتون صدر ہوں گی۔ ویسے وہ ابھی سے ہی بڑی امریکی جماعت کی جانب سے پہلی خاتون صدارتی امیدوار ہیں۔حیرت انگیز طور پر ڈیموکریٹ جماعت کے صدر کے فوری بعد ڈیموکریٹ جماعت کا صدر صرف دو بار آیا ہے۔ 1857 سے 1861 تک رہنے والے جیمز بوکینن تھے۔ہیری ٹرومین اور لنڈن جانسن دونوں نائب صدر تھے جب ان کو صدر بنایا گیا کیونکہ صدر کی موت ہو گئی۔ ان دونوں نے آئندہ آنے والے انتخابات جیتے۔اگر ہلیری کلنٹن صدر منتخب ہو جاتی ہیں تو یہ ڈیموکریٹ جماعت کے لیے بہت اہم ہو گا۔کون جیتے گا؟پچھلے دس ماہ میں دونوں امیدواروں کی مقبولیت میں اتار چڑھاؤ آیا ہے۔ اور اب صرف پانچ ماہ رہ گئے ہیں،دیکھتے ہیں اگلا وقت کیا رخ لیتا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *