امریکہ -ایران کشیدگی: جنگ ہوئی تو نتیجہ ’ایران کا خاتمہ‘ ہو گا:امریکہ

Share Article

president-donald-trump

واشنگٹن:خلیج فارس میں ان دنوں حالات کشیدہ ہیں۔ایک طرف امریکہ بحری بیڑا تمام تر ساز و سامان کے ساتھ لنگر انداز ہے تو دوسری جانب ایران نے بھی اپنے سمندری حدود میں کشتیوں پر میزائلیں نصب کر دیئے ہیں۔جس کے بعد سمندر میں جوار بھاٹے کا ماحول پیدا ہو رہا ہے۔اس کشیدگی کے درمیان امریکی صدر نے مزید آج سخت لہجے میں ایران کو انتباہ دی کیاہے کہ اگر جنگ چھیڑی تو ایران کا خاتمہ ہوگا۔
خبر رساں ادارہ بی بی سی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سخت الفاظ میں ایران کو متنبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر دونوں ممالک کے درمیان لڑائی ہوئی تو ایران تباہ ہو جائے گا۔ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں امریکی صدر نے کہا کہ امریکہ کو دوبارہ دھمکانے سے گریز کیا جائے اور ’اگر ایران جنگ چاہتا ہے تو یہ باقاعدہ طور پر ایران کا خاتمہ ہو گا۔‘امریکی صدر کی جانب سے یہ پیغام ایک ایسے موقع پر سامنے آیا ہے جب دونوں ممالک کے تعلقات کشیدگی کی نئی بلندیوں کو چھو رہے ہیں۔ امریکہ نے رواں ماہ کے دوران خلیج فارس میں مزید جنگی جہاز اور طیارے تعینات کیے ہیں۔
صدر ٹرمپ اس سے قبل ایران سے جنگ کے امکانات کو رد کرتے رہے ہیں تاہم یہ ٹویٹ ان کے رویے میں تبدیلی کی عکاسی کر رہی ہے۔چند دن قبل ہی امریکی صدر نے اپنے مشیروں سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ نہیں چاہتے کہ ایران پر امریکی دباؤ لڑائی کی شکل اختیار کرے۔گزشتہ جمعرات کو جب صحافیوں نے ان سے دریافت کیا تھا کہ آیا امریکہ ایران سے جنگ کرنے جا رہا ہے تو ان کا جواب تھا کہ وہ پرامید ہیں کہ ایسا نہیں ہو گا۔
صرف امریکہ کی جانب سے ہی بلکہ ایران نے بھی بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باوجود جنگ کے امکانات کو رد کیا تھا۔ سنیچر کو ایرانی وزیرِ خارجہ جواد ظریف نے اس بات پر زور دیا تھا کہ ان کا ملک جنگ کا خواہشمند نہیں ہے۔ایرانی خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق جواد ظریف کا کہنا تھا کہ ’کوئی جنگ نہیں ہو گی کیونکہ ہم جنگ نہیں چاہتے اور کوئی اس فریبِ نظر کا شکار بھی نہیں ہے کہ وہ خطے میں ایران کو چھیڑ سکتے ہیں۔‘
واضح رہے کہ حالیہ کشیدگی کا آغاز ایران کی جانب سے 2015 میں طے پانے والے جوہری معاہدے کی شرائط پر عملدرآمد معطل کرنا بنی۔ ایران نے یورینیئم کی افزودگی دوبارہ شروع کرنے کی دھمکی بھی دی۔ یہ یورینیئم جوہری ری ایکٹر کا ایندھن اور جوہری ہتھیاروں کی تیاری میں استعمال ہو سکتا ہے۔
چار برس قبل طے پانے والے جوہری معاہدے کا مقصد ایران کی جانب سے اپنے جوہری پروگرام کے خاتمے کے بدلے اس پر عائد پابندیوں میں کمی تھی تاہم امریکہ نے گزشتہ برس اس معاہدے سے یکطرفہ طور پر دستبردار ہونے کا اعلان کیا تھا۔صدر ٹرمپ نے اس معاہدے کو عیب دار قرار دیتے ہوئے ایران پر دوبارہ پابندیاں عائد کر دی تھیں۔کشیدگی میں حالیہ اضافے کے بعد اطلاعات کے مطابق ایران نے خلیج فارس میں اپنی جنگی کشتیوں پر میزائل نصب کر دیے ہیں جبکہ امریکی تفتیش کاروں کا یہ بھی خیال ہے کہ متحدہ عرب امارات کے ساحل کے قریب چار تیل بردار جہازوں کو نقصان پہنچانے کی کوشش کے پیچھے بھی وہی ہے۔تاہم ایران نے اس الزام سے انکار کیا ہے اور واقعے کی مکمل تحقیقات کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *