سعودی عرب کو لگا امریکہ کا جھٹکا

Share Article

Trump-Salman

سعودی عرب امریکہ پر تکیہ کرکے مطمئن ہے کہ اس کا کچھ نہیں بگڑنے والا ہے ۔مگر ٹرمپ کے حالیہ ایک بیان نے احساس دلادیا ہے کہ سعودی عرب کا اسی وقت تک کچھ بگڑنے والا نہیں ہے جب تک امریکہ چاہے گا۔ امریکہ کے ایک اشارے پر سعودی عرب کا نظام درہم برہم ہوسکتا ہے۔

تیل کی دولتِ سے مالا مال مشرقِ وسطیٰ کا ملک سعودی عرب 90 سال قبل وجود میں آنے کے بعد ہمیشہ سے مغربی ممالک کے لیے اہم رہا ہے اور یہاں کے بادشاہوں کے امریکی صدور سے قریبی تعلقات رہے ہیں جس کے سبب امریکہ نے تیل کی بلا تعطل ترسیل کے لیے سعودی عرب کی سیکوریٹی کی ضمانت دے رکھی ہے۔امریکہ اپنے اس احسان کا احساس سعودی عرب کو دلاتا رہتا ہے۔ابھی حال ہی میں صدر ٹرمپ نے وہ بات کہی ہے جو ساری دنیا جانتی ہے کہ شاہی خاندان کا اقتدار امریکی بیساکھیوں پر کھڑا ہے۔ٹرمپ کے اس بیان نے اس حقیقت کواجاگر کیا ہے کہ جس پوزیشن پر سعودی عرب کھڑا ہے ،اسے امریکہ کا سہارا چاہیے۔اس پر سعودی معاملات کو قریب سے دیکھنے والے تجزیہ کار کہتے ہیں کہ جس طرح سے محمد بن سلمان روایات کے برعکس عمل پیرا ہیں اور جس تیزی سے ملک میں اصلاحات کر رہے ہیں، اس سے شاہی خاندان کے لیے سیکورٹی کے مسائل تو ہیں کیونکہ قدامت پسند قبائلی معاشرہ ان تبدیلیوں کو اتنی آسانی سے قبول نہیں کرے گا۔

 

 

 

چند ماہ پہلے ولی عہد نے بدعنوانی کے خلاف مہم کے دوران اہم افراد کو پکڑا تھا لیکن اس میں حقیقت یہ تھی کہ انھوں نے اپنے مخالفین کو قابو کیا تھا۔
بین الاقوامی امور کے ماہر ڈاکٹر مہدی حسن کے نزدیک مشرق وسطیٰ میں سعودی عرب امریکہ کا اہم اتحادی ہے جس کے بدلے میں امریکہ سعودی بادشاہت کی حمایت کرتا ہے اور صدر ٹرمپ نے جو کچھ کہا، اس میں تعجب کی بات نہیں ہے کیونکہ سعودی عرب سمیت خطے میں موجود دیگر ممالک کو امریکہ کی حمایت حاصل نہ ہو تو وہاں بادشاہت زیادہ عرصہ ٹھہر نہیں سکتی۔ کیونکہ عوام جمہوری نظام کی جانب راغب ہو جائیں گے۔امریکہ کے مفاد میں بھی یہی ہے کہ وہ یہاں بادشاہت کو سپورٹ کرتا رہے اور اس کے بدلے میں ان سے خطے میں اپنے مفادات کی حفاظت کو یقینی بنائے۔انھوں نے کہا کہ اگرچہ صدر ٹرمپ نے معاوضے کے بارے میں زیادہ نہیں بتایا لیکن ہو سکتا ہے کہ خطے میں سعودی عرب کی حمایت کے عوض معاوضہ مانگ رہے ہوں گے۔حالانکہ سعودی حکومت کی طرف سے اس بات کی تردید آچکی ہے کہ وہ امریکہ کو سیکورٹی کے بدلے معاوضہ ادا کرتا ہے۔ یہ بیان ولیعہد محمد بن سلمان نے دیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ وہ امریکہ کو کسی بھی طرح کا کوئی معاوضہ سیکورٹی کے نام پر ادا نہیں کررہا ہے۔

 

 

 

 

بہر حال اگرچہ صدر ٹرمپ نے سعودی عرب سے معاوضے کے بارے میں بیان کی زیادہ وضاحت نہیں کی ہے لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ سعودی عرب اس وقت امریکی اسلحے کا سب سے بڑا خریدار ہے لیکن اب اس کے ساتھ یہ امریکہ کے روایتی حریف روس سے بھی اسلحے کی خریداری کی بات چیت کر رہا ہے اور اس حوالے سے چند معاہدے بھی ہوئے ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کا سعودی شاہی خاندان پر دباؤ ڈالنے کا طریقہ بھی ہو سکتا ہے کہ خطے میں درکار حمایت اسی اسلحے کی خریداری سے مشروط ہو سکتی ہے ۔دراصل امریکہ نہیں چاہتا ہے کہ خطے میں روس کسی بھی طرح مداخلت کرے لہٰذا وہ سعودی عرب کو روس کی طرف جانے کے لئے دباؤ کا یہ نیا طریقہ نکالا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *