ALPESH
کانگریس سے ناراض چل رہے رکن اسمبلی الپیش ٹھاکور نے پارٹی سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ قیاس لگائی جا رہی ہے کہ الپیش ٹھاکور بی جے پی جوائن کر سکتے ہیں۔ الپیش ٹھاکور کے قریبی دھول جھالا نے الپیش کے کانگریس پارٹی چھوڑنے کی تصدیق کی ہے۔ غور طلب ہے کہ گزشتہ کئی دنوں سے بحث تھی کہ ٹھاکور بی جے پی میں شامل ہو سکتے ہیں۔حالانکہ انہوں نے ان خبروں کی تردید کی تھی ۔انہوں نے کہا تھا کہ وہ اب کانگریس میں ہیں اور رہیں گے۔ساتھ ہی ان کا کہنا تھا کہ وہ ٹھاکور کمیونٹی کے لوگوں کے مفاد کی جنگ لڑتے رہیں گے۔
11 اپریل سے لوک سبھا انتخابات کیلئے پہلے مرحلے کی ووٹنگ کاآغاز ہونے جا رہا ہے ایسے میں الپیش ٹھاکور کا پارٹی سے جانا کانگریس کے لئے مہنگا ثابت ہو سکتا ہے۔
ٹھاکور سینا کے لوگ الپیش ٹھاکور کو لوک سبھا ٹکٹ نہ ملنے سے ناراض ہیں۔ ٹھاکور سینا نے منگل کی رات کو اپنے آگے کی حکمت عملی طے کرنے کے لئے میٹنگ بلائی تھی۔اس میٹنگ میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ الپیش ٹھاکور کو کانگریس سے استعفیٰ دینا ہوگا۔ میٹنگ میں ٹھاکور علاقائی سینا کے اس فیصلے کی جانکاری خود الپیش کے قریبی دھول سنگھ جھالا نے ہی دی۔ اس بات کے سامنے آنے کے بعد گجرات کی سیاست تیز ہو گئی ہے۔ حالانکہ اس سے پہلے جب اسی طرح کی بات اٹھی تھی تب کانگریس رکن اسمبلی الپیش ٹھاکور نے پریس کانفرنس کرکے دعوی کیا تھا کہ وہ کانگریس میں ہی رہیں گے اور بی جے پی جوائن نہیں کریں گے۔
الپیش ٹھاکور نے بھی یہ واضح کر دیا ہے کہ، ٹھاکور سینا نے جو فیصلہ لیا ہے، وہ ان کے لئے آخری ہے۔ ٹھاکور کے استعفیٰ کی بات سامنے آنے کے بعد کانگریس پوری طرح متحرک ہو گئی ہے۔کانگریس کے ذرائع کی مانیں تو گجرات کانگریس کی جانب سے راہل گاندھی سے بات کی گئی اور الپیش ٹھاکور اور ٹھاکور سینا کو منانے کی شروعات کردی گئی ہے۔کیونکہ اگر الپیش ٹھاکور استعفیٰ دیتے ہیں تو اس کا خمیازہ کانگریس کو چار لوک سبھا سیٹوں پر بھگتنا پڑ سکتا ہے۔ ان سیٹوں میں شمالی گجرات کی بناس کانٹھا،پاٹن ، مہیسانا اور سابرکانٹھا سیٹ شامل ہیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here