اللہ کے علاوہ سب کو فنا ہونا ہے

Share Article

وصی احمد نعمانی
مشہور سائنس داں آئنس ٹائن نے اپنے’ نظریہ زمان و مکان ‘کے ذریعہ یہ ثابت کیا ہے کہ ’’اللہ صرف ایک ہے،ساری کائنات کو فنا ہو جانا ہے،صرف اللہ کیذات گرامی کو بقاء ہے‘‘۔ان کا یہ نظریہ اس بات سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ کائنات میں تمام چیزیں صرف تین شکلوں میں ہی موجود ہیں(1)ٹھوس (2)رقیق (3)گیس۔ یہ تینوں چیزیں تشکیل پاتی ہیں ایٹم سے۔ پہاڑ ، سمندر، ہائیڈروجن، آکسیجن ان سب کی تشکیل کی بنیاد کا نام ایٹم ہے۔ یہ تمام ایٹم اپنے اپنے مدار میں گردش کرتے ہیں۔ چاہے کوئی زندہ چیز ہو یا بے جان۔ سب کی تخلیق میں ایٹم ہی بنیاد ہے۔ ان تمام ایٹموں کی گردش گھڑی کی رفتار کی مخالف سمت میں ہوتی ہے یعنی سمندر کا ہر ایک ایٹم، پہاڑ کا ہر ایٹم ، دنیا و کائنات میں موجود تمام گیسوں کے ایٹم انٹی کلاک وائز کی حالت میں گھومتے ہیں۔ دنیا کے کسی سمندر کی بوند کوئی ایٹم یہاں تک کہ چاہے زمین و آسمان، سیارہ ، ستارہ، یا چاند و سورج کی ہو سب کے سب ایک ہی اصول یعنی گھڑی کی سوئی کی رفتار کے مخالف سمت میں گردش کرتے ہیں۔

اگر سائنسی اعتبار سے ریاضی کو بروئے کار لاکر یہ بات کہی جاتی ،ایک بھی ایٹم کی رفتار گھڑی کی سوئی کی سمت کے ساتھ ہوتی تو یہ بات سمجھ میں آسکتی تھی کہ کوئی اوربھی کسی دیگر سیارہ یا ایٹم کو بنانے والا ہے، مگر تمام ایٹم اور کائنات میں موجود تمام سیاروں ،ان کے ایٹموں کا صرف ایک سمت میں قیام کائنات سے انہدام کائنات تک سفر کرتے رہنا، اس بات کا بین اور مکمل ثبوت ہے کہ اس پوری کائنات کا خالق و مالک صرف اور صرف ایک اللہ ہے۔ وہ واحد ہے۔ ہمیشہ زندہ رہنے والا ہے۔

اگر سائنسی اعتبار سے ریاضی کو بروئے کار لاکر یہ بات کہی جاتی ،ایک بھی ایٹم کی رفتار گھڑی کی سوئی کی سمت کے ساتھ ہوتی تو یہ بات سمجھ میں آسکتی تھی کہ کوئی اوربھی کسی دیگر سیارہ یا ایٹم کو بنانے والا ہے، مگر تمام ایٹم اور کائنات میں موجود تمام سیاروں ،ان کے ایٹموں کا صرف ایک سمت میں قیام کائنات سے انہدام کائنات تک سفر کرتے رہنا، اس بات کا بین اور مکمل ثبوت ہے کہ اس پوری کائنات کا خالق و مالک صرف اور صرف ایک اللہ ہے۔ وہ واحد ہے۔ ہمیشہ زندہ رہنے والا ہے۔سورہ بقرہ چیپٹر نمبر 2 آیت نمبر 255 میں’ حی القیوم‘ کا استعمال کیا گیا ہے،جس کے معنی ہے ہمیشہ زندہ رہنے والا۔ اسی طرح سورہ اخلاص نمبر 112آیت نمبر 1-4 جو بات کہی گئی ہے اس سے ظاہر ہے کہ وہ اکیلا ہے۔یہ سائنس کی خوش بختی ہے کہ سائنس داں اپنے عقل و شعور اور سائنس و ریاضی کے نتیجہ کی بنیاد پر بھی اس نتیجہ پر پہنچنے کی سعادت حاصل کر رہے ہیں اور یہ قبول کر رہے ہیں کہ اس کائنات کی تخلیق کرنے والا ،چلانے والا اور ختم کرنے والا بھی ایک ہی ذات گرامی ہے۔اسی کو مذہب کے ماننے والے لوگ خدا کہتے ہیں۔مگر آئنس ٹائن نے پھر اپنے نظریہ کی بنیادپر یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ خود مذہب کے ماننے والے بھی اللہ کی ذات کو پوری طرح نہیں پہچان پاتے ہیں۔ اس کی وجہ وہ یہ بتاتے ہیں کہ اللہ کی ذات کو مذہب کے ماننے والے بھی محدود کردیتے ہیں اور وقت و جگہ یا زمان و مکان کے محدود دائرہ میں (نعوذ باللہ) مقید کردیتے ہیں۔ اس کی وجہ آئنس ٹائن یہ بتاتے ہیں کہ مذہب کے ماننے والوں سے پوچھئے’ اللہ کب سے ہے‘ ،’ ان کا جواب ہوتا ہے‘ ’وہ ہمیشہ سے ہے‘۔اسی طرح یہ پوچھئے کہ’ اللہ کب تک رہے گا‘،ان کا جواب ہوتا ہے ’وہ ہمیشہ رہے گا‘۔اسی طرح مذہبی لوگوں سے دریافت کیجئے’ اللہ کس جگہ ہے‘ ، ان کا جواب ہوتا ہے ’وہ ہر جگہ ہے‘۔ان تینوں سوالوں کے جواب پر آئنس ٹائن کا یہ کہنا ہے کہ لفظ ’’ہمیشہ‘‘ وقت کے ناپنے کا سب سے بڑا پیمانہ ہے۔ اسی طرح ’’ہر جگہ کا لفظ‘‘ مکان کو ناپنے کا سب سے بڑا پیمانہ ہے۔مذہبی لوگ انہیں پیمانوں میں اللہ کی بلند و بالا ذات کو محدود کردیتے ہیں۔ اپنی اس بات کی دلیل میں آئنس ٹائن ابتدائے آفرینش یا بڑے دھماکے(Big Bang) کے واقعات کا سہارا لیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’بڑے دھماکے‘ کو واقع ہوئے لگ بھگ 13 ارب سال ہوئے۔ کچھ سائنسدانوں کا خیال ہے کہ اسے واقع ہوئے 15 ارب سال اور کچھ دیگر سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ 20 ارب سال کی مدت ہو چکی ہے۔ چلئے اوسط سے کام لے کر 15 ارب سال مانتے ہیں۔ متفقہ طور پر تمام سائنسداں کا کہنا ہے کہ وقت کی شروعات اسی بڑے دھماکہ سے ہوئی ہے۔ اس سے قبل نہ تو وقت کا تصور تھا اور نہ خلا یا مکان کا۔ اس لئے جب مذہب کے ماننے والے یہ کہتے ہیں کہ اللہ ہمیشہ سے ہے تو ان کا مطلب صرف بڑے دھماکے کی شروعات سے ہوتا ہے کیونکہ وقت کی شروعات ہی دھماکے سے ہے۔یعنی لفظ ہمیشہ کی شروعات ہی 15 ارب سال کی گزشتہ مدت سے ہوتی ہے،لہٰذا وہ اللہ کی ذات گرامی کی موجودگی کو 15 ارب سال کے قبل مدت سے کرتے ہیں اور اس طرح اللہ کی موجودگی کی مدت کو محدود کر دیتے ہیں جبکہ اس کی ذات گرامی تو بڑا دھماکہ (Big Bang)یعنی پندرہ ارب سال کے قبل سے ہی موجود ہے۔ اسی طرح جب وہ کہتے ہیں کہ ہمیشہ اللہ کی ذات باقی رہے گ تو سائنسی اعتبار سے ہمیشہ کا اختتام وقت کے ختم ہوتے ہی ہوجائے گا یعنی وقت کا وجود تو صرف قیامت تک رہے گا جبکہ اللہ تو قیامت کے بعد بھی باقی رہے گا۔ اس لئے بہ قول آئنس ٹائن یہ یہ کہہ کر کہ ’اللہ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا‘ ان کی ذات مبارک کو محدود کردینے کے جرم کا ارتکاب ہوتا ہے۔اللہ کی موجودگی کے اظہار کے لئے لفظ ’ہمیشہ‘ درست لفظ نہیں ہے۔ اسی طرح ’ہر جگہ‘ کے بارے میں سائنس کے نظریہ کے مطابق یہ بات کہی جاتی ہے کہ انسان نے کتنی جگہ دیکھ لی ہے کہ وہ وثوق کے ساتھ یہ کہہ سکتاہے کہ اللہ ہر جگہ ہے۔ کیونکہ انسان اپنے نظام شمسی سے ہی باہر نہیں جاسکا ہے۔ اس ایک نظام شمسی کے باہر جو کہکشاں ہے ان میں سے ایک میں 200 کروڑ چاند تارے اور سورج وغیرہ ہیں۔اس ایک کے علاوہ بہ قول سائنسداں 200 کروڑ اور کہکشائیں ہیں ۔مزید سائنسداں کا یہ ماننا ہے کہ ابھی تو اس نے کائنات کا صرف ایک گوشہ ہی دیکھا ہے۔اس انجانی ناپیداکنار کائنات کی کتنی جگہ ہم نے دیکھ لیا ہے کہ ہم یہ کہہ کر کہ ’’ اللہ ہر جگہ ہے‘‘ اس کی شایان شان ہم ترجمانی کر پاتے ہیں۔یعنی نہ تو ہم زمان و مکان کا اندازہ لگا سکتے ہیں اور نہ خداکی شایان شان ہے کہ’ کب سے ہے اور کب تک رہے گا‘ صحیح تجزیہ کر سکتے ہیں یعنی میری ناقص رائے میں آئنس ٹائن کے نظریہ کے مطابق اللہ کی ذات گرامی ہمارے ،آپ کے، سائنسی نظریے سے بہت پڑے ہیں۔ ان کی ذات والا صفات کا انسانی نظریہ ، عقل و شعور ،نہ تو تجزیہ کرسکتا ہے اور نہ ہی درست اندازہ لگا سکتا ہے۔ مگر مذہبی شخص تو اپنے کو مطمئن اور پر یقین رکھنے کے لئے جو الفاظ اب تک ان کے پاس دریافت ہیں اس کے مطابق وہ فی الحال یہی کہہ کر اطمینان کر لیتے ہیں کہ ’اللہ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہیگا۔ وہ ہر جگہ موجود ہے ۔ ذرہ ذرہ میں موجود ہے۔ آئیے ہم پھر اصل مضمون کی طرف لوٹے ہیں کہ کائنات کا سب کچھ ختم ہوجائیگا، صرف اللہ کی ذات گرامی کو باقی بچنا ہے۔ سورہ الحجر نمبر 15آیت 21-25 کی تشریح میں’ ابن کثیر‘ میں یو ں بیان ہوا ہے ’’ اور بلا شبہ ہم ہی زندگی اور موت دیتے ہیں‘‘۔ اللہ نے مخلوق کو پہلی بار پیدا کرکے اور اسے دوبارہ زندہ کردینے کے بارے میں اپنی قدرت کا بیان فرمایا ہے کہ اس ذات پاک نے مخلوق کو عدم سے وجود بخشا ۔ پھر وہ انہیں موت دے گا۔ اور ان سب کو قیامت کے روز اٹھائے گا اور اس نے یہ بھی فرمایا ہے کہ وہ زمین اور جو کچھ اس میں ہے سب کا وارث ہے اور ان سب کو ایک دن اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے صرف باقی اللہ کی ذات رہے گی۔اسی طرح سورہ رحمن چیپٹر نمبر 55 آیت نمبر 31-36 کی تشریح میں صفحہ نمبر 55 پر ذکر ہے اور سورہ رحمن کی آیت نمبر 26-27 ارشاد ربی ہے ’’ جو کچھ بھی زمین پر ہے فنا ہونے والی ہے۔صرف تیرے رب کی حکومت باقی بچے گی‘‘
مذکورہ بالا آیات کی تشریح میں بتایا گیا ہے کہ ’بقاء ودوام صرف اللہ تعالیٰ کے لئے ہی ہے۔اللہ رب ذو الجلال نے ارشاد فرمایا ہے کہ ’’ سب اہل زمین چل بسیں گے اور موت کا جام پی لیں گے۔ اسی طرح تمام اہل آسمان بھی فوت ہوجائیںگے اور اللہ جل جلالہ کی ذات پاک کے سوا کسی کو بقا اور دوام نصیب نہیں ہے۔ اس ذات پاک کے لئے موت نہیں ہے۔ کیونکہ وہ ’’ حی‘‘ ہے۔اس لئے اسے کبھی موت نہیں آئے گی‘‘۔نبی کریم کی دعا ہے ’’ اے زندہ رہنے والے اور قائم رہنے والے!اے آسمانوں اور زمین کے موجد ،اے عظمت و عزت والے۔ تیرے سوا کوئی معبود نہیں ۔ہم تیری رحمت کے ساتھ مدد حاصل کرتے ہیں ۔ہمارے لئے ، تمام حالات درست فرما دے اور ہمیں لمحہ برابر بھی ہمارے نفسوں کے اور اپنی مخلوق میں سے کسی کے بھی سپرد نہ فرما‘‘۔
آئنس ٹائن کے نظریہ کی تائید کرتے ہوئے ٹول مین (TOLL MAN) نے بھی کہاہے کہ ’کائنات خاتمہ کی جانب گامزن ہے۔ایک وقت ایسا آئے گا جب کل کائنات کا نظام درہم برہم ہوجائے گا۔ روشنی ، زندگی اور حرارت کا وجود ختم ہوجائے گا۔ صرف ایک لافانی ، ابدی ، اعلیٰ قوت ہی باقی رہ جائے گی۔ حضرت مولانا مودودی نے تفہیم القرآن میں کچھ اس طرح تشریح کی ہے ’’ ایک یہ کہ نہ تو تم خود لافانی اور لا زوال ہو اور نہ وہ سرو سامان لا زوال ہے جس سے تم اس دنیا میں متمتع ہو رہے ہو۔ لافانی اور لا زوال تو صرف اس خدائے بزرگ برتر کی ذات ہے جس کی عظمت پر یہ کائنات گواہی دے رہی ہے‘‘ g

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *