طلاق ثلاثہ پر مجوزہ بل مسلمانوں کیلئے ناقابل قبول: مسلم پرسنل لاء بورڈ

Share Article
Bourd-M
آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈکی مجلس عاملہ نے اعلان کیا کہ حکومت ہند کا پیش کردہ شادی شدہ مسلم خواتین کے حقوق کے تحفظ سے متعلق بل مسلمانان ہند کے لئے کسی طرح بھی قابل قبول نہیں ہے اس لئے کہ یہ بل خودمسلمان خواتین کے حقوق کے خلاف ہے اور ان کی الجھنوں ، پریشانیوں اور مشکلات میں اضافے کا سبب ہے، اسی طرح یہ شریعت اسلامی میں کھلی ہوئی مداخلت ہے ۔
مرکزی حکومت کی طرف سے تجویز کردہ تین طلاق بل کو شریعت کے خلاف قرار دیتے ہوئے آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے 24دسمبرکو کہا کہ قانون کے ذریعے مسلمانوں کے طلاق دینے کے حق کو چھیننے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ بورڈ کے ترجما ن خلیل الرحمن سجاد نعمانی اور آل انڈیا اتحاد المسلمین کے صدر اسدالدین اویسی سمیت مجلس عاملہ کے 50 اراکین نے یہاں منعقد ہوئے ہنگامی اجلاس میں یک زبان ہو کر کہا کہ مجوزہ بل شریعت کے خلاف ہے اور شریعت میں مداخلت کی کوشش کو قطعی قبول نہیں کیا جائیگا۔
آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی مجلس عاملہ نے یہاں اعلان کیا کہ شادی شدہ مسلم خواتین کے حقوق کے تحفظ سے متعلق حکومت ہندکا مجوزہ بل مسلمانان ہند کو کسی بھی صورت میں قبول نہیں ہے اس لئے کہ یہ بل خود مسلم خو اتین کے حقوق کے خلاف ہے، اور انکی الجھنوں ، مشکلات اور پریشانیوں میں اضافے کا سبب بن سکتاہے۔
مسٹر نعمانی نے کہا کہ مسلمانوں کے مذہبی امور میں حکومت کی دخل اندازی قبول نہیں کی جائیگی۔ انہوں نے کہا مجوزہ قانون سے خواتین اور بچوں دونوں کا بھی بھلا نہیں ہوگا۔مسٹرنعمانی نے کہا چونکہ یہ بل شریعت اسلامی اور آئین دونوں کے خلاف ہے، نیز مسلم خواتین کے حقوق پر اثر انداز ہوسکتا ہے اس لئے آل انڈیا پر سنل لا بورڈ اس کے سدباب کی کوشش شروع کر چکا ہے اور آئندہ بھی ہر سطح پر بھر پور کاشش کرئے گا۔انہوں نے کہا کہ بورڈ اس معاملے میں وزیر اعظم نریندر مودی کو خط لکھ کر بل کو واپس لینے کی درخواست کرے گا۔
اس بل کی دفعات ۴۔۵۔۶۔۷ ملک میں پہلے سے موجود قوانین (مثلا Guardian and wards Actوغیرہ) سے ٹکراتی ہیں اور دستور ہند کی دفعہ ۱۴۔ ۱۵ کے خلاف ہیں کیونکہ اس بل میں ان مسلمان عورتوں کو جن کو بیک وقت تین طلاق دی گئی ہو اور دیگر مسلم خواتین میں بغیر کسی جواز کے تفریق کی گئی ہے اور شوہر کو مجرم قرار دیے جانے کے سلسلہ میں خود اس کی منکوحہ کی مرضی اور منشا کو بھی نظر انداز کیا گیا ہے، حد تو یہ ہے کہ بچوں کی فلاح و بہبود کے معاملہ پر سرے سے توجہ ہی نہیں دی گئی ہے۔
یہ بات حیران کردینے والی ہے کہ جس کمیونٹی کے بارے میں یہ بل پیش کیا گیا ہے نہ اس کے ذمہ داران اور قائدین سے مشورہ لیا گیااور نہ کسی مسلم تنظیم اور ادارے سے رابطہ کیا گیا اورنہ خواتین کے معتمداداروں سے مشورہ کیا گیا،اس لئے اس بل کے سلسلہ میں ہمارا مطالبہ ہے کہ حکومت ابھی اس مجوزہ بل کو پارلیمنٹ میں پیش نہ کرے بلکہ اگر ضرورت محسوس کی جائے تو آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ اور مسلم خواتین کی صحیح نمائندگی کرنے والی تنظیموں اور اداروں سے مشورے کے بعد ایسا بل پیش کیا جائے جو خواتین کے حقوق کا تحفظ کرنے والا، شریعت اسلامی اور آئین ہند سے مطابقت رکھنے والا ہو۔
چونکہ یہ بل شریعت اسلامی اور آئین ہند دونوں کے خلاف ہے ، نیزمسلم خواتین کے حقوق کو متأثر کرنے والا ہے اس لئے آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈاس کے سدباب کی کوششیں شروع کرچکا ہے اور آنے والے دنوں میں بھی ہر سطح پر بھر پور کوشش کرے گا، انشاء اللہ۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *