alisha-malik
اترپردیش کے پیتل نگری مرآدبادمیں عیدکے موقع پرلڑکوں سے گلے ملنے والی لڑکی علیشاملک کاویڈیووائرل ہونے کے بعد وہ سرخیوں میں آگئی تھیں۔لیکن وہ اب وہ اس سرخیوں میں آنے کی وجہ سے پریشان ہے۔دراصل ،ان کی اس حرکت کے بعدسوشل میڈیاپرلوگوں کے اس کے خلاف تبصرہ کررہے تھے۔سوشل میڈیاپرٹرول ہونے کے بعدعلیشاملک نے صفائی دی ہے اوروہ اپنی اس حرکت پرمعافی مانگی ہے۔علیشا ملک نے مسلم مذہبی رہنماؤں اوردیگرلوگوں کے اعتراض کے بعد لڑکوں سے گلے مل کر عید منانے پر صفائی دی ۔ انہو ں نے ان تمام لوگوں سے معافی مانگی ، جنہوں نے وائرل ویڈیو پر اعتراض ظاہر کرتے ہوئے علیشا کے اس قدم کو اسلام کے خلاف بتایا تھا۔ علیشا ملک کے مطابق اس واقعہ کے بعد اس کا گھر سے باہر نکلنا مشکل ہو گیا ہے اور ساتھ ہی ساتھ ویڈیو وائرل ہو جانے کی وجہ سیان کے خاندان کی پریشانیوں میں اضافہ ہوگیا ہے۔میڈیارپوٹس کے علیشاکا کہناہے کہ جوکچھ میں نے کیا، وہ اپنی ماں سے پوچھ کرکیاتھا۔اس کے ساتھ ہی علیشاملک نے کہاکہ میرا کوئی غلط ارادہ نہیں تھا۔ میرا مقصد لوگوں کی قدامت پسند سوچ بدلنے کا تھا، لیکن سوشل میڈیا پر ویڈیو کو توڑمروڑ کر پیش کیا گیا۔انہو ں نے کہاکہ اسکے ادھورے ویڈیوکودکھاکراس کے کام کامقصد ہی بدل دیاگیا۔علیشبانے الزام لگایاکہ ویڈیوکوہرجگہ ادھورادکھایاگیاہے۔انہو ں نے کہاکہ میں صرف لڑکوں سے گلے نہیں ملی،بلکہ خواتین اوربچوں کوبھی گلے مل کرعیدکی مبارکباددی تھی۔
علیشا ملک کا کہنا ہے کہ وہ گلے مل کر عید کی خوشیاں بانٹنا چاہتی تھیں، لیکن ان پر مذہب اور خاندان کا مذاق اڑانے کا الزام لگنے لگا۔ لوگ کہہ رہے ہیں کہ میڈیا میں آنے کے لئے اور خبروں میں چھانے کے لئے علیشا نے عید کے مبارک موقع پر یہ کام کیا۔بہرکیف علیشا جمعہ کے روز خود سامنے آئیں اور اپنی جانب سے صفائی پیش کی اوراپنی اس حرکت پرمعافی مانگی ہے۔
عیدکے موقع پرلڑکوں سے مل کرمرادآبادکی علیشاملک سوشل میڈیاکی اسٹاربن چکی ہے۔مرادآبادکے ساتھ ہی پورے دیش میں اس لڑکی کی باتیں ہورہی ہیں۔عیدپرلڑکوں سے گلے ملتے علیشاکے ویڈیوکولاکھوں لوگ دیکھ چکے ہیں اوراب بھی اسے لگاتارشیئرکیاجارہاہے۔اس ویڈیومیں لڑکے لائن میں لگ کرعلیشاسے گلے ملتے دکھ رہے ہیں۔بتایاجاتاہے کہ مرادآبادکے ویب مال کے باہرعلیشانے لڑکوں سے گلے ملتے ہوئے ویڈیوتیار کیاتھا۔اس دوران وہ لڑکوں اوربچوں سے گلے ملیں اورعیدکی مبارکباددی۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here