اکھلیش کے وعدوں کے پورا ہونے کے منتظر اتر پردیش کے مسلمان

Share Article

ایس اے بیتاب
اتر پردیش میں سماجوادی پارٹی کی سرکار جس وقت پوری اکثریت کی طرف بڑھ رہی تھی، صوبے میں جرم اور مجرموں کے بڑھنے کی لگاتار خبر آنے لگی تھی۔ سرکار بننے سے لے کر آج تک اترپردیش میں تقریباً ایک درجن کے قریب فرقہ وارانہ فساد ہوچکے ہیں۔ ان فرقہ وارانہ فساد کی اصل وجہ کیا ہوتی ہے، یہ کوئی نہیں بتاتا۔ کہیں گئوکشی کی واردات تو کہیں چھیڑچھاڑ تو کہیں بغیر کسی بات کے فرقہ وارانہ فساد ہوجاتے ہیں۔ فیض آباد کے فساد کو دیکھ کر تو واضح طور پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ وہاں پر مسلمانوں کی جان و مال کا نقصان گجرات فساد کی طرز پر کیا گیا۔ اس سے پہلے ڈاسنہ، مسوری میں پانچ مسلمان پولس کی گولی سے مارے گئے تھے۔ یہ وہ مسلمان تھے، جو قرآن شریف کے اوراق کی بے حرمتی کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کے لیے تھانے گئے تھے۔ جب ان کی بات نہیں سنی گئی، تو انہوں نے احتجاج کیا، اس کے جواب میں پولس نے گولیاں چلائیں، جس میں پانچ مسلمان مارے گئے تھے۔ اگر پولس سوجھ بوجھ دکھاتی تو واردات کو روکا جاسکتا تھا۔
سماجوادی سرکار کے پوری اکثریت کے ساتھ آتے ہی بی ایس پی سپریمو مایاوتی کا بیان آیا تھا کہ مسلم سماج نے 70 فیصد ووٹ سماجوادی کو دے دیے ہیں،اس لیے بی ایس پی ہار گئی۔ بی ایس پی سپریمو کے اس بیان سے پتہ چلتا ہے کہ مسلم سماج سماجوادی پارٹی کی محبت میں پہلے سے ہی ڈوبا ہوا ہے۔ 2007 اسمبلی انتخاب میں سماجوادی کے ذریعے کلیان سنگھ کو گلے لگانے سے ناراض مسلم برادری نے بی ایس پی کو بھر پور ووٹ دیا تھا اور 2009 لوک سبھا انتخاب میں بی ایس پی اور کانگریس پارٹی کو بھی ووٹ دیا تھا، جس کے نتیجے میں کانگریس کو لوک سبھا کی 26 سیٹیں ملی تھیں۔
مسلم سماج کی حالت اترپردیش میں ایک تحفظ فراہم کرنے والی سرکار کو ووٹ دینے کی رہی ہے۔ ابھی تک اسی تلاش میں مسلم سماج ایک پارٹی سے دوسری پارٹی کو ووٹ دیتا رہا ہے۔ راشٹریہ لوک دل کے آنجہانی لیڈر چودھری چرن سنگھ، جے ایم (جاٹ مسلم) اتحاد کی وجہ سے ہی حکومت کرتے تھے۔ ان کے بیٹے چودھری اجیت سنگھ کو بھی مسلمانوں نے گلے سے لگایا تھا، لیکن چودھری اجیت سنگھ نے بی جے پی سے ہاتھ ملا لیا۔ لوک دل کی بی جے پی سے محبت سے مسلم برادری ناراض ہے، اسی وجہ سے لوک دل گھٹ کر آج قریب آدھا درجن سیٹوں پر آگیا ہے، لیکن ملائم سنگھ مسلمانوں، کسانوں، پچھڑوں سبھی کو ساتھ لے کر چلتے رہے ہیں۔ ان کی کڑی محنت سے ہی سماجوادی پارٹی پوری اکثریت میں آئی ہے۔ اس سے پریشان و فکرمند سیاسی طاقتیں سماجوادی سرکار کو روکنے کی کوشش کررہی ہیں۔ فرقہ پرست طاقتوں کی بڑھتی چنوتی کو کچھ سرکاری اہل کار بھی ہوا دینے کا کام کر رہے ہیں۔ یہ آفیسرز لاپرواہی اور غیرفعالیت برت کر ان کو کھلی چھوٹ دیتے رہے ہیں۔ جس طرح کیپٹن کے لیے اس کے بیٹس مین اور بالر اسے کامیاب بناتے ہیں، ٹھیک اسی طرح سرکار کی کامیابی اس کے سرکاری عملے کی صحیح کارکردگی سے ہی طے ہوتی ہے۔ اکھلیش یادو ایک نوجوان وزیراعلیٰ ہیں۔ ان کے سامنے طرح طرح کی چنوتیاں آئیں گی اور وہ اتنے ہی مضبوط ہوتے جائیں گے، ایسی امید ہے اتر پردیش کے لوگوں کو۔
اقلیتی فرقہ کے لوگوں میں سماجوادی پارٹی کے ذریعہ اپنے انتخابی منشور میں کیے گئے وعدوں پر عمل نہ کرنے سے بے چینی پائی جارہی ہے۔ سماجوادی پارٹی نے پچھلے انتخاب میں جو وعدے کیے تھے کہ سچر کمیٹی کی سفارشات کو نافذ کیا جائے گا، جس میں مسلمانوں کی حالت دلتوں سے بدتر بتائی گئی ہے۔ کہا گیا تھا کہ رنگناتھ مشرا کمیشن کی رپورٹ کو بھی سرکار بننے پر نافذ کیا جائے گا۔ دونوں کمیٹیوں کی سفارشات کو نافذ کرتے ہوئے دلتوں کی طرح اعداد و شمار کی بنیاد پر ریزرویشن دیا جائے گا۔ مسلم اکثریتی ضلعوں میں سرکاری تعلیمی ادارے قائم کرنے کا وعدہ بھی سماجوادی پارٹی نے کیا تھا، لیکن یہ وعدے ابھی تک پورے نہیں ہوئے ہیں۔ دہشت گردی کی آڑ میں اترپردیش میں جن بے گناہ مسلمانوں کو جیل میں ڈالا گیا ہے، انہیں معاوضہ بھی دلایا جائے گا۔ اردو کے فروغ کے لیے مسلم اکثریتی علاقوں میں پرائمری، مڈل اور ہائی اسکول کی طرز پر سرکاری اردو میڈیم اسکولوں کی شروعات اور پہلے کی طرح انہیں روزی روٹی سے جوڑتے ہوئے نوکریاں دی جائیں گی۔ مدرسوں میں تکنیکی تعلیم کے لیے خاص بجٹ کاانتظام، مسلمانوں کے اندر خود اعتمادی پیدا کرنے کے لیے ریاستی پولس میں مسلمانوں کی بحالی کا خاص انتظام اور کیمپ لگا کر ان کی تقرری، قبرستانوں کی زمین پر ناجائز قبضوں کو روکنے اور زمین کی حفاظت کے لیے چہار دیواری کی تعمیر کے لیے بجٹ میں خاص پیکیج کا انتظام جیسے مدعوں کو اکھلیش یادو کب تک عمل میں لاتے ہیں، یہ دیکھنا ابھی باقی ہے۔ جیسے جیسے ان کے وعدے پورے ہوں گے اکھلیش یادو عوام میں انتہائی مقبول ہوتے جائیں گے۔ درگاہوں کی حفاظت اور ترقی کے بارے میں درگاہ ایکٹ بنایا جانا اور ریاست میں قائم درگاہوں کے لیے اسپیشل پیکیج منظور کیاجانا، سبھی سرکاری کمیشنوں، بورڈوں اور کمیٹیوں میں کم سے کم اقلیتی فرقہ کے ایک نمائندے کا انتخاب کیا جانا، وقف کی جائیدادوں کی حفاظت کے لیے الگ قانون بناکر وقف بورڈ کی جائیداد سے ناجائز قبضے ہٹواکر انہیں وقف کے حوالے کرنا، وقف بورڈ کی جائیدادوں کو زمین مافیائوں کے قبضے سے چھڑانا وغیرہ کے ساتھ سماجوادی سرکار نے وعدہ کیا تھا کہ جن زمینوں پر فرضی کرایہ داری قائم کی گئی ہے، ان پر بنی عمارتوں کو زمین کے ساتھ وقف کو دے دیا جائے گا۔ جن صنعتی شعبوں میں اقلیتوں کی اکثریت ہے، جیسے ہتھ کرگھا، دست کاری، ہینڈلوم، قالین کا کارخانہ، چوڑی، تالا، زری، زردوزی، بیڑی، قینچی کارخانہ وغیرہ، انہیں سرکاری مدد فراہم کرکے ان کی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔ کرگھوں پر بجلی کے بقایا بلوں پر لگنے والی سود کو معاف کرکے بنکروں کو راحت دی جائے گی۔ چھوٹی اور گھریلو صنعتوں کے ہنرمند کاریگروں کی کمی کو پورا کرنے کے لیے ہر بلاک کی سطح پر ایک ایک آئی ٹی آئی قائم کرنے اور دسویں کلاس پاس مسلم لڑکیوں کو آگے کی تعلیم پوری کرنے اور شادی کے لیے انہیں 30 ہزار روپے کی مدد دینے کا وعدہ کیا گیا تھا۔ کہا گیا تھا کہ مسلمانوں کے وہ تعلیمی ادارے جو یونیورسٹی کی شرائط کو پورا کرتے ہیں، انہیں یونیورسٹی کا درجہ دیا جائے گا۔ سماجوادی پارٹی نے اپنے انتخابی منشور میں وعدہ کیا تھا کہ کسانوں کی طرح غریب بنکر وں کو مفت بجلی دی جائے گا، محمد علی جوہر جوہر یونیورسٹی کی تمام قانونی رکاوٹوں کو دور کرتے ہوئے اسے ایک مثالی یونیورسٹی بنایا جائے گا، میڈیکل کالج سمیت ہر قسم کی جدید تعلیم کے لیے بھرپور مالی امداد فراہم کی جائے گی، بی ایس پی حکومت نے پانچ سالوں کے داخلے پر روک لگا کر اور بلڈوزر چلا کر جو تاریخی ناانصافی کی ہے، اسے انصاف میں بدلا جائے گا، ظلم کرنے والے افسران کو سزا ملے گی۔ ان تمام وعدوں سے متاثر ہو کر مسلم سماج نے سماجوادی پارٹی کو ووٹ دیا تھا، لیکن چھ ماہ سے زیادہ کا عرصہ گزر جانے کے باوجود ان وعدوں پر عمل نہیں کیا گیا ہے، جس کے نتیجہ میں مسلمانوں میں بے چینی پائی جاتی ہے۔ مسلم سماج اس پس وپیش میں ہے کہ سماجوادی سرکار میں بیٹھے اس کے سماج کے ایم ایل اے بھی پرزور طریقے سے ان وعدوں کو پورا کرانے کے لیے کوششیں کیوں نہیں کرتے ہیں۔ اترپردیش کا مسلمان 2014 کے لوک سبھا انتخاب میں ووٹ دینے سے پہلے غور ضرور کرے گا، کیونکہ ایک پارٹی سے دوسری پارٹی، دوسری سے تیسری پارٹی کو ووٹ دیتے دیتے وہ خود ان پارٹیوں کے درمیان پھنس چکا ہے۔ کیا وزیراعلیٰ اکھلیش یادو ان باتوں پر توجہ دیں گے، اسی کشمکش میں مبتلا ہیں اترپردیش کے مسلمان۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *