منافرت پھیلانے والوں کے خلاف اکھلیش کا دانشمندانہ فیصلہ

Share Article

وسیم راشد
جب بھی انتخابات کا وقت قریب ہوتا ہے تو فرقہ وارانہ منافرت اور مذہبی کشیدگی پیدا کرنے والی قوتیں ابھر کر سامنے آنے لگتی ہیں اور موقع لگتے ہی آبادیوں کو فرقہ وارانہ بنیادوں پر تقسیم کردیتی ہیں۔ یہ طاقتیں حکومتوں اور انتظامیہ کے لیے مسائل پیدا کرتی رہتی ہیں۔جو حکومت، خاص طور پر ریاستی حکومتیں،مضبوط حکمت عملی اور ٹھوس اقدام کرنے میں کامیاب رہتی ہیں وہ منافرت پھیلانے والوںکے ہر عزم کو ناکام کردیتی ہیں مگر یہ طاقتیں ایسی حکومتوں میں اپنا قدم مضبوط کر لیتی ہیں جہاں ان کے پھلنے پُھلنے کے لیے زر خیز زمین مل جاتی ہے۔یوںتو یہ طاقتیں ملک کے تمام صوبوں میں اپنے پھیلائو کے لیے زمین تلاش کرتی ہیں اور جہاں موقع ملتا ہے انسانی ذہن میں نفرت کا بیج بوکر ملک کے پُر امن ماحول کو خراب کردیتی ہیں مگر اتر پردیش ایک ایسا علاقہ ہے جو آزادی کے بعد سے ہی ایسی طاقتوں کے لیے دلچسپی کا باعث رہا ہے ۔میرٹھ ملیانہ کے فساد سے لے کر بریلی تک کی خونریزی ان طاقتوں کی کوششوں کا ہی نتیجہ ہے ۔مگر گزشتہ دنوں اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو نے اپنے ایک فیصلے سے ان طاقتوں کے عزائم کو کمزور کرنے کی طرف ایک ٹھوس قدم اٹھایا ہے ۔

جو لوگ کل تک بھائی چارگی اور پیارو محبت سے ایک ساتھ رہتے تھے آج وہی ایک دوسرے کے خون کے پیاسے بنے ہوئے ہیں۔جبکہ ان کے درمیان نہ تو کسی جائداد کی تقسیم کا جھگڑا ہے اور نہ ہی کسی اقتدار اور عہدے کا ۔ اس جھگڑے کی بنیاد غلط فہمی پرہے جس کو ملک دشمن عناصر نے مذہب کے نام پر پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔ایسے عناصر ذات برادری کے نام پر اور کبھی سر حد وں کے نام پر اشتعال پیدا کرتے ہیں اور اس کا انجام یہ ہوتاہے کہ نفرت کی یہ چھوٹی سی چنگاری سینکڑوں انسانوں کی جانیں لے کربجھتی ہے ۔اگر ابتدا میں ہی ایسے عناصر کو کچل دیا جائے تو نہ بریلی کا حادثہ ہو اور نہ ہی آسام کی خونچکاں داستان۔

وزیر اعلیٰ کا یہ فیصلہ فرقہ وارانہ فسادات کے بڑھتے ہوئے واقعات کو روکنے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔ان کے فیصلے کے مطابق’ ضلع مجسٹریٹ اور سپرنٹنڈنٹ آف پولیس اپنے ضلع میں ہونے والے فرقہ وارانہ جھگڑوں کے لیے ذمہ دار ہوںگے‘۔ ظاہر ہے ان کا یہ فیصلہ انتہائی دانشمندانہ ہے ۔کیونکہ اگر ضلع مجسٹریٹ اور ایس پی چاہیں تو فساد کی چنگاری کو بڑھنے سے روک سکتے ہیں۔ دراصل تقسیم ہند کے بعد آزاد ہندوستان میں بے شمار فرقہ وارانہ فسادات ہوئے اور بے شمار انسانوں کی جانیں گئی ہیں جن میں لاکھوں ہندو ،مسلمان ،سکھ اور عیسائی شامل ہیں۔ یہ فسادات صرف ہندو مسلم تک ہی محدود نہیں ہیں۔ بلکہدیگر برادران وطن کے ساتھ بھی ہوئے۔ یہ ہمارے ملک میں ایک ایسا کینسر ہے جس کا علاج انتہائی ضروری ہے۔جس کی ضرورت آزادی کے بعد سے ہی کی جارہی تھی اور مختلف وقتوں میں اس کو روکنے کے لیے الگ الگ حکمت عملی اپنائی گئی۔ اس کا قلع قمع کرنے کے لیے سریع الحرکت فورس ( آر اے ایف) تشکیل کی گئی۔ یہ وہ موقع تھا جب ملک میں جا بجا فسادات ہورہے تھے اور حکومت کے لیے ان پرقابو پانا ایک بڑا چیلنج بن چکا تھا۔ اسی دور میںیو پی میں پی اے سی بنائی گئی ۔اسی طرح دیگر ریاستوں میں فساد کش فورسز تشکیل دی گئیں۔ آر اے ایف میں تو اقلیتوں کو مناسب نمائندگی دی گئی لیکن ریاستی فورسز میں اقلیتوں کو نظر انداز کردیا گیا ۔اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ فسادات کے دوران پی اے سی کی یکطرفہ کارروائی کرنے کی شکایتیں موصول ہونے لگیں۔خاص طور پر مسلمانوں میں یہ سوچ عام ہونے لگی کہ پی اے سی ہندوئوں کی حفاظت کے لیے تشکیل دی گئی ہے اور اس فورس کا مقصد ہے مسلمانوںسے بدلہ لینا۔پی اے سی پر لگے ان الزامات کی وجہ سے ریاستی فورسز میں اقلیتوںکو ان کی آبادی کے تناسب سے مناسب نمائندگی دیے جانے کا مطالبہ ہونے لگا تاکہ فسادات کے دوران اقلیتوںپر زیادتی نہ ہونے پائے۔یہاں یہ بات بھی سمجھنے والی ہے کہ آر اے ایف اور دیگر فورسز فسادات کے دوران ضلع انتظامیہ کے تحت ہی کام کرتی ہیں لہٰذا کسی شہر یا بستی کو فسادات کی آگ سے بچانے کی پوری ذمہ د اری بھی پولیس و انتظامیہ کی ہی ہوتی ہے۔ویسے بھی عام طور پر پولیس محکمہ کے پاس ضلع کے ایسے لوگوں کی معلومات ہوتی ہیں جو فرقہ پرستی کو ہوا دینے میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ خاص طور پر علاقے کا تھانہ انچارج علاقے کے غنڈوں ، بد معاشوں اور منافرت پھیلانے والوں سے بخوبی واقف ہوتا ہے لہٰذا اگر ایس پی کے ساتھ ساتھ تھانہ انچارج اور ہیڈ کانسٹیبل کو بھی اس فیصلے کے دائرے میں لے آیا جائے تو فسادات پر قابو پانیمیں مزید مدد ملے گی۔ اس کے علاوہ ایک اور پہلو ہے جس پر وزیر اعلیٰ کو دھیان دیناہوگا۔ ہوتا یہ ہے کہ جب بھی پولیس محکمہ کا کوئی آفیسر جب کسی غنڈے موالی کے خلاف کارروائی کرتا ہے،شرپسندوںکو گرفتار کرکے چارج شیٹ تیار کرنے کی سوچتا ہیتو چارج شیٹ تیار کرنے سے پہلے ہی کسی نہ کسی لیڈر کا اس آفیسر پر دبائو پڑتا ہے اور پولیس کو لیڈر کے سامنے بے بس ہوکر اس غنڈے موالی کو آزاد کردینا پڑتا ہے۔ لہٰذا اکھلیش یادو نے جہاں ضلع انتظامیہ اور ایس پی کو فسادات کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے وہیں انہیں پولیس کو لیڈروں کے دبائو سے آزاد کرنے کی حکمت عملی بھی اپنانی چاہئے۔ جب تک پولیس پر لیڈروں کا دبدبہ قائم رہے گا اس وقت تک پولیس چاہتے ہوئے بھی ان غنڈوں ،موالیوں اور منافرت پھیلانے والوں کے خلاف کچھ نہیں کرسکتی۔اس کے علاوہ مرکزی حکومت کو بھی کچھ اقدامات کرنے ہوںگے اور ریاستی حکومتوں کو فرقہ واریت کے تعلق سے آئینی طور پرمزید اختیارات دینے ہوں گے کیونکہ فرقہ وارانہ فساد بنیادی طور پرریاستوں کے لاء اینڈ آرڈر کا معاملہ ہے اور ریاستی حکومت کی درخواست پر ہی مرکزی حکومت اس ریاست میں فوج یا کوئی دوسری فورس بھیج سکتی ہے۔ایسے میں اگر مرکزی حکومت فرقہ وارانہ فسادات کو روکنے کے لیے ’انسداد فرقہ ورانہ فساد بل‘ تیار کراتی ہے اور اسے پارلیمنٹ میںپاس کرالیتی ہے تو ریاستی سرکار کو ان فسادات کو کچلنے میں بہت مدد مل سکتی ہے۔لیکن بات پھر وہیں آکرٹھہر جاتی ہے کہ ابتدائی مرحلے میں فسادات کو روکنے کی ذمہ داری ضلع پولیس و انتظامیہ کی ہی ہے ۔ جب تک ضلع مجسٹریٹ اور ایس پی اس سلسلے میں سنجیدہ نہیں ہوں گے اس وقت تک نہ تو کوئی قانون مددگار ہوسکتا ہے اور نہ ہی کوئی فورس۔اس لیے فسادات ہونے کی صورت میں ان دونوںکی گردن پرہی تلوار لٹکا دی جائے تو یہ فسادات کو ابتدا میں ہی کچلنے کے لیے ٹھوس قدم اٹھائیںگے اور مضبوط حکمت عملی سے منافرت پھیلانے والوں کے خلاف سخت کارروائی کرکے خطے کو تباہی سے بچاسکیںگے۔
اس وقت ملک کا کئی خطہ فرقہ وارانہ فسادات کی زد میں ہے۔ جو لوگ کل تک بھائی چارگی اور پیارو محبت سے ایک ساتھ رہتے تھے آج وہی ایک دوسرے کے خون کے پیاسے بنے ہوئے ہیں۔جبکہ ان کے درمیان نہ تو کسی جائداد کی تقسیم کا جھگڑا ہے اور نہ ہی کسی اقتدار اور عہدے کا ۔ اس جھگڑے کی بنیاد غلط فہمی پرہے جس کو ملک دشمن عناصر نے مذہب کے نام پر پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔ایسے عناصر ذات برادری کے نام پر اور کبھی سر حد وں کے نام پر اشتعال پیدا کرتے ہیں اور اس کا انجام یہ ہوتاہے کہ نفرت کی یہ چھوٹی سی چنگاری سینکڑوں انسانوں کی جانیں لے کربجھتی ہے ۔اگر ابتدا میں ہی ایسے عناصر کو کچل دیا جائے تو نہ بریلی کا حادثہ ہو اور نہ ہی آسام کی خونچکاں داستان۔
بہر کیف، یوپی کے جواں سال وزیر اعلیٰ نے ایک اہم فیصلہ کیا ہے ۔ملک کے عوام اس فیصلے سے توقع کرتے ہیں کہ آنے والے دنوں میں فسادات پرقابو پانے میں مدد ملے گی۔ اگر اسی طرح کا فیصلہ دیگر ریاستوں کی حکومتیں بھی کرلیں ، اس عزم کے ساتھ کہ انہیں اپنی ریاست کی زمین پر نفرت کو پنپنے نہیں دینا ہے تو ہمارے ملک کی تاریخ کا یہ ایک اہم فیصلہ ہوگا، جس کے نتیجے میں بھائی چارگی کے ساتھ جینے والے ہندو مسلم سکھ عیسائی کے درمیان کبھی بھی کوئی خونچکاں لڑائی نہ ہوگی۔

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *