!!!اے کے ہنگل : عمر گزری ہے اسی دشت کی سیاحی میں

Share Article

اقبال نیازی،ممبئی
چھتر سالہ ایک بزرگ اداکار ، جنگ آزادی میں سر گرمی سے حصّہ لینے والے مارکس وادی نظریات کے حامی ، فرقہ پرست اور بنیاد پرستوں کو ہر وقت کھری کھری  سنانے والے تھیٹر اور فلم کے ایک فطری اداکار اپنے آبائی وطن پاکستان جانے کے لیے ویزا کی درخواست دیتے ہیں۔ پاکستان ایمبیسی انھیں بصد احترام پاکستان ڈے کے مو قع پر مدعو کرتی ہے اور وہ شریک بھی ہوتے ہیں۔۔ بس ۔۔ دوسرے دن ممبئی مہاراشٹر کی سیاسی پارٹی شیو سینا کو ایک مو ضوع  ہاتھ لگ جاتا ہے اور بال ٹھاکرے اپنے اخبار ’’سا منا ‘‘ کی سر خی لگاتے ہیں۔ ’’اے کے ہنگل غدّار ہے، دیش دروہی ہے!!‘‘ اس کے ساتھ ہی یہ حکم نامہ جاری ہوتا ہے کہ اے کے ہنگل کی فلموں کا بائیکا ٹ کیا جائے، فلموں میں مو جود ان کے سین حزف کئے جائیں ، تبھی وہ فلمیں ریلیز کرنے دیں گے۔ مہاراشٹر کے مختلف شہروں سے ان کی فلمیں جبراََ اتاردی جاتی ہیں ۔ ان کی فلوں کے پو سٹر پھاڑے جاتے ہیں ، دھمکی بھرے فون مو صول ہوتے ہیں ، ایک فریڈم فائٹر کے پتلے سر راہ جلائے جاتے ہیں ۔
لیکن76 برس کے اس جواں ہمت بزرگ نے کہا۔’’مجھے دیش بھکتی کے لیے کسی سے کیر یکڑ سر ٹیفیکٹ لینے کی ضرورت نہیں۔ میں اس ملک کی جنگ آزادی کا سپاہی رہا ہوں ، میں نہیں ڈرتا اس طرح کی مخالفتوں سے‘‘۔ اور پھر تو ہندوستان بھر کے رنگ کر می، فلم کار،اداکار ، سبھی لوگ متحد ہو کر اے کے ہنگل کی حمایت میں اُٹھ کھڑے ہوئے۔اس ہنگا مے کے ایک سال بعد ہنگل صاحب کی حمایت میں ایک میٹنگ بلائی جاتی ہے اور وہاں ایک برس بعد بال ٹھاکرے اس بات کی صفائی دیتے ہیں کہ  انھوں نے بائیکا ٹ کا حکم شیو سینکوں کو نہیں دیا تھا اور اب پرڈیوسر بھی بے خوف ہو کر دوبارہ ہنگل صاحب کوفلموں کے لیے بلانے لگے۔
عمر کے آخری ڈھلان پر، اصولوں پر آنچ نہ آنے دینے کی یہ ادا، یہ با غیانہ تیور دراصل اے کے ہنگل صاحب کو تھیٹر اور با لخصوص اِپٹا سے وابستگی نے دئے تھے۔ آج 93 برس کی عمر میں اے کے ہنگل صاحب ممبئی میں صاحب ِ فراش ہیں، لیکن وہ آج بھی فون کر کے اِپٹا کی سر گرمیوں کے بارے میں معلومات حاصل کرتے رہتے ہیں۔نئے پر وڈکشن ، نئے فنکاروں کی تفصیلات پو چھتے ہیں ۔جسمانی اعتبار سے وہ لاغر ضرورہوئے ہیں لیکن نظریاتی پختگی اور اصولوں کی سختی پر وہ آج بھی اسی طرح کاربند ہیں جیسے وہ ممبئی آنے سے قبل اپنے نو جوانی کے دور میں پشاور میں تھے۔اوتار کشن ہنگل المعروف اے کے ہنگل 1917 میں سیالکوٹ پنجاب میں پیدا ہوئے جو اب پاکستان کا  حصّہ ہے۔ ان کا بچپن پشاور میں گزرا  ۔ اور وہیں  نو جوانی میں انھوں نے تھیٹر میں کچھ اہم کردار ادا کیے۔ ان کا ابتدائی ذریعہ معاش ٹیلرنگ تھا۔ قینچی سے کپڑے کاٹتے کا ٹتے وہ انگریزوں کے پرَ کترنے میں لگ گئے اور جدوجہد ِ آزادی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا نتیجہ 3 سال جیل میں رہے۔ پھر پشاور سے کراچی آ گئے اور آزادی ملنے کے 3 برسوں بعد ہی1949میں ممبئی میںوارد ہوئے۔اس وقت ان کی عمر 32 سال تھی۔
ہنگل صاحب کراچی میں تھے اسی وقت انھوں نے کمیونسٹ پارٹی کی کلچرل ونگ انڈین پیپلس تھیٹر ایسوسی ایشن (IPTA)کے بارے میں سنا تھا اور 1947 میں اِپٹا کی نیشنل کا نفرنس میں پہلی بار شرکت بھی کی تھی۔ کراچی سے ہجرت کرکے ممبئی آنے کے بعد جب انھوں نے یہاں کی سیاسی و سماجی زندگی میں دلچسپی لینا شروع کی توبمبئی اپٹا کو بھی قریب سے دیکھنے اور سمجھنے کا مو قع ملا۔ ایک دن ہنگل صاحب ممبئی میں ایک ٹیلرنگ شاپ میں (جہاں وہ ملازم تھے) کام میں مشغول تھے کہ دو اجنبی آدمی دکان میں داخل ہو ئے ۔ ہنگل صا حب کو شبہ ہوا کہ یہ سی آئی ڈی کے آدمی ہیںجو تفتیش کرنے آئے ہیں، لیکن جب انھیں پتہ چلا کہ یہ ممبئی اپٹا کے لوگ ہیں تو انھوں نے اطمینان کی سانس لی اور خوش بھی ہوئے اور قریب کے ایک ہو ٹل میں انھیں لے گئے اور دیر تک ان سے گفتگو کی۔اس وقت بمبئی اِپٹا اپنے خراب دور سے گزر رہی تھی ۔ لوگ منتشر ہورہے تھے ، کچھ ذاتی اور کچھ سیاسی وجوہات کی بناء پر، کچھ لوگوں کے ممبروں کے باہمی نظریاتی تصادم بھی اس انتشار کا سبب بنے ۔ خواجہ احمد عبّاس چھوڑ کر چلے گئے تھے ، بلراج ساہنی اور ان کے دوستوں نے ایک دوسرا گروپ بنا لیا تھا، حبیب تنویر تھیٹر ٹریننگ کے لیےیوروپی ممالک روانہ ہو گئے تھے، دینا گاندھی احمد آباد میں گجراتی کا پروفیشنل تھیٹر جوائن کرنے جا رہی تھیں۔  مراٹھی تھیٹر کی جلیل القدر شخصیتیں اور اپٹا کے بیحد سرگرم اور فعال فنکار امر شیخ اور انّا بھائو ساٹھے ، گوانکر نے اپنا ایک الگ گروپ بنا لیا تھا۔ یہ تمام وہ لوگ تھے جو اِپٹا سے جڑے ہوئے تھے اور اپٹا کی عظمت کے لیے با عثِ فخر سمجھے جاتے تھے۔ ان کے جانے سے ِاپٹا کا جہاز ڈگمگا نے لگا تھا۔ ایسے نا مساعد حالات میں اے کے ہنگل اور آرایم سنگھ نے اپٹا کی باگ دوڑ اپنے ہاتھوں میں لی۔ اور on  show must go  کا نعرہ بلند کرکے اپٹا کو ایک یونٹ کی صورت میں جوڑنے میں منہمک ہو گئے،لیکن یہ اتنا آسان نہ تھا۔ہنگل صاحب کو اس کے لیے معاشی پریشانیاںجھیلنی پڑیں۔
جس دکان میںہنگل صاحب بطور ٹیلر ماسٹرملازم تھے اس کے مالک نے ہنگل صاحب کی تنخواہ میں سے سو روپے کم کر دئے۔اس کی وجہ یہ تھی کہ ہنگل صاحب نے شام میں دوکان میں نہ رہنے کا فیصلہ کیا تھا ،جبکہ مالک کا کہنا تھا کہ شام کے وقت ہی گاہک زیادہ آتے ہیں،لیکن ہنگل صاحب کے لیے شام میں سلائی مشین پر بیٹھ کر کپڑے سینے سے زیادہ ضروری اور بہتر کام لگا اپٹا میں جا کر ڈراموں کی ریہر سل کرنا۔ جیسے جیسے ہنگل صاحب کی سرگرمیاں اپٹا میں بڑھنے لگیں ویسے ویسے ٹیلرنگ شاپ کا مالک ان کی تنخواہ کم کرتا چلا گیا۔ آخر ایک دن تنگ آکر اس نے کہہ دیا ــ’’اوتار تم یہ کام چھوڑ دو‘‘ سلائی مشین کا پہیہ اچانک ٹھہر گیا۔ مشاّق انگلیوں سے قینچی نکل گئی۔انھیں اس نو کری کے کھو جانے کا دکھ تو ہوا ، لیکن پچھتاوا نہیں تھا۔
؎بقول ہنگل صاحب ’’جب میں کراچی میں تھا توt lefپارٹی اور ٹریڈیو نینوںکی سرگرمیوں کے سبب مجھ پر عتاب نازل ہوااور نوکری چھن گئی تھی اور اب ممبئی میں تھیٹر سے جڑنے پر مجھ کووہی حالات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے، لیکن میں مایوس نہیں تھا ۔ میں نے نو کری ضرور کھو دی ،لیکن حوصلہ نہیں کھویا۔‘‘
ایک دن امر شیخ نے اپٹا کا ون ایکٹ ڈراما ’’سورج‘‘  دیکھا جس میں ہنگل صاحب نے اداکاری کی تھی انھیں وہ ڈراما بیحد پسندآیا اور انھوں نے اسے مراٹھی میں کرنے کی خواہش ظاہر کی۔ امر شیخ اور ہنگل صاحب دو راتوں تک اس کے ترجمہ کا کام کرتے رہے اور پھر اسے مراٹھی اسٹیج پرــ’’ سر جے رائوراموشی‘‘ کے نام سے کھیلا گیا۔ اے کے ہنگل نے کچھ ڈرامے بھی لکھے ۔ ایک دفعہ انھوں نے 15 سال قبل لکھا اپنا ایک ڈراما نکالا اور اس پر انّا بھائو ساٹھے کا ردّعمل جاننا چاہا۔ ڈراما اچھوتوں کے مسائل پر تھا جو اس وقت ایک بڑااور گمبیھر مسئلہ بنا ہوا تھا۔ انّا بھا ئو غور سے ہنگل صاحب کا ڈراما سنتے رہے اور اس کے اختتام پر بولے۔
’’اسے پھاڑدو کامریڈ!! یہ ڈراما نہیں‘‘ ہنگل صاحب نے احتجاجی مو ڈ میں پو چھا۔ـ’’کیوں بھئی ؟؟ کیا کمی ہے اس میں‘؟؟‘
انّا بھائو نے کہا۔’’تم برہمن خاندان سے ہو ہنگل ۔تم دلتوں کے مسا ئل کی دروں بینی سے کیونکر واقف ہو سکتے ہو۔؟؟  ہنگل صاحب نے فوراََ کہا۔ اکثر  jews صاحب ِحیثیت اور سرمایہ دار سمجھے جاتے ہیں اور کارل مارکس بھی jew تھے جنھوں نے سرمایہ دارانہ نظام کی قبر کھود دی۔ تو پھر۔۔ ہنگل صاحب کے اس ریمارک سے انّا بھائو بیحد متاثر ہوئے اور دونوں دیر تک خوب ہنستے رہے۔بعد ازاں ہنگل صاحب نے تبد یلیوں کے ساتھ یہ ڈراما کیا۔ انّا بھائو ساٹھے اور آرایم سنگھ ،ہنگل صاحب کے بیحد قریبی دوست تھے ۔ انّا بھائو کے تحریر کردہ ڈراما ’’ایماندار‘‘  اپٹا نے جب کھیلا تو ہنگل صا حب نے اس میں مر کزی کردار نبھایا تھا۔
1957           میں اپٹا والوںکو فلورا فائونٹین ممبئی کی وہ جگہ خالی کرنے کا حکم دیا گیا جہاں وہ پانچ چھ برسوں سے ریہرسل کر رہے تھے۔ اب نئی جگہ کی تلاش شروع ہو ئی ۔بھولا بھائی ڈیسائی روڈ پر بھولا بھائی کا نجی بنگلہ کے مختلف کمرے یو میہ ایک روپے کرایہ پر آرٹسٹوں کو دئے جانے لگے، ایم ایف حسین ، ابراہیم القاضی اور پنڈت روی شنکر نے اس سہولت سے فائدہ اٹھایا اور ایک ایک کمرے کرایہ پر حاصل کیے۔ اپٹا کو بھی بالآخر یہ ٹھکانہ نصیب ہوا اور ڈراما ’’ایماندار‘‘ کی ریہرسل سے اس نئی جگہ پر اپٹا نے اپنی سر گرمیوں کا احیاء کیا۔ آر ایم سنگھ اپٹا کے اہم ہدایتکاروں میںسے تھے جو ذاتی اختلافات کے سبب اپٹا سے الگ ہو گئے تھے اور اپنا ایک الگ گروپ ’’  عوامی رنگ منچ‘‘ قائم کر لیا تھا ۔ آرایم سنگھ اور ہنگل صاحب نے ایک ساتھ کئی ڈراموں میں کام کیا، جن میںبابو انعامدار، افریقہ جوان پریشان، الیکشن کا ٹکٹ ، آذر کا خواب ، اتیت کی پر چھائیاں ، جوابی حملہ ، بھگت سنگھ اور آخری شمع جیسے بیحد مقبول اور اہم ڈرامے تھے جو اپٹا کی رپیر ٹری میں تھے۔ سنجیو کمار اپٹا کی ریہر سل پربھولا بھائی ڈیسائی انسٹی ٹیوٹ میں آتے تھے۔یہ چھٹی دہائی کی بات ہے جب کر تاپاجامہ پہنے ہوئے ایک شر میلا نوجوان اپٹا کے ڈراموں میں دلچسپی لینے لگا تھا۔ہنگل صاحب نے اس دبلے پتلے نوجوان کی صلاحیتوں کو پرکھا ، سمجھا اور اسے ایک اسٹریٹ پلے میں مختصر سا رول دیا۔ ایک بوڑھے پارسی کا۔ سنجیو کمار نے یہ رول بخوبی نبھایا۔ دوسال بعد ہنگل صاحب نے سنجیو کمار کو ایک فل لینتھ ڈراما ’’ڈمرو‘‘میں مرکزی کردار دیا ۔جسے ہنگل صاحب نے ڈائریکٹ کیا تھا۔ سنجیو کمارنے اس میں ایک بڑ ے شہر کی کمرشیل کمپنی کے بوڑھے منیجر کا کردار نبھایا تھا۔ہنگل صاحب نے اردو کے متعدد ڈراموں میں کام کیاا ور ڈائریکشن بھی کیا۔ خواجہ احمد عبّاس کاتحریر کردہ ’’لال گلاب کی واپسی ‘‘کوـ1925میں اپٹا کے لیے ہدایت سے سجایا۔
1929میں جب کیفی اعظمی نے مرزا فرحت اﷲبیگ کی تصنیفـ’’لال قلعے کا آخری مشاعرہ‘‘ کو ’’آخری شمع‘‘کے نام سے ڈرامائی روپ دیا تو اسے ایم ایس سیتھیو اور آرایم سنگھ نے مشترکہ طور پر ڈائریکٹ کیا اور اس میں کئی میوزیکل Interludesشامل کیے۔ اے کے ہنگل نے اس میںابراہیم ذوقؔکا کردار نبھایا تھا۔ اور اس کا پہلا شو اپٹا نے لال قلعہ کے ’’دیوانِ عام‘‘ میں کیا جسے بیحد سراہا گیا۔ہنگل ساحب نے اپٹا کے ’’شطرنج کے مہرے‘‘میں بھی ایک بیحد یادگار کردار نبھایا تھا ۔ان کے بعد کسی اور اداکار کو وہ مقبولیت نہیں ملی۔اسی طرح ’’آزر کا خواب‘‘ جسے بیگم قدسیہ زیدی نے ’’پگمیلین‘‘ سے اردو میں adaptکیا تھا اس میں بھی اے کے ہنگل نے پروفیسر کے کردار کو گویا اسٹیج پر ایک روح عطا کر دی تھی۔
ہنگل صاحب نے قدرے تا خیر سے اپنی عمر کی5 ویں دہائی میں فلمی سفر کا آغاز کیا تھا ۔ شیلندر جو اس وقت اِپٹا سے ہی وابستہ تھے۔ 1922میں راج کپور کو لے کر ’’ تیسری قسم‘‘ بنا رہے تھے۔ہنگل صاحب نے پہلی بار اس فلم میں کیمرہ کا سامنا کیا۔ انھیں راج کپور کے بھائی کا رول دیا گیا۔قدرت کی ستم ظریفی دیکھیے کہ پہلی ہی فلم میں ہنگل صاحب کا رول ایڈیٹنگ کی نذر ہو گیا۔ اس کے عرصہ بعد خواجہ احمد عبّاس نے انھیں اپنی فلم سات ہندوستانی میں ڈاکٹر کاکردار دیا اور تب سے اب تک ہنگل صاحب 125ہندی فلموں میں اپنی فطری اداکاری کے نمونے پیش کر چکے ہیں ۔ فلمی نا قدین کا ما ننا ہے کہ اے کے ہنگل سے اچھا اور بیحد فطری کریکٹر آرٹسٹ آج تک ہندوستانی پردے پر نہیںآیا۔شعلے کے’’ نابینا امام صاحب ‘‘ کا کردار ہو یا ’’شو قین‘‘ کے رنگین مزاج بوڑھے کا، اے کے ہنگل نے اپنی مخصوص اداکاری سے ہر جگہ چھاپ چھوڑی ہے۔ فلم شاگرد  ، گڈی، انو بھو، باورچی ، گرم ہوا ، ابھیمان، نمک حرام، شعلے، شوقین، شرابی، دیوار، لگان، پہیلی وغیرہ میں ان کے کردار ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔
ہنگل صاحب کو ان کی فلموں اور تھیٹر سے وا بستگی اور خدمات کے عوض 2006میں حکومتِ ہند نے پدم بھوشن سے نوازا۔ پورے Commitment کے ساتھ سنجیدہ ، با معنی اور با مقصد تھیٹر کرنے والے اے کے ہنگل نے ایک عمر گذار دی اس دشت کی سیّا حی میں ۔ فلمو ں کے انتخاب میں بھی انھوں نے بہت احتیاط برتی اور اپنے خیالات و نظریات کی شمع کو آج بھی روشن کر رکھا ہے۔ ہنگل صاحب عمر کی93 ویں منزل پر ہیں ۔ انھوںنے بھر پور زندگی جی، لیکن زندگی میں لمبائی کی نہیں بلکہ گہرائی کی اہمیت ہوتی ہے اور ہنگل صاحب کی زندگی کی گہرائیوں میں نہایت ایمانداری کے ساتھ جھانکنے کی ضرورت ہے ۔ابھی ان کی شخصیت کے بہت سے گوشے روشن ہونا باقی ہیں،لیکن ان کے کارنامے لائقِ تقلید ہیں اور قابلِ عمل بھی۔ نئی نسل کے نوجوان فنکاروں کے لیے یقیناََ اے کے ہنگل کی زندگی Motivational processکی نئی راہیں سجھائیں گی ،کیوں کہ زندگی بھر ہنگل صاحب نے تھیٹر کو فیشن کی طرح نہیں بلکہ passionکے طور پر اپنایا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *