رٹائرڈ فوجی افسر، بڑی توند اور کام ہتھیاروں کی خرید و فروخت، لیکن ہتھیاروں کے ایسے سودا گر اب غائب ہو گئے ہیں۔اب ان کی جگہ نوجوان یا کم سے کم ادھیڑ، لیکن اچھے چہرے والے آرمس ڈیلروں نے لے لی ہے۔ یہ نئے آرمس ڈیلر اپنی فٹنس کا خاص خیال رکھتے ہیں، گولف کلبوں میں جاتے ہیں، اپنے پہناوے پر خاص توجہ دیتے ہیں اور ان کی زبان گلوبل ہوتی ہے۔ان کے ہاتھ کے کڑے میں ہیرا جڑا ہوتا ہے۔ یہ لوئس ویوٹن برانڈ کے کالے چمڑے کے ایسے جوتے پہنتے ہیں ، جس کے آگے کا حصہ نکیلا ہوتا ہے۔ ان کی کلائی میں بندھی ٹیگ ہیوور گھڑی کی چمک بتاتی ہے کہ پیسہ اور زیادہ پیسہ بغیر شرمندگی کے بھی کمایا جا سکتا ہے۔
سرکاری طورپر ایسے کسی بھی شخص کا وجود نہیں ہے، لیکن گولف کے ہرے بھرے میدانوں میں جن لوگوں کو آپ دیکھ رہے ہیں، انہیں چھپ کر سننے کی ضرورت نہیں ہے۔آپ انہیں سامنے سے سن سکتے ہیں، جو عام طور پر 6 سے 15تک کی بات کرتے ہوئے مل جاتے ہیں۔ اس 6سے 15کا مطلب گولف کے گڈھوں سے نہیں، بلکہ ڈیفنس ڈیل میں لیے یا دیے جانے والے کمیشن سے ہوتا ہے۔ ہندوستان میں اقتدار کے گلیاروں میں منڈلاتے ایسے آرمس ڈیلروں کو واضح طور پر پہچان پانا یا ان کا پتہ لگانا مشکل ہے۔ بہت ممکن ہے کہ ان کی اپنی کوئی کمپنی ہوگی، جس کا نام بے انتہاحب الوطنی کو ظاہر کرتا ہوگا۔ مثلاً ’’جے بھارت‘‘ اور ’’راشٹر رکشک‘‘۔ ان میں سے بیشتر کمپنیاں کیوبا کے سگار، مواصلات سے متعلق آلات، ڈیزائنر قلم یا ہوٹلوں سے متعلق تجارت سے جڑی ہوں گی۔
اس کے علاوہ ایک اور جگہ ہے، جہاں آپ ان آرمس ڈیلروں سے ٹکرا سکتے ہیں، یعنی ڈیفنس ایکسپو انڈیا 2012۔ ابھی کچھ دنوںپہلے دہلی کے پرگتی میدان میں 30 ممالک کی 200سے زائد ہتھیار بنانے والی کمپنیاں یہاں نمائش میں آئی تھیں۔ یہ کمپنیاں یہاں اس امید کے ساتھ آئی تھیں کہ ہندوستان کے 100بلین ڈالر کے ہتھیار بازار میں سے انہیں بھی کچھ مل جائے گا۔ ڈیفنس ایکسپو اپنے شباب پر تھا اور اسی وقت ملک کے فوجی سربراہ جنرل وی کے سنگھ انکشاف کرتے ہیں کہ انہیں ایک ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل تیجندر سنگھ نے 600 ٹیٹرا ٹرکوں کی خرید کے لیے 14 کروڑ روپے رشوت کی پیش کش کی تھی۔ملک کے وزیردفاع اے کے انٹونی صفائی دیتے ہیں کہ ہماری پالیسی بدعنوانی کے خلاف زیرو ٹالرنس والی ہے۔ آرمس ڈیلروں کے بارے میں وزیر موصوف کہتے ہیں کہ انہیں ایسے کسی آدمی کے بارے میں کوئی جانکاری نہیں ہے۔ پرگتی میدان کے ہال نمبر 15، جہاں ڈیفنس ایکسپو لگا ہوا تھا، وہاں پیشہ سے ایک سگار تاجر اور پیج 3پارٹی میں چھائے رہنے والے ایک شخص اورایک دیگر شخص، جو آرمس اور ملٹری ہارڈ ویئر کے ڈیلر ہیں، گہری سانس لیتے ہوئے کہتے ہیں کہ حکومت ہم سے کیسے ڈیل کرے گی، جب وہ مانتی ہے کہ ہمارا وجود ہی نہیں ہے۔
ایک دیگر ہندوستانی آرمس ڈیلر سے بات ہوتی ہے۔ اس آدمی کی بڑی بڑی مونچھیں ہیں اور گرلڈ سینڈ وچ کھاتے ہوئے ڈائٹ کوک غٹک رہا ہے۔ ساتھ میں ایک غیر ملکی دوشیزہ بھی ہے، جو شلوار قمیض میں ہے اور گزشتہ دو سالوں سے ہندوستان میں ہے اور اس لیے تھوڑی بہت ہندی بھی سمجھ لیتی ہے۔ وہ آدمی کہتا ہے کہ وہ کوئی مجرم تو ہے نہیں، جسے باہر کر دیا جائے۔ وہ ڈیفنس ڈیل میں اپنا کردار ایک کیٹلسٹ جیسی  بتاتا ہے، پبلک رلیشن آفیسر جیسا بتاتا ہے، لیکن اس کی کمائی اس معنی میں کچھ الگ ہے۔ دنیا بھر کے تمام آرمس ڈیلروں کی طرح اس کی خصوصیات بھی ہندوستان میں ہونے والی ڈیل کو لے کر ہی ہے۔ اپنی جاب کو وہ کھائی بھرنے اور دو پارٹیوں کے درمیان پل بننے والی مانتا ہے۔ مثلاً، ہتھیاروں کے بارے میں اپنی جانکاری وہ حکومت تک پہنچاتا ہے اور بتاتا ہے کہ کیا اچھا رہے گا اور کس چیز کی ضرورت ہے۔ وہ کہتا ہے کہ اصل مسئلہ ایسے ڈیلروں سے ہوتا ہے، جنہیں اپنے کام کا علم تک نہیں ہے، لیکن وہ لیڈروں سے اپنے بہتر تعلقات اور نزدیکیوں (خاندانی مراسم) کی وجہ سے سائوتھ بلاک تک اپنی رسائی بآسانی بنا لیتے ہیں۔جس وقت وہ آدمی بول رہا ہوتا ہے، اس کے پاس کئی فون کالس آتی ہیں اور کئی لوگ آ کر اس سے ملتے ہیں۔ایک سرونگ لیفٹیننٹ جنرل سول ڈریس میں آ کر اس سے ملتا ہے اور کہتا ہے کہ اسے کچھ کہنا ہے۔ دونوں اپنا اپنا وزیٹنگ کارڈ ایک دوسرے کو دیتے ہیں، ہاتھ ملاتے ہیں اور اس وعدے کے ساتھ لیفٹیننٹ جنرل چلے جاتے ہیں کہ جلد ہی ملیں گے۔ جب وہ ڈیلر مجھ سے پھر سے بات کرنا شروع کرتا ہے ۔ وہ کہتا ہے کہ ہم تمام آرمس ڈیلر ہتھیار خرید نے کے موجودہ غیر شفاف عمل کے خلاف ہیں، جس کی وجہ سے آئوٹ ڈیٹڈ اور مہنگے ہتھیار خریدے جا رہے ہیں۔ ایسا کہنے کے پیچھے اس کے پاس ایک وجہ بھی ہے۔ وہ بتاتا ہے کہ اگر دفاعی سودے کے عمل کو کھلا اور شفاف بنا دیا جاتا ہے تو اس سے لیڈروں، نوکر شاہوں، جنرلوں اور سائنسدانوں کو سب سے زیادہ نقصان ہوگا، بجائے آرمس ڈیلروں کے۔ دوسرے ممالک کے بجائے ہندوستان میں مڈل مین کوویلن کی شکل میں دیکھا جا تا ہے۔
ماہر دفاع سی اُدے بھاسکر کہتے ہیں کہ ہندوستان نے گلوبل آرمس ٹریڈ کی حقیقت تسلیم نہیں کی ہے اور اسی کا نتیجہ ہے کہ دفاعی سودے میں شفافیت کا فقدان ہے۔ پردے کے پیچھے جو کچھ بھی ہو رہا ہے، اس کی وجہ سے چیزیں مزید خراب ہوتی جا رہی ہیں۔انٹونی خواہ جو بھی کہیں، سی بی آئی نے یہ واضح کیا ہے کہ ہر ڈیفنس ڈیل کے پیچھے آرمس ڈیلروں کا اہم رول ہوتا ہے۔ ان ڈیلوں میں اگر کوئی چودھری یا نندا نہیں ہے تو کوئی کھنہ یا ورما ضرور ہوتا ہے۔ان ناموں کی فہرست مختصر ہو سکتی ہے، لیکن گھوٹالوں کی فہرست انتہائی طویل ہے۔سی بی آئی کی تفتیش کے مطابق 2008میں1125کروڑ روپے کے براک میزائل سودے میں ایس ایم نندا اور سدھیر چودھری نے لاکھوں ڈالر کمائے۔انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کے ذرائع بتاتے ہیں کہ بوفورس گھوٹالہ کے بعد کھنہ کا نیٹ ورک بہت مضبوط ہوتا چلا گیا ۔ سی بی آئی نے اس معاملہ میں نہ کبھی چارج شیٹ داخل کی اور نہ کلوزر رپورٹ۔
بیشتر آرمس ڈیلروں کے لیڈروں اور نوکرشاہوں سے قریبی تعلقات ہیں۔سدھیر چودھری تو لاتویا میں اعزازی کونسل جنرل کے عہدہ کا بھی لطف اٹھا رہا ہے۔اسی طرح موہندرسنگھ سینی اور وپن کھنہ بھی ایسے ہی اسٹیٹس کا مزہ اٹھا رہے ہیں۔ ڈیفنس ایکسپو 2012 میں ایک اور شخص ، جس کی عمر تقریباً 40سال ہوگی،پر سب کی نگاہیں مرکوز تھیں۔ کبھی اس کے ذریعہ دی جانے والی پارٹیوں میں خوبصورت عورتیں ہوتی تھیں، مہنگی شراب پیش کی جاتی تھی، شاندار کھانا پیش کیا جاتا تھا اور بے حد پاورفل مہمان ہوتے تھے، لیکن ایک خراب ڈیل کی وجہ سے اسے جیل جانا پڑا۔ اب وہ جیل سے باہر ہے۔ سائوتھ دہلی کے اپنے فارم ہائوس میں رہتا ہے اور آج کل وجے مالیا سے اس معنی میں اس کی مسابقت ہے کہ کون سب سے شاندار کیلنڈر نکالتا ہے۔ دہلی کے گریٹر کیلاش-1میں رہنے والے ایک دیگر ڈیلر کا کہنا ہے کہ ڈیفنس ڈیل ایک اوپن سیکریٹ ہے۔ اس کے پاس تین ایس یو وی ہیں، جن میں ایک رینج رووَر بھی ہے۔ وہ اپنے جس آفس میں بیٹھا ہے، وہاں دو بڑے کمپیوٹر ہیں اور ایک میک بک۔ سب کے سویچ آف ہیں۔ آفس کی دیوار پر سونے کے فریم میں نصب سائیں بابا کی ایک بڑی تصویر  ہے۔ وہ ایک لمبے قد کا شخص ہے، جو ارمانی کے کپڑے پہنتا ہے۔وہ اس بات کو بھی نہیں چھپاتا کہ اس کا تعلق ایک چھوٹے شہر سے ہے۔ وہ اسرائیل کے مفادات کی نمائندگی کرتا ہے اور یہ تمام باتیں کہنے میں اسے کوئی دقت بھی نہیں ہے۔ وہ یہ بھی بتاتا ہے کہ کیسے اس نے بیرون ملک سے 10مونٹ بلینک پین منگوائے ہیں (ایک پین کی قیمت15ہزار ڈالر)، جنہیں وہ سرکاری دفتروں میں بیٹھے اپنے کچھ خاص دوستوں کو دے گا اور جن کا استعمال محض پین کے طور پر نہیں، بلکہ رائٹنگ انسٹرومنٹ کے طور پر ہوگا۔ ایک اور آرمس ڈیلر کہتا ہے کہ ان کے پاس پاور ہے تو ہمارے پاس منی پاور ہے۔ 35سالہ یہ آرمس ڈیلر صوفے پر بیٹھا ہے، جہاں سے اس کا گارڈن نظر آتا ہے اور ایک گوری عورت اسے ڈرنک لاکر دیتی ہے، جسے وہ اپنی آفس منیجر بتاتا ہے۔ وہ کہتا ہے ، ہمارے پاس چھپانے کو کچھ نہیں ہے۔ جب بھی فوج کو ہتھیاروں کی ضرورت ہوتی ہے، تو ایک ٹاپ سیکریٹ بنا کر اس ضرورت کو اس ملک میں واقع ہندوستانی سفارت خانہ کے ڈیفنس اٹاچی کے پاس بھیج دیاجاتا ہے، جہاں سے ہتھیار خریدا جانا ہے۔ ڈیفنس اٹاچی اسے آرمس سپلائر کو بھیج دیتا ہے اور وہاں سے وہ فہرست ہمارے پاس آ جاتی ہے۔
اپنے آپریشن(کام کرنے کے طریقہ) کے بارے میں وہ بتاتا ہے کہ اتفاق سے حکومت فوجی افسران پر بھروسہ کرتی ہے۔ ڈیل پکی کرنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ آپ کسی کے اس لنک پر بھروسہ کریں، جو ڈسیزن میکرس تک پہنچتا ہے۔ فوج کے بڑے افسران کی طرز زندگی تمام آسائشوں سے پر ہوتی ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ ریٹائرمنٹ کے بعد بھی ایسی ہی زندگی وہ جیتے رہیں۔ ہم انہیں اتنا دے دیتے ہیں کہ ان کے لیے ریٹائرمنٹ بوجھ نہ بنے۔ ایک جنرل نے اس آرمس ڈیلر سے ایک بار کہا تھا کہ اس کے پاس 30نوکر ہیں، جو ابھی اس کے لیے کام کرتے ہیں، جن میں اردلی ،باورچی، ڈرائیور، مالی، گارڈس اور ہیلپرس شامل ہیں۔ یہ آرمس ڈیلر گرمیوں کی اپنی چھٹیاں کینری آئی لینڈ پر منانے کی سوچ رہا ہے۔وہ مجھ سے بھی اس دنیا میں آنے کے بارے میں پوچھتا ہے۔
آرمس ڈیل کی میٹنگ عموماً دہلی کے پانچ ستارہ ہوٹلوں میں ہوتی ہے۔ خرید کے لیے فیصلہ لیڈر لیتے ہیں اور اس کے لیے مشورے فوجی افسران ہی دیتے ہیں۔ آرمس ڈیلر پہلے نچلی سطح پر کام کرتا ہے۔ ٹیکنیکل ٹیم ہتھیار کے بارے میں جانکاری دیتی ہے۔ مڈل مین دونوں پارٹیوں کے رابطہ میں رہتا ہے۔ اکثر برگیڈیئر یا میجر سے بھی رابطہ کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ چھوٹی سطح پر اسپیئر پارٹس اور سپورٹ اِکوپمنٹ سپلائی کرنے والے لوگ بھی ہیں۔ اس کام کے لیے ہمیشہ ٹینڈ ر ہوتے رہتے ہیں۔ اس طرح کا کام کرنے والے لوگ بھی اس بڑے کھیل میں شامل ہونا چاہتے ہیں اور اس کے لیے جی توڑ محنت کرتے ہیں۔ ایسے مڈل مین نقلی ٹیگ ہیوور اور رالیکس گھڑیاں پہنتے ہیں، پرانی مرسڈیز یا بی ایم ڈبلیو کار میں چلتے ہیں اور پانچ ستارہ ہوٹلوں کے کافی ہائوس میںمیٹنگ کرنے کے لیے زور دیتے ہیں۔ 26 سالہ اس جاٹ سکھ کو ہی لیجئے، جو خود کو آرمس ڈیلر فیسی لٹیٹر کہتا ہے۔ وہ اپنی معمولی شروعات کا موازنہ ایس ایم نندا سے کرتا ہے، جو ممکنہ طور پر اس کا رول ماڈل بھی ہے۔ وہ برطانوی تلفظ میں بولتا ہے۔ کچھ وقت کے لیے اس نے ایک برطانوی کالج میں پڑھائی بھی کی ہے۔ جب وہ اپنے فون پر بات کر رہا ہوتا ہے، اسی درمیان کالج کی پڑھائی چھوڑ کر آرمس ڈیلر بنا ایک لڑکا کہتا ہے کہ بہت سے لوگ کہتے ہیں کہ وہ یوراج سنگھ جیسا دکھتا ہے۔ اس کے چاچا حکومت میں سکریٹری کے عہدے پر تھے۔ وہ اپنے تعلقات للت مان سنگھ (امریکہ میں ہندوستان کے سفیر رہ چکے ہیں) سے بھی بتاتا ہے۔ اس کے کئی صحافی دوست بھی ہیں۔ اس کا دعویٰ ہے کہ اس نے ان لوگوں کو تجارت کے لیے اپنے ساتھ رکھا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ اس نے ابھی حال ہی میں الک نندا کے ایک اپارٹمنٹ میں رہنے والے ایک ڈیفنس جرنلسٹ کے گھر میں دو اے سی لگوائے ہیں اور اگلی بار ایپل ڈیسک ٹاپ کمپیوٹر دینے کی سوچ رہا ہے۔ وہ دعویٰ کرتا ہے کہ کئی صحافی اس کے پے رول پر کام کرتے ہیں۔ چھوٹی سطح پر کام کرنے کا فائدہ یہ ہے کہ اس پر کسی کا دھیان نہیں جاتا ہے۔ دفاعی آلات بنانے والی سینکڑوں کمپنیوں کی بدولت یہاں سب کے لیے کچھ نہ کچھ کام ہے۔ پیسہ اتنا ہے کہ ایک چھوٹی سی ڈیل سے بھی لاکھوں کمائے جا سکتے ہیں۔ ان چھوٹے ڈیلروں کے لیے صرف اتنا کرناضروری ہے کہ وہ نیٹ ورک میں رہیں اور اس کے لیے وہ دوسری پارٹیوں کو کلب یا دیگر مقامات پر مدعو کرتے رہتے ہیں۔ اس میں بھی ان کے صحافی ساتھی ان کی مدد کرتے ہیں۔
(بشکریہ : اوپین ، تحریر: مہر سری واستو، ’’دی مین ہو ڈو ناٹ ایگزسٹ ‘‘کا ترجمہ)

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here