مبین ڈار
پاکستان میں اہانت دین سے متعلق قانون ایک عرصہ سے تنازعہ کاباعث بنا ہوا ہے۔ دراصل یہ قانون تو بہت پرانا ہے اور 1927 سے یعنی برطانوی دور حکومت سے رائج ہے لیکن پاکستان میں اسلام کے خود ساختہ ’’نگہبان‘‘ جنرل ضیاء الحق نے جب پاکستان میں نظام مصطفی رائج کرنے کا نعرہ بلند کیا تو ایسے متعدد قانون رائج کئے جو پاکستانی معاشرے میں عدم رواداری اور تعصب کو فروغ دینے کا باعث بنے۔ حدود آرڈیننس کے ذریعے جہاں پاکستان کی خواتین کو دوسرے درجے کی مخلوق یا بندھوا مزدور بنایا گیا وہیں اہانت دین سے متعلق قانون میں کچھ تبدیلیاں کی گئیں اور ایک ایسی شق جوڑی گئی جس کے تحت پیغمبر اسلام کی شان میں گستاخی کرنے والوں کو سزائے موت کا مستحق قرار دیاگیا۔ اگر واقعی کوئی ایسی حرکت کرتا ہے تو اسے سزا ملنی ہی چاہئے لیکن اس قانون میں اتنا جھول ہے کہ عموماً بے گناہ افراد کو سزا مل جاتی ہے۔ اسے اتنا جذباتی بنادیا گیا ہے کہ کوئی یہ دیکھنے کی زحمت بھی گوارا نہیں کرتا کہ آیا جس شخص پر الزام لگایا گیا ہے ، وہ واقعی اس جرم کا مرتکب ہے بھی یا نہیں؟ بس الزام لگا دینا ہی کافی سمجھاجاتا ہے ۔حقیقت کی تہہ تک جانے کی کوشش نہیں کی جاتی۔ اس قانون کا غلط استعمال اتنے بڑے پیمانے پر ہواہے کہ ماہرین قانون انصاف پسند حلقے اور انسانی حقوق کی انجمنیں ایک عرصہ سے اس قانون کے غلط استعمال کے خلاف آواز اٹھارہی ہیں، لیکن اس کے تعلق سے لوگ اتنے جذباتی ہوگئے ہیں کہ کسی بھی حکومت نے یہ جرؔأت نہیں کی کہ اس میں مناسب ترمیم کرے حالانکہ ایک زمانے سے اس کا مطالبہ کیا جاتا رہا ہے۔ ویسے تو اس قانون کانشانہ مسلمان بھی بنتے ہیں لیکن غیر مسلم بطور خاص اس کی زد میں آتے ہیں۔ پاکستان کے متعدد ممتاز شہریوں کو ذاتی رنجش کی بنیاد پر اس میں پھنسایاگیا اور ہر چند کہ عدالت نے انہیں الزام سے بری کردیا لیکن ماحول کچھ ایسا بنا کہ انہیں اپنا وطن چھوڑ کر دوسرے ملکوں میں پناہ لینا پڑی۔ ایسے ہی لوگوں میں راولپنڈی کے ڈاکٹر محمد یونس شیخ بھی تھے جو اب جلاوطنی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ معاشرے میں اس قانون کے تعلق سے کچھ لوگ اتنے انتہا پسند اور جنونی ہوچکے ہیں کہ اب تک 20سے زیادہ افراد کو اسی وقت قتل کردیا گیا جب ابھی مقدمہ چل ہی رہا تھا۔ حد تو یہ ہے کہ ایک ایسے جج کو بھی قتل کردیا گیا جس نے ثبوت نہ ملنے کی بنیاد پر ایک ملزم کو بری کردیا تھا۔
اب آسیہ بی بی نام کی ایک خاتون کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ اس پر پیغمبر اسلام کی شان میں گستاخی کرنے کا الزام ہے۔ حالانکہ وہ اس سے انکار کرتی ہے لیکن اس کے خلاف فضا میں اس حد تک اشتعال  پیدا ہوچکا ہے کہ پشاور کی مسجد مہابت خان کے ایک خطیب مولانا یوسف قریشی نے طیش اور جنون کے عالم میں یہ اعلان کیا ہے کہ جو شخص بھی آسیہ بی بی کا سر کاٹ کر ان کے سامنے پیش کرے گا ، اسے وہ پانچ لاکھ روپے بطور انعام دیںگے۔ اس ملا کی نفرت کایہ عالم ہے کہ اس نے یہ تک کہا ہے کہ اگر عدالت نے اسے پھانسی نہ دی تو طالبان والوں کا یہ فرض ہے کہ اس عورت کاکام تمام کردیں۔ گذشتہ جمعہ کے روز پاکستان کے مختلف شہروں میں انتہا پسند افراد نے جلوس نکالے اور آسیہ بی بی کو پھانسی دینے کا مطالبہ کیا۔ ان جلوسوں میں یہ نعرے بھی لگائے گئے کہ جو کوئی بھی اس عورت کی حمایت میں سامنے آئے گا اسے کافر قرار دیا جائے گا اور اس کاقتل بھی واجب ہوگا۔
اس ماحول میں صائب رائے دب کر رہ گئی ہے پھر بھی پاکستان کے کچھ لوگوں نے اپنی جرؔؔأت رندانہ کامظاہرہ کیا ہے اور بڑے ہی واضح لفظوں میں کہا ہے کہ انتہاپسند مذہبی حلقے نے پاکستانی معاشرے میں نفرت کا زہر اتنے بڑے پیمانے پر گھول دیا ہے کہ لوگ نہ صرف قانون کی پرواہ نہیں کرتے بلکہ انسانیت کی بنیادی قدروں کو بھی بھول چکے ہیں۔ اخبار ’’ڈیلی ٹائمز‘‘ نے اس ذہنیت کی شدید مذمت کرتے ہوئے اپنے اداریے میں کہا ہے کہ یہ مولانا یوسف قریشی کون ہے جو اس طرح قانون اور آئین کی دھجیاں اڑا رہا ہے؟ اخبار کے مطابق آسیہ بی بی کا معاملہ عدالت کے زیر غور ہے۔ اس صورت میں کسی کو کیا حق حاصل ہے کہ اس طرح عوام کو اشتعال دلائے اور لوگوں کو کسی کے قتل پر آمادہ کرے؟ ڈیلی ٹائمز کا کہنا ہے کہ اس طرح کے لوگوں سے نہ کبھی باز پرس ہوتی ہے اور نہ کبھی وہ قانون کی زد میں آتے ہیں جو اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان کی انتظامی اور قانونی مشینری بے حس ہے۔ انتہائی سخت لفظوں میں مولانا قریشی اور ان جیسے دوسرے جنونی مولویوں کی مذمت کرتے ہوئے ’’ڈیلی ٹائمز‘‘ نے مطالبہ کیا ہے کہ اس شخص پر نہ صرف تو ہین عدالت کامقدمہ چلا یا جائے بلکہ پیسوں کے عوض مسلمانوں کو قتل پر آمادہ کرنے کے جرم میں بھی قرار واقعی سزا دلوائی جائے۔ اخبار مذکور نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ایسی غیرقانونی حرکتوں کاارتکاب کرنے والوں کے ساتھ کوئی رعایت نہیں برتی جانی چاہئے ورنہ معاشرے میں ہر طرف لاقانونیت اور مزاج پھیل جائے گا۔
حالیہ دنوں میں ایک پیش رفت یہ دیکھنے میں آئی کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی ایک ممبر پارلیمنٹ شیری رحمن نے جرؔأت کا مظاہرہ کرتے ہوئے قومی اسمبلی میں ایک بل پیش کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس بل کے تحت اہانت دین کے قانون میں مناسب ترمیم کی جائے گی۔ اخبار ’’ڈان‘‘ نے اس کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کام بہت پہلے ہو جانا چاہئے تھا کیونکہ اس قانون کا سہارا لے کر بہت سے لوگوں نے کسی رنجش کی بنیاد پراپنے مخالفین پر جھوٹاالزام لگاکر ان کے لئے مشکلات پیدا کی ہیں۔ حالانکہ بہت سے لوگ اس قانون کے خلاف ہیں اور اسے سرے سے ختم کئے جانے کے حق میں ہیں لیکن پاکستان کے موجودہ ماحول میں یہ ممکن نہیں کہ اسے پورے طور پر کالعدم قرار دیا جاسکے۔ لیکن شیری رحمن جو بل پیش کررہی ہیں اس میں اس ترمیم کی گنجائش بہرحال موجود ہے کہ اس قانون کے غلط استعمال کو روکا جاسکے۔ شیری رحمن کاکہنا ہے کہ ان کی پیش کردہ ترمیم کا کلیدی نقطہ یہ ہے کہ جس شخص کو وہ اہانت دین کا مرتکب قرار دے رہا ہے، کیا واقعی اس کی نیت پیغمبر اسلام یامذہب کی شان میںگستاخی کرنے کی تھی؟ اب تک یہ قانون یکطرفہ طور پر صرف ملزم کی گردن ناپنے کے لئے استعمال ہوتا رہا ہے۔ اب الزام لگانے والوں پر بھی یہ واجب ہوگا کہ وہ اپنی نیت کے صاف ہونے کاثبوت پیش کریں۔ اس مجوزہ ترمیم میں یہ گنجائش بھی ہے کہ جھوٹاالزام لگانے والے خود بھی سزا کے مستحق قرار دئے جائیں‘‘۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ قومی اسمبلی کے ممبران مطلوبہ اکثریت سے اس بل کو منظوری دیتے ہیں کہ نہیں؟ جہاں تک پیپلز پارٹی ، عوامی نیشنل پارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ کا سوال ہے ، تو ان پارٹیوں کے ممبران یقینی طور پر اس بل کی حمایت کریںگے ؟ البتہ نواز شریف کی مسلم لیگ کے بارے میں فی الحال کچھ کہنا مشکل ہے کیونکہ ایسے معاملات میں اس کاجھکائو عموماً دائیں بازو کے انتہاپسندوں کی جانب ہوتا ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here