اہم بدلائو کا وقت ہے

Share Article

میگھنا ددیسائی
کیا ہندوستان کا سیاسی منظر نامہ بنیادی طور پر تبدیل ہو رہا ہے یا پھر یہ بلند آواز والی محض چھوٹی سی آواز ہے، وہ بھی یو پی اے 2کی پریشانیوں کی وجہ سے پیدا ہوئی آواز۔ سری لنکا کو لے کر تمل ناڈو کی اپنی الگ خارجہ پالیسی ہے۔ ممتا بنرجی بنگلہ دیش کے ساتھ ندی معامدہ کی وزیر اعظم کی کسی بھی کوشش کو لٹکانے میں یقین رکھتی ہیں۔کیا بہار کی بھی نیپال کے لئے ایک الگ خارجہ پالیسی ہوگی؟ اسی طرح کیا آسام کی میانمار اور پاکستان کے لئے پنجاب کی اپنی خارجہ پالیسی ہوگی؟ تمل ناڈو،سری لنکا معاملہ میں وزارت خارجہ نے جو خوشامدی رویہ اپنایا ، وہ ویسا ہی تھا جیسا تیستا ندی معاملہ میں ممتا بنرجی کے ساتھ اپنایا گیا تھا۔ تو کیا اب ہمارے پاس ایسی خارجہ پالیسی ہے، جو مرکز اور ریاستوں کے لئے الگ ہے؟ کوئلہ بلاک الاٹمنٹ کے مدعے پر مرکزی اور ریاستی حکومت کے درمیان ایک لمبی بات چیت ہوئی تھی ۔ کوئی جلد بازی نہیں کی گئی تھی۔ کوئلہ پر آئینی صورتحال ذرا گمراہ کن لگتی ہے، کیونکہ کچھ مقامات پر کان کنی کنکرینٹ لسٹ میں ہے تو کوئلہ مرکزی فہرست میں شامل ہے۔ پھر بھی کوئلہ بلاک کا الاٹمنٹ ہو تا وہا اور کسی نے اس کی ذمہ داری نہیں لی۔ جب پی چدمبرم نے نیشنل کائونٹر ٹیررزم سینٹر کی تشکیل کی بات کی، تب ریاستوں کی طرف سے اس کی سخت مخالفت ہوئی۔ ریاستوں کا ماننا تھا کہ دہشت گردی مخالف عمل ایک پولس ایشو ہے اور اس لئے اس معاملہ کو ریاست ہی دیکھے گی۔ مجبوراً چدمبرم کو اپنے قدم پیچھے ہٹانے پڑے۔ دہشت گردی ایک نئی مصیبت ہے۔ کیا ابھی بھی اس مدعے پر ہمیں پرانے ڈھرے پر سوچنے کی ضرورت ہے کہ یہ معاملہ مرکز کا اور یہ ریاست کا یا پھر ایک نئے نظریے کے ساتھ ان مسائل کو دیکھنے کی ضرورت ہے۔

حکومت ہند ایکٹ 1935آئین ہند کی ریڑھ ہے، خاص کر اقتصادی امور اور مرکز، ریاست اور کنکرنٹ لسٹ کے درمیان موضوعات کی تقسیم کے معاملہ میں۔ یہ ایکٹ سائمن کمیشن کی رپورٹ، ہندوستانی ارکان کے ساتھ برطانوی پارلیمنٹ کی جوائنٹ پارلیمنٹ کمیٹی اور اس کے ارکان پارلیمنٹ کے ہندوستانی دورہ کے دوران مقامی لیڈروں کے ساتھ ہوئی بات چیت پر مبنی ہے۔اس ساری کسرت کے بعد اسے ہائوس آف کامنس میں بحث کے لئے رکھا گیا تھا، جہاں بحث کے دوران تقریباً 4ملین الفاظ کو ریکارڈ کیا گیا تھا۔

حکومت ہند ایکٹ 1935آئین ہند کی ریڑھ ہے، خاص کر اقتصادی امور اور مرکز، ریاست اور کنکرنٹ لسٹ کے درمیان موضوعات کی تقسیم کے معاملہ میں۔ یہ ایکٹ سائمن کمیشن کی رپورٹ، ہندوستانی ارکان کے ساتھ برطانوی پارلیمنٹ کی جوائنٹ پارلیمنٹ کمیٹی اور اس کے ارکان پارلیمنٹ کے ہندوستانی دورہ کے دوران مقامی لیڈروں کے ساتھ ہوئی بات چیت پر مبنی ہے۔اس ساری کسرت کے بعد اسے ہائوس آف کامنس میں بحث کے لئے رکھا گیا تھا، جہاں بحث کے دوران تقریباً 4ملین الفاظ کو ریکارڈ کیا گیا تھا۔ 1931میں ہی پسماندہ ذات اوردرج فہرست قبائل کی فہرست وہائٹ پیپر پر تیار کی گئی تھی۔منڈل کمیشن کو بھی 1931کی ذات پر مبنی مردم شماری پر ہی بھروسہ کرنا پڑا تھا۔ ہمارے حال کاایک بہت بڑا حصہ تبھی تیار کیا گیا تھا، لیکن 1935کے ایکٹ نے ایک ایسے ہندوستان کی تعمیر کی جہاں مرکز کمزور اور ریاست مضبوط ہو۔ تقسیم کی وجہ سے آزادی کے بعد لیڈروں نے مرکز کو اس سوچ کے ساتھ مضبوط بنانے کی کوشش کی، تاکہ چھوٹے چھوٹے بٹوارے اور اس طرح کے مطالبات کو ختم کیا جا سکے۔نہرو مانتے تھے کہ مرکز کو بھی ترقی کا ایک اہم آلہ بننا چاہئے۔آزادی کے 65سال کے بعد سوال یہی ہے کہ کیا ہمیں پیچھے جا کر ان مسئلوں کا ازسر نو جائزہ لینا چاہئے۔
وفاقی تجویز
گھپلوں اور گھوٹالوں کا ایک اہم اثر یہ ہوا ہے کہ اب مرکز ترقی یا اصلاح کا ایک مؤثر آلہ نہیں رہا۔ ہمارے پاس ایسی کئی کامیاب ریاستیں ہیں، جہاں ریاستی حکومتیں بہتر کام کر رہی ہیں اور مثال پیش کر رہی ہیں۔ مرکز کے پاس اتنی طاقت ہے پھر بھی وہ ان گھوٹالوں کو روک پانے میں نا اہل ثابت ہو رہا ہے۔ اصل میں جب ہم کرونی کیپٹل ازم کی بات کرتے ہیں تب اصل میں یہ سرکاری کنٹرول میں ہمارے بھروسہ ،خاص کر مرکز میں ، کا ہی نتیجہ ہوتا ہے اور یہی کرونی کیپٹل ازم کی جڑ بھی ہے۔ یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ گھوٹالے یو پی اے 2کی دین ہیں، لیکن ایسا نہیں ہے۔ اس طرح کے واقعات مندھرا معاملے، جہاں ایل آئی سی فنڈ کا پیسہ ایک پرائیویٹ کمپنی بنانے میں استعمال کیا گیا تھا، سے ہی شروع ہوجاتا ہے۔پھر بوفورس ، این ڈی اے دور حکومت میں تہلکہ کا انکشاف بھی سامنے آیا۔ اب 2014میں جو بھی اقتدار میں آئے گا، وہ اس بدعنوانی کو ختم کر پائے گا، یہ کہنا مشکل ہے۔
خارجہ پالیسی کے اختیارات کاڈی سینٹرلائزیشن کرنا یقینا نقصان دہ ہے، لیکن اگر ہم اقتصادی اقتدار کے اختیارات کا ڈی سینٹرلائزیشن کر سکیں تو اس سے بدعنوانی کی رفتار تھوڑی کم ہو سکتی ہے۔ اس مسئلہ سے نمٹا جا سکتا ہے ۔ ہندوسان میں ڈی سینتر لائزیشنکی اہمیت پر نئے سرے سے بحث کی ضرورت ہے۔ یہ ترقی کے لئے تو ٹھیک ہو سکتی ہے ، لیکن خارجہ پالیسی کے لئے نہیں ہے۔ ہندوستان میں اس وقت آئینی پروویزنمیں اہم تبدیلی کی ضرورت ہے۔ ایک ناکارہ پارلیمنٹ، ایک پیرالائزڈ کیبنٹ، غیر جمہوری سیاسی جماعتیں، انتخابات میں کالے دھن کا استعمال، خطرے میں اقلیتی طبقہ اوروبا کی طرح پھیلتی بدعنوانی، اس سب کے سہارے ایک ملک بہت آگے نہیں جا سکتا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *