خواتین پرہورہی جنسی زیادتیو ں کے خلاف دیوبندمیں کینڈل مارچ

Share Article

candle-march

ملک میں خواتین کے خلاف ہورہی جنسی زیادتیوں کے سدباب کے لئے دیوبند کے عوام نے بلا تفریق مذہب و ملت سخت قانونی سازی کے لئے آج آواز بلند کی ۔ہاتھوں میں کینڈل لیکر احتجاجی نعروں پر مشتمل تختیوں کے ساتھ دیوبند شہر کی سرکردہ سیاسی ،سماجی،علمی ،ادبی شخصیات اور بڑی تعداد میں نوجوان اور مختلف مذاہب کے رہنما بڑضیاء الحق پر جمع ہوئے اور وہاں سے ایک خاموش جلوس کی شکل میں دارالعلوم چوک ،مسجد رشید اور خانقاہ پولیس چوکی سے ہوتے ہوئے اردو دروازہ تک پہنچے اور ایک میمورنڈم صدر جمہوریہ ہند کو روانہ کیا،۔معروف عالم دین اور تنظیم علماء ہند کے ریاستی صدر مولانا ندیم الواجدی نے کہا کہ ملک میں گذشتہ کچھ مہینوں سے آبرو ریزی کے واقعات میں جس طرح سے اضافہ ہوا ہے اور اجتماعی طور پر دلتوں ،اقلیتوں اور دوسری کمیونٹی کی معصوم بچیوں کے ساتھ جس طرح سے ظلم کے حادثات ہورہے ہیں وہ ہمارے ملک کی تہذیب پر ایک بدنما داغ ہیں ،کٹھوعہ کی آصفہ ،اناؤ کی سمن ،سورت کی نامعلوم بچی سمیت سیکڑوں بچیاں ہوس پرستوں کا شکار بنی ہیں اس کے خلاف آج پورا ملک بلا تفریق مذہب سراپا احتجاج بنا ہوا ہے ،ہمارا بھی دیوبند کی سرزمین سے اقتدار پر بیٹھے ہوئے لوگوں سے یہی مطالبہ ہے کہ اس طرح کے واقعات پر قدغن لگانے کے لئے سخت قانون بنائیں اور مجرموں کو 90؍دنوں کے اندر ہی فاسٹ ٹریک کورٹ کے ذریعہ سزائے موت دیں نیز مجرموں کا کسی بھی طریقے سے تعاون کرنے والوں کو قید بامشقت کی سزا دیں اور ان کا سماجی بائیکاٹ بھی کیا جائے ۔

 

 

 

 

اس موقع پر مجمع کو خطاب کرتے ہوئے ماں ترپور بالاسندری دیوی مندر ٹرسٹ کے چیئرمین معروف ہندو مذہبی رہنما پنڈت ستیندر شرما نے سخت قانون سازی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ آصفہ ہماری بچی تھی اس میں بھگوان دکھتا تھا اس کے ساتھ اتنی افسوسناک حرکت کم از کم کوئی انسان تو نہیں کرسکتا اس لئے آج ہم دیوبند کے عوام وزیر اعظم اور حقوق نسواں کے ذمہ داران سے پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ ایسے ناپاک حرکت کرنے والوں اور ان کے معاونین کو ایسی سخت سزا دی جائے کہ وہ ملک کے ہر ایک باشندے کے لئے درس عبرت بن جائے ۔سابق اسمبلی رکن معاویہ علی نے کہا کہ آج آپ سب کا یہاں آپسی اختلافات کو بھلاکر جمع ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ انسانیت اب بھی زندہ ہے اور ضمیر کی آواز پر ہندوستان کے عوام ہمیشہ سے لبیک کہتی آئی ہے ہم اہلیان دیوبند متحد ہوکر حکومت ہند سے یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ اب مزید سستی نا برتی جائے نربھیا واقعہ سے لیکر اب تک کے ہزاروں واقعات سے سبق حاصل کرکے قانون سازی کی جائے۔ انہوں نے سبھی پارٹیوں کے سیاسی رہنماؤں سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ اس مسئلہ پر سیاست نہ کریں بلکہ سماج کو اس مہلک ناسور سے بچانے کے لئے ضمیر کی آواز پر لبیک کہیں۔ دلت لیڈر کلدیپ لہری نے مجمع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جب سے بھارتیہ جنتا پارٹی مرکز میں اقتدار میں آئی ہے ملک میں جرائم کا گراف لگاتار بڑھتا جارہا ہے جو ملک کی سیدھے سادے شہریوں کے لئے تشویش کا باعث ہے۔

 

 

 

اس موقع پر تنظیم ابناء مدارس اسلامیہ کے بانی رکن مہدی حسن عینی قاسمی اور محمود الرحمن صدیقی نے خطاب کرتے ہوئے اعداد وشمار کی روشنی میں بتایا کہ ہمارے ملک میں ہر پندرہ منٹ میں ایک ہر گھنٹے میں چار اور ہر دن میں 95؍آبرو ریزی کے واقعات ہو تے ہیں جن میں عام طور پر شکار ہونے والی معصوم بچیاں ہوتی ہیں جنہیں ریپ کے سلسلے میں صفر کا بھی علم نہیں ہوتا لیکن اس کے باوجود عرصہ دراز تک ٹرائل کا سلسلہ چلتا ہے اور مجرموں کو سزا نہیں ملتی معصوموں کی روحیں انصاف کی لئے بھٹکتی رہتی ہیں اس لئے آج ہمارا مرکزی وزارتوں بالخصوص محترمہ مینکا گاندھی سے یہ مطالبہ ہے کہ وہ اپنے اعلان کے مطابق پاکسو ایکٹ بل کو ترمیم کرکے دونوں ایوانوں میں پیش کریں اور تین مہینے کے اندر اندر ریپ کے مجرموں کو سزائے موت دی جائے ۔اس کے علاوہ اس موقع پر مولانا نسیم اختر شاہ قیصر، اسعد جمال فیضی ، سہیل صدیقی، قاری زبیر احمد قاسمی، جنید کاظمی، صدرالدین انصاری، حاجی بابو ، عبدالسلام، گلزار قریشی، کلیم قریشی، رمضانی قریشی، اطہر عثمانی ،عثمان انجینئر،حاجی ممشاد سمیت بڑی تعداد میں شہر کے لوگ موجود رہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *