اتر پردیش کے سہارنپور سے ایک بار پھر کسانوں نے مرکزی حکومت کے خلاف اپنے مطالبات کو لے کر ہلہ بول دیا ہے۔ ہفتہ کو کسانوں کا ہجوم غازی آباد-دہلی سرحد تک پہنچ گیا جو کسان گھاٹ تک پہنچنے میںمصروف ہے۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ کسانوں کی 12 نکاتی مطالبات کے ساتھ ساتھ حکومت جلد ہی سوامی ناتھن کمیشن کی رپورٹ کو لاگو کرے نہیں تو وہ ملک گیر بھوک ہڑتال کرنے پر مجبور ہوں گے۔ خبر لکھے جانے تک کسانوں کا وفد حکومت کے ساتھ مذاکرات میں مصروف ہے۔
اتر پردیش کے ہزاروں کسان قرض معافی اور بقایہ ادائیگی سمیت اپنے 12 نکاتی مطالبات کو لے کر دہلی کے غازی پور بارڈر پر دھرنے پر بیٹھے ہیں کیونکہ فی الحال دہلی میں آنے سے پہلے ان کو وہیں پر روک دیا گیا ہے۔ اس کے تحت ہزاروں کسان ٹریکٹر ٹرالی اور پیدل مارچ کرکے مسلسل یہاں پہنچ رہے ہیں۔ پولیس انتظامیہ نے کسانوں کو دہلی کی طرف جانے سے روکنے کے لئے یوپی گیٹ پر بھاری پولیس فورس کو تعینات کیا ہے۔
کسان تحریک کی وجہ سے عام لوگوں کو تکلیف نہ ہو اس کے لئے غازی آباد کے ایس پی سٹی شلوک کمار نے بتایا کہ ضرورت پڑنے پر عام لوگوں کے لئے راستہ بدل دیا جائے گا۔بھارتیہ کسان تنظیم کے صدر پورن سنگھ نے بتایا کہ کسانوں کا 11 رکنی وفد کرشی بھون میں حکام سے بات چیت کے لئے گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہماری مانگیں نہیں مانی گئیں تو ہم دہلی کا سفر کریں گے۔
اس سے پہلے جمعرات دیر رات سے لے کر جمعہ دیر شام تک ضلع انتظامیہ کے افسران، مرکزی حکومت کے محکمہ زراعت کے حکام اور کسانوں کے درمیان کئی مراحل میں مذاکرات ناکام رہی تھی۔ ایسے میں کسانوں کا کہنا ہے کہ وہ حکومت کے نمائندوں سے نہیں صرف حکومت سے ہی بات کریں گے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here