تیونیشیا کے بعد ۔۔۔۔۔۔۔

Share Article

ایم ودود ساجد
جس ملک کی ہزاروں مسجدیں نماز سے محض دس منٹ پہلے کھلیں اور نماز کے دس منٹ بعد بند کردی جائیں تو کیا آپ اس ملک کو عرب ملک قرار دے سکتے ہیں؟میرا خیال ہے کہ ایسے ملک کو عرب تو کیا ایک عام سا مسلم ملک بھی قرار نہیں دیا جاسکتا۔عوامی بغاوت کی آگ میں جھلسنے والے شمالی افریقی عرب ملک تیونیشیا میں پچھلے 30سال سے یہی سب کچھ ہوتا آرہا تھا۔تیونس میں آنے والا عوامی انقلاب اچانک نہیں آگیا ہے۔کم سے کم یہ میرے جیسے لکھنے والوں کے لئے متوقع انقلاب ہے اور اس کی آگ سے جلد یا بدیر دوسرے عرب ممالک بھی جھلسنے والے ہیں۔میں نے جون 2005میںملک بھرکے اخبارات میں شائع ہونیو الے ایک مضمون میں لکھا تھا کہ آج کل عرب ممالک میں اصلاحات کی آندھی چلی ہوئی ہے اور اس پوری صورت حال کالازمی تقاضہ یہ ہے کہ عرب شہنشاہیت اپنے انجام کو پہنچ جائے۔اس کے بعد مارچ2006میں شائع ہونیو الے ایک دوسرے مضمون میں ‘ میں نے رائے ظاہر کی تھی کہ  اب ایسا محسوس ہوتا ہے کہ عرب عوام بیدار ہو گئے ہیں اور وہ ان معتوب جماعتوں کی طرف امید بھری نگاہوں سے دیکھ رہے ہیں جو انقلاب لانا چاہتی ہیںاور جن کو اب تک سیاسی طبع آزمائی سے دور رکھا گیا ہے۔ امریکہ نے عرب ممالک میں سیاسی اصلاحات کا جو عمل تھوپا ہے اس کی برکت سے اتفاقاً وہاں عوام کے اضطراب کو زبان مل گئی ہے اور رفتہ رفتہ ہی سہی ایک نئے سیاسی انقلاب کی ہوا چل پڑی ہے۔
اتفاق یہ ہے کہ سیاسی انقلاب کی ابتدا وہاں سے ہوئی جہاں سے خود عالمی طاقتوں اور خاص طور پر امریکہ کو بھی اس انقلاب کے برپا ہونے کی توقع نہیں تھی۔میں نے مضمون کی ابتدا اس نکتہ سے کی تھی کہ تیونیشا میں مسجدیں اذان اور نماز سے محض دس منٹ قبل کھلتی تھیں اور نماز کے دس منٹ بعد بند ہوجاتی تھیں۔اس سرکاری انتظام کا اصل مقصد یہ تھا کہ ان مسجدوں سے کہیں مطلق العنان حکمرانوں کے خلاف کوئی سیاسی سازش برپا نہ ہوجائے۔یہ خوف ان طاقتوں کو ہوتا ہے جن کے دلوں میں فتور ہو اور جنہوں نے عوام کو دبا کر رکھا ہو۔ تیونیشیا میں کم وبیش 30برسوں سے اقتدار پر قابض زین العابدین بن علی نے بھی عوام کو دبا کر رکھا تھا۔ان کی سیاسی امنگوں کا قتل کرنے کے لئے اللہ کے گھروں کا استعمال کیا گیااور لوگوں کو روحانی آزادی تک نہ دی گئی۔لیکن جب وقت آیا تو مسجدوں سے نہیں بلکہ تیونس شہر کی ایک گلی سے وہ انقلاب اٹھا کہ 30برسوں سے مسلط ایک ظالم وجابر حکمراں کو ملک سے چوروں کی طرح بھاگنا پڑا۔دوسرے عرب ملکوں اور خاص طور پر ان کے مطلق العنان حکمرانوںکے لئے یہ صورت حال اچھی نہیں ہے۔ تیونیشیا کا آئین کہتا ہے کہ ملک کا صدر ایک پکا سچا اور عامل مسلمان ہو،رعایا کو مذہب پر عمل کرنے کی پوری آزادی ہواور کسی پر جبر نہ کیا جائے۔تیونیشیا میں 99فیصد سے زیادہ آبادی مسلمانوں کی ہے۔باقی ایک فیصد میں اٹلی اور فرانس سے آکر بس جانے والے عیسائی اور یہودی ہیں۔یعنی 25ہزار عیسائی اور 15سو یہودی آباد ہیں۔تیونیشیا کی سرکاری زبان عربی ہے چونکہ اس کے تمام مسلم نفوس کا شجرہ عرب ممالک سے جاملتا ہے۔تاہم وہاں کا ہر شہری فرینچ اور اٹالین زبانیں جانتا اور استعمال کرتا ہے۔اسکولوں میں ذریعہ تعلیم فرنچ اور اٹالین ہے۔یہاں تک کہ کئی فرنچ زبان کے اخبارات بھی شائع ہوتے ہیں اور روز مرہ کی سماجی زندگی پر بھی فرنچ زبان کا اثر ہے۔
تیونیشیا کے آئین میں پوری مذہبی آزادی کی ضمانت کے باوجود لوگوں کو مذہب پر آزادی کے ساتھ عمل کرنے نہیں دیا گیا۔مسلم خواتین کو عام بازاروں،اسکولوں،سرکاری دفاتر اور دوسرے اہم میدانوں میں کام کرنے کے دوران حجاب باندھنے یا برقعہ اوڑھنے کی سخت ممانعت تھی۔ کہا جاتا تھا کہ یہ غیر ملکی نشانی ہے۔یہاں تک کہ داڑھی بڑھانے یاسرے سے داڑھی رکھنے کو ہی معیوب قرار دے کر لوگوں کو گرفتار کرلیا جاتا تھا۔بہت سے واقعات میں لوگوں کو داڑھی پوری طرح کٹوانے پر مجبور کیا گیا۔یہی نہیں بلکہ ایسے حلیہ اور ایسی وضع قطع سے بھی روکا گیا جس سے اسلامی شناخت ظاہر ہوتی ہو۔یہاں تک کہ بہت سے عباوقبا پہننے والے عربوں کو گرفتار کرکے جیلوں میں بھی ٹھونس دیا گیا۔بہت سی تقریبات میں اسکارف پہنی ہوئی عورتوں کو بھی گرفتار کرلیا گیا۔اس سب پر یہ کہ قومی دولت اور وسائل پر صرف حکمراں خاندان کا ہی تسلط رہا اور عوام تک اس کا فائدہ نہیں پہنچنے نہیں دیا گیا۔پچھلے دنوں تیونیشیا کے 74سالہ مطلق العنان زین العابدین بن علی کے ملک سے فرار ہونے کے چند دنوں کے بعد ان کی نوجوان اہلیہ ایک ٹن پانچ کلو سونے کے ساتھ ملک سے فرار ہوئی۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ قومی دولت اور خزانے پر حکمراں طبقہ کس درجہ قابض تھا۔یعنی ایک طرف تو ایک بے روزگار تیونسی نوجوان کو محض اس لئے خود سوزی کرنی پڑی کہ اس کے پاس سبزی فروخت کرنے کے لئے لائسنس نہیں تھا اور دوسری طرف حکمراں خاندان کی عورتوں کے پاس ٹنوں کے حساب سے سونا تھااور یہ سونا تو وہ تھا جو وہ آسانی کے ساتھ لے کر فرار ہوگئی۔اس کے علاوہ نہ جانے کتنی دولت کہاں کہاں ہوگی؟
میں نے کئی عرب اور افریقی عرب ملکوں میں جاکرخود مشاہدہ کیا ہے۔وہاں عوام کو ایک طرف جہاں سیاسی سوچ رکھنے کی آزادی نہیں ہے وہیں دوسری طرف انہیں سکون کے ساتھ کھانے کمانے کی بھی آزادی نہیں ہے۔جس ملک میں سبزی فروخت کرنے کا لائسنس حاصل کرنا اتنا مشکل ہو کہ بے روزگار نوجوان کو خود کشی کرنی پڑجائے وہاں کے اس عوامی غم وغصہ کا حال کیا ہوگا جو اندر اندر پنپ رہا ہے اور جس کو اگر عوامی زبان مل گئی توکیا کچھ نہ ہوجائے گا؟مصر جیسے ملک میںجو کتنے ہی محاذوں پر سب سے متمول افریقی عرب ملک ہے زیادہ تر شہری دوڈالر یومیہ سے زیادہ نہیں کماپاتے۔ ایک عام سرکاری ملاز م کی تنخواہ بھی 100ڈالر یعنی ساڑھے چار ہزار ہندوستانی روپے سے زیادہ نہیں ہے۔مہنگائی بھی کچھ کم نہیں ہے۔مصر کے نوجوانوں کی تعداد اس وقت 30فیصد سے زیادہ ہے اور ان میں سے 80فیصد بے روزگار ہیں۔اوپر سے ان کے سروں پر ہر وقت یہ تلوار لٹکی رہتی ہے کہ وہ سخت گیر عناصر کے خیر خواہ قرار نہ دے دئے جائیں۔تیونیشیا میں بھی اس سے کچھ مختلف صورتحال نہیں ہے۔وہاں بھی مصر کے اخوان المسلمون کی طرح النہضہ نامی ماڈریٹ قسم کے مسلمانوں کی تنظیم پر ظلم کے پہاڑ توڑے گئے اور اس کے بڑے لیڈروں کو ملک چھوڑ نے پر مجبور کردیا گیا۔
یہ بات ذہن میں رکھنے کی ہے کہ عرب ممالک میں انقلاب محض اسی نکتہ کے سبب نہیں آئے گا کہ وہاں مذہبی آزادی برائے نام ہے اور مذہب پر کاربند مسلمانوں کو حکمرانوں کا دشمن سمجھ کر انہیں ایذائیں دی جاتی ہیں بلکہ اس سبب سے بھی آئے گا کہ وہاںسیاسی بندشوں کے ساتھ دولت کی منصفانہ تقسیم کا تو نظام ہے ہی نہیں عوام کو سکون کے ساتھ کمانے کی آزادی بھی نہیں ہے۔کم وبیش تمام ملکوں میں اور خاص طور پر افریقی عرب ملکوں میں اقتصادی ابتری بڑھتی جارہی ہے۔یہی سبب ہے کہ تیونیشیا کے غیر منظم انقلاب کے فوراً بعد عرب لیگ کے سیکریٹری جنرل عمر موسی نے عرب لیگ اور عرب ملکوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ایک طرف جہاں اپنے یہاںاقتصادی اصلاحات کا عمل تیز کریںوہیں تیونیشا کے لئے امدادی رقم بھی منظور کریں۔عرب لیگ نے پہلے ہی دوبلین ڈالر مختص کردئے ہیں۔اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ عرب ممالک میں اور خاص طور پر عرب لیگ سے وابستہ عرب ملکوں میں تیونیشیا کے عوامی انقلاب سے کس قدر خوف طاری ہوگیا ہے۔
میں نے چھ سال قبل لکھا تھا کہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے عرب ممالک میں اصلاحات کا جوخواب دیکھا ہے اس کے کم از کم تین پہلو ہیں۔ سیاسی اصلاحات میں خواتین کو حق رائے دہی کے ساتھ ساتھ دوسرے حقوق بھی عطا کرنا، مختلف الخیال افراد اور عوام کو اپنی پسند کی پارٹی قائم کرنے کی چھوٹ دینا اور مختلف ایشوز پر عوام کو اپنی رائے آزادی کے ساتھ ظاہر کرنے کی رخصت دینا۔ ظاہر ہے کہ جب یہ تینوں عناصر ایک دوسرے سے ملیں گے تو ایک نئی، انقلاب آمیز اور عظیم طاقت ابھرے گی جو دہائیوں سے چلے آرہے شہنشاہیت کے نظام سے ہی ٹکرائے گی۔ شاہ زادوں اور شہنشاہوں کی خامیوں کی نشاندہی ہوگی اور ان کی گرفت کا بھی کوئی نظام خود بخود ترتیب پاجائے گا۔ یہ تمام اندازے ہوائی نہیں ہیں بلکہ عین اصول فطرت کے مطابق ہیں۔ فطرت کو جب آزادی ملتی ہے تو ایسے ہی انقلاب ظہور پذیر ہوتے ہیں اور اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اکثر عرب ممالک میں فطرت انسانی کو دبا کر رکھا گیا ہے۔
بہر حال تیونیشیا کے نئے حالات سے حوصلہ پاکردوسرے ملکوں اور خاص طور پر لندن میں جلا وطنی کی زندگی بسر کرنے والے اپوزیشن لیڈروں نے واپسی کا سامان باندھنا شروع کردیا ہے۔اسلامی افکار رکھنے والے ان تیونیشیائی لیڈروں نے بھی وطن واپسی کی اجازت مانگی ہے جن کے خلاف ان کی غیر موجودگی میں پچھلے حکمراں نے سزائے موت کا فیصلہ کرادیا تھا۔یہاں یہ بتانا نہایت ضروری ہے کہ یہ انقلاب ہر گز اسلامی انقلاب نہیں ہے۔یہ بنیادی طور پر عوامی انقلاب ہے اور لازمی طور پر اس سے تمام عرب شہنشاہیتیں لرزہ براندام ہیں ۔آج نہیں تو کل ان کا بھی یہی حشر ہونے والا ہے۔اب بھی وقت ہے کہ وہ سنبھل جائیں اوراپنے سیاسی مخالفین کو القاعدہ کی آڑ میں ختم کرانے کا کھیل بند کردیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *