انتخابات کے بعد جے جے پی کا نام ہوگا ضمانت ضبط پارٹی: منوہر لال

Share Article

وزیر اعلیٰ منوہر لال کھٹرنے کہا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) وہی بات کہے گی، جو کر سکتی ہے۔ ایسی کوئی بات بی جے پی نہیں کرے گی جو وہ نہ کر سکے۔ اس کے برعکس کانگریس نے اپنے انتخابی منشور میں سب کچھ مفت دئے جانے کی بات کہی ہے۔ پہلے بھی کانگریس اعلانات کرتی رہی ہے، لیکن تمام اعلانات جھوٹے ثابت ہوئے ہیں۔ اپنے اعلانات کو پورا کرنے کے لئے کانگریس نے کوئی کام نہیں کیا۔ انہوں نے جے جے پی پر بھی طنز کرتے ہوئے کہا کہ کچھ دن بعد لوگ اسے ضمانت ضبط پارٹی کہہ کر پکارنے لگیں گے۔

پیر کے روز وزیر اعلیٰ منوہر لال کھٹرجولانامیں ایک انتخابی ریلی سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے جے جے پی پر نشانہ لگاتے ہوئے کہا کہ کوئی حراست میں بیٹھ کر پارٹی چلا رہا ہے تو کوئی خاندانی پارٹی چلا رہی ہے۔ ریاست کے لوگ ان لوگوں کو جانتے ہیں۔ اب ریاست میں دبنگئی نہیں چلے گی۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کے منشور میں ایسے اعلانات ہیں کہ اگر وہ تین بار بھی حکومت چلائیں ،تو بھی پورے نہیں ہو سکتے ہیں۔ جبکہ بی جے پی نوجوانوں کوہنرمندی کے فروغ کی طرف لے جا رہی ہے۔ بی جے پی نے نوجوانوں کو روزگار دستیاب کروانے کے لئے 100 گھنٹے کام کی منصوبہ بندی کی ہے۔

انہوں نے جلسہ عام میں موجود لوگوں سے پوچھا کہ کام کروا کے پیسے دینا چاہیے یا بغیر کام کروائے۔ سب نے ایک سر میں کہا کہ کام کروا کر۔ انہوں نے کہا کہ ہریانہ کرم یوگی ہے اور کام کرنے والے کی ہی پوجا ہوتی ہے۔ گیتا کا پیغام بھی ہریانہ کی سرزمین پر دیا گیا ہے۔ بی جے پی ہریانہ ریاست میں سب کو کام دے گی، اتنا کام دیا جائے گا کہ اس کا خاندان امیر ہو جائے گا لیکن بی جے پی مفت خوری کی حامی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی نے کسانوں کی آمدنی میں اضافہ کا بھی کام کیا ہے۔ قدرتی آفت آنے پر کسانوں کوپورامعاوضہ دیا گیا۔ پانچ سال میں کسانوں کو 3600 کروڑ روپے کا معاوضہ دیا گیا ہے، جبکہ 48 سال میں گزشتہ حکومتوں نے صرف 1200 کروڑ روپے ہی معاوضہ دیا۔ بی جے پی ہی کسانوں کی سچی ہمدرد ہے۔

وزیر اعلیٰ منوہر لال نے کہا کہ ہریانہ میں پنچایتی انتخابات میں پڑھی لکھی حکومت بی جے پی نے بنانے کا کام کیا۔ اس کا مقصد یہی تھا کہ ہر کام شفافیت اور پوری ایمانداری سے ہو، لیکن اپوزیشن نے یہ اعلان کر دیا کہ اگر حکومت آئے گی تو پڑھے لکھے کی شرط ہٹا دی جائے گی۔ پنچایتیں پڑھی لکھی ہوں تو ہی اچھا ہو۔ انہوں نے راہل گاندھی پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس کی ہار اس لئے ہوئی کہ کانگریس کا صدر گاندھی خاندان سے ہے۔ انہوں نے استعفیٰ دے دیا، لیکن تین ماہ گھومنے کے بعد دوبارہ سونیا گاندھی کو ایگزیکٹو چیئرمین بنا دیا گیا۔

منوہر لال کھٹرنے کہا کہ بی جے پی نے ہریانہ میں نظام تبدیل کرنے کا کام کیا ہے۔ بدعنوانی کو ختم کیا ہے۔ ریاست کے تمام اسمبلی حلقوں میں بغیر امتیاز کے کام کروایا ہے، لیکن ان کے کام سے اپوزیشن کے لوگ مایوس ہو چکے ہیں۔ اس لیے وہ جھوٹ بول کر عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ عوام ایسے لوگوں کو جان چکی ہے۔ اسی لیے چھ ماہ پہلے ہی ذہن بنا لیا تھا کہ ریاست میں اگلی حکومت بی جے پی کی ہی ہوگی۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *