ہریانہ کے بعدیوپی کے اسکول میں ایک بچہ تشددکاپھرشکار

Share Article
student-attacked
گذشتہ برس ہریانہ کے گڑگاؤں میں واقع ریان انٹرنیشنل اسکول جیسادردناک واقعہ ریاست اترپردیش کی راجدھانی لکھنؤ میں سامنے آیاہے۔مگرخوش قسمتی سے بچہ بچ گیا اورہاسپیٹل میں خطرے سے باہربتایاجارہاہے۔لکھنؤ کے علی گنج تھانہ علاقے میں واقع برائٹ لینڈ اسکول میں پہلی کلاس کے بچے کوچاقوسے حملہ کرنے کے معاملے میں پولس نے ملزم ساتویں کلاس کی طالبہ کوحراست میں لے لیا۔ا س کے کچھ ہی دیرپہلے پرنسپل رینامانس کوبھی گرفتارکرلیاگیا۔اس بیچ وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے اسپتال پہنچ کرزخمی بچے سے ملاقات کی ہے۔
لکھنؤکے ایس ایس پی دیپک کمارنے بتایاکہ طالبہ نے طلبہ پرسبزی کاٹنے والے چاقوسے حملہ کیاہے۔ہم نے طلبہ کے جسم سے ملے لڑکی کے بال کوڈی این اے ٹیسٹ کیلئے بھیج دیاہے۔ طالبہ کوجووینائل جسٹس بورڈ کے سامنے پیش کیاجائے گا۔
عیاں رہے کہ برائٹ لینڈ اسکول میں منگل کوکلاس سات کی طالبہ نے کلاس ایک کے طلبہ کوچاقو سے حملہ کرکے لہولہان کردیا۔16جنوری کوواقعہ منگل کوصبح تب ہوئی جب متاثرطلبہ صبح کی اسمبلی کے بعداپنی کلاس جارہاتھا۔ طالبہ نے اسے بہلاکر دوسری منزل پرواقع باتھ روم  میں لے گئی۔ وہاں دوپٹے سے اس کے ہاتھ باندھ کرچاقوسے تابڑتوڑحملہ کرڈالے ۔طلبہ کومردہ سمجھ کرطالبہ باہرسے دروازہ بند کرکے چلی گئی۔ اسکول کاراؤنڈ لے رہے سیکوریٹی انچارج امیت سنگھ چوہان نے کھٹپٹ کی آوازسن کرباتھ روم کا دروازہ کھولاتو طلبہ لہولہان پڑاتھا۔ آناً فاناً میں اسے ٹراماسینٹرمیں داخل کرایاگیا۔17جنوری کوصبح اسکول کے ڈائریکٹررچت مانس نے اے ایس پی ٹرانسگومتی ہریندرکمارکوفون کرکے معاملے کی جانکاری دی۔پولس نے طلبہ پرحملے کی جانکاری ملنے پرپولس افسران موقع واردات پرپہنچے ۔ پولس نے اسکول انتظامیہ کی تحریرپرکیس درج کرکے جانچ شروع کردی ہے۔اسکول میں لگے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج کھنگالی جارہی ہے۔ علی گنج کے تروینی نگرمیں برائٹ لینڈ اسکول ہے،جہاں نرسری سے لیکرانٹرمیڈیٹ تک تعلیم دی جاتی ہیں۔ تروینی نگرکے باشندہ رمیش کمار کا چھ سالہ بیٹااسکول میں کلاس ایک کاطالب علم ہے۔انہوں نے منگل صبح پونے دس بچے کواسکول میں چھوڑاتھا۔پرنسپل رینامانس نے بتایاکہ اسمبلی (پرارتھنا)ختم ہونے کے بعدسبھی بچے اپنے اپنے کلاس روم چلے گئے ۔اس کے کچھ دیربعدسیکوریٹی انچارج نے بچے کوٹوائلٹ میں لہولہان پایا۔
ٹراماسینٹرمیں ہوش آنے پربچے نے آپ بیتی بتائی توسبھی حیران رہ گئے۔اس نے بتایاکہ وہ اپنی کلاس میں جارہاتھا۔تبھی دیدی(ملزم طالبہ)نے اسے روک کراس کا نام پوچھا۔اس کے بعدوہ اسے باتھ روم میں لے گئی۔اس سے پہلے کہ وہ کچھ سمجھ پاتا، دی دی نے اسے پیٹناشروع کردیا۔پھردوپٹے سے اس کے ہاتھ باندھے اوردوپٹے کا کچھ حصہ اس کے منہ میں ٹھوس دیا۔اس کے بعدوہ اسے باتھ روم میں بندکرکے چلی گئی۔ متاثرہ طلبہ نے بتایاکہ ایک منٹ بعدوہ ہاتھ میں چاقولیکر واپس لوٹی۔ یہ دیکھ وہ بری طرح ڈرگیا اوراپنی جان کی بیگ مانگنے لگا۔طلبانے بتایاکہ اسے گڑگڑاتے دیکھ کرطالبہ مسکراتے ہوئے بولی کہ تمہیں مارانہیں تواسکول چھٹی کیسے ہوگی۔اتناکہتے ہوئے وہ معصوم پرٹوٹ پڑی۔پہلے اس کا گلادباکر مارنے کی کوشش کی،لیکن طلبہ کے مخالفت کرنے پرطالبہ نے اس پرچاقوسے حملہ کرناشروع کردیا۔
اسکول مینجمنٹ روہن مانس کے پوچھنے طلبہ نے بتایاکہ وہ حملہ کرنے والی طالبہ کانام نہیں جانتاہے ۔حالانکہ طلبہ نے ملزم طالبہ کاجوحلیہ بتایااس کی مددسے اسکول مینجمنٹ نے اسے پہچان لیا۔طلبہ نے بتایاکہ طالبہ اسکرٹ پہنی ہوئی تھی اوراس کے ’بائے کٹ‘بال تھے۔ڈائریکٹررچت مانس نے بتایاکہ اسکول میں کلاس آٹھ تک کی طالبات اسکرٹ پہنتی ہیں، جبکہ سینئرطالبات کیلئے ڈریس کوڈ سلوارسوٹ ہے۔اس سے صاف ہوگیاکہ حملہ کرنے والی طالبہ کلاس 8یااس کے نیچے کلاس کی ہے۔اس کے بعداسکول انتظامیہ نے بائے کٹ بالوں والی طالبات کے بارے میں جانکاری لی۔اس میں تین طالبات شک کے گھیرے میں آئیں۔اس کے بعدمتاثرطلبہ کوموبائل میں ان طالبات کی فوٹودکھائی گئی، جس میں سے ایک طالبہ کواس نے حملہ آورکے طورپرپہچان لیا۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *