بھوپال میں آٹھ سال کی بچی کے ساتھ زیادتی کے بعد قتل، پولیس پر لاپروائی کا الزام

Share Article

 

مدھیہ پردیش کے دارالحکومت بھوپال میں ایک بار پھر انسانیت کو شرمسار کر دینے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ اتوار کی صبح منڈوا بستی کے پاس نالے میں ایک آٹھ سال کی بچی کی لاش ملنے سے علاقے میں سنسنی پھیل گئی۔ بچی سنیچر کی رات سے لاپتہ تھی۔ خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ آبروریزی کے بعد اس کا قتل کیا گیا ہے۔ معاملے میں پولیس کی لاپروائی بھی سامنے آ رہی ہے۔ فی الحال لاش کو پوسٹ مارٹم کے لئے بھیج دیا گیا ہے۔ پولیس نے مقدمہ درج کر کے تحقیقات شروع کر دی ہے۔

 

معلومات مطابق معاملہ کملا نگر تھانے کے منڈوا بستی کا ہے۔ یہاں اتوار کی صبح نالے میں ایک آٹھ سال کی بچی کی لاش ملی ہے۔ بچی کی لاش ملنے کی خبر سے علاقے میں سنسنی پھیل گئی۔ اطلاع کے بعد موقع پر پہنچی پولیس نے تحقیقات شروع کی۔ جانچ میں پتہ چلا کہ بچی اسی بستی کی رہنے والی تھی اور سنیچر کی رات 8 بجے سے لاپتہ تھی۔ فورنسک ٹیم نے بھی موقع پر پہنچ کر تحقیقات کی ہے، ادھر پولیس علاقے میں لگے سی سی ٹی وی فوٹیج کھنگالنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اس معاملے میں اہل خانہ نے پولیس پر لاپروائی کا الزام لگایاہے، وقت رہتے اگر اس کی تلاش شروع کی جاتی تو وہ مل جاتی۔ لیکن پولیس نے اس معاملے کو سنجیدگی سے نہیں لیا۔ بچی سے آبروریزی کے بعد قتل کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔ پولیس نے لاش کو نکال کر پوسٹ مارٹم کے لئے بھیج دی ہے اب پوسٹ مارٹم رپورٹ سامنے آنے کے بعد ہی سچ سامنے آ پائے گا۔بچی کیلاش جیسی ہے حمیدیہ اسپتال پہنچی، وہاں آئے اہل خانہ نے ہنگامہ کیا۔

 

Image result for rape in bhopal

 

پولیس کی لاپروائی کا انکشاف
اس پورے معاملے میں بچی کے اہل خانہ نے پولیس پر لاپروائی کا الزام لگایا ہے۔ بچی کے چچا انور خان کا کہنا ہے بچی ہفتہ کی رات 8 بجے گھر سے کچھ دور ایک دکان پر سامان لینے گئی تھی۔ اس کے بعد واپس نہیں لوٹی۔ پھر اس کی تلاش شروع ہوئی، لیکن جب آس پاس وہ نہیں ملی تو 9 بجے اس کے والدین پولیس کے پاس پہنچے۔ پولیس نے اس کی رپورٹ لکھنے سے انکار کر دیا اور کہا کہ وہ پاس میں ہی کہیں کھیل رہی ہوگی. اس کے بعد وہ واپس لوٹ آئے اور پھر رات بھر آس پاس کے علاقوں میں اس کی تلاش کرتے رہے۔ علاقے کے کونسلر کی مداخلت کے بعد دیر رات ساڑھے11 بجے قریب تھانے سے تین کانسٹیبل بچی کے گھر پہنچے اور وہیں کرسی لگا کر بیٹھ گئے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ دو کانسٹیبل شراب کے نشے میں تھے اور بچی کے بارے میں نازیبا زبان بول رہے تھے۔اس دوران انہوں نے بچی کے اہل خانہ سے چائے اور گٹکا کھلانے کا بھی مطالبہ کیا۔

 

 

اس پورے معاملے پر بال بہبود کمیٹی کی رکن ڈاکٹر نویدتا شرما کا کہنا ہے کہ جھگی بستی میں رہنے والے لوگ اپنی روزی روٹی کے لئے روزمرہ کے کام پر انحصار رہتے ہیں اور اپنے بچوں کو گھر میں چھوڑکر کام کرنے جانے کے لئے مجبور ہوتے ہیں۔ایسے بچوں کے لئے حکومت کو زیادہ سے زیادہ اوپن سینٹر کھولنے چاہئے، جہاں بچوں کے پڑھنے لکھنے اور کیٹرنگ کی سہولت ہو۔ مرکز میں بچوں کی صحیح نشو ونما بھی ہوگی اور وہ محفوظ رہیں گے۔ وہیں پولیس کی طرف سے 24 گھنٹے میں ایف آئی آر درج کئے جانے میں تبدیلی کرنے کی بات کرتے ہوئے ڈاکٹر نویدتا شرما کا کہنا ہے کہ ایسے حساس معاملات میں پولیس کو بغیر ایف آئی آر درج کئے مناسب کارروائی کرنی چاہئے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *