ڈاکٹر اسلم جمشید پوری 
p-10bثانیہ خوشی سے بے قا بو ہو تے ہوئے اپنی سہیلی ثمرین سے لپٹ گئی۔
’’ارے…ارے…کیا ہو گیا…؟‘‘ ثمرین نے ثا نیہ کو سینے سے لگاتے ہو ئے کہا۔
’’آج تو غضب ہو گیا…میری تو جیسے قسمت ہی جاگ اٹھی…‘‘ ثانیہ نے بے تحا شہ ثمرین کے ہا تھوں کو چومنا شروع کردیا۔ثمرین اس بے مو سم برسات سے گھبراتے ہو ئے بو لی ’’یار کچھ بتائے گی بھی یا…؟‘‘
’’ارے آج میں ٹی وی دیکھ رہی تھی کہ اچا نک ایک چینل پر میرے آئیڈیل معروف فکشن نگار حشمت ضیاء کا انٹرویو آرہا تھا۔‘‘ثانیہ کے چہرے پر خوشی کے رنگوں کا آنا جانا،اُ سے حسین بنا رہا تھا۔
’’دھت تیرے کی…یہ بھی کوئی بات ہوئی۔میں سمجھی تو نے ٹاپ کیا ہے۔‘‘ ثمرین کے لہجے کا جوش ختم ہوچکا تھا، جیسے آگ پر پانی کے چھینٹے مار دیے گئے ہوں۔
’’تجھے پتہ ہے حشمت ضیاء کی عمر کیا ہے؟ وہ ساٹھ کے آس پاس ہیں۔ان کی شہرت کے سبب ہزا روں فین ہیں ان کے۔تو کوئی روگ نہ پال لینا۔‘‘ ثمرین نے سمجھ داری کا مظا ہرہ کرتے ہو ئے کہا۔
’’ارے وہ بات نہیں ہے، جو تو سمجھ رہی ہے۔مجھے کوئی پیار ویار نہیں ہوا ہے۔ میں تو ان کا بے حد احترام کرتی ہوں۔ تجھے پتہ ہے مجھے ان کا انداز پسند ہے۔ کیا زبان لکھتے ہیں۔ابھی گذشتہ دنوں’آج کل‘ میں ان کی کہانی’’رشتوں کا کھوکھلا پن‘‘ شائع ہوئی تھی۔کیا کہانی تھی یار…کتنی فنی مہارت سے کہانی کے تانے بانے بُنے تھے،لگتا تھا بَیا چڑیا نے تنکوں کو آ ڑا ترچھا ایک دوسرے میں پرو کر خوبصورت سا گھونسلہ بنایا ہو۔کہانی پڑھتے جائو اور واقعات کے پیچ و خم میں گرفتار ہوتے جائو۔آج کل کے ما حول پر کتنی عمدہ کہانی تھی۔ آج ہر طرف لڑ کیوں کو ہوش کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ کیا باہر کیا گھر،عزیز، قرابت دار، خون کے رشتے تک اب اعتبار کے لائق نہیں رہے۔حشمت ضیاء نے سگے ماموں کے ذریعے بھانجی کو ہوس کا نشانہ بنانے کی کہانی کو اس قدر فن کاری اور عمدہ زبان کے ساتھ تحریر کیا تھا کہ قاری سحر زدہ ہو جاتا ہے۔میں تو لرز اٹھی تھی۔مجھے ایسے رشتہ داروں کی شکل میںموجود درندوں سے نفرت ہو گئی ہے۔‘‘’’ہاں…ہاں… اب بس کر…مجھے پتہ ہے ان کی یہ کہانی بہت مقبول ہوئی تھی۔در اصل جو بھی سماج کی صحیح عکاسی کرتا ہے،اسے سب پسند کرتے ہیں۔تو کچھ زیا دہ ہی ایکسائٹیڈ ہو رہی ہے۔‘‘
’’ثمرین…میں تو حشمت ضیاء کو اپنا آئیڈیل مانتی ہوں۔مجھے بھی کہا نی کار بننا ہے۔ میں بھی سماج کی دکھتی ہوئی رگوں کو چھیڑوں گی اور ایسا درد آگیں نغمہ الا پوں گی کہ میری کہانی ہر کسی کی کہانی ہوگی۔لڑکیوں پر ہو رہے ظلم و ستم کے خلاف مجھے آواز بلند کرنی ہے۔ مجھے مظلوم خوا تین کا سہارا بننا ہے۔ حد ہو گئی ہے۔جدھر دیکھو…عورتوں اور لڑکیوں کو نشانہ بنیا جارہا ہے۔دہلی کی میڈیکل کی طالبہ کے ساتھ کیا ہوا؟‘‘ ثانیہ کے چہرے پر جوش، غصہ اور نفرت کے رنگوں کی آمیزش تھی۔
ثانیہ اور ثمرین دو سہیلیاں تھیں۔ دو نوں بی اے فرسٹ ائر کی طالبہ تھیں۔ ثا نیہ جذبا تی قسم کی لڑ کی تھی ۔وہ عام زندگی گذارنے کے حق میں نہیں تھی۔ وہ ہمیشہ خود کو دوسروں سے الگ رکھتی تھی۔ آج کے نو جوانوں کی طرح فلمی ہیرو ہیروئین یا کر کٹ اسٹارز کو اپنا آئیڈیل بنانے کے بجائے اس نے ادیب و فن کار کو اپنا آئیڈیل بنایا تھا۔ اس کا ماننا تھا کہ سماج میں تبدیلی، سوچ بدلنے سے آ سکتی ہے اور سوچ کو قلم سب سے زیا دہ متاثر کرتا ہے۔ ایک ادیب یا مصنف بڑی آ ہستگی سے وہ سب کچھ کہہ جاتا ہے جو بڑے بڑے طا قت ور لوگ نہیں کہہ پاتے۔ ثمرین سیدھی سا دی زندگی گذا رنے وا لی عام سی لڑ کی تھی لیکن وہ بلا کی ذہین تھی۔ اس کا خیال تھا کہ تعلیم کے زمانے میں صرف تعلیم کے حصول پر توجہ صرف کر نی چاہیے،باقی باتیں بعد میں۔دو نوں میں گہری دوستی تھی۔ دو نوں ایک سا تھ ہی ہاسٹل میں رہا کرتی تھیں۔ ثمرین،ثانیہ کی ادب نوا زی کے بارے میں جانتی تھی۔اسے یہ بھی علم تھا کہ ثا نیہ حشمت ضیاء کی بہت بڑی فین ہے۔ ان کے افسانے اور ناول ثا نیہ شوق سے پڑھتی تھی۔ یہی نہیں ان کے افسا نوی مجمو عے اور ناول خرید کر اپنے کمرے میں سجا رکھے تھے۔اخبارات سے تراش تراش کر حشمت ضیاء کی تصا ویر جمع کر کے اس نے اچھا خاصا البم بنا رکھا تھا۔
’’ہیلو…‘‘ ثمرین کی کانپتی ہو ئی آواز ابھری’’ ہیلو… جی کون…؟‘‘’’میں…میں…ثانیہ… ثانیہ…بول رہی ہوں…‘‘ثمرین نے بمشکل تمام حلق میں اٹک رہے جملوں کو آواز عطا کی۔ اس نے موبائل کا اسپیکر آن کردیا تھا۔ ثانیہ کے دل کی دھڑکنیں تیز ہو گئی تھیں۔ برسوں سے جس کو دیکھنے اور سننے کی خوا ہش تھی، آج اس کی آواز سما عتوں سے ٹکرا ئی تو دل خوشی کے مارے قلانچیں بھر نے لگا۔’’ جی… ثا نیہ صا حبہ…بتائیے…‘‘’’میں آپ کی بہت بڑی فین ہوں…مجھے آپ کا قلم بہت پسند ہے۔ کیا انداز تحریر ہے؟‘‘’’شکریہ…ثا نیہ صا حبہ…آپ کہاں رہتی ہیں؟‘‘
’’ جی مراد آ باد…،کالج ہاسٹل میں‘‘’’ اوہ…آپ تو میرے ہی شہر کی ہیں۔ میں ریلوے روڈ پر ہوں۔کبھی آئیے…‘‘’’ جی… ضرور… مجھے آپ کا ہر افسا نہ اچھی طرح یاد ہے۔آپ نے ’رشتوں کا کھوکھلا پن‘ میں بڑا کمال کیا ہے۔‘‘’’بھئی واہ شکریہ! در اصل میں تو حقیقت کوہی کہانی میں ڈھالتا ہوں۔اب تو ہم بھی آپ کے منتظر رہیں گے۔‘‘’’ مجھے تو زمانے سے آپ کو دیکھنے کا انتظار ہے۔‘‘’’وقت ہو تو کل آ جائیے…حشمت ولا، ریلوے اسٹیشن کے پاس۔‘‘
’’ جی بہتر…‘‘ثانیہ بے حد خوش تھی۔ آج اس کی برسوں کی خوا ہش کی تکمیل ہو نے وا لی تھی۔ حشمت ضیاء اردو افسا نے کا ایک بڑا نام تھا۔حشمت ضیاء کی آواز سن کر ثا نیہ خو شی سے بے قابو ہوئی جا رہی تھی۔ اس نے حشمت ضیاء سے ملنے کی پو ری تیاری کی تھی۔ اپنا سب سے اچھا سوٹ زیب کر کے خود کو سنوارا تھا ۔اس نے ثمرین کو بھی اپنے ساتھ چلنے کو را ضی کرلیا تھا۔
’’ ثمرین تم بھی چلو نا…تم با ہر میرا انتظار کرنا، میں صرف 10؍ منٹ میں آجائوں گی۔‘‘ثمرین ثانیہ کا ساتھ نبھا تی رہی۔دو نوں ریلوے روڈ پر واقع حشمت ولا کے سا منے پہنچ گئی تھیں۔سڑک پر بہت ٹریفک تھا۔ سا منے ایک ٹرک کھڑا تھا۔ ثا نیہ نے ثمرین کو با ہر ٹرک کے پاس انتظار کر نے کو کہا اور خود حشمت ولا پہنچ گئی۔بیل بجا کر انتظار کر نے لگی۔ دروازہ کھلا۔’’آپ…‘‘ حشمت ضیاء خود دروا زے پر تھے۔ ’’جی…میں ثانیہ ۔‘‘ثا نیہ مبہوت سی انہیں دیکھ رہی تھی۔ حشمت ضیاء لمبے قد کے خوبرو جوان لگ رہے تھے۔ با لوں کی سفیدی اور چہرے پر ہلکی ہلکی جھریاں عمر کا اعلان کررہی تھیں۔ رنگ کالا ضرور تھا مگر برا نہیں لگ رہا تھا۔
’’اندر آئیے!‘‘’’ جی سر! ‘‘ ثا نیہ، حشمت ضیاء کے پیچھے پیچھے ڈرائنگ روم میں پہنچ گئی تھی۔ بڑا شاندار گھر تھا۔ ثا نیہ تو گھر کی اشیاء کو دیکھ کر حیران تھی۔گویا کسی محل میں آ گئی ہو۔
’’آپ تشریف رکھیں‘‘حشمت ضیاء اسے صو فے پر بٹھا کر اندر چلے گئے تھے۔ ثانیہ بہت خوش تھی۔ اس کے ذہن میں حشمت ضیاء کے افسا نے اور ناول یکے بعد دیگرے آ رہے تھے۔حشمت ضیاء کے کردار ہمیشہ ظلم و نا انصا فی کے خلاف جدو جہد کرتے ہیں۔
’’لیجئے چا ئے ،لیجئے…‘‘ حشمت ضیاء کی آواز پر وہ گھبرا کر سوچتے سوچتے، ماضی سے حال میں آ گئی تھی۔’’ آپ کیوں تکلیف کررہے ہیں؟ نو کر وغیرہ…؟‘‘
’’نہیں ثا نیہ صا حبہ آج میں گھر پر اکیلا ہوں…‘‘’’ اور سنا ئیں…‘‘ حشمت ضیاء چائے کا کپ لے کر صو فے پر اس کے قریب بیٹھ گئے تھے۔
’’جی…‘‘ ثانیہ دور ہو نا چاہ رہی تھی، وہ اٹھی ہی تھی کہ حشمت ضیاء نے اسے وہیں بٹھا دیا۔’’ آپ بھی کمال کرتی ہیں…چلئے بتائیں آپ کو میری کون سی تخلیق زیا دہ پسند ہے۔‘‘ ثانیہ حشمت ضیاء کے بے تکلف رویے پر حیرت زدہ تھی۔’’ مجھے آپ کی زیا دہ تر کہا نیاں اور ناول پسند ہیں۔ در اصل آپ کے کرداروں میں ظلم و تشدد کے خلاف آواز اٹھانے کا جو جذبہ ہے، اس نے مجھے بے حد متا ثر کیا ہے۔‘‘’’آپRelax ہو کر بیٹھ جائیں۔اسے اپنا ہی گھر سمجھیں،اب آپ میری فین ہیں،کوئی غیر نہیں…‘‘ یہ کہتے ہوئے حشمت ضیاء نے صوفے کی پشت پر ہاتھ رکھ کر پائوں پھیلا دیے تھے۔ ثا نیہ چونک پڑی تھی۔ خوف کی لہر اس کے بدن میں لہرا ئی تھی،مگر اس نے اپنے ڈر کو ظا ہر نہیں ہونے دیا۔اسے اس کی چھٹی حس نے خطرے کا احساس کرا دیا تھا۔ وہ گھبرا رہی تھی۔ پو رے گھر میں وہ دو نوں ہی تھے۔اگر ایسے میں حشمت ضیا… وہ اس سے آگے نہیں سوچ پائی۔نہیں،نہیں…حشمت ضیاء ایسے نہیں ہو سکتے،وہ تو بڑے فن کار ہیں…ابھی وہ خیالات کے آنگن میں ڈری،سہمی ٹہل ہی رہی تھی کہ ایک ہاتھ اس کی پشت سے چپک گیا۔ اس کے بدن کا خون جم گیا تھا گویا اس کی کمر پرکوئی بڑی سی چھپکلی چپک گئی ہو۔ ذہن میں آویزاں فرشتہ نما قد آدم، شیشے جیسے جسم میں شگاف پڑ گیا تھا۔ تحفظ کا احساس، رگ و پے میں سرا یت کر گیا۔ اس سے تو ثمرین کو بھی ساتھ لے آ تی تو بہتر ہو تا۔ اس کا دل بری طرح دھڑک رہا تھا۔اس سے قبل کے لمحے کے کسی بھی حصے میں پشت چپکا سانپ اس کے جسم سے لپٹ جاتا اور اپنی گرفت مضبوط کرتا، وہ بجلی کی سی سرعت سے صوفے سے اٹھ کھڑی ہوئی، پو رے جسم کی طاقت سمیٹ کر دوڑ پڑی۔ کالا ناگ بھی لہراتا ہوا اس کے پیچھے ہولیا۔اس نے صدر دروا زے کو پار کیا۔ با ہر آ گئی۔ سڑک کی دوسری جانب ٹرک کے پاس ثمرین کھڑی نظر آ ئی۔
’’ثمرین…ثمرین…‘‘ وہ بد حوا سی میں چلا رہی تھی۔
ثمرین نے ثا نیہ کی آواز پر گھبرا کر حشمت ولا کی جانب دیکھا۔ایک کالا ناگ ثانیہ کا تعاقب کررہا تھا۔ وہ دوڑ کر سڑک پار کرنا چاہتی تھی۔ دو سری جانب سے ثانیہ دوڑ رہی تھی۔ اسی لمحے اچا نک ایک برق رفتار کار اپنا توا زن کھو بیٹھی اور دوسری جانب کھڑے ٹرک سے جا ٹکرا ئی۔ بہت زور دار دھماکہ ہوا۔ پھر یکے بعد دیگرے متعدد دھماکوں سے پو را علاقہ دہل اٹھا۔ ٹرک اور کار کے پر خچے اُڑ گئے تھے۔ آگ اور دھوئیں کے با دلوں نے پو رے علا قے کو گھیر لیا تھا۔ آس پاس کی دکانیں، گاڑیاں وغیرہ نذر آتش ہو گئی تھیں۔چیخیں اور کرا ہیں فضا میں بلند ہو رہی تھیں۔ آناً فا ناً سائرن کے شور نے علا قے کو اپنی گرفت میں لے لیا تھا۔ پولس نے پو رے علا قے کو سیل کردیا تھا۔ لاشوں اور زخمیوں کو اٹھا یا جا رہا تھا۔ نیم مردہ ایک لڑ کی کو بھی پو لیس نے اپنی تحویل میں لیا تھا۔
ٹی وی، ریڈیو اور اخبارات میں خبروں کا بازار گرم ہوگیا تھا۔
g مراد آ باد میں خود کش بم دھما کے سے ریلوے روڈ لرز اٹھا۔
g دہشت گردوں کا ارادہ ریلوے اسٹیشن کو اڑانے کا تھا۔
g مشتبہ دہشت گرد تنظیم آئی ایم کی خا تون رکن نیم مردہ حالت میںگرفتار
کئی ماہ بعد………معروف افسا نہ نگار حشمت ضیاء کی کہانی’’دہشت گرد لڑکی‘‘ شائع ہو ئی، جسے خاصی مقبولیت مل رہی تھی۔ اُدھر جیل میں بند ثانیہ نے آنکھیں کھول دی تھیں۔ صبح کا اُ جالا اندھیرے کو نگلنے کی تیاری کررہا تھا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here