افغان میں پوست کی کاشت سے پوری دنیا کو خطرہ

Share Article

ایک ایسا جنگ زدہ علاقہ ہے جہاں دہشت گردوں کو پنپنے کا خوب موقع ملتا ہے۔ دہشت گرد گروپ یہاں پوست کی کاشت میں حصہ داری کرکے دنیا بھر میں منشیات کو فروغ دیتے ہیں۔طالبان کے بعد داعش نے اس علاقے میں اپنا پیر جمانے کی کوشش کی اور اس نے پوست کی کاشت میں سرمایا کاری کی۔ فی الوقت دہشت گرد گروپوں کی جگہ وہاں کے مقامی کاشتکار اس فصل کو خوب اگاتے ہیں ،کیونکہ انہیں پوست کی کاشت میں دیگر فصلوں کی بہ نسبت تین گنا زیادہ منافع ملتا ہے۔

p-8bطالبان کے زیر کنٹرول افغانستان کے حصوں میں افیون کی پیداوار ہمیشہ سے ایک بہت سنگین مسئلہ رہا ہے۔اقوام متحدہ نے باربار اس تشویش کا اظہار کیا ہے کہ افغانستان میں بڑے پیمانے پر کاشت کی جانے والی پوست کی فصل سے منشیات کو فروغ ملتا ہے۔ لہٰذا اس پر روک لگائی جائے۔ 2011 کے بعد پوست کی فصل لگانے پر روک لگانے میں سختی کی گئی۔ اس کا کچھ نتیجہ سامنے آیا اور 2012 میں پوست کی کاشت میں کمی آئی۔لیکن 2013کے بعد پھر اس میں تیزی آئی اور ایسا لگ رہا ہے کہ اب اس میں مزید تیزی آتی جارہی ہے کیونکہ پوست کی کاشت حکومت کے زیر کنٹرول حصوں میں بھی کھلے عام ہو رہی ہے۔
اگرچہ ملک میں پوست کی کاشت روکنے کے لیے اربوں ڈالر خرچ کیے جا چکے ہیں لیکن ملک میں کچھ مقامات پر کسانوں کو مقامی انتظامیہ اور پولیس کی حمایت حاصل ہے اور وہ کھلے عام پوست کی کاشت کر رہے ہیں،جس کو دیکھنے کے بعد ایسا محسوس ہونے لگا ہے کہ حکومت نے افیون کے معاملہ میں سختی ختم کر دی ہے۔افغانستان میں گذشتہ ایک عشرے کے دوران پوست کی کاشت میں خاصا اضافہ ہوا ہے۔فرانس پریس کی رپورٹ کے مطابق حکومت افغانستان کے خلاف طالبان کی جنگ، اس ملک میں پوست کی کاشت میں اضافے اور منشیات کا استعمال کرنے والے افراد کی تعداد بڑھنے کا باعث بنی ہے۔ یہ ایسی حالت میں ہے کہ منشیات کے خلاف مہم کے بہانے افغانستان پر امریکہ کے حملے کے بعد سے اب تک نہ صرف یہ کہ اس ملک میں منشیات کی پیداوار میں کوئی کمی نہیں آئی بلکہ اس پیداوار میں خاصا اضافہ بھی ہوا ہے۔
امریکہ دعوی کرتا ہے کہ اس نے افغانستان میں منشیات کے خلاف مہم میں اربوں ڈالر خرچ کئے ہیں۔ جبکہ اب تک اس سلسلے میں برعکس نتیجہ نکلا ہے۔ بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ افغان حکام نے اعلان کیا ہے کہ افغانستان میں 2013 میں5500 منشیات کی پیداوار ہوئی جو دو ہزار چودہ میں بڑھ کر 6400 ٹن تک جا پہنچی اور 2014 کے بعد اس میں مزید اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ واضح رہے کہ افغانستان، منشیات کی پیداوار کے لحاظ سے دنیا کا ایک بڑا ملک ہے جہاں خاص طور سے ہلمند اور قندھار صوبوں میں زیادہ مقدار میں منشیات پیدا کی جاتی ہے۔

تمام وسطی ایشیائی گروہ مثلاً اسلامی موومنٹ آف ازبکستان اور انصاراللہ، اور اس کے ساتھ ساتھ طالبان اور دولت اسلامیہ کے کچھ حصے، منشیات کی فروخت میں ملوث رہے ہیں۔لیکن عسکریوں کا دبدبہ ختم ہونے کے بعد اب یہ کاروبار وہاں کے کاشتکاروں کے ہاتھ میں آگیا ہے۔ اگرچہ ملک میں پوست کی کاشت روکنے کے لیے اربوں ڈالر خرچ کیے جا چکے ہیں لیکن ملک میں کچھ مقامات پر کسانوں کو مقامی انتظامیہ کی حمایت حاصل ہے اور وہ کھلے عام پوست کی کاشت کر رہے ہیں

افغانستان دنیا بھر میں افیون کی 90فیصد پیدا وار مہیا کرتا ہے ۔حالانکہ 2012 میں منشیات کا کارو بار سست پڑا تھا ۔خاص طور پر پوست کی کاشت پر روک لگنے کے بعد اس میں بھاری کمی آئی تھی۔لیکن گزشتہ کچھ مہینوں میں افغانی کاشتکاروں کا رجحان ایک مرتبہ پھر اس طرف بڑھنے لگا ہے۔پوست کی کاشت میں اضافہ سے منشیات کا خطرہ صرف افغانستان تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ تاجکستان اور وسطی ایشیا کے راستے روس اور یورپ میں منشیات کی منتقلی میں اضافہ ہوسکتا ہے۔تاجکستان کی ڈرگ کنٹرول ایجنسی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل رستم نذروف کایہ بیان آیا تھا کہ : افغانستان دنیا بھر میں افیون کی 90 فیصد پیداوار مہیا کرتا ہے اور اگر افغان حکومت افغان تاجک سرحد پر، جو کہ صرف دریائے پنج پر مشتمل ہے، کنٹرول کھو دیتی ہے تو اس میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔منشیات اور جرائم سے متعلق اقوام متحدہ کے دفتر یو این او ڈی سی کا کہنا ہے کہ 2014 میں افغانستان میں افیون کی کاشت کے رقبے میں سات فیصد اضافہ ہوا ہے، اگرچہ یہ پیداوار افغانستان کے 34 میں سے صرف 9 صوبوں تک محدود ہے۔
جب تک افغانستان جنگی حالت میں رہا، اس وقت تک یہ کاروبار عسکری پسندوں کے قبضے میں تھا۔ عسکریت پسند گروہوں کو مالی ضروریات منشیات کی فروخت سے پوری ہوتی ہیں۔ وسطی ایشیا کے عسکریت پسند گروہ منشیات کے بڑے بیوپاری ہیں اور وہ اپنا دائرہ تیزی سے روس، یورپ اور چین میں بھی بڑھا رہے تھے ۔ ’تمام وسطی ایشیائی گروہ مثلاً اسلامی موومنٹ آف ازبکستان اور انصاراللہ، اور اس کے ساتھ ساتھ طالبان اور دولت اسلامیہ کے کچھ حصے، منشیات کی فروخت میں ملوث رہے ہیں۔لیکن عسکریوں کا دبدبہ ختم ہونے کے بعد اب یہ کاروبار وہاں کے کاشتکاروں کے ہاتھ میں آگیا ہے۔ اگرچہ ملک میں پوست کی کاشت روکنے کے لیے اربوں ڈالر خرچ کیے جا چکے ہیں لیکن ملک میں کچھ مقامات پر کسانوں کو مقامی انتظامیہ کی حمایت حاصل ہے اور وہ کھلے عام پوست کی کاشت کر رہے ہیں۔مزارِ شریف کا شمار افغانستان کے محفوظ ترین کے شہروں میں ہوتا ہے۔ اس شہر میں حکومت کا مکمل کنٹرول ہے، لیکن مزارِ شریف سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر آپ کو پوست کی فصل کاشت ہوتی نظر آئے گی۔شہر سے کچھ ہی فاصلے پر واقع کھیتوں میں کھلے عام پوست کی فصل ہوتی ہے۔ان فصلوں کو دیکھ کر یقین کرنا مشکل ہوتا ہے کہ اس کی وجہ سے دنیا مصائب کا سامنا کررہی ہے اور یہی وہ کھیتی ہے جس کو روکنے کے لیے امریکہ اور اتحادی افواج نے اربوں ڈالر خرچ کیے تھے۔
وہاں کے کاشتکاروں سے یہ پوچھنے پر کہ وہ ایسی کھیتی کیوں کرتے ہیں جس سے منشیات تیار کی جاتی ہیں اور جس کو پوری دنیا میں ممنوع قرار دیا گیا ہے،تو کسان جواب دیتے ہیں کہفغانستان جنگ زدہ ملک ہے، یہاں بہت زیادہ بے روزگاری ہے،اگر اگر یہاں پوست نہیں ہوگی تو نہ روزگار ہوگا اور نہ لوگوں کو کھانے کے لیے کچھ ملے گا۔ ’میرے پاس روزگار کا اور کوئی ذریعہ نہیں ہے اور یہاں کام کرنے کے اچھے پیسے ملتے ہیں۔ البتہ کسان دیگر فصلیں جیسے گندم ،کپاس اور تربوز بھی کاشت کرتا ہے لیکن پوست کاشت کرنا ان کی مجبوری ہے۔ کیونکہ دیگر کھتی کرنے کے لئے انہیں پیسہ چاہئے جو کہ صرف پوست کی کاشت سے ہی مل سکتاہے۔ پوست کی کاشت میں تین گنا نفع حاصل ہوتا ہے جبکہ گندم اور دیگر کھیتی سے صرف پیٹ پالا جاسکتا ہے بلکہ کئی دفعہ یہ کھیتیاں نقصان پہنچا دیتی ہیں ۔اس کے علاوہ گندم وغیرہ کی کھیتی کے لئے رقم چاہئے جو کہ پوست کی فصل سے ہی حاصل کی جاسکتی ہے۔
افغانستان میں پوست کی کاشت میں اضافہ ہونا دنیا کے لئے اچھی خبر نہیں ہے۔کیونکہ اس سے پوری دنیا میں منشیات کے استعمال میں اضافہ ہو گا۔روسی وزیرخارجہ نے اپنے ایک بیان میں خبردار کیا ہے کہ ’افغانستان میں منشیات کی پیداوار خطرناک رفتار سے بڑھ رہی ہے اور اس سے حاصل ہونے والی آمدنی نہ صرف ملک میں دہشت گرد گروہ حاصل کر رہے ہیں بلکہ اس کی سرحدوں کے باہر بھی دہشت گردوں کی سرگرمیوں میں مدد ملتی ہے۔

 

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *