افغانستان میں ایک طرف جہاں طالبان اور امریکہ کے درمیان امن کے لئے مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے وہیں دوسری طرف افغانستان میں آئے دن بم دھماکوں اور انسانی جانوں کے اتلاف کا بھی سلسلہ جاری ہے ۔ ایک تازہ حملے میں آج 95افراد زخمی ہو گئے ۔یہ دھماکہ پولیس اسٹیشن کے قریب ہوا ۔میڈیا رپورٹوں کے مطابق دارالحکومت میں ہونے والے بم دھماکے کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت 95 افراد زخمی ہوگئے جس کی ذمہ داری طالبان نے قبول کرلی۔ حملہ آور ایک گاڑی میں سوار تھا جس نے پولیس اسٹیشن کے قریب خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔
افغان وزارت صحت کے ترجمان وحید اللہ مایئر نے بتایا کہ دھماکے میں اب تک 95 افراد زخمی ہوئے ہیں لیکن انہوں نے واقعے میں کسی کی ہلاکت کی تصدیق نہیں کی۔وزارت داخلہ کے ترجمان نصرت رحیمی کا کہنا ہے کہ دھماکا مغربی کابل کے ایک علاقے میں قائم پولیس اسٹیشن کے باہر پیش آیا۔ھماکے کے بعد سیکیورٹی حکام نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا جبکہ زخمیوں کو طبی امداد کے لیے قریبی ہسپتال منتقل کردیا گیا۔علاقے کے ایک دکاندار نے اے ایف پی کو بتایا کہ دھماکا بہت زور دار تھا، میری دکان کے شیشے ٹوٹ کر بکھر گئے۔ اس کا یہ بھی کہنا تھا کہ دھماکے کی ہیبت کی وجہ سے وہ اپنے حواس کھو بیٹھے تھے اور اب تک یہ نہیں جان سکے کہ کیا ہوا تھا لیکن دھماکے کی جگہ پر موجود 20 سے زائد دکانوں کی کھڑکیاں ٹوٹ گئی تھیں۔کابل میں ہونے والے اس حملے کی ذمہ داری طالبان نے قبول کرلی ہے۔خیال رہے یہ حملہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب امریکا اور طالبان، افغانستان میں قیام امن کے لیے بات چیت کر رہے ہیں۔حال ہی میں اقوام متحدہ کی جانب سے افغانستان کی صورتحال پر ایک رپورٹ جاری کی گئی تھی جس میں بتایا گیا تھا کہ صرف رواں برس جولائی میں افغانستان میں 15 سو سے زائد افراد ہلاک و زخمی ہوچکے ہیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here