دورہ پاکستان کی دعوت ملی تو قبول کریں گے، افغان طالبان

Share Article
Afghan Taliban said Thursday if they were invited by Pakistan they would travel to Islamabad and meet Prime Minister Imran Khan

افغانستان میں عمل کے قیام کے لئے امریکہ اور افغان طالبان کے درمیان جاری مذاکرات خوشگوار نتائج کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں۔اسی سلسلے میں افغان طالبان نے مزید ایک قدم آگے بڑھاتے ہوئے کہا ہے کہ اگر انہیں دورہ پاکستان کی دعوت ملی تو وہ اسے قبول کریں گے اور وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کریں گے۔

Image result for Afghan Taliban will accept if invited to visit Pakistan

بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق قطر کے دارالحکومت اور افغان امن عمل میں توجہ کا مرکز بننے والے شہر دوحہ میں طالبان کے سیاسی دفتر کے ترجمان سہیل شاہین نے کہا کہ رسمی طور پر پاکستان کی طرف سے دعوت موصول ہونے پر وہاں جائیں گے۔

 

ترجمان نے کہا کہ ہم خطے کے ہمسایہ ممالک کا دورہ کرتے ہیں اور پاکستان بھی ہمارا ہمسایہ اور ایک اسلامی ملک ہے۔رپورٹ کے مطابق دوران گفتگو طالبان ترجمان سے پوچھے گئے سوال کہ ’طالبان پر یہ الزامات ہیں کہ وہ پاکستان کی پراکسی ہیں اور کیا اس دورے سے ان پر مزید الزامات نہیں لگیں گے؟ تو اس پر سہیل شاہین نے جواب دیا کہ جن لوگوں کے پاس طالبان کے خلاف جھگڑے کے لیے کوئی دوسری دلیل نہیں وہ ایسے الزامات لگائیں کیونکہ ماضی میں بھی ایسا ہوا ہے اور مستقبل میں بھی یہ ہوگا۔

Image result for Afghan Taliban will accept if invited to visit Pakistan

اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہمارے اسلامی اور قومی مفاد ہیں، جس میں کسی کو مداخلت نہیں کرنے دیتے تاہم جہاں تک دیگر ممالک سے رابطے کی بات ہے تو ہم ایسا چاہتے بھی ہیں اور ہمارے رابطے بھی ہیں۔افغان امن عمل سے متعلق طالبان کے سیاسی دفتر کے ترجمان کا کہنا تھا کہ بیرونی قوتوں سے مذاکرات میں کامیابی کے بعد افغان حکومت سمیت دیگر افغان فریقین سے بھی ملاقات کی جائے گی۔سہیل شاہین کا کہنا تھا کہ افغانستان کے مسئلے کو ہم نے 2 مراحل اندرونی اور بیرونی میں تقسیم کیا ہے، پہلے مرحلے میں جاری مذاکرات اب اختتام کو پہنچنے والے ہیں، اگر یہ مذاکرات کامیاب ہوگئے تو پھر دوسرے مرحلے کی طرف بڑھیں گے، جس میں تمام افغان فریقین سے بات ہوگی اور افغان حکومت اس عمل میں ایک فریق کے طور پر شامل ہوسکتی ہے۔

Image result for Afghan Taliban will accept if invited to visit Pakistan

قیدیوں کے تبادلے سے متعلق سوال پر ترجمان کا کہنا تھا کہ ان کی کوشش ہوتی ہے کہ قیدیوں کاتبادلہ ہو اور ان کے گرفتار ساتھی رہا ہوں، ماضی میں بھی یہ عمل ہوا ہے اور اب بھی ہم کوشش کرتے ہیں، تاہم اگر اس معاملے میں کوئی اپنا کردار ادا کرنا چاہتا ہے تو یہ اچھا ہے۔یاد رہے کہ افغانستان میں جاری 17 سال سے زائد عرصے سے جاری طویل جنگ کے خاتمے کے لیے امریکا کوششوں میں مصروف ہے اور اس سلسلے میں اس کے طالبان سے کئی مرتبہ مذاکرات ہوچکے ہیں۔اس مذاکرات میں افغان حکومت کو شامل نہیں کیا گیا کیونکہ طالبان انہیں کٹھ پتلی حکومت کہتے ہیں اور وہ براہ راست امریکا سے مذاکرات کا مطالبہ کرتے ا?ئے تھے۔تاہم اس تمام صورتحال میں پاکستان کا کردار بہت اہم رہا ہے اور وہ افغانستان میں پائیدار اور مستقل امن اور افغان تنازع کے حل کے لیے اپنی کوششیں کر رہا ہے۔

Image result for Afghan Taliban will accept if invited to visit Pakistan

اسی ضمن میں حال ہی میں امریکا کے دورے کے دوران وزیر اعظم عمران خان نے واشنگٹن میں کہا تھا کہ وہ وطن واپس پہنچ کر افغان طالبان سے ملاقات کر کے انہیں امن مذاکرات کے لیے قائل کرنے کی کوشش کریں گے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *