اڈوانی کی چال کا راز

Share Article

سنتوش بھارتیہ

لال کرشن اڈوانی کی نئی سیاسی چالوں نے بی جے پی اور آر ایس ایس کو حیران و پریشان کر دیا ہے۔ جس شخص کو سب نے کمزور اور بوڑھا سمجھ لیا تھا، وہی آج چانکیہ کے کردار میں اترتا دکھائی دے رہا ہے۔ اس کے دور رَس اثرات کیا ہوں گے، یہی بتا رہی ہے اِس بار کی کور اسٹوری …

Mast

گوا میں نریندر مودی کی جے جے کار کیا ہوئی کہ ہندوستان کی سیاست میں نئی اتھل پتھل شروع ہو گئی۔ نتیش کمار، ممتا بنرجی اور نوین پٹنائک کا اتحاد سامنے آگیا۔ ان کے ساتھ آنے کی شروعات بھی لال کرشن اڈوانی اور نتیش کمار کی بات چیت کے بعد ہوئی۔ ہندوستانی سیاست کے سب سے چالاک کھلاڑیوں میں سے ایک، لال کرشن اڈوانی نے آخر وہ کون سی صلاح نتیش کمار کو دی کہ جس کے بعد تیزی سے تیسرے مورچہ کی تشکیل کی بات شروع ہو گئی۔ ان کے بارے میں جانکاری تھوڑی دیر کے بعد آپ کو دیتے ہیں، پہلے آپ کو یہ بتاتے ہیں کہ گوا میں کیسے سنگھ، یعنی آر ایس ایس نے اپنی مرضی بھارتیہ جنتا پارٹی پر تھوپی۔
کہانی اٹل بہاری واجپئی کے وقت سے شروع ہوتی ہے۔ اٹل بہاری واجپئی کے وزیر اعظم بننے کے بعد سے سنگھ کی پکڑ بی جے پی پر دھیرے دھیرے کم یا کمزور ہوتی گئی۔ اس پکڑ کو کمزور کرنے کے لیے برجیش مشرا اور رنجن بھٹا چاریہ اٹل جی کی طرف سے کام کر رہے تھے اور دوسری طرف سریش سونی بھی یہی کام کر رہے تھے۔ سنگھ کے سویم سیوک ’کٹّر ہندو راشٹر‘ کا خواب دیکھ رہے تھے، لیکن واجپئی اور اڈوانی یہ سمجھ گئے تھے کہ کٹّر ہندو واد کے اصول پر چل کر سرکار نہیں بنائی جا سکتی، کیوں کہ سرکار صرف ہندوؤں کے بل بوتے پرنہیں بن سکتی تھی۔ ملک میں تقریباً 20 فیصد مسلمان ہیں، انہیں نہ تو ختم کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی سیاسی طور سے بے اثر بنایا جا سکتا ہے۔ اس لیے انہوں نے بقائے باہمی کے اصول پر اقتدار چلانے کی پالیسی اختیار کی اور ایک توازن قائم کیا۔
اس کے تحت واجپئی نے لبرل چہرہ اپنایا اور لال کرشن اڈوانی نے ریڈیکل، یعنی شدت پسند۔ اڈوانی کی خواہش کے مطابق مدن داس دیوی نے وشو ہندو پریشد کی لگام کسی اور رام مندر تحریک کو بریک لگایا۔ اس سے وشو ہندو پریشد کی ساکھ ختم ہو گئی۔ سنگھ کے جذبات کو بھی سنگھ کے لوگوں نے ٹھیس پہنچائی، کیوں کہ اس وقت سنگھ میں یہ بات شروع ہو گئی تھی کہ اس کی شاکھاؤں میں مسلمانوں کو بھی لایا جائے۔ سنگھ کے سویم سیوکوں ، جنہوں نے اپنی زندگی کے سنہرے سال سخت گیر ہندو وادی آئڈیولوجی میں کاٹے تھے، کو یہ لگا کہ جب ان کی پارٹی اقتدار میں آ گئی اور ان کے لوگ وزیر اعظم اور وزیر داخلہ بن گئے، تو اب جب ہندو راشٹر نہیں بنا، تو پھر یہ آخر بنے گا کب؟ ایسے میں سنگھ کے لوگوں کا حوصلہ آسمان سے زمین کی طرف گرنے لگا۔
پھر واجپئی جی کی شکست ہوئی۔ بی جے پی اقتدار سے باہر نکل گئی اور اپوزیشن کے لیڈر کے عہدہ کے لیے جدوجہد شروع ہوئی۔ اڈوانی جی اقتدار کی اہمیت اور اس کی چالوں کو بہت اچھی طرح سمجھتے ہیں۔ انہیں سمجھ میں آیا کہ لہر ایک بار پھر آئے گی، ان کی کشتی کنارے پر لگے گی اور وہ وزیر اعظم بن جائیں گے۔ اس وقت ایک خاص ماحول یہ بن گیا تھا کہ اڈوانی کو وزیر اعظم بنانے کے لیے اٹل بہاری واجپئی منظر نامہ سے غائب ہو چکے تھے، اس لیے اڈوانی کو لگا کہ انہیں فوری طور پر اپنی شبیہ درست کرنی چاہیے اور ریڈیکل سے سیکولر بن جانا چاہیے۔ اڈوانی پاکستان گئے اور وہاں انہوں نے جناح کی تعریف کی۔ ان کے خاندانی روابط مسلمانوں سے تھے ہی، کیوں کہ ان کی بیٹی کی شادی مسلم نوجوان سے ہوئی تھی۔ اس پورے عمل میں کافی حد تک ان کی شبیہ سیکولر ہو گئی اور تبھی سنگھ کے کہنے پر سنجے جوشی نے اڈوانی کا استعفیٰ مانگ لیا۔
سنگھ کی ایک عادت رہی ہے کہ کبھی مصیبت کا سامنا مت کرو، پیٹھ دکھا کر الگ ہٹ جاؤ اور اس کی مثال سنجے جوشی کی ہی ہے کہ جب نریندر مودی نے ان کے خلاف مہم چلائی اور ممبئی اجلاس میں شامل ہونے کے لیے سنجے جوشی کی برطرفی کی شرط رکھی، تو سنگھ نے سنجے جوشی کو اکیلا چھوڑ دیا۔ سنجے جوشی سے مدن داس دیوی اور سریش سونی نے کہا تھا کہ وہ اڈوانی سے استعفیٰ لیں۔ اُن دنوں نریندر مودی اڈوانی کے سب سے خاص سپہ سالار تھے۔ سنجے جوشی سے بدلہ لینے کے کھیل میں سی ڈی کانڈ ہوا، جس میں سنجے جوشی کو پھنسایا گیا۔ یہیں سے بی جے پی میں ایک نئی روایت کی شروعات ہوئی کہ بغیر جانچ یا وجہ بتاؤ نوٹس کے سینئر عہدیداروں پر کارروائی شروع کی گئی اور یہ کہاوت صحیح لگنے لگی کہ اپنے ہی اپنوں کو کھاتے ہیں یا پھر باڑ ہی کھیت کو کھا جاتی ہے۔ اُن دنوں اڈوانی کے سپہ سالاروں میں نریندر مودی کے علاوہ ارون جیٹلی، سشما سوراج اور وینکیہ نائڈوبھی تھے۔ ان کے سہارے اڈوانی جی نے وزارتِ عظمیٰ کے عہدہ پر اپنا دعویٰ ٹھونک دیا، لیکن سال در سال بی جے پی کی سیٹیں کم ہوتی چلی گئی، حمایت گھٹتی گئی اور اڈوانی کا خواب ٹوٹتا گیا۔ اڈوانی کا ساتھ ان کے ساتھی چھوڑ نے لگے اور ایک وقت ایسا بھی آیا کہ مدن داس دیوی اور موہن بھاگوت نے بھی اڈوانی کا ساتھ چھوڑ دیا۔ موہن بھاگوت نے کھلا اعلان کردیا کہ اڈوانی کے کسی ساتھی کو کمان نہیں سونپیں گے، جس کے بعد نتن گڈکری بی جے پی کے صدر بنے۔
نتن گڈکری کے آنے کے بعد سنگھ کی تمام کوششوں کے باوجود دہلی میں ان کے خلاف سازشیں چلتی رہیں۔ سنگھ نتن گڈکری کو دوبارہ صدر بنانے کے لیے پابند عہد تھا اور کوئی خواب میں بھی نہیں سوچ پا رہا تھا کہ نتن گڈکری دوبارہ صدر نہیں بنیں گے،مگر ایک شام انکم ٹیکس کے کچھ لوگ ان کے گھر پر پہنچے اور انہوں نے کمپرومائز کر لیا۔ اب انہیں یہ طے کرنا تھا کہ وہ سیاست کریں گے یا اپنا بزنس ایمپائر بچائیں گے۔ انہوں نے بزنس ایمپائر بچانا زیادہ ٹھیک سمجھا، کیوں کہ انہیں لگا کہ سیاست کبھی بھی کی جا سکتی ہے۔ ایسے میں راجناتھ سنگھ کی لاٹری لگ گئی۔ اس پورے واقعہ میں سنگھ خود کو کمزور اور بے سہارا محسوس کرنے لگا۔ سنگھ کی بات بی جے پی کے عہدیدار نہیں سنتے تھے۔ اتنا ہی نہیں، سنگھ کی آئڈیولوجی کو بھی بی جے پی نے درکنار کر دیا۔ دراصل، دو بلیوں کی لڑائی میں روٹی بندر کے ہاتھ لگ گئی۔ سنگھ نے نریندر مودی کو اُکسایا، جس سے استاد اور شاگرد میں جھگڑا شروع ہو گیا۔ اڈوانی وزیر اعظم بننا چاہتے تھے، لیکن سنگھ نے یہ خواہش نریندر مودی کے من میں بھی جگا دی۔ سنگھ کا یہ ماننا تھا کہ اِن دونوں کی لڑائی میں وہ جس کا ساتھ دے دے گا، وہی آگے نکل جائے گا۔ سنگھ نے اپنا سارا وزن نریندر مودی کے حق میں لگا دیا۔ جو اشوک سنگھل احمد آباد میں مندر گرانے کے نام پر نریندر مودی کو پانی پی پی کر کوستے تھے، وہی اشوک سنگھل نریندر مودی کے حق میں سادھو سنتوں کا اجلاس کرنے لگے، تاکہ وہ وزیر اعظم بن سکیں۔ جو سنگھ نریندر مودی کو ہدایتیں دیتا تھا کہ وہ سنجے جوشی کو پارٹی سے نکالنے جیسا دباؤ نہ بنائیں، وہی سنگھ نریندر مودی کے ساتھ ہو گیا۔ ارون جیٹلی، مرلی منوہر جوشی اور وینکیہ نائڈو پہلے اڈوانی کے ساتھ تھے، اب وہ نریندر مودی کے ساتھ ہو گئے۔ اس لیے کہہ سکتے ہیں کہ پہلا راؤنڈ اڈوانی کو مات دے کر سنگھ نے جیتا، لیکن اِس بازی میں ابھی بھی شہ اور مات کی گنجائش ہے، کیوں کہ مودی کیمپین کمیٹی کے صدر بنے ہیں، وزیر اعظم کے عہدہ کے امیدوار نہیں۔
راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کا یہ تجربہ اگر کامیاب ہوتا ہے یا ناکام ہوتا ہے، تو دونوں ہی صورت میں ہندوتوا کا بول بالا رہے گا۔ 20 فیصد مسلمان اور 10 فیصد عام یا لبرل ہندو مودی کو کمیونل مانتے ہیں، جو کہ کانگریس کی حمایت کرتے ہیں، یعنی ملک کا ایک تہائی سے زیادہ حصہ مودی کو شدت پسند ہندو مانتا ہے۔ اگلے الیکشن میں ملک تین حصوں میں تقسیم ہوگا، شدت پسند ہندو، لبرل ہندو اور مسلمان۔ مسلمان اس کے ساتھ جائیں گے جو شدت پسند ہندوؤں کو ہرانے والا دکھائی دے گا۔ کانگریس اِس وقت کی عین دعویدار دکھائی دیتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ملک میں ہندوؤں اور مسلمانوں کا پولرائزیشن بڑھے گا۔ پولرائزیشن کا کھیل اتر پردیش کے انتخابات میں ملک دیکھ چکا ہے اور بی جے پی بھی دیکھ چکی ہے۔ اتر پردیش کے انتخابات میں ورون گاندھی نے ہندوؤں کے حق میں لمبی لمبی باتیں کہیں، مسلمانوں کے ہاتھ تک کاٹ دینے کی دھمکی دی اور انہیں نہایت ہی بھدے الفاظ سے پکارا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی سیٹیں گھٹ گئیں۔ ورون گاندھی کی ریلیوں میں بھیڑ تو جمع ہوئی، لیکن وہ ووٹ میں منتقل نہیں ہو پائی۔ یہی نریندر مودی کے ساتھ بھی ہو سکتا ہے۔ ان کی ریلیوں میں بھیڑ تو دکھائی دے گی، لیکن وہ ووٹ میں کتنی تبدیل ہوگی، اس میں شک ہے۔ مسلم پولرائزیشن جتنا ہوگا، اتنا پولرائزیشن ہندوؤں کا کبھی ہو ہی نہیں سکتا۔
حقیقت تو یہ ہے کہ نریندر مودی کا آج جو بھی قد ہے، وہ اڈوانی اور اٹل بہاری واجپئی جیسا نہیں ہے، بلکہ ان سے بہت کم ہے۔ ملک کے حالات بابری مسجد گرائے جانے جیسے دنوں والے نہیں ہیںاور سنگھ کی اتنی طاقت نہیں ہے۔ سنگھ کا یہ تجربہ ملک میں ہندوتوا کا طوفان تو کھڑا کرے گا، لیکن خود مودی وزیر اعظم بننے میں کتنے کامیاب ہوں گے، اس پر سوالیہ نشان ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ ہندوتوا کا طوفان اگر آتا ہے، تو سنگھ کی خواہش پوری ہو جاتی ہے، کیوں کہ اس کا درد ہے کہ اس کی شاکھاؤں میں تعداد گھٹ رہی ہے۔ بی جے پی سنگھ کو اہمیت نہیں دے رہی ہے۔

اس کے چھوٹے چھوٹے لیڈر بھی سنگھ کی اندیکھی کر رہے ہیں اور بی جے پی کا سنگھ کی آئڈیولوجی سے دور بھاگنا بھی سنگھ کا درد بڑھا رہا ہے۔ پورے ملک میں اگر ہندوتوا کی بات ہوتی ہے، تو سنگھ کو اپنے درد سے تھوڑا آرام ملے گا۔
مودی اگر پورا نمبر (لوک سبھا سیٹوں کا) نہ لاپائے، یا ان کا نمبر وہاں تک پہنچ بھی جائے، جو اٹل جی اور اڈوانی جی کے وقت آیا تھا، تب بھی بی جے پی کی سرکار بنتی دکھائی نہیں دیتی۔ ایسے حالات میں شیو سینا اور اکالی دل کے علاوہ، نریندر مودی کا کوئی دوسرا حلیف نہیں ہوگا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر بی جے پی کو کسی اور پارٹی کو ساتھ لانا ہے، تو اُس صورت میں نریندر مودی وزیر اعظم نہیں بن سکتے۔ تب بی جے پی کے ساتھ سشما سوراج اور ارون جیٹلی، جنہیں سنگھ وزیر اعظم بنانا نہیں چاہے گا، کی جگہ راجناتھ سنگھ کا نام آگے کرنے کے علاوہ کوئی دوسرا چارہ نہیں بچے گا۔ پچھلی بار بھی جب اڈوانی جی کو وزیراعظم کے عہدہ کا امیدوار بنانے کی بات اٹھی تھی، تب بھی راجناتھ سنگھ پارٹی کے صدر تھے اور انہوں نے کہا تھا کہ پارٹی کا صدر میں ہوں، تو میں وزیر اعظم کے عہدہ کا امیدوار کیوں نہیں بن سکتا۔ آج بھی راجناتھ سنگھ صدر ہیں اور اڈوانی پہلے سے کمزور ہیں۔ ایسے میں راجناتھ سنگھ آگے آئیں گے اور نریندر مودی راجناتھ سنگھ کے ذریعے کیے گئے احسان کا بدلہ اس وقت ان کی حمایت کرکے چکائیں گے۔
اگر اتنا نمبر آتاہے کہ نریندر مودی وزیر اعظم نہ بنیں اور کوئی دوسرا وزیر اعظم بنے تو حمایت حاصل ہو جائے، ایسی صورت میں راجناتھ سنگھ وزیر اعظم بن سکتے ہیں۔ سنگھ کے لوگوں کا کہنا ہے کہ آج کی تاریخ میں اڈوانی نے جو اشوک سنگھل کے ساتھ کیا، سنگھ کے ساتھ کیا، سنجے جوشی کے ساتھ کیا اور مدن لال کھورانہ کے ساتھ کیا، وہ سب اڈوانی کو یاد دلانے کی ضرورت ہے۔ اور اس راؤنڈ میں نریندر مودی اگر پٹ گئے، تو سنگھ ان کا بھی بینڈ بجا دے گا۔ ایسے میں بی جے پی کے سارے قد آور نیتا ایک کنارے ہو جائیں گے اور جو بچ جائیں گے، ان کی حیثیت سنگھ کے نیتاؤں سے بہت کم ہوگی۔ سنگھ کی ابھی اس لیے نہیں چلتی، کیوں کہ لال کرشن اڈوانی کا قد موہن بھاگوت سمیت سنگھ کے تمام رہنماؤں سے بڑا ہے اور وہ سب سے زیادہ تجربہ کار ہیں، عمر میں بھی بڑے ہیں۔ اس کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ مودی جیتیں یا ہاریں، مودی وزیر اعظم بنیں یا راجناتھ سنگھ، بی جے پی اقتدار سے جائے یا اقتدار میں آئے، ہر حال میں سنگھ کا اقبال قائم ہوگا۔ یہی سنگھ چاہتا تھا۔ سنگھ کو کبھی اقتدار کی لالچ نہیں رہی۔ اس کی حالت بہادر شاہ ظفر جیسی ہے کہ جیسا بھی ہے، اقتدار چلتا رہے۔ سنگھ پھر 20 سال بعد اقتدار میں آنے کا منصوبہ بنائے گا۔
جب مودی کو کیمپین کمیٹی کا چیئرمین بنایا جاسکتا تھا، تو وزیر اعظم کے عہدہ کا امیدوار بھی بنایا جاسکتا تھا۔ اڈوانی نے مودی کی حالت ہِلسا مچھلی جیسی کر دی ہے، جسے بنگالی برتن میں ڈال کر دانہ کھلاتے ہیں اور پھر اسے کاٹ کر کھا جاتے ہیں۔ جیسے ہِلسا مچھلی سمندر سے نکل کر تڑپتی ہے اور دو تین گھنٹے تک نہیں مرتی، ویسی ہی حالت بی جے پی میں کچھ لوگوں کی ہو گئی ہے۔ کیمپین کمیٹی کا چیئرمین بنتے ہی نریندر مودی کو لگا کہ ان کا راستہ آسان ہے، پر ان کے راستے میں ممکنہ پہلے بنگالی راجناتھ سنگھ ہیں اور دوسرے بنگالی لال کرشن اڈوانی۔ اڈوانی جی پیٹ درد کی وجہ سے گوا نہیں گئے اور سشما سوراج نریندر مودی کی تقریر سے پہلے ہوائی جہاز پکڑنے کا بہانہ بناکر دہلی چلی آئیں۔ نریندر مودی نے کہا کہ انہوں نے اڈوانی جی سے بات کر لی، اڈوانی جی نے انہیں آشیرواد بھی دے دیا اور سنگھ کی طرف سے سریش سونی نے فرمان سنا دیا کہ اڈوانی آئین یا نہ آئیں، نریندر مودی کی تاج پوشی کرنی ہی ہے۔ جب اڈوانی نے موہن بھاگوت سے سوال کیا، تب جاکر پتہ چلا کہ سریش سونی نے سنگھ کے سربراہ سے بات کیے بغیر سنگھ کی طرف سے یہ فرمان سنا دیا۔
اور یہیں سے اڈوانی نے چانکیہ کی نند خاندان کو تباہ کرنے والی پالیسی اختیار کر لی۔ انہوں نے ایک طرف سریش سونی اور رام لال کو بی جے پی سے ہٹائے جانے کی شرط رکھی اور دوسری طرف نتیش کمار کو سیاست کے مستقبل کی پگڈنڈی دکھا دی۔ ایسے میں مودی بد مست ہاتھی کی طرح دلدل کی طرف بڑھ رہے ہیں اور ان کے حامی پورے ملک میں زندہ باد کا نعرہ لگاتے ہوئے انہیں گہرے دلدل کی طرف دھکیل رہے ہیں۔ نومبر میں کئی اسمبلیوں کے انتخابات ہونے ہیں۔ اگر اُن انتخابات میں بی جے پی پِٹ گئی، تب مودی کا کیا ہوگا؟ ہندوستان کا ووٹر آج تک تو کسی ایکسٹریم پولرائزیشن کی طرف نہیں جھکا ہے۔ اس پورے ڈرامے میں اگر کسی کا قد بڑھا ہے، تو وہ سنگھ کا قد بڑھا ہے اور سنگھ میں موہن بھاگوت اور بھیا جی جوشی کا قد بڑھا ہے۔ لال کرشن اڈوانی کی ناراضگی نے نریندر مودی کے طوفان کو روک دیا، بھارتیہ جنتا پارٹی کو کپکپی دلاد ی اور این ڈی اے کے ٹوٹنے کا سامان تیار کر دیا۔ جنہوں نے لال کرشن اڈوانی کو کمزور اور بوڑھا سمجھ لیا تھا، آج وہ ان کے اگلے قدم کا سانس روک کر، ڈرتے ہوئے انتظار کر رہے ہیں۔

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *