اڈوانی جی قابل مبارکباد ہیں

Share Article

سنتوش بھارتیہ
شری لال کرشن اڈوانی نے اپنے بلاگ پر ایک کمینٹ لکھا اور اس کمینٹ پر کانگریس اور بی جے پی میں بھونچال آ گیا۔ کانگریس پارٹی کے ایک وزیر نے، جو مستقبل میں اہم وزیر کابینہ بن سکتے ہیں، کہا کہ بی جے پی نے اپنی ہار مان لی ہے۔وزیر موصوف یہ کہتے ہوئے بھول گئے کہ انہوں نے اپنی عقلمندی سے لال کرشن اڈوانی جی کے اندازہ کو مستند قرار دے دیا۔ انہیں یہ سمجھ میں نہیں آیا کہ اسی بیان میں اڈوانی جی یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ کانگریس کو 100 سے کم سیٹیں آئیں گی۔ عظیم کانگریس کی عظیم عقلمندی کے ایسے ثبوت تلاش کرنے کی ضرورت اب نہیں ہوتی، بلکہ ایسے ثبوت ہر جگہ بکھرے ہوئے مل جاتے ہیں۔ دوسری طرف بی جے پی اس لیے پریشان ہو گئی، کیوں کہ اڈوانی جی کا بیان صاف کہہ رہا ہے کہ وزیر اعظم بی جے پی کا نہیں ہوگا، یعنی نریندر مودی وزیر اعظم نہیں بنیں گے۔ بی جے پی کے لیڈروں نے متوازن ردِ عمل ظاہر کیا اور اسے اڈوانی جی کا جمہوری حق بتایا، لیکن اڈوانی جی کے بلاگ سے سب سے زیادہ دھکہ نریندر مودی کو لگا ہوگا۔ نریندر مودی کو یہ معلوم ہے کہ اتنا آگے بڑھنے کے بعد پیچھے جانا، ان کے لیے خود کشی کرنے کے مترادف ہوگا۔ اس بار دسمبر میں ہونے والے گجرات اسمبلی کے انتخاب میں، نریندر مودی نے خود کو ملک کے اگلے وزیر اعظم کے طور پر پیش کرنے کا طے کیا تھا۔ وہ گجرات کے لوگوں سے کہنے والے تھے کہ ابھی گجرات جتاؤ، پھر ملک کو وزیر اعظم گجرات سے ملے گا۔ وہ یہ بھی کہنا چاہتے تھے کہ ملک کو سردار پٹیل وزیر اعظم کے روپ میں نہیں ملے، لیکن میں گجرات کی شان کی طرح وزیر اعظم کے عہدہ پر جاؤں گا۔ اڈوانی کے بلاگ نے فی الحال نریندر مودی کی آگے کی اس حکمت عملی کو بے اثر کر دیا ہے۔

نریندر مودی کے سامنے دوسری پریشانی کیشو بھائی پٹیل کے روپ میں کھڑی ہو گئی ہے۔ گجرات میں پٹیل سماج بہت اثر رکھتا ہے اور کیشو بھائی پٹیل، پٹیل برادری کے سب سے بڑے اور سب سے بزرگ نیتا ہیں۔ انہوں نے اپنی الگ پارٹی بنا لی ہے۔ ان کے ساتھ کاشی رام رانا جڑ گئے ہیں۔ کاشی رام رانا بھی پچھڑوں کے بڑے نیتا ہیں، پر ان دونوں سے زیادہ اہم نام، جسے لوگ نہیں جانتے ہیں، لال جی پٹیل کا ہے۔ لال جی پٹیل راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے سینئر کارکن ہیں اور وہ پچھلے کئی سالوں سے سنگھ سے صرف اس لیے لڑ رہے ہیں، کیوں کہ انہیں نریندر مودی کا طریقہ کار پسند نہیں ہے۔ لال جی پٹیل کا ماننا ہے کہ نریندر مودی نے گجرات میں نہ صرف بی جے پی کے سبھی پرانے کارکنوں کو ایک کنارے کھڑا کر دیا ہے، بلکہ سنگھ کے سبھی سینئر کارکنوں کو بھی نظروں سے دور کر دیا ہے۔

نریندر مودی کے سامنے دوسری پریشانی کیشو بھائی پٹیل کے روپ میں کھڑی ہو گئی ہے۔ گجرات میں پٹیل سماج بہت اثر رکھتا ہے اور کیشو بھائی پٹیل، پٹیل برادری کے سب سے بڑے اور سب سے بزرگ نیتا ہیں۔ انہوں نے اپنی الگ پارٹی بنا لی ہے۔ ان کے ساتھ کاشی رام رانا جڑ گئے ہیں۔ کاشی رام رانا بھی پچھڑوں کے بڑے نیتا ہیں، پر ان دونوں سے زیادہ اہم نام، جسے لوگ نہیں جانتے ہیں، لال جی پٹیل کا ہے۔ لال جی پٹیل راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے سینئر کارکن ہیں اور وہ پچھلے کئی سالوں سے سنگھ سے صرف اس لیے لڑ رہے ہیں، کیوں کہ انہیں نریندر مودی کا طریقہ کار پسند نہیں ہے۔ لال جی پٹیل کا ماننا ہے کہ نریندر مودی نے گجرات میں نہ صرف بی جے پی کے سبھی پرانے کارکنوں کو ایک کنارے کھڑا کر دیا ہے، بلکہ سنگھ کے سبھی سینئر کارکنوں کو بھی نظروں سے دور کر دیا ہے۔ کیشو بھائی پٹیل اور کاشی رام رانا کی نئی پارٹی کے پیچھے لال جی پٹیل کا دماغ ہے۔
اگر بی جے پی کا وزیر اعظم نہیں ہوگا اور کانگریس 99 سے آگے نہیں بڑھے گی، تو سیاسی صورتِ حال کیا ہوگی؟ لال کرشن اڈوانی ملک کے سینئر لیڈر ہیں اور عمر کے اس پڑاؤ پر وہ اپنے ایماندار آدمی کو سامنے رکھیں گے، اس کو ماننا چاہیے۔ اس بیان سے یہ مطلب نکلتا ہے کہ اگر بی جے پی کو کانگریس کو اقتدار سے بے دخل کرنا ہے، تو اسے ایک بڑا متحدہ محاذ بنانا ہوگا اور اس کی قیادت کسی غیر بی جے پی لیڈر کو سونپنی ہوگی۔ غیر بی جے پی لیڈروں میں کئی نام ہو سکتے ہیں، جن میں پہلا نام نتیش کمار کا، دوسرا ملائم سنگھ کا، تیسرا شرد یادو کا اور چوتھا ممتا بنرجی کا ہوسکتا ہے۔ لیکن ملائم سنگھ یادو اور ممتا بنرجی تو کانگریس کے ساتھ ہیں۔
کانگریس اس قسم کی حکمت عملی بنائے گی، اس میں شک ہے، کیوں کہ کانگریس کا پورا طریق کار جمہوریت کے دائرے سے باہر کا طریق کار ہے۔ کانگریس نے تو گزشتہ ساڑھے سات سال میں اپنی حلیف پارٹیوں کے ساتھ بات چیت کرنے کے لیے ایک کوآرڈی نیشن کمیٹی تک نہیں بنائی، اور یہ کوآر ڈی نیشن کمیٹی بنائی بھی تب، جب شرد پوار نے کانگریس کی ناک پر گھونسا مارا۔ ایک چھوٹی پارٹی نے ملک کی سب سے بڑی پارٹی کو ہلا دیا۔
ایسا لگتا ہے کہ ملائم سنگھ یادو، ممتا بنرجی، شرد پوار اور کروناندھی کانگریس کے ساتھ صرف تکنیکی طور پر ہیں، ذہنی طور پر نہیں۔ ایف ڈی آئی کے سوال پر کانگریس اور حلیف پارٹیوں کے درمیان ایک نئی جنگ ہو سکتی ہے۔ یہ موضوع طے کرے گا کہ کانگریس کے علاوہ جتنی پارٹیاں ہیں، انہیں کتنی فکر اس ملک کے 70 فیصد لوگوں کے روزگار کی ہے۔ یہ بات اس لیے اہم ہے، کیوں کہ ملک میں انا ہزارے اور بابا رام دیو نے عوام کے درمیان تحریک کا عمل شروع کر دیا ہے۔ یہ تحریک لوگوں میں یہ جذبہ پیدا کر رہی ہے کہ زیادہ تر سیاسی پارٹیاں ان کے مفاد کے خلاف ہیں۔ یہ جذبہ پیدا ہونا خطرناک ہو سکتا ہے۔ حالانکہ کانگریس اور بی جے پی سمیت ساری سیاسی پارٹیاں یہ مانتی ہیں کہ بابا رام دیو یا انا ہزارے کی تحریک کوئی اثر نہیں ڈالے گی، پر حقیقت اس کے برعکس ہے۔ جسے سائلینٹ میجورٹی کہتے ہیں۔ جو پختہ ووٹر ہیں، وہ انا ہزارے اور بابا رام دیو کے ذریعے اٹھائے گئے سوالوں پر سوچنے لگیں گے اور جو نئے ووٹر بنے ہیں، انہوں نے زور شور سے جمہوری عمل میں شامل ہونے کا فیصلہ لے لیا ہے، اس لیے اب ووٹنگ 70 فیصد کے آس پاس ہو رہی ہے۔ غریب اپنی روزی روٹی کو لے کر زیادہ بیدار ہو گیا ہے، اس لیے یہ گھڑی نہ صرف کانگریس بلکہ بی جے پی سمیت تمام سیاسی پارٹیوں کے لیے سوچنے کی گھڑی ہے۔
دو سال قبل یہ مانا جاتا تھا کہ ملک میں موجودہ صورتِ حال کے خلاف، بدعنوانی کے خلاف، جرم کے خلاف اور سرکار اور اپوزیشن کی نا اہلی کے خلاف کوئی آواز نہیں اٹھ سکتی۔ جب چاروں طرف اندھیرا تھا، مایوسی پھیلی ہوئی تھی، اسی وقت اچانک انا ہزارے اور بابا رام دیو نے آواز اٹھائی۔ ان آوازوں کی مخالفت سیاسی پارٹیوں نے کی اور اس مخالفت نے عوام کو متحرک کر دیا۔ عوام کے اس تحرک نے نئے امکانات پیدا کر دیے ہیں۔ نئے امکانات جب بھی پیدا ہوتے ہیں، تو ان کے بکھرنے کا خطرہ بھی اتنا ہی بڑا ہوتا ہے۔ ملک کو اس بات کا بھروسہ دلانا کہ وہ ملک میں تبدیلی لے کر آئیں گے، مشکل ہوتا ہے۔ عوام کو لگتا ہے کہ جانے سمجھے غیر اعتمادی بہتر ہیں، کیوں کہ ان کی گڑبڑیاں انہیں معلوم ہیں۔ نئے لوگوں پر کیسے بھروسہ کریں جو انہیں یہ بھی نہیں بتا پا رہے کہ آخر وہ کون سے قدم ہوں گے جنہیں وہ نافذ کریں گے، اگر وہ اقتدار میں آ گئے تو۔ یہی اس صورتِ حال کا بنیادی نکتہ ہے۔ لوگ اچھے برتاؤ پر کئی بار بھروسہ کرکے دھوکہ کھا چکے ہیں، اس لیے وہ انا ہزارے اور بابا رام دیو پر بھروسہ کرنے سے پہلے کئی بار سوچیں گے، لیکن بھروسہ کرنے کی بنیادی شرط ایک ہی ہے کہ انا ہزارے اور بابا رام دیو عوام کو یہ بتائیں کہ کون سی بیس چیزیں فوراً نافذ ہونی چاہئیں اور وہ بیس مدعے ایسے ہوں جن کا رشتہ جنتا کی بھوک، روزی روٹی، تعلیم، صحت، ترقی اور بدعنوانی سے چھٹکارہ سے ہو۔
اڈوانی جی کے بلاگ کا تجزیہ کرنے سے یہ باتیں نکلتی ہیں اور اڈوانی جی کو اس بات کے لیے مبارکباد دینی چاہیے کہ انہوں نے اس اہم پڑاؤ پر سچائی کا نظارہ کرنا اور سچائی کا نظارہ کرانا شروع کیا۔

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *