عدلیہ پر بھروسہ تو ہے پر فیصلہ کہیں جھول ضرور ہے

Share Article

وسیم راشد 
باٹلہ ہائوس دلی میں کہاں ہوتا ہے؟ مجھے یاد ہے یہ سوال مجھ سے 2010میں جب میں لندن ایک سیمنار میں گئی تھی تب کسی نے پوچھا تھا۔ میں حیران رہ گئی ۔ ظاہر ہے بٹلہ ہائوس انکائونٹر کی خبر پورے ہندوستان کے لئے تو اہم ہو سکتی ہے مگر بیرون ممالک میں بھی اس کا چرچا ہے، اس کا مجھے اندازہ نہیں تھا۔ اس کے علاوہ ہندوستان کا تاج محل مشہور ہے۔ اس کے بارے میں کوئی سوال کرے تو حیرت نہیں ہوتی مگر دلی کا ایک بہت ہی گنجان مسلم محلہ ، اس کے بارے میں اگر کوئی پوچھتا ہے تو یقینا حیرت ہوتی ہے۔ اس سے تو یہی اندازہ ہوا کہ 2008کے بٹلہ ہائوس انکائونٹر کے بارے میں پوری دنیا جانتی ہے۔ ہمار ا بھی ہزاروں بار اسی علاقہ سے گزر ہوا ہے اور ہر بار L-18کا وہ مکان ایک ہی سوال کھڑ کر دیتا ہے کہ چوتھی منزل سے کود کر کوئی شخص فرار نہیں ہو سکتا اور اس کے علاوہ بھاگنے کا ایک ہی راستہ ہے اور اس پر بھی اس وقت پولس بھری ہوئی تھی تو آج جو مجرم قرار دیا گیا ہے وہ وہاں سے کیسے بھاگا ہوگا؟

نیشنل میڈیا جس طرح کے کھیل کھیل رہا ہے وہ ایک طرفہ ہے۔ صرف ان لوگوں کو بلا کر بٹھا دیا جاتا ہے، جو صرف اور صرف ایک ہی طبقے ، ایک ہی کمیونٹی کی زبان بولتے ہیں۔ کیوں میڈیا سیکولر نہیں ہو پا رہا ہے، اس کی وجہ سمجھ میں نہیں آ رہی ہے۔ جس طرح عشرت جہاں فرضی انکائونٹر میں سپریم کورٹ نے خود اس پورے کیس کو اپنی تحویل میں لے لیا۔ اس طرح ہائیکورٹ یا سپریم کورٹ کو دوسری بڑی اکثریت کے جذبات کا خیال کرتے ہوئے خود ہی اس پورے کیس کو بھیTake Overکر لینا چاہئے، کیونکہ نہ صرف مسلم سماجی تنظیمیں اور شخصیات اس فیصلے کی مخالفت کررہی ہیں بلکہ کچھ دوسرے مذاہب کی شخصیات اور تنظیمیں بھی اس فیصلہ سے خوش نہیں ہیں۔ سوامی اگنی ویش بھی اس فیصلہ کے خلاف ہیں اور ان کا بھی یہی کہنا ہے کہ اس کیس کی جوڈیشل انکوائری ہی ہونی چاہئے تھی کیونکہ اس میں ایک سپاہی بھی تو مارا گیا تھا۔

پانچ سال سے چلنے والے بٹلہ ہائوس انکائونٹر معاملہ میں بھلے ہی دہلی پولس نے اپنا فیصلہ سنا دیا ہو اور ایک محب وطن کے ناطے اور عدلیہ کے انصاف پر یقین رکھتے ہوئے بھلے ہی ہم نے اس فیصلہ کو دل سے تسلیم کر لیا ہو لیکن دماغ نہیں مانتا۔ عدالت کے مطابق شہزاد کے کافی فون کالز اور ثبوت یہ بتاتے ہیں کہ وہ مجرم ہے اور بٹلہ ہائوس انکائونٹر فرضی نہیں تھا، اور شہزاد بھی اسی فلیٹ میں رہتا تھا ، جس میں پولس نے ریڈ کی تھی اور ریڈ اس لئے کی تھی کیونکہ اس انکائونٹر سے 6دن قبل ہی راجدھانی دلی میں سلسلہ وار بم دھماکے ہوئے تھے۔ جس میں تقریباً26لوگ مارے گئے تھے اور تقریباً 33افراد زخمی ہوئے تھے ۔ پولس کو یہ خبر ملی تھی کہ کچھ مشتبہ دہشت گرد جو دھماکوں میں شامل تھے، وہ L-18نام کے اس فلیٹ میں روپوش ہیں اور پولس نے 19ستمبر 2008کو اس بلڈنگ کو گھیر لیا اور اس کے بعد کی جو کہانی ہے وہ دہرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ عاطف اور ساجد جن کی انکائونٹر میں موت ہوئی ، ان پر بھی بے تحاشہ سوال اٹھائے گئے اور سیاست ہوتی گئی۔ یہ کہانی اتنی بار دہرائی جا چکی ہے کہ اب اس کے ایک ایک نقطہ سے عام انسان بھی واقف ہے۔ ہم صرف 2 تین پہلوئوں پر بات کرنا چاہتے ہیں۔ جس طرف مسلم مجلس مشاورت کے صدر ڈاکٹر ظفر الاسلام کا کہنا ہے کہ L-18سے بھاگنے کا ایک ہی راستہ تھا اور اس پر پولس بھری ہوئی تھی۔ بھاگنے کی کوئی گنجائش یا جگہ نہیں تھی۔ کود نے کا بھی سوال نہیں پیدا ہوتا کیونکہ چوتھی منزل سے کود کر کوئی اٹھ کر نہیں بھاگ سکتا ۔ اس کی ہڈیاں چور چور ہو جائیں گی۔ ایسے میں انھوں نے عزت مآب جج سے درخواست کی کہ فیصلہ سنانے سے پہلے اگر وہ اس جگہ اور فلیٹ کا دورہ خود کرتے تو پولس کی یہ دلیل فیل ہو جاتی کہ شہزاد وہاں سے بھاگا ہے۔ ہم خود اس علاقہ کے رہنے والے ہیں ہزار بار کی دیکھی ہوئی بٹلہ ہائوس کی گلیاں جو بے حد ٹوٹی پھوٹی اور خراب ہیں، ان جگہوں میں سے جو پوری طرح پولس سے بھری ہوئی تھی ، کسی دہشت گرد کا بھاگ جانا یقینا مشکل ہی نہیں نا ممکن ہے۔ اس کے علاوہ وہاں موجود شواہدات کو پولس نے کیوں نظر انداز کر دیا ۔ کسی جائے حادثہ پر سب سے اہم ثبوت اس کی جگہ کے گواہ ہوتے ہیں مگر عدالت میں وہاں کے گواہ کیوں پیش نہیں کئے گئے؟ ۔ سبھی پولس کے الزامات کو اگر سچ مان بھی لیا جائے تو ایک بات ضرور کہنے کو جی چاہتا ہے کہ جب ملک کی دوسری سب سے بڑی اکثریت یعنی 20کروڑ مسلمان اس فیصلہ کو ماننے کو تیار نہیں ہے۔ جب مسلم تنظیمیں اس انکائونٹر کو شروع سے فرضی بتا رہی ہیں۔ جب بار بار اس انکائونٹر پر سوال اٹھائے جا رہے ہیں۔ خود بڑے بڑے سیاسی لیڈران اس کو فرضی بتا رہے ہیں تو ایسے میں کیا حکومت کی ذمہ داری نہیں بنتی تھی کہ اس کی جوڈیشیل انکوائری کرائی جاتی اور مسلمانوں کو مطمئن کیا جاتا ۔ کیا ہندوستان جیسے سیکولر اور جمہوری ملک میں20سے 25کروڑ شہریوں کی اتنی بھی اہمیت نہیں ہے۔
آزادی کے بعد سے لے کر آج تک مسلمان ہر طرف سے مارا گیا۔ بے شمار فرقہ وارانہ فسادات ہوئے جس میں ہر بار ایک ہی فرقہ کے لوگوں کا نقصان ہوا ۔ ہر بار وہی مارے گئے۔ان ہی کی بیٹیوں کی عزتیں لوٹی گئیں ہر بار ان ہی کے بچے یتیم ہوئے۔ جبکہ فساد کی اگر تعریف کی جائے توفساد اسے کہتے ہیں جس میں دو گروپ میں جھگڑا ہو اور اس میں نقصان بھی دونوں کابرابر ہو مگر حیرت ہے آج تک کوئی ایسا فساد نظر ہی نہیں آتا، جس میں دوسرے طبقے ، دوسرے گروپ کے لوگوں کا بھی نقصان ہوا ہو۔ ہر فساد کے بعد کمیشن بیٹھتا ہے ، لیکن رپورٹ نہیں آتی اور اگر آ بھی جاتی ہے تو قصوروار وہی مسلمان ۔ گجرات انکائونٹر بھی اس فرضی دائرے میں ہے، جس میں بٹلہ ہائوس انکائونٹر ہے۔ ہمارے نوجوانوں کو ہی دہشت گرد ٹھہرا کر مار دیا جاتا ہے ۔ کیوں کسی انکائونٹر میں کوئی بوڑھا شخص یا کوئی ادھیڑ عمر کا آدمی نہیں مارا جاتا۔ کیا صرف دہشت گرد نوجوانوں کی ہی تربیت کرنے کا نام ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دہشت گردی کی طرف کیا صرف نوجوان نسل ہی مائل ہو رہی ہے اور اگر یہ سب فرضی انکائونٹر ہیں تو پھر اس کا مطلب ہمارے نوجوانوں کو ختم کرنے ، ان کو توڑنے، ان کو برباد کرنے کی یقینا کوئی منظم سازش ہے۔ ورنہ انکائونٹر کی تعریف کو واضح کرنے اور اس کے بار بار فرضی ثابت ہونے پر کوئی تحقیقاتی کمیٹی کیوں نہیں بٹھائی جاتی ، جو یہ طے کرے کہ کس بنیاد پر کسی بھی انکائونٹر کو فرضی مانا جائے یا نہ مانا جائے ۔
نیشنل میڈیا جس طرح کے کھیل کھیل رہا ہے وہ ایک طرفہ ہے۔ صرف ان لوگوں کو بلا کر بٹھا دیا جاتا ہے، جو صرف اور صرف ایک ہی طبقے ، ایک ہی کمیونٹی کی زبان بولتے ہیں۔ کیوں میڈیا سیکولر نہیں ہو پا رہا ہے، اس کی وجہ سمجھ میں نہیں آ رہی ہے۔ جس طرح عشرت جہاں فرضی انکائونٹر میں سپریم کورٹ نے خود اس پورے کیس کو اپنی تحویل میں لے لیا۔ اس طرح ہائیکورٹ یا سپریم کورٹ کو دوسری بڑی اکثریت کے جذبات کا خیال کرتے ہوئے خود ہی اس پورے کیس کو بھیTake Overکر لینا چاہئے، کیونکہ نہ صرف مسلم سماجی تنظیمیں اور شخصیات اس فیصلے کی مخالفت کررہی ہیں بلکہ کچھ دوسرے مذاہب کی شخصیات اور تنظیمیں بھی اس فیصلہ سے خوش نہیں ہیں۔ سوامی اگنی ویش بھی اس فیصلہ کے خلاف ہیں اور ان کا بھی یہی کہنا ہے کہ اس کیس کی جوڈیشل انکوائری ہی ہونی چاہئے تھی کیونکہ اس میں ایک سپاہی بھی تو مارا گیا تھا۔ تو ایسا لگتا ہے کہ یہ انکائونٹر یکطرفہ نہیں ہے۔ اسی طرح جامعہ ٹیچرس برادری کی طرف سے ڈاکٹر منیشا سیٹھی کا بھی یہی کہنا ہے کہ اس فیصلہ سے مایوسی ہوئی ہے۔ ساتھ ہی دگوجے سنگھ کا فیصلہ آنے کے بعد بیان بھی بہت اہم ہے۔ پہلے کے بیان پر جو سیاست ہوئی سو ہوئی مگر بعد کے بیان میں بھی وہ ثابت قدم رہے کہ انکائونٹر فرضی تھا۔ اس کے علاوہ سبھی مسلم تنظیموں کی اہم شخصیات بھی اس فیصلہ سے مطمئن نہیں ہیں ۔ حالانکہ ہر تنظیم کا سربراہ بے حد تعلیم یافتہ اور قابل ہے۔ اگر اس فیصلہ پر کوئی ان پڑھ سوال اٹھائے یا ناتجربہ کار تو سوچا جا سکتا ہے ، مگر اس فیصلہ کی مخالفت وہ حضرات کر رہے ہیں جو خود بے حد قابل ہیں ۔ مولانا عامر رشادی جو راشٹریہ علماء کونسل کے قومی صدر ہیں، کا کہنا ہے کہ جب معاملہ کی غیر جانبدرانہ تحقیقات ہی نہیں ہوئی تو ایمانداری کے ساتھ انصاف کی امید کیسے کی جا سکتی ہے۔ اسی طرح مسلم پرسنل لاء بورڈ کے رکن اور ویلفیئر پارٹی کے جنرل سکریٹری ڈاکٹر قاسم رسول الیاس ، آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے سربراہ ڈاکٹر ظفر الاسلام خاں، لوک جن شکتی پارٹی کے جنرل سکریٹری عبد الخالق ، مسلم پولٹیکل کونسل آف انڈیا کے صدر ڈاکٹر تسلیم رحمانی کے علاوہ جامع مسجد کے شاہی امام مولانا احمد بخاری ، فتح پوری کے مفتی مکرم، جمعیۃ علماء ہند کے مولانا ارشد مدنی یعنی کہ یہ سب مسلمانوں کے وہ روشن دماغ ہیں، جن کی تعلیمی اور علمی صلاحیتوں پر کوئی شک نہیں کر سکتا۔ اگر یہ سبھی مل کر یہ بات کہہ رہے ہیں کہ سیشن کورٹ کے فیصلہ میں پولس کی کہانی پر فیصلہ ہوا ہے۔ اسی کو بنیاد بنایا گیا ہے اور استغاثہ کی دلیلوں کو نظر انداز کیا گیا ہے تو یقینا کہیں نہ کہیں اس فیصلہ میں جھول ضرور ہے۔ لیکن ہم پھر بھی اپنی عدلیہ پر بھروسہ رکھتے ہیں۔ ہم نے ایک بار بھی یہ نہیں کہا کہ شہزاد بے قصور ہے یا انکائونٹر فرضی ہے۔ ہم بس یہ چاہتے ہیں کہ آج جس طرح بٹلہ ہائوس انکائونٹر پر بے یقینی کے بادل منڈلا رہے ہیں ۔ وہ صاف ہو جائیں تاکہ اگر واقعی ہمارے نوجوان اس راہ پر چل نکلے ہیں تو ان کی رہنمائی کی جا سکے۔اب بس آخری امید ملک کی اعلیٰ عدالتوں سے ہے ۔اگر وہ اس پورے معاملہ کو غیر جانبدرانہ حل کر لیتی ہیں اور صحیح فیصلہ سناتی ہیں تو شاید یہ بدگمانی دور ہو سکے۔

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *