ادھیکار یاترا نے کھولے نتیش حکومت کے راز

Share Article

اشرف استھانوی 
بہار میں نتیش کمار کا طلسم ٹوٹنے لگا ہے۔ ان کی دوسری یاترائوں کی طرح ادھیکار یاترا کو عوام کی حمایت نہیں مل رہی ہے۔ لوگ اُن سے خاصے ناراض دکھائی دے رہے ہیں۔ خود وزیر اعلیٰ نتیش کمار بھی عوام کے قریب جانے سے گریز کرنے لگے ہیں اور حفاظتی گھیرے میں ہی رہنا پسند کرتے ہیں۔ سیاہ رنگ کے کپڑے سے ہی وہ بھڑک اٹھتے ہیں۔ ان کے جلسوں میں کوئی کالی شرٹ ، ٹوپی، ساڑی یا دوپٹہ زیب تن کرکے نہیں جا سکتا ہے۔ پروگرام سے پہلے ہونے والی دھر پکڑ اورجامہ تلاشی کے سبب ان کے پروگراموں میں عوامی حصہ داری گھٹتی جا رہی ہے۔ ہرطرف سے مخالفت کا طوفان اٹھتا دکھائی دے رہا ہے، مگر نتیش اسے سمجھ نہیں پا رہے ہیں کل تک اپنے سب سے بڑے سیاسی حریف لالو پرساد یادو کو نوشتہ دیوار پڑھنے کی نصیحت کرنے والے آج خود نوشتہ دیوار نہیں پڑھ پا رہے ہیں۔ نتیش کمار نے اب سے ایک ماہ قبل جب بہار کو اس کا ادھیکار یعنی خصوصی درجہ دلانے کے لیے ادھیکار یاترا کرنے اور یاترا کے دوران پوری ریاست میں ادھیکار سمیلن کا انعقاد کے بعد پٹنہ اور دہلی میں ادھیکار ریلی کا انعقاد کرنے کا اعلان کیا تھا، تو ان کے وہم و گمان میں بھی یہ بات نہیں تھی کہ ادھیکار یاترا دراصل دھکار یاترا میں تبدیل ہو جائے گی۔ وہ تو اسے لوک سبھا کے آئندہ انتخاب کی تیاری کے طور پر دیکھ رہے تھے، جس کے قبل از وقت ہونے کا امکان ہے۔

نتیش کمار اپنے اس پروگرام کے ذریعہ اپنی پارٹی جنتا دل متحدہ اور خود کو این ڈی اے کے اندر ایک بڑی سیکولر طاقت ثابت کرنا چاہتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اپنے اس پروگرام کو حکمراں اتحاد یعنی این ڈی اے کے علاوہ سرکار ی سرپرستی سے بھی الگ کرنے کافیصلہ کیا تھا اور سب کچھ اپنے بل بوتے پر کرنے کا اعلان کیا تھا، تاکہ ادھیکار یاترا اور ادھیکار ریلی اور اس کے نتیجے میں حاصل ہونے والی کامیابی کا سارا کریڈٹ بی جے پی کو نہ چلا جائے، لیکن ان کا یہ فیصلہ الٹاپڑ گیا۔ بی جے پی اور اس کے ہم نوا عوام تو ان سے دور ہوئے ہی ، سرکاری مشینری کا کنٹرول ختم ہونے کے سبب ان کے مخالفین کو بھی کھل کر کھیلنے کا موقع ملا۔ بی جے پی نے بھی انہیں اوقات بتانے کے لیے مخالفین کا درپردہ ساتھ دیا اور ان کو وہاں نہ صرف سیاہ جھنڈے دکھائے گئے، بلکہ ان کے قافلے پر حملہ ہوا اور جوتے چپل بھی برسائے گئے۔ حالات اس حد تک خراب ہو گئے کہ وزیر اعلیٰ کی سیکورٹی کے نام پر انتظامیہ کو کمان اپنے ہاتھ میں لیتے ہوئے مخالفین اور مظاہرین کے خلاف طاقت کا استعمال کرنا پڑا۔

نتیش کمار اپنے اس پروگرام کے ذریعہ اپنی پارٹی جنتا دل متحدہ اور خود کو این ڈی اے کے اندر ایک بڑی سیکولر طاقت ثابت کرنا چاہتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اپنے اس پروگرام کو حکمراں اتحاد یعنی این ڈی اے کے علاوہ سرکار ی سرپرستی سے بھی الگ کرنے کافیصلہ کیا تھا اور سب کچھ اپنے بل بوتے پر کرنے کا اعلان کیا تھا، تاکہ ادھیکار یاترا اور ادھیکار ریلی اور اس کے نتیجے میں حاصل ہونے والی کامیابی کا سارا کریڈٹ بی جے پی کو نہ چلا جائے، لیکن ان کا یہ فیصلہ الٹاپڑ گیا۔ بی جے پی اور اس کے ہم نوا عوام تو ان سے دور ہوئے ہی ، سرکاری مشینری کا کنٹرول ختم ہونے کے سبب ان کے مخالفین کو بھی کھل کر کھیلنے کا موقع ملا۔ بی جے پی نے بھی انہیں اوقات بتانے کے لیے مخالفین کا درپردہ ساتھ دیا اور ان کو وہاں نہ صرف سیاہ جھنڈے دکھائے گئے، بلکہ ان کے قافلے پر حملہ ہوا اور جوتے چپل بھی برسائے گئے۔ حالات اس حد تک خراب ہو گئے کہ وزیر اعلیٰ کی سیکورٹی کے نام پر انتظامیہ کو کمان اپنے ہاتھ میں لیتے ہوئے مخالفین اور مظاہرین کے خلاف طاقت کا استعمال کرنا پڑا۔مظاہرے میں شامل درجنوں افراد گرفتار کیے گئے اور سینکڑوں افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی۔ نتیش اور ان کی پارٹی نے اس غیر متوقع احتجاج اور مظاہرے کو اپوزیشن کی کارستانی سے تعبیر کیا اور اس معاملے کی جانچ کرکے اصلی قصور واروں کا پتہ لگانے کے لیے ایس آئی ٹی کی تشکیل کردی، لیکن حقیقتاً یہ کنٹریکٹ پر بحال اساتذہ کا احتجاج تھا جو یکساں پوسٹ اور یکساں ڈیوٹی کے عوض یکساں تنخواہ اور سہولیات کا مطالبہ کر رہے تھے۔ اس بڑے احتجاجی مظاہرہ کے بعد ادھیکار یاترا کو بغیر سرکاری مدد کے جاری رکھنا نا ممکن ہو گیا۔ اس کے بعد انتظامیہ نے مورچہ سنبھالا اور ہر پروگرام سے پہلے مخالفین کی دھر پکڑ کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ اساتذہ کی چھٹیاں منسوخ کی جانے لگیں ۔ جلسہ گاہ میں داخل ہونے کے لیے بھی لوگوں کو سخت جانچ اور جامہ تلاشی کے کرب سے گزارا جانے لگا۔ سیاہ کپڑوں پر گہری نظر رکھی جانے لگی، سیاہ دوپٹہ والی طالبات کو روکا گیا تو اس کے خلاف دھرنا و مظاہرہ شروع ہو گیا۔ اس طرح کے مقامات میں عام لوگوں نے ادھیکار یاترا اور ادھیکار سمیلن میں شرکت سے گریز کرنا شروع کر دیا۔ کچھ مقامات پر تو انتظامی مستعدی کامیابی ثابت ہوئی، مگر مدھوبنی، دربھنگہ، نوادہ اور گیا جیسے کئی مقامات پر انتظامی مشینری فیل ہو گئی اور مظاہرین نے وزیر اعلیٰ کے خلاف جم کر اپنے غصہ کا اظہار کیا اور جوتے چپل برسائے۔ ان مقامات پر درجنوں اساتذہ گرفتار کیے گئے ۔ مدھوبنی اور دربھنگہ میں مدارس کے اساتذہ و ملازمین نے بھی وزیر اعلیٰ کے خلاف نفرت کا اظہار کیا۔ وزیر اعلیٰ کے لیے چونکہ اس طرح کا احتجاج غیر متوقع تھا، اس لیے وہ آپے سے باہر ہو گئے اور انہوں نے اسٹیج سے ہی اول فول بکنا شروع کر دیا اور ان کے مسائل یا مطالبات کو حل کرنا تو دور رہا، ان پر غور کرنے سے بھی صاف انکار کر دیا۔ وزیر اعلیٰ کے اس رویہ کا بھی بڑا منفی پیغام گیا اور عوامی ناراضگی میں ہر دن اضافہ ہوتا گیا۔
آج صورت حال یہ ہے کہ ہر طرف مخالفت کا طوفان اٹھتا دکھائی دے رہا ہے، لیکن اقتدار کے نشہ میں چور نتیش کمار طاقت کے زور پر مخالفین کو دبانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ مخالفین جن میں ان کی حکومت میں بحال ہوئے اساتذہ کی اکثریت ہے، گرفتار کیے جا رہے ہیں، ان پر مقدمات قائم کیے جا رہے ہیں۔ ان پر دفعہ 107 لگایا جا رہا ہے۔ اساتذہ کو چھٹی کے دن بھی اسکول میں حاضر رہنے پر مجبور کیا جا رہا ہے، تاکہ وہ وزیر اعلیٰ کے جلسے میں جاکر ہنگامہ نہ کر سکیں۔
یہ حالات ریاست میں بدلے ہوئے ماحول کی عکاسی کرتے ہیں۔ اس کے لیے اپوزیشن یا ان کے مخالفین نہیں، خو د وہ ذمہ دار ہیں۔ انہوں نے لالو کے مبینہ جنگل راج کے خاتمہ کے نام پر اقتدار حاصل کیا اور 6 ماہ کے اندر بہار کی تصویر اور تقدیر بدلنے کی بات کی تھی، مگر 6 سال میں بھی کچھ نہیں کر سکے۔ انہوں نے ہر سال ایک لاکھ ملازمت مہیا کرانے کا وعدہ کیا تھا، مگر آج تک کوئی باقاعدہ بحالی نہیں ہوئی۔ سپریم کورٹ کی ہدایت پر 34 ہزار اساتذہ کی بحالی قانونی مجبوری میں ہوئی، یہ ایک استثنیٰ ہے۔ باقی تمام بحالیاں کنٹریکٹ پر ہوئیں ۔4 ہزار سے 7 ہزار ماہانہ اعزازیہ پر یہ اساتذہ بحال کیے گئے۔ آج وہی اساتذہ یکساں پوسٹ، یکساں کام، اور یکساں تنخواہ اور سہولیات کا مطالبہ کر رہے ہیں، کیوں کہ ان کے ساتھ کام کرنے والے دیگر ریگولر اسی پوسٹ پر اسی کام کو انجام دینے کے عوض 20 سے 35 ہزار ماہانہ تنخواہ اور دیگر سہولیات پا رہے ہیں۔یہ عدم مساوات نتیش کے گلے کا کانٹا بن گیا ہے۔ کنٹریکٹ پر ویٹنری ڈاکٹر، ڈاکٹر اور انجینئر اور لکچرر تک بحال کیے جا رہے ہیں۔ سارا معاملہ کنٹریکٹ پر چل رہا ہے۔ شروع میں لالو اور دوسرے اپوزیشن رہنمائوں نے جب اسے بے تکا بتایا تو نتیش نے ان کا مذاق اڑایا تھا، لیکن آج وہ خود مذاق کا موضوع بن گئے ہیں۔ بہار کے ملحقہ مدارس کے اساتذہ اور ملازمین کا معاملہ تو اور بھی قابل رحم ہے۔ ان کے مسائل کو مرحلہ وار حل کرنے کا وعدہ کرنے والے نتیش کمار نے شروع میں انہیں صرف مہنگائی بھتہ میں اضافہ کا تحفہ دیا تھا، مگر اس کے بعد پھر وہ ان کی طرف متوجہ ہی نہیں ہوئے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ وہ ٓج بھی تیسری شرح تنخواہ کے تحت بہت قلیل تنخواہ پا رہے ہیں۔ مدارس کے صدر مدرس کی تنخواہ آج سرکاری اسکولوں اور دفاتر کے چپراسی سے بھی کم ہے۔ انہیںپنشن اور گریچویٹی کی سہولت بھی حاصل نہیں ہے۔ بہار میں اردو اساتذہ کے 68 ہزار پوسٹ ہیں، مگر ان کے مقابلے میں اس وقت صرف 18 ہزار اردو اساتذہ بحال ہیں، جن میں کنٹریکٹ پر بحال اساتذہ بھی شامل ہیں۔50 ہزار اردو اساتذہ کی سیٹیں خالی پڑی ہیں۔ کالجوں اور یونیورسٹیوں کی حالت مزید خراب ہے۔ ہر جگہ اساتذہ کی سیٹیں خالی ہیں۔ ہر ماہ نئے کالج اور ہر سال نئی یونیورسٹی قائم ہوتی ہے، مگر اساتذہ کا تقرر نہیں ہوتا ہے، جس سے تعلیم یافتہ بے روز گاروں میں سخت بے اطمینانی پائی جاتی ہے۔عوامی مسائل کے حل کی طرف حکومت کا دھیان نہیں ہے۔ کہنے کو تو جنتا دربار میں وزیر اعلیٰ اور نائب وزیر اعلیٰ سے لے کر ضلع مجسٹریٹ تک آتے ہیں، مگر جنتا دربار کے مسائل کو حل کرنے میں یہ سب ناکام رہے ہیں۔ خود زیر اعلیٰ کے جنتا دربار کا حال یہ ہے کہ وہاں دوڑتے دوڑتے لوگوں کے چپل گھس جاتے ہیں، مگر مسئلہ حل نہیں ہوتا۔ کسی افسر کی شکایت لے کر جائیے تو وزیر اعلیٰ اس شکایت کے ساتھ عرضی گزار کو اسی افسر کے پاس بھیج دیتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ اس کے بعد اس کا کام ہونا محال ہو جاتا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *