پی ایم مودی کا لال قلعہ کی فصیل سے خطاب عمومی طور پر مسلمان ہوئے نظر انداز

Share Article

ملک کی آزادی میںعلماء کرام اورمسلم مجاہدین آزادی کاجوکرداررہاہے ،اس کے پیش نظرنہ جنگ آزادی کی کوئی تاریخ ان کے ذکرکے بغیرمکمل ہوسکتی ہے اورنہ ہی آزادی کاکوئی جشن ا ن کوفراموش کرکے منایاجاسکتاہے۔مگرآزادی کے72ویںجشن کے موقع پروزیراعظم نریندرمودی نے لال قلعہ کے فصیل سے اپنے ڈیڑھ گھنٹے کے طویل خطاب میںدیگرتمام موضوعات پراظہارخیال کیامگرمسلمانوںاوران کے مسائل کاکوئی ذکرتک نہیںکیا۔ہاںدیگرفرقہ کے مجاہدین آزادی کے بیش بہاخدمات کاضرورتذکرہ کیااورانہیںبھرپورخراج عقیدت بھی پیش کیا۔ان کا مسلم مجاہدین آزادی کی قربانیوںکویکسرفراموش کردیناحددرجہ افسوسناک ہے۔انہوں نے اپنے خطاب میں صرف مسلم خواتین کا ان کے بل کے تعلق سے ذکر کیاجبکہ مسلمان عمومی طور پر نظر انداز رہے۔
غدر کا واقعہ
حالانکہ یہ ایک ناقابل انکارحقیقت ہے کہ۔ 1857 کی پہلی جنگ آزادی کی ناکامی کے بعد جب ملک کے دوسرے حصوں میں انگریزوں کا خوف طاری تھا اور لوگ دفاعی موڈ میں نظرآرہے تھے ، صادق پور پٹنہ کے علماء ، بہار اور بنگال کے مفلوک الحال کسانوں اور دستکاروں کی مدد سے انگریزی حکومت کے خلاف مسلح بغاوت کی خفیہ مگر موثر تحریک چلا رہے تھے۔
یہ تحریک اگرچہ اپنی اصل کے اعتبار سے مذہبی تھی لیکن بعد میں ایسٹ انڈیا کمپنی کے ظلم و ستم سے تنگ آچکے مسلمانوں کے لئے یہ انگریزوں سے نجات حاصل کرنے کی تحریک بن گئی تھی اس لئے اس کی سیاسی اور عوامی حیثیت ہوگئی تھی۔ اس تحریک کا بہار کی جدو جہد آزادی میں اہم رول رہا اور 1822 سے 1868 تک تقریباً46 برسوں تک اس تحریک کا مرکز پٹنہ بنا رہا اور اس کی قیادت صادق پور کے علماء کے ہاتھوںمیںرہی۔سراج الدولہ اور ٹیپو سلطان نیز مولاناابولکلام آزاد،مولاناحسرت موہانی،مولانامحمدعلی جوہر اور مولاناشوکت علی سمیت سینکڑوںمسلم مجاہدین کی جوقربانیاںہیںوہ ناقابل فراموش ہیں۔

 

 

 

علمائے صداق پر کے علاوہ تحریک آزادی میں بہار کے جن مسلم جانبازوں نے سرگرم کردار نبھایا ان میںرہتاس کے عبد القیوم انصاری، مشرقی چمپارن کے بطخ میاں، پٹنہ کے ڈاکٹر سید محمود اور کرنل محبوب، گیا کے پروفیسر عبد الباری ،مظفر پور کے مغفور احمد اعجازی کے نام شامل ہیں مگر آزادی کے بعد بہار کے ان مسلم مجاہدین آزادی کو یکسر فراموش کر دیا گیا۔ انہیں نصابی کتابوں میں بھی کوئی جگہ نہیں ملی اور ان میں سے کئی تو ایسے ہیں جن کا نام تک نئی نسل کو معلوم نہیں ہے۔
پٹنہ میں 1946 میں انگریزوں کے خلاف فوجی بغاوت کی ایک سازش رچی گئی تھی جس کے اصل محرک منشی راحت تھے جو نیورہ کے رہنے والے تھے اور سر علی امام کے بزرگوں میں شامل تھے۔ انہوں نے ریجمنٹ کے منشی پیر بخش اور درگا پرساد سے مل کر فوج کو بغاوت پرآمادہ کرنے کی سازش رچی۔ مگر ریجمنٹ کے حوالدار نے کمانڈنگ افسر کو یہ راز بتا دیا۔ اس کے بعد پیر بخش اور درگا بخش گرفتار کر لئے گئے۔ ان دونوں نے اپنا جرم قبول کر لیا۔
ان کے بیان پر منشی راحت علی اور پٹنہ کے معززشہری خواجہ حسن علی گرفتار کر لئے گئے۔ سبھوں پر مقدمہ چلا۔ مگر اقراری مجرموں نے چوں کہ منشی راحت اور خواجہ حسن علی کو پہچاننے سے انکار کر دیا اس لئے یہ لوگ بچ گئے۔ مگر پیر بخش اور درگا پرساد کو سزا ہوئی۔ پٹنہ کے لا افسر مولوی نیاز علی، سرکاری وکیل برکت اللہ اور داروغہ میر باقربرخاست کر دئیے گئے۔خواجہ حسن علی، خواجہ نور کے داماد اور مولوی علی کریم لیڈی انیس امام کے پردادا تھے۔ انگریزوں کے خلاف اس سازش میں بابو کنور سنگھ، مولوی علی کریم اور پولیس جمعدار حسن علی خاں بھی شریک تھے مگر اس وقت وہ کسی طرح بچ گئے تھے۔ بعد میں 1857 کی بغاوت میں ان سبھوں نے کھل کر حصہ لیا۔
بہر حال فوجی بغاوت کی سازش اندر ہی اندر چلتی رہی اور اس کا اظہار 23 جنوری 1857 کو اس وقت ہوا جب دم دم میں سپاہیوں نے کارتوس کے استعمال سے انکار کر دیا۔ غیر منقسم بہار میں فوجی بعاوت کی ابتداء دیو گھر سے ہوئی جہاں تین ہندستانی سپاہیوں نے اپنڈے کمانڈر میجر میکڈونالڈ پر 12 جون کو حملہ کر دیا۔ اس حملہ میں وہ توبچ گیا مگر 2 انگریز افسر مارے گئے اور 2 زخمی ہوئے۔ میجر نے حملہ کرنے والے تینوں سپاہیوں کو اسی وقت پھانسی دے دی۔ ان میں کم از کم ایک سپاہی ضرور مسلمان تھا کیوں کہ میکڈونالڈ کے مطابق پھانسی کے وقت وہ کلمہ پڑھ رہا تھا۔ اسی دن پٹنہ کے کمشنر ٹیلر نے اضافی پولیس جوانوں کی بھرتی کاحکم دیا۔ مگر اس میں مسلمانوں ،راجپوتوں اور برہمنوں کو نہ لینے کا حکم دیا۔
یہ بغاوت مولوی علی کریم کی قیادت میں ہوئی تھی اس لئے ان کی گرفتاری کا حکم ہوا مگر وہ پکڑے نہیں جا سکے اور گنگا پار کرکے گورکھپور چلے گئے اور باغیوں کے دوسرے گروپ سے جا ملے۔8 جولائی کو مولوی علی کریم کی ساری جائیداد ضبط کر لی گئی اور ان کی گرفتاری کے لئے نقد انعام کا اعلان ہوا۔پٹنہ شہر میں مکمل تلاشی لی گئی۔ اس دوران پیر علی کے گھر سے ہتھیار اور کچھ اہم خطوط ملے مگر پیر علی بچ نکلے۔ مگر بعد میں پیر علی سمیت 36 آدمی گرفتار کئے گئے۔ ان پر مقدمہ چلا کر 16 کو سزائے موت دی گئی اور دو کو عمر قید ہوئی۔ 6 جولائی کو پولیس جمعدار وارث علی خاں کو بغاوت کے الزام میں پھانسی دی گئی۔9 جولائی کو پیر علی، لطف علی، گماشتہ، شیخ گھسیٹا اور عنایت علی کو پھانسی کا حکم ہوا۔اس کے بعد بھی کمشنر ٹیلر نے اندھا دھند گرفتاری کرنے اور پھانسی دینے کا سلسلہ اس وقت تک جاری رکھا جب تک اسے عہدہ سے ہٹا نہیں دیا گیا۔ ٹیلر کے عتاب کا شکار زیادہ تر مسلمان ہی رہے۔

 

 

 

 

آرہ پر قبضہ کی مہم کے دوران بابو کنور سنگھ کے بھائی بھتیجوں کے علاوہ جن 6 جانبازوں کا ذکر ملتا ہے ان میں دو مسلمان تھے اور وہ دونوں بعد میں پھانسی پر چڑھا دئیے گئے تھے۔ مظفر پور میں ایک مسلم تھانیدار کو پھانسی دے دی گئی۔ ان میں محمد حسین خاں کی قیادت میں بغاوت ہوئی۔ گیا میں بغاوت کے بعد ضلع مجسٹریٹ کو بھگا دیا گیا اور تمام قیدی جیل سے رہا کر دئیے گئے۔ ادھر نوادہ، وزیر گنج، راجگیر اور جہان آباد میں حیدر علی خاں، احمد علی خاں، مہدی علی خاں، اور حسین بخش خاں نے جو ترہت کے راجہ نامدار خاں کے وارثوں میں تھے ، لکو سنگھ، نیکو سنگھ ،فتح سنگھ، مایا سنگھ اور کوشل سنگھ جیسے زمینداروں سے مل کر کمپنی راج کے خاتمہ کا اعلان کر چکے تھے اور پورے علاقہ پر قبصہ کئے ہوئے تھے۔ لیکن چھوٹا ناگپور علاقہ میں بڑے پیمانے پر بغاوت بھی ہوئی اور اتنے ہی بڑے پیمانے پر انگریزوں کی طرف سے مزاحمت بھی ہوئی۔ چترا میں تو باغیوں اور انگریزوں کے درمیان گھمسان بھی ہوا۔ یہاں منگل پانڈے اور بھولا سنگھ کے ساتھ صوبہ دار نادر خاں اور شیخ بھکاری جیسے قوم پرستوں نے انگریزوں سے لوہا لیا اور اپنی جانوں کی قربانی دی۔
بہار میں رولٹ ایکٹ کے خلاف جو تحریک چلی، اس کی قیادت بھی کافی حد تک مسلمانوں کے ہاتھوں میں رہی۔ پٹنہ ہی نہیں پوری ریاست میں ضلع او رمفصل کی سطح تک مسلمانوں نے بہت آگے بڑھ کر حصہ لیا او رتقریباً ہر جگہ قائدانہ رول ادا کیا۔ مظفر پور میں مولوی شفیع دائودی، مونگیر میں شاہ زبیر، شاہ آباد میں چودھری کرامت حسین، چھپرہ میں مولوی زکریا ہاشمی، دربھنگہ میں مسٹر شفیع اور مولوی عبد الغفور ، گیا میں قاضی احمدحسین، مولانا عبد الحکیم، شاہ عمیر او رپٹنہ میں حسن امام، مظہر الحق ، خورشید حسن، میر سرفراز خان، مولوی نور الحسن اور مسٹر سمیع ،سچیدانند سنہا اور راجندر پرساد جیسے رہنمائوں کے شانہ بشانہ تحریک میں سرگرم حصہ لیتے ہوئے اپنی سیاسی بیداری کا ثبوت دیا۔
عدم تعاون کی تحریک کا آغاز قومی سطح پر یکم اگست 1920 کو یوم خلافت منا کر کیا گیا۔ اسی دن لوک مانیہ تلک کا انتقال بھی ہو گیا تھا۔ اس طرح کانگریسی سیاست کا ایک دور ختم ہوا تو دوسرا دور گاندھی جی کی قیادت میں عدم تعاون سے شروع ہوا۔ اس دن خود گاندھی جی نے اپنے تمام سرکاری اعزازات او رتمغہ جات لوٹا تے ہوئے وائسرائے کو لکھا کہ میں برطانوی حکومت کا وفادار نہیں رہ سکتا۔ یوم خلافت کے موقع پر بہار کے پٹنہ، مونگیر، گیا، چھپرہ، بھاگلپور، رانچی، ڈالٹین گنج اور دربھنگہ میں عام ہڑتال رہی۔ بہار میں عدم تعاون تحریک کا آغاز سب سے معزز او رمحترم مذہبی رہنما شاہ سلیمان پھلواری شریف نے کیا۔ انہوں نے اس دن آنریری مجسٹریٹ اور مولوی نور الحسن نے کونسل کی ممبری سے استعفیٰ دے کر عدم تعاون شروع کیا۔ مونگیر کے نامی بیریسٹر شاہ زبیر نے اپنی گراں قدر پریکٹس اسی دن سے چھوڑ دی۔ یعنی ملک میں عدم تعاون کا آغازکانگریس کے خصوصی اجلاس اور اس کے فیصلے سے پہلے ہی مجلس خلافت کی پہل پر ہو چکا تھا اور اس میں مسلمان قائدانہ رول ادا کررہے تھے۔ جب کہ اس وقت مسز اینی بسنت، لالہ لاجپت رائے، پنڈت مدن موہن مالویہ، بین چندرپال اور سی آر داس جیسے بڑے رہنما اس کے خلاف تھے۔
کانگریس کا ناگپور اجلاس
کانگریس کے ناگپور اجلاس سے جنگ آزادی میں تیزی آگئی مگر عدم تعاون کے مخالف رہنمائوں کے کنارہ کش ہونے کے سبب بہار میں کانگریس کی تنظیم بالکل ختم ہو گئی تھی ایسے میں گاندھی جی کے مشورے سے بہار میں جو کمیٹی تشکیل دی گئی اس کے صدر مولانا مظہر الحق اور سکریٹری ڈاکٹر راجندر پرساد بنائے گئے۔ کمیٹی میں مولوی شفیع دائودی، مولوی زکریا ہاشمی اور شاہ محمد زبیر جیسے مسلم رہنما بھی شامل کئے گئے اور جب سرکاری اسکول کالج چھوڑنے والے ترک موالات کے حامی لڑکوں کے لئے متبادل درسگاہوں کے انتظام کا معاملہ سامنے آیا تو گاندھی جی کی ہدایت اور مولوی شفیع دائودی کے اصرار پر پٹنہ کے صداقت آشرم میں ودیا پیٹھ قائم کی گئی اور اس کے چانسلر مولانا مظہر الحق اور وائس چانسلر بابو برج کشور پرساد بنائے گئے۔ سرکاری کالج چھوڑنے والے طلباء میں جے پرکاش نارائن بھی تھے جنہوں نے یہ فیصلہ مولانا ابو الکلام آزاد کی تقریر سے متاثر ہو کر کیا تھا اور جس کا ذکر وہ ہمیشہ اپنی تحریروں اور تقریروں میں کیا کرتے تھے۔ مگر سوانح نگاروں نے عام طو رپر اس بات کا ذکر کرنا مناسب نہیں سمجھا۔ اس بات کا بھی کہیں کوئی ذکر نہیں ملتا کہ ترک موالات کی تحریک کو سب سے پہلے پر جوش گیت دینے والا بھی ایک مسلمان محمد جلیل ہی تھا۔
بدیسی کپڑوں کے بائیکاٹ اور نشہ بندی کے خلاف تحریک چلانے کی ذمہ داری گاندھی جی نے عورتوں کے سپرد کی تھی اور اس مہم کی قیادت بھی عام طور پر مسلم خواتین نے کی۔ بیگم حسن امام نے بیگم سمیع ، مسز سی سی داس اور مسز گوری داس اس محاذ پر کافی سرگرم تھیں اور ان ہی کے زیر اثر مونگیر میں بیگم شاہ زبیر بھی عوامی کارکن کی حیثیت سے پردہ سے باہر نکل آئی تھیں۔دوسرے لفظوںمیں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ اتر پردیش میں جو کارنامہ اس وقت نہرو خاندان کی خواتین نے انجام دیا وہی کام بہارمیں امام خاندان کی عورتوں نے انجام دیا تھا۔ حالاں کہ بہار میں یہ کام آسان نہیں تھا۔ پھر بھی قومی غیرت اور حمیت سے سرشار بیگم حسن امام اور بیگم سمیع نے چند بنگالی خواتین کی مدد سے ان روایتی مسلم عورتوں کو بھی پردے سے باہر نکال انگریزی ظلم و ستم کے سامنے لا کھڑا کیا جو اپنے شوہروں کا نام لینا بھی گناہ سمجھتی تھیں۔ برطانوی مال کے بائیکاٹ کی مہم کے دوران ایسی ہزاروں مسلم خواتین نے حصہ لیا۔ جنگ آزادی میں حصہ لینے والے تمام مردوں اور عورتوں کو ہمارا سلام۔
لیکن افسوس کا مقام یہ ہے کہ جن مسلمانوں نے ملک کو آزادی دلانے کے لئے نہ صرف اپنا خون بہایا بلکہ پنا سب کچھ قربان کر دیا۔ آزادی کے بعد انہیں آزادی کے فوائد سے محروم کر دیا گیا اور دھیرے دھیرے ان کی قربانیوں کی داستان کو بھی ہندستانی تاریخ کے صفحات سے حرف غلط کی طرح مٹا دیا گیا۔ نتیجہ یہ ہے کہ آج مسلمانوں کو اپنے ہی وطن میں غریب الوطن کی حیثیت سے زندگی گذارنی پڑ رہی ہے۔ ان کی حیثیت دوسرے درجہ کے شہری کی ہو گئی ہے۔ ہندستانی مسلمان تمام سہولیات سے محروم ہیں۔ ان کی حالت ملک میں دلتوں سے بھی بدتر ہو چکی ہے۔ ان سے زبانی ہمدردی کرنے والے تو بہت ہیں مگر ان کے مسائل حل کرنے والا یا انہیں ان کا آئینی حق دینے والا کوئی نہیں ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *