سہارنپور میں زبردستی مذہب تبدیل کرنے کا الزام

Share Article

 

سہارنپور کوتوالی کے گاؤں چکدیولی کے باشندہ رویندر کمار کی اہلیہ نکلیش نے اپنے بیٹے کا زبردستی مذہب تبدیل کرکے اسلام قبول کرانے کا الزام عائد کیا ہے۔ متاثرہ نے کوتوالی میں دی گئی تحریر میں شبہ ظاہر کرتے ہوئے بتایا کہ اس کے بیٹے کو دیوبند تحصیل کے گاؤں انبہٹہ شیخاں میں ڈرا دھمکا کر رکھا ہوا ہے۔ جبکہ پولیس نے نوجوان کو پوچھ تاچھ کے لئے کوتوالی میں بیٹھالیا ہے۔ جہاں اس کے والدین بھی اس کو سمجھانے میں لگے ہوئے تھے۔ تفصیل کے مطابق ہفتہ کے دن سہارنپور کوتوالی کے دیہی علاقہ کی باشندہ نکلیش اپنے ساتھ گاؤں کے کاؤنسلر سمیت دیگر گاؤں والوں کو اپنے ساتھ لیکر دیوبند پہنچی۔اس دوران جب اس نے گاؤں انبہٹہ شیخاں کے رہنے والے ایک مسلم خاندان پر اس کے بیٹے کے مذہب کو تبدیل کرتے ہوئے اجے سے خالد بنانے کا الزام لگایا تو پولیس انتظامیہ میں افرا تفری کا ماحول بن گیا۔

 

 

بعد ازاں حرکت میں آئی پولیس فوراً گاؤں پہنچی اور اجے کو اپنے ساتھ کوتوالی لے آئی۔ اور اس سے پوچھ گچھ شروع کردی۔ اس دوران خفیہ محکمہ کی ٹیم بھی اجے سے تفتیش کرنے میں لگی رہی۔ حالانکہ اجے عرف خالد کی والدہ کے ذریعہ دی گئی تحریر میں بتایا گیا ہے کہ اس کا بیٹا انبہٹہ شیخاں میں راج مستری کا کام کرنے کے لئے آیا ہوا تھا، جہاں اسے ایک خاندان کے لوگوں نے زبردستی مذہب تبدیل کرانے کی سازش شروع کردی۔ تحریر میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس کے بیٹے کو شادی کرانے کا لالچ بھی دے رکھا ہے جس کی وجہ سے اجے تقریباً دو ماہ سے گھر بھی نہیں آیا۔ نکلیش نے یہ بھی بتایا کہ اجے نے کچھ دن قبل ہی اسکے پاس فون کیا اور بتایا کہ اسے ایک خاندان کے باپ اور بیٹے نے دھمکی دی ہے کہ اگر اس نے مذہب تبدیل نہیں کیا تو اسے اسکے اہل خانہ کے ساتھ جان سے ماردیں گے یا کسی جھوٹے معاملہ میں پھنسادیں گے۔ ماں نکلیش اور باپ رویندر کے ساتھ اسکے اہل خانہ اور گاؤں کے بہت سے لوگ بھی گزشتہ روز دوپہر سے کوتوالی میں ہی بیٹھے ہوئے ہیں۔

 

 

نیزیہ لوگ پولیس پریہ بھی الزام لگا رہے ہیں کہ پولیس نے ابھی تک اس کے بیٹے کا مذہب تبدیل کرنے کی سازش رچنے والوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی ہے اور نہ ہی اجے کو ان کے سپرد کیا ہے۔ وہیں کوتوالی انچارج کلدیپ سنگھ کا کہنا ہے کہ معاملہ ان کے علم میں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پولیس معاملہ کی تفتیش میں لگی ہوئی ہے۔ پولیس کے مطابق اجے اپنی مرضی سے مذہب تبدیل کرنے کے بیان پر ہی بضد ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *