ہمارے بارے میں

چوتھی دنیا اخبار لے کر ایک بار پھر سے ہم آپ کی خدمت میں حاضر ہیں۔ یہ اخبار اپنے پہلے دور میں بے حد مقبول ہواکرتا تھا۔ سچ مانئے تو یہ اخبار نہیں ایک تحریک تھی مگر کچھ ناگزیر حالات کے سبب اس سفرکو ہمیں1993میں ہی روک دینا پڑا تھا۔اب جب ہم ایک بار پھر سے آپ کے روبرو ہوئے ہیں۔ تب بھی کوئی خاص تبدیلی نہیں ہوئی ہے۔آج بھی ہمارے سامنے وہ ہی مسائل ہیں وہ ہی حالات ہیں اور وہ ہی سوالات ہیں جو آج سے 23 سال قبل ہمارے سامنے سر اٹھائے کھڑے تھے۔ یوں تو ہم نے ان 23سالوں میں بے  پناہ ترقی کی ہے۔ سائنس و ٹیکنالوجی کا جیسے سیلاب سا آگیا ہے۔ گاؤں میں بھی ٹی وی اور انٹر نیٹ کا استعمال بے حد بڑھ گیا ہے لیکن کیاحقیقت میں اس ترقی سے عام آدمی کی زندگی بہتر ہوئی ہے۔اس کی روزی روٹی کے مسائل حل ہوئے ہیں؟جہاں تک ہمارا خیال ہے ہمیں تولگتا ہے کہ سب کچھ ویسا کا ویسا ہی ہے۔ سیاست کے رنگ وہی ہیں وہی سیاسی داؤپیچ ہیں، وہی عوام کے مسائل سے آنکھ موند کر بیٹھنے والے ہمارے سیاسی رہنما ہیں۔ بلکہ دیکھاجائے تو ہم آج بھی اسی دوراہے پر کھڑے ہیں۔ جہاں آج سے 23سال قبل تھے۔ سماج میں وہی تضاد ہے۔ امیر اور امیر ، غریب اور غریب ہوا ہے۔ متوسط طبقہ آج بھی اسی طرح اعلیٰ اور نچلے طبقہ کے بیچ میں پس رہا ہے۔ ایسے میں سوال یہ اٹھتا ہے کہ جب پہلے سے ہی لاتعداد اخبار موجود ہیں تو پھر ”چوتھی دنیا“ کو ازسرنو شروع کرنے کا کیا مطلب ہے۔ کیا اس اخبار سے سماج میں کوئی تبدیلی آئے گی؟ کیا یہ اخبار کوئی انقلاب برپا کر دے گا؟ کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ کسی بھی نئے اخبار کو شائع کرنے کے لئے ایک نام کی ضرورت ہوتی ہے اس نام کو لے کر سوالات بھی اٹھتے ہیں اور پھر دلائل کی بنا پر یہ ثابت کیا جاتا ہے کہ ہمارا اخبار کوئی انقلاب لے آئے گا۔ ہم ایسا کچھ بھی نہیں کرنا چاہتے۔ ہم کوئی ایسا دعویٰ نہیں کرتے کہ جس سے یہ ثابت کر سکیں کہ ہم ہی بہترین ہیں۔ہم یہ سب کچھ آنے والے وقت پر چھوڑتے ہیں۔ کیونکہ یہ اخبار خود ہی اپنے آپ کو ثابت کر دے گا۔ پھر بھی ہم چاہتے ہیں اس کا نام رکھنے کے پیچھے جو نصب العین ہے وہ قارئین تک پہنچا دیں۔ ہم جانتے ہیں ازل سے آج تک سماج کی جو تقسیم ہوئی ہے وہ ہمیشہ حکومتوں، زمینداروں، ساہوکاروں کی مرہون منت رہی ہے۔ سماج کی نابرابری کا سارا ذمہ انہیں کو جاتا ہے اور اسی سماجی نابرابری کی وجہ سے ترقی یافتہ ملکوں کی پہلی دنیا، مغرب کے چھوٹے لیکن ترقی یافتہ ممالک کی دوسری دنیا سے لے کر ترقی پذیر ممالک کی تیسری دنیا تک کہیں پر بھی عام آدمی شامل نہیں ہے۔ ترقی کی دوڑ میں کہیں بھی عام آدمی کا وجود نہیں ہے۔ یہ وہ عام آدمی ہے جو سماج کا معمار تو ہے پرمنتظم نہیں ہے۔ اس کے پاس اگر کچھ ہے تو صرف اس کے بازوؤں کی طاقت ہے۔ اس کی آواز سننے والا کوئی نہیں۔ اس کا کوئی ملک نہیں۔ اس عام آدمی کا حال تمام ممالک میں ایک ہی جیسا ہے اور کہنے کو سارا جہاں اسی کا ہے۔ کیونکہ سیاسی مقامروں نے نہایت چالاکی سے اسے جغرافیائی حدود میں مقید کر دیا ہے۔ ان تینوں ہی دنیا کے معنی آج عوام کے بجائے وہاں کی حکومتوں کے مفاد میں چھپ گئے ہیں۔ اپنے اخبار کا یہ نام ”چوتھی دنیا“رکھنے کے پیچھے ہماری ایماندارانہ کوشش بس یہی ہے کہ ان تینوں دنیاؤں کے سیاسی مقامروں نے جن لوگوںکو ایک طرف کھڑا کر دیا ہے اور سماج میں حد بندی کر دی ہے۔ ہم ان کی توقعات ، ان کی آرزووں، ان کے دکھ درد اور ان کی جدوجہد میں شامل ہو جائیں۔ ہم یقینا ًدنیا کی اس فرضی تقسیم کے حمایتی نہیں ہیں۔نہ ہی ہم کوئی متوازی دنیا کھڑی کرنا چاہتے ہیں۔ ہم تو بس ان تمام محروم اور ستائے ہوئے لوگوں کے حمایتی بننا چاہتے ہیں۔ جن کی آواز اس شوروغل میں کہیں دب کر رہ گئی ہے جو اپنے ملک میں کہیں پیچھے چھوٹ گئے ہیں۔ یہی لوگ ہماری چوتھی دنیا کے ہیرو ہیں۔ ہماری کوشش یہی رہے گی کہ اپنے حقوق اور اپنے وقار کے لئے لڑتا ہوا یہ عام آدمی اس اخبار کے ذریعہ اپنی حقیقی تصویر دیکھ سکے اور اس اخبار کو اپنے دکھ دردکا ساتھی سمجھ کر اس پر بھروسہ کرے ۔ یہی اس اخبار کا صحیح استعمال بھی ہوگا اور مطلب بھی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *