جسمانی، ذہنی و نفسیاتی طورپر معذور افراد پوری دنیا کی آبادی کا15فیصد ہیں جب کہ ہندوستان میں یہ 2001کی مردم شماری کے مطابق کل آبادی کا 2.1فیصد یعنی21ملین ہیں۔ اتنی بڑی آبادی کے اپنے جذبات ہیں، اپنے حساسات ہیں، اپنی امنگیں ہیں، اپنی امیدیں وتوقعات ہیں اور انہیں دوسروں کی طرح اپنی زندگی جینے کا پورا حق ہے مگر ان کے تئیں عدم توجہی کے سبب انہیںنہ ان کا حق ملتا ہے اور نہ ہی انہیں کوئی نارمل انسان گردانتا ہے۔ ضرورت ہے کہ انہیں زندہ مخلوق سمجھا جائے اور سماج کا ناگزیر جز تسلیم کیا جائے تاکہ ان کے اندر خود انحصاری اور خود اعتمادی آپائے اور وہ ترقی کی دوڑ میں ملک کے دیگر لوگوں کے ساتھ شانہ بشانہ چل سکیں۔

اے یو آصف
p-4جیسا کہ سبھی لوگ جانتے ہیں کہ رواں صدی کے شروع ہوتے ہی دنیا کو ترقی کے لیے ایک جامع ایجنڈا دینے کی غرض سے ملینیم ڈیو لپمنٹ گولس (ایم ڈی جی) کے نام سے ایک ہزار سالہ ترقیاتی عزائم طے کیے گئے تھے، مگر 8نکاتی اس ڈاکومینٹ میں سب سے بڑی کمی یہ رہ گئی تھی کہ اس میں دنیا کی آبادی کے 15فیصد حصے کا کوئی ذکر ہی نہیں تھا، جوکہ سب سے زیادہ حاشیہ پر رہ رہے طبقات میں سے ایک ہے۔ اس میں وہ لوگ ہیں جو کہ جسمانی ، ذہنی و نفسیاتی طور پرمعذور (Disabled) ہیں۔ ان 15فیصد معذور لوگوں میں 80فیصد انتہائی غربت و دیگر نابرابریوں اور ناانصافیوں سے گلوبل جنوب میں نبرد آزما ہیں، جوکہ دنیا کے غریب لوگوں کا 20فیصد ہے۔
اس کے برعکس یہ بھی قابل ذکر ہے کہ اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل کے ذریعے مابعد 2015کے تعلق سے تشکیل کردہ اعلیٰ سطحی پینل کی تیا ر کی گئی رپورٹ جوکہ مئی 2013میں ریلیز ہوئی، میں معذور طبقات کا پورے طور پر ذکرموجود ہے اور اسی کے ساتھ ساتھ اس میں مذکورہ بالا ایم ڈی جی کے عزائم میں اس کمی اور اس کے سب سے زیادہ حاشیہ پر رہ رہے لوگوں تک پہنچنے میں نا کامی کا اعتراف کیا گیا ہے۔ توقع ہے کہ اگست 2013میں اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل کی جو فائنل رپورٹ منظر عام پر آئے گی، وہ مئی 2013میں ریلیز کی گئی مابعد 2015پینل رپورٹ کے حقائق پر مبنی ہوگی اوراس میں دنیا کی 15فیصد آبادی کی فلاح و ترقی کا پورا خیال رکھا جائے گا۔ معذوروں کے حقوق کے لیے جو لوگ فکر مند رہتے ہیں اوران کی فلاح کے لیے کام کرتے ہیں، وہ اس مابعد 2015پینل رپورٹ سے بہت خوش ہیں اور اسی طرح سوچ و سمجھ رکھنے والے معذوروں میں بھی خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے، مگر تلخ حقیقت تو یہ بھی ہے کہ اس بنیادی دستاویزمیں بھی بہت سی کمیاں اور خامیاں ہیں۔ یہ بہت سے مثبت نکات کے باوجود زبردست تعاون کے محتاج معذور افراد، ذہنی طور پرمعذورافراد اور نفسیاتی طور پر معذور افراد جن کو کوئی قانونی حیثیت حاصل ہی نہیں ہے، کے لیے بے معنی ہے۔ انھیں تو کوئی انسان ہی نہیں گردانتا ہے۔
لہٰذا سچ تویہ ہے کہ ان نابرابریوں کو تسلیم کیے بغیر مابعد 2015 کوئی بھی دستاویز یا ایجنڈا جسمانی، ذہنی و نفسیاتی معذوروں کے لیے ہر گز مفید ثابت نہیں ہوسکتا ہے اور اس کا ’’کسی کو بھی پیچھے نہ چھوڑنے‘‘ کا بنیادی مقصد پورا نہیں ہوسکتا ہے۔ اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ اس مابعد 2015ڈیولپمنٹ ایجنڈے پر نظر ثانی کی جائے تاکہ اقوام متحدہ سکریٹری جنرل کی حتمی رپورٹ میں وہ سب کچھ بھی موجود ہو جو کچھ اس میں آنے سے رہ گیا ہے۔
ذیل میں مابعد 2015پینل رپورٹ کے چند مثبت نکات اور کمیوں کا تذکرہ کیا جارہا ہے، جس سے صحیح طور پر دنیا بھر کے معذوروں کی صورتحال کا اندازہ ہوتا ہے۔مثبت نکات میںایک بات تو یہ ہے کہ اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سبھوں کی ترقی کی فکر کرنا حقوق انسانی ہے۔ نیز اس میں Inclusionاور سوشل جسٹس کو دستاویز کے رہنما اصولوں کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ جسمانی، ذہنی و نفسیاتی معذوریت کو ایک ایسے حاشیہ پر رہ رہے لوگوں میں شامل کیا گیا ہے، جسے پیچھے چھوڑکر نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ہے۔ تیسری بات یہ ہے کہ اس معذوریت کو Cross-cutting تشویش کے طور پر لیا گیا ہے اور چوتھی بات یہ ہے کہ اس رپورٹ میں زور دیا گیا ہے کہ Disability Disaggregated ڈاٹا کو ڈاٹا ریوالیوشن(Data Revolution) کا جز بنایا جائے، کیونکہ اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ معتبر اور Disability Disaggregated Data کی زبردست کمی رہی ہے۔ مذکورہ مابعد 2015پینل رپورٹ میں مذکورہ بالا مثبت نکات کے باوجود یہ کمی زبردست طور پر محسوس ہوتی ہے کہ اس میں ترقی کا یونیورسل ایجنڈا اور Non-Discriminination یعنی تفریق نہ کرنے کے اس کے مقاصد اور Indicatorsمیں مذکورہ معذوریت کا کوئی تذکرہ نہیں ہے۔ دوسری کمی یہ ہے کہ اس میں انتہائی غربت کا بھی کوئی ذکر نہیں ہے۔ تیسری کمی یہ ہے کہ بڑھتی ہوئی عمر یا ضعیفی اور معمر افراد کا بھی اس میں کہیں نام و نشان نہیں ہے۔ چوتھی کمی یہ ہے کہ یہ رپورٹ حیرت انگیز طور پر ذہنی مرض (Mental Health) کا ذکر ہی نہیں کرتی ہے، جبکہ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق دنیا میں 450ملین افراد ذہنی مریض ہیں۔ پانچویں کمی یہ ہے کہ معذور لڑکیوں و خواتین کے جنسی اور Reproductive ایشوز خصوصاً جبراً نس بندی پر بھی کوئی واضح بات نہیں کہی گئی ہے۔ چھٹی کمی یہ ہے کہ جسمانی، ذہنی و نفسیاتی معذوروں کے لیے ترقی کا اس میں کوئی منصوبہ نہیں ہے۔

مابعد 2015پینل رپورٹ کو مکمل طور پر دیکھتے ہی یہ احساس ہو جاتا ہے کہ اس میں جسمانی، ذہنی و نفسیاتی معذوروں کی سوشل جسٹس کا کوئی واضح نقشہ نہیں ہے۔ لہٰذا سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا سوشل جسٹس کے بغیر ان کی ترقی کی بات کی جاسکتی ہے؟

معذوروں میں حوصلہ اور خود اعتمادی کا ایک تجربہ
جسمانی ، ذہنی و نفسیاتی طور پر معذوروں کی اس دنیا میں جو مقام و حیثیت ہے، وہ کسی سے ڈھکی چھپی ہوئی نہیں ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ ان میں سے بیشتر خاص کر ذہنی و نفسیاتی معذوروں کو کوئی شخص انسان ہی نہیں سمجھتا ہے۔ بہرحال یہ بات خوش آئند ہے کہ اقوام متحدہ کے ساتھ ساتھ دنیا کے مختلف ممالک میں سرکاری و غیر سرکاری طور پر ان کی جانب کچھ توجہ اب مبذول ہونے لگی ہے۔ ان کے تعلق سے متعدد تنظیمیں اور عام تعلیم سے لے کر تکنیکی تعلیم تک کے ادارے روز بروز بڑھتے جارہے ہیں۔ بعض ملکوں میں کچھ قوانین بھی بنائے گئے ہیں۔ حقوق انسانی تنظیمیں و کارکنان بھی ان افراد میں دلچسپی لینے لگے ہیں۔
ہمارے ملک ہندوستان میں بھی سرکاری و غیر سرکاری سطح پر کچھ دلچسپی دکھائی پڑتی ہے۔ جسمانی طور پر معذور افراد کی تعلیم و تربیت، ملازمت اور ان کی شادی بیاہ بھی بڑا مسئلہ ہے۔ جہاں تک شادی بیاہ کا معاملہ ہے، ملک کی مختلف ریاستوں بشمول گوا، مہاراشٹر، آندھرا پردیش، ہماچل پردیش اورتمل ناڈو میں حکومتیں 25سے 50ہزار روپے کی عطیہ رقم بھی اس کارِ خیر میں ہمت افزائی کے لیے دیتی ہیں ۔ لیکن مسئلہ صرف مالی تعاون تک محدود نہیں ہے۔ جب تک لوگوں کی جسمانی طور پر معذور افراد کے بارے میں سوچ نہیں بدلے گی، اس قسم کی سرکاری اسکیموں سے کوئی بڑا فائدہ نہیں ملنے والا ہے۔ اس تعلق سے ایک مثال برطانیہ میں ایک عرصے تک رہے ، ان دنوں دہلی کے معروف سماجی کارکن و دانشور خالد صابر الٰہ آبادی کی ہے۔ انھوں نے تقریباً 20برس قبل امریکہ میں ایک لمبے عرصہ سے مقیم معروف ادیب وشاعر م نسیمؒ کی جسمانی طور پر معذور صاحبزادی سے خالص انسانی جذبہ سے دوسرا نکاح کیا۔ اس طرح کی مثالیں سماج میں یقیناً معذوروں کی ہمت بڑھاتی ہیں۔ معذور افراد بھی انسان ہیں۔ انھیں دیگر افراد کی طرح اپنی زندگی جینے کا پورا اختیار ہے، لہٰذا ان کی ہر طرح سے ہمت افزائی کی نہایت ضرورت ہے۔ اس ضمن میں ایبلٹی انلمیٹڈ فاؤنڈیشن (اے یو ایف) بھی قابل ذکر ہے۔ یہ ایک رجسٹرڈ سول سوسائٹی ہے جو کہ جسمانی طور پر معذور افراد کی بلا لحاظ مذہب، ذات وبرادری اور رنگ و نسل فلاح وترقی کے لیے کام کرتی ہے۔ اس کے بانی گرو سید صلاح الدین پاشا جنھیں حکومت ہند کی وزارت سوشل جسٹس اینڈ ایمپاورمنٹ کی جانب سے قومی ایوارڈ مل چکا ہے، کا کہنا ہے کہ ان کے فاؤنڈیشن کا مقصد سوائے اس کے کچھ نہیں ہے کہ جسمانی طور پر معذور افراد کے اندر کی اخفی صلاحیت کو ابھارکر انھیں سماج میں یکساں مقام دلایا جائے۔ انھوں نے18جولائی کو نئی دہلی میں ویمن پریس کار بیس میں منعقد ایک پریس کانفرنس کے دوران’ چوتھی دنیا‘ کے ایک سوال کے جواب میںکہا کہ ان کے فاؤنڈیشن نے جسمانی طور پر معذور افراد کے تئیں سماج میں پھیلی منفی سوچ کو ختم کرنے کے لیے تھیراپٹیک ایجوکیشن ووکیشنل ٹریننگ ، پروفیشنل ڈانس اور تھیٹر کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ ان کے مطابق ان تمام پروگراموں سے جسمانی طور پر معذور افراد میں برابری، شناخت، یکساں مواقع، مکمل حصہ داری اور سیکورٹی کا احساس اور جذبہ ابھرتا ہے۔
گرو سید صلاح الدین پاشانے اس سلسلے میں دہلی سے 26کلو میٹر دور غازی آباد ضلعکے محی الدین پور ڈابرسی گاؤں میں تھیراپیٹک ایجوکیشن سینٹر 60ہزار اسکوائر فٹ ایریا پر قائم کیا ہے۔ اس میں 150جسمانی طور پر معذور افراد کے لیے آرٹ و کرافٹس، تعلیم اور قیام کا نظم ہے۔ یہ سینٹر انھیں ڈانس، ڈرامہ، ویزوئل آرٹ، یوگا، ریدم تھیراپی، اسٹوری ٹیلنگ، کوریو گرافی اور موسیقی کے میدان میں ان کی دلچسپی کو پیدا کرتا ہے اور ان سب سے ان میں خود اعتمادی بڑھتی ہے۔ اس ہاسٹل میں سولر انرجی سے بجلی، نیز آرگینک فارمنگ اور 24گھنٹے گنگاپانی کی سپلائی کابہترین نظم ہے، یہ تمام سہولیات مفت فراہم کی جاتی ہیں۔
جسمانی طور پر معذور افراد کے تعلق سے اس قسم کے پروگرام ان کی اخفی صلاحیتوں کو ابھارنے ، انھیں عزت و وقار اور نام و نمود دلانے اور خود اعتمادی پیدا کرنے میں یقیناً مدد کرتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ گرو سید صلاح الدین پاشا کے ایبلٹی انلمیٹڈ فاؤنڈیشن جیسے تجربات مزید کیے جائیں، تاکہ ہمارے ملک میں 2001کی مردم شماری کے مطابق 2.1فیصد (21ملین افراد) جسمانی طور پر معذور آبادی کے اندر جینے کاحوصلہ اورخود اعتمادی بڑھے اوروہ ملک کے دوسرے شہریوں کے شانہ بشانہ ترقی کی دوڑ میں شامل ہو سکے۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here