ابا بیلوں کا انتظار کیوں

Share Article

وحید الظفر خان 
تقریباً پندرہ سو سال گزرے جب قرآن پاک نے سب سے پہلے واضح طور پر سورہ فیل میں فائٹر پلین اور میزائل کاکانسیپٹ اس دنیا کو دیا تھا۔ کچھ قوموں نے اس واقعہ کو معجزہ سمجھا اور کچھ قوموں نے آسمانی ہدایت کی عملی تلقین کی تحریک۔ المیہ یہ ہے کہ جو قوم قرآن پاک کو کتاب ہدایت کہتی رہی ہے مگر ہدایت کے حصول کے لیے جس شعور و ادراک کے استعمال کی ضرورت ہے اس سے آج تک محروم ہے۔ اس ضمن میں سورہ فیل میں ابابیلوں کے ذریعہ شیطانی طاقت کو تہس نہس کردینے کی تفصیل کسی تعارف کی محتاج نہیں۔سورہ فیل مستقل طور پر قرآن پاک کا ایک اہم جزو ہے، جو واقعہ اس سورہ میں موجود ہے اس کی اہمیت اور حیثیت بھی دائمی ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس واقعہ کو قرآن پاک میں کیوں شامل کیا گیا ہے۔ صرف ایک تاریخی واقعہ کی حیثیت سے یا کسی معجزہ کی حیثیت سے جیسا کہ عام طور پر تصور کیا جاتا ہے، اگر اس واقعہ کو آسمانی معجزہ سے منسوب کیا جائے اس بنیاد پرکہ قادر مطلق کی ذات میں اس کے بندوں کا یقین و ایمان مستحکم ہو تو زلزلہ، آندھی ، طوفان ، سیلاب ، آتش فشاں منجملہ کائنات ہی ایک معجزہ ہے۔ بالفرض اگر اس سورہ کو قرآن پاک میں شامل نہ بھی کیا گیا ہوتا تو کیا اللہ تعالیٰ کی قدرت و حکمت کے استناد میں کوئی کمی واقع ہوتی، ہرگز نہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ واقعہ بے حد اہم تحریک کا حامل ہے۔ اس کا معجزہ سمجھنا مقصد خداوندی کی حکمت و ہدایت سے صریحاً بغاوت ہے اور ساتھ ہی زندگی کے پْرآشوب حالات میں اس ہدایت سے برگشتگی کی وجہ سے اس کی افادیت سے محروم اور ایک طرح سے حکم خداوندی کی نافرمانی ہے۔

 ’’اصحاب فیل‘‘ سے مراد صرف ابرہہ یا اس کی فوج ہی نہیں یا صرف تاریخی حوالہ ہی نہیں بلکہ یہ ایک جامع علامت ہے ایک Symbolہے، نخوت و تمکنت اقتدار و حشمت ، جاہ وثروت اور تکبر و رعونت کی جس کوکچل ڈالنا اللہ کی سنت ہے کیونکہ یہ آسمانی مشن سے بغاوت ہے۔ اسی طرح اس سورہ کی دوسری آیت میں بھی متوجہ کرکے غور کرنے کا مطالبہ ہے۔

اَلَم تَر ’’ کیا نہیں دیکھا تو نے ‘ ‘ اس سورہ کی ابتداء ہی ڈرامائی انداز سے ہوتی ہے۔ یعنی انگریزی میں (Dramatic Opening) ہے۔ جس کے تخاطب میں دیکھنے پر اصرار موجود ہے۔ گویا یہ ایک ایسا اہم واقعہ ہے جس کو نہ دیکھنا ممکن ہی نہیں۔ یہ تخاطب ہر دور کے ہر فرد ہر قوم سے براہِ راست ہے۔ یہ خطاب بالکل اسی طرح ہے جیسے کوئی کہے کہ کیا تمہیں نہیں معلوم کہ عراق پر امریکہ نے حملہ کردیا ہے۔ یا تمہیں نہیں معلوم کہ پاکستان کا ایک حصہ بنگلہ دیش بن گیا ہے۔ یعنی کسی اہم واقعہ کی اہمیت کو جتانا اور اسی پر شہادت طلب کرنا۔ قرآن پاک کے اسلوب میں عموماً نفی سے اثبات کو استحکام دیا گیاہے۔ گویا تو نے بہت غور اور توجہ سے observe کیا ہوگا کہ تیرے رب نے اصحاب فیل کے ساتھ کیا تدابیر، کیا لائحہ عمل اور کیا طریق کار اپنائے۔
’’اصحاب فیل‘‘ سے مراد صرف ابرہہ یا اس کی فوج ہی نہیں یا صرف تاریخی حوالہ ہی نہیں بلکہ یہ ایک جامع علامت ہے ایک Symbolہے، نخوت و تمکنت اقتدار و حشمت ، جاہ وثروت اور تکبر و رعونت کی جس کوکچل ڈالنا اللہ کی سنت ہے کیونکہ یہ آسمانی مشن سے بغاوت ہے۔ اسی طرح اس سورہ کی دوسری آیت میں بھی متوجہ کرکے غور کرنے کا مطالبہ ہے۔ ’’الم یجعل کیَدہْم فی تضلیل‘‘ کہ ہم نے کس طریقہ کار سے کس حکمت عملی کو اپنا کر اصحابِ فیل کی شاطرانہ چالوں اور شیطانی منصوبوں کی بیخ کنی کی۔ قرآن پاک کی یہی وہ معجز نگاری ہے جس میں مؤثر طریقہ پر تفصیلات کو مقید کردیا گیا ہے۔ اس لائحہ عمل کو ایک Modelیا مثال کے طور پر Emphasise کیا گیا ہے تاکہ انسان آگاہ ہوسکے کہ ایسے سنگین حالات میں کیا طریقہ کار اختیار کرنا چاہیے۔ ورنہ کیوں ضروری ہو کہ اللہ اپنے طریقِ کار کی طرف انسان کی توجہ اس قدر اصرار کے ساتھ مبذول کرے۔اگر اس واقعہ کے تذکرہ سے مراد معجزہ کا اظہار ہوتا تو قدرتِ خداوندی ابرہہ کی فوج کے تمام سپاہیوں اور ہاتھیوں کو سنگی مجسموں میں تبدیل کردیتی تاکہ ہر عہد میں لوگ عبرت حاصل کرنے کے لیے اس مقام کا مشاہدہ زندہ آنکھوں سے کرتے رہیں یا پوری فوج کو ہوا میں تحلیل کردیتی یا سب فوجی پانی بن کر زمین میں جذب ہوجاتے ، جو انسانیت طاقت و قوت کے دائرہ عمل سے باہر ہوتا۔ یہاں جو کچھ بھی کیا گیا اس کی تقلید کے لیے انسانی ذہن کو اختیار و قدرت بھی عطا کی گئی ہے اگر وہ اس علامت کی رمز کو Decodeکرسکے تو Divine Strategy کا خاطر خواہ فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ جس کی مزید تفصیل اس آیت میں موجود ہے۔ ’’فارسل علیہم طیراً ابابیل‘‘ ہم نے ان کی مکارانہ چالوں کو برباد کرنے کے لیے ابابیل پرندوں کو فضا میں اڑتے ہوئے وہاں بھیجا۔ یہ منظر ہوبہو اسی طرح ہے جیسے دشمن کی فوج کو مسمار کرنے کے لیے جنگی ہوائی جہازوں کو بھیجا جاتا ہے۔ لیکن جہاز خالی نہیں جاتے بلکہ ان میں میزائیلوں اور بموں کا ذخیرہ بھی موجود رہتا ہے۔ اسی طرح ابابیلوں کے پاس بھی سجیل پتھر موجود تھے تاکہ وہ ان پتھروں کو غنیم کے لشکر پر پھینکیں۔ ’’ترمیہم بحجارۃِ من سجّیل‘‘ ایک ایسے منظر کی تصویر کشی ہے جہاں دور حاضر میں فائٹر پلین کے ذریعہ بموں اور میزائلوں سے دشمن کو Strikeکیا جاتا ہو۔ یہاں ’’بحجارۃمن سجّیل‘‘بے حد اہمیت کا حامل ہے۔ کیونکہ یہ پتھر صرف معمولی اور عام پتھر نہیں تھے بلکہ آگ میں پکے اور تپے ہوئے پتھر تھے۔ جن کی ضرب ہلاکت خیز تھی۔ جس کا واضح اشارہ انسان کی صنعت و حرفت سے ہے۔ آگ میں تپانا ایک ٹیکنالوجی (Technology) ہے جو اس مادی دنیا میں انسان کے لیے اہم ضرورت ہے۔ میزائل اور بم دونوں میں آگ موجود ہے اور دونوں آگ میں ہی تپا کر بنائے جاتے ہیں۔ اور غالباً آگ میں تپانے کا استعارہ ان ہی بموں اور میزائل دونوں کا انسان کے ذریعہ وجود میں آنا ہے۔ وگرنہ ’’من سجیل‘‘ کی اس آیت میں وضاحت کی ضرورت ہی نہ تھی صرف ’’حجارۃ‘‘ یعنی پتھر سے بھی مقصد پورا ہوسکتا تھا۔ ’’من سجیل‘‘ انسان کی سوچ اور شعور کو انتہائی احتیاط کے ساتھ اس ٹیکنالوجی کو حاصل کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ ہر صرف علم واقف ہے کہ لوہا زمین سے برآمد ہوتا ہے، جو Iron ore کہلاتا ہے جس کو بھٹیوں میں پگھلا کر آگ میں تپا کر مختلف Process سے گزارا جاتا ہے اور پھر حسب ضرورت شکلوں میں ڈھال لیا جاتا ہے۔ میزائل ، بم، کارٹریج اور دیگر آلات حرب و ضرب اسی زمین سے نکلے ہوئے اور آگ میں تپی ہوئی شکلیں ہیں۔ ابابیلوں کے ذریعہ دشمنان اسلام کی تباہی بھی ایک مستقل اشاریہ ہے کہ فضا سے بھی دشمنوں کو نیست و نابود کرنے کا کام لیا جاسکتا ہے۔ اس علامتی اشارہ کو سمجھ کر زندہ قوموں نے لوہے کی ابابیلیں اور سجیل کی میزائل اور بم بنالیے ہیں اور دنیا پر اپنا تسلط قائم کیے ہوئے ہیں۔سورہ فیل میں ’’الم تر‘‘ کا مخاطب کون ہے؟ کیا مسلم قوم نہیں اور اگر ہے تو کیا یہ تحریک اور رہنمائی نہیں کہ دنیا میں اسباب و علل کو پیش نظر رکھتے ہوئے حکمت عملی سے طاغوتی طاقتوں کا مقابلہ کیا جائے۔ (قرآنی تراجم میں ’’الم تر‘‘ کا مخاطب عموماً رسول کو بنایا گیا ہے۔ حالاں کہ رسول کی بعثت اس واقعہ کے بعد ہوئی ہے۔ حقیقتاً قرآن رسول کے لیے نہیں بلکہ رسول کے ذریعہ انسانوں کے لیے نازل کیا گیا ہے۔
اس سورہ کی پہلی آیت میں تہدیدی انداز اختیار کرتے ہوئے رب نے دفاع کے طریقِ کار پر غور و فکر کرنے پر بندوں کی توجہ مبذول کی ہے جس کو Thinking Process سے تعبیر کیا جاسکتا ہے۔دوسری آیت میں طاغوتی منصوبوں کو تاراج کرنے کے لیے جس حکمت عملی کو اختیار کیا گیا ہے اس کی وضاحت موجود ہے جس کو Planning کہا جاتا ہے۔تیسری آیت میں جس جنگی حکمت عملی کی صراحت کی گئی تھی۔ اس پر عملی اقدام کیا گیا ہے جسے جنگی اصطلاح میں Action کہتے ہیں۔ یہاں Striking Force کو ابابیلوں اور Lethal Magazine کو حجارۃ من سجیل کے ذریعہ نمایاں کیا گیا ہے۔ آخری اور چوتھی آیت میں کبرو نخوت کے نشہ میں خدائی طاقت سے مبارزت طلب کرنے کے نتائج کو واضح کیا گیا ہے، جو مکمل تباہی کے سوا کچھ بھی نہیں۔ یہ سورہ انسان کو فکر یعنی غورو خوض، اس کے بعد تدبیر یعنی حکمت عملی تیار کرنا اور جہاد یعنی پوری کوشش اور توانائی کے ساتھ عمل کرنے کا پورا طریق کار سکھاتی ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *