اب لوک پال نہیں بنے گا

Share Article

ڈاکٹر منیش کمار
جس بات کا ڈر تھا وہی سچ ہونے جا رہا ہے۔ ملک میں اب ایک سچا اور بدعنوانیوں  سے نجات دلانے والا لوک پال نہیں بنے گا۔ اس کے لیے حکومت، کانگریس پارٹی ، اپوزیشن پارٹیاں اور انا ہزارے ذمہ دار ہیں۔ ان سب سے غلطیاں ہوئی ہیں ۔ ایسی غلطیاں جسے ملک کے عوام کبھی معاف نہیں کریں گے۔ لوک پال کے نام پر ملک میں جو سیاسی ماحول بنا ہے وہ باکسنگ سے کم نہیں ہے، جسے جہاں موقع ملتا ہے پنچ مار دیتا ہے۔ کانگریس انا ہزارے کو کبھی آر ایس ایس کا ایجنٹ بتاتی ہے تو کبھی تانا شاہ۔ انا ہزارے اور ان کے معاون حکومت کو دھوکہ باز اور جھوٹا بتاتے ہیں ۔ بھارتیہ جنتا پارتی اور کانگریس میں الگ تو تو میں میں چل رہی ہے ۔ ملک کے عوام بدعنوانی کو جڑ سے ختم ہوتے دیکھنا چاہتے ہیں۔ افسوس اس بات کا ہے کہ یہ  بنیادی مدعا ہی ان لوگوں کے ایجنڈے میں شامل نہیں ہے۔ یہ سب ہوشیار لوگ ہیں۔ یہ کالی داس نہیں ہیں کہ جس ڈال پر بیٹھے ہیں اسے ہی کاٹنے لگ جائیں۔
ہمارے ملک میں سرکاری مشینری کے ساتھ ساتھ بدعنوانی کی بھی مشینری موجود ہے۔ بدعنوانی کی یہ مشیرنی ملک کے عوام کو تونظر آرہی ہے لیکن سرکار کی آنکھیں اندھی ہو چکی ہیں، اس لیے سرکاری مشینری اور بدعنوانی کی مشیرنی ایک دوسرے میں خلط ملط ہوگئی ہیں۔ ڈرائیونگ لائسنس چاہیے تو سرکار کا قانون ہے، جس کے ذریعہ آپ کو لائسنس نہیں مل سکتا ،کیوں کہ آپ شوماکر کیوں نہ ہوں، آپ اس ٹیسٹ کو پاس ہی نہیں کر سکتے۔ البتہ لائسنس کے لیے بدعنوانی کی مشینری موجود ہے۔ کچھ رشوت دیجیے، لائسنس آپ کے گھر پر پہنچ جائے گا۔ ریلوے میں ریزرویشن کرنا ہو تو لائن میںلگے رہیں لیکن سیٹ نہیں ملے گی، تتکال سیوا میں بھی نہیں۔ ٹکٹ دلالوں کو پکڑیے آپ کے نام کے ساتھ ٹکٹ مل جائے گا۔ آپ کسی بھی سرکاری محکمے میں جائیں، وہاں دو طرح سے کام کرائے جا سکتے ہیں، ایک سرکار کے ذریعہ بنایا گیا قاعدہ قانون ہے اور وہیں رشوت دے کر کام کرانے کا طریقہ بھی موجود ہے۔ ملک کے عوام کا اس سے روزانہ سامنا ہوتا ہے، اس لیے لوگ ناراض ہیں۔ سرکار کے ملازمین ، لیڈر ، صنعت کار اور وہ سارے لوگ جو عام آدمی نہیں ہیں وہ اس بدعنوانی کی مشینری پر پل، بڑھ رہے ہیں۔ کوئی بھی سیاسی پارٹی یا سرکار اس بدعنوانی کو ختم نہیں کرے گی کیوں کہ یہی ان کے جینے کا مقصد ہے۔یہی ان کی لائف لائن ہے۔ یہیں سے انہیں انتخاب لڑنے کے لیے پیسے ملتے ہیں۔ اقتدار کا ہر حصہ دار ذاتی طور پر یا تنظیم سے جڑ کر اس غیر قانونی کردار کو برقرار رکھنا چاہتا ہے۔ ہمارے ملک میں بد عنوانی اتنی مضبوط ہوچکی ہے کہ عوامی مشینری کی طاقت بھی اس پر کوئی اثر نہیں چھوڑ پاتی ہے۔ ملک کے عوام نے کئی بدعنوان حکومت کو اقتدار سے باہر تو کیا، لیکن بدعنوانی کے اثرات کو ختم نہیں کرسکے۔ وزیر برائے فروغ انسانی وسائل کپل سبل کہتے ہیں کہ وہ حکومت کے متوازی کوئی غیر آئینی ڈھانچہ کھڑا نہیں کر سکتے۔حکومت اپنی طاقت کو کس طرح غیر قانونی طریقے سے بانٹ سکتی ہے ۔ سمجھنے والی بات یہ ہے کہ وزیر موصوف کو سول سوسائٹی کے لوگ غیر آئینی ڈھانچہ لگتے ہیں۔ لیکن ملک میں جو بدعنوانی کا متوازی غیر آئینی ڈھانچہ چل رہا ہے وہ انہیں نظر نہیں آتا ۔ اسے ختم کرنے کی ذمہ داری کس کی ہے۔ ملک کے ڈھائی سو سے زیادہ ضلعوں میں نکسلیوں کی غیر قانونی سرکار چل رہی ہے اس کے بارے میں سرکار کے پاس کیا جواب ہے۔
لوک پال بل بنانا سرکار کی ذمہ داری ہے۔ سرکار کا کہنا ہے کہ 30 جون تک سخت لوک پال بل کا مسودہ تیار ہوجائے گا۔ لیکن سرکار اور ان کے وزیروں کا جو رویہ ہے اس سے یہی لگتا ہے کہ وہ لوک پال تو بنانا چاہتے ہیں لیکن حقوق انسانی کمیشن کے صدر اور ویمن کمیشن کی صدر کی طرح بے اثر لوک پال بل بنانا چاہتے ہیں، جو وزیر اعظم، ججوں، بڑے افسروں اور ممبران پارلیمنٹ کو بدعنوانی میں شامل ہوتے تو دیکھ سکتا ہے لیکن اس پر کوئی کاروائی نہیں کر سکتا۔ آج سرکار اور کانگریس پارٹی کٹہرے میں کھڑی دکھائی پڑتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انا ہزارے نے پھر سے بھوک ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔ یہ بے حد افسوسناک صورتحال ہے کہ عوام کی نظروں میں سرکار اور کانگریس پارٹی بدعنوانی کی حمایت کر رہی ہے۔ وجہ صاف ہے، پچھلے ایک سال سے گھوٹالوں کے سامنے آنے کا جو دور شروع ہوا ہے وہ رکنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ سپریم کورٹ کی وجہ سے یو پی اے کے وزیر مواصلات اے راجا جیل میں ہیں۔ اتحادی پارٹی کے لیڈر کروناندھی کی بیٹی کنی موئی جیل میں ہے ۔ کانگریس پارٹی کے لیڈراور دولت مشترکہ کھیلوں میں لوٹ مچانے والے کلماڑی جیل میں ہیں ۔ جو بھی چانچ رپورٹ آرہی ہے اس میں سرکار اور کانگریس کے لوگوں کا نام آرہا ہے ۔ ایک طرف رام دیو اور انا ہزارے بد عنوانی کے خلاف لڑ رہے ہیں، لوک پال پر بحث ہو رہی ہے، اس دوران یو پی اے کے دوسرے وزیروں پر بد عنوانی کے الزام لگ رہے ہیں۔ٹکسٹائل کے وزیر دیاندھی مارن پر تلوار لٹک رہی ہے۔ بی جے پی اب وزیر داخلہ پر 2 جی اسپیکٹرم گھوٹالے میں پیسے لینے کا الزام لگا رہی ہے۔ پی چدمبرم کا استعفیٰ مانگ رہی ہے۔ ان سب کے درمیان حکومت اور کانگریس پارٹی کے ذریعہ دی گئی ساری دلیلیں بے معنی لگتی ہیں۔ عوام کا بھروسہ اٹھ چکا ہے۔
لوک پال کو لے کر سول سوسائٹی اور سرکار کے درمیان وزیر اعظم کے نام پر اختلاف ہورہا ہے۔ سول سوسائٹی وزیر اعظم کو لوک پال کے دائرے میں لانا چاہتی ہے، لیکن سرکار کی پالیسی اس کے خلاف ہے۔اس سے کئی سوال کھڑے ہوتے ہیں ۔ پرنب مکھرجی این ڈی اے کی حکومت کے دوران لوک پال بل بنانے والی کمیٹی کی نمائندگی کر رہے تھے۔ انہوں نے جو بل تیار کیا ،اس میں وزیر اعظم کو بھی لوک پال کے دائرے میں رکھا۔ اس وقت اٹل بہاری واجپئی وزیر اعظم تھے۔ انہوں نے بھی  کوئی اعتراض نہیں کیا۔اب ایسی کیا بات ہو گئی کہ پرنب مکھرجی وزیر اعظم کو لوک پال کے دائرے سے الگ رکھنا چاہتے ہیں ۔ اس سوال کا جواب کانگریس پارٹی کو ملک کے عوام کو دینا چاہیے ۔ پچھلے کچھ مہینوں میں وزیر اعظم نے کچھ ایسے کام کیے ہیں جس سے سرکار کی دلیلیں کمزور ہو گئی ہیں ۔ 2 جی اسپیکٹرم گھوٹالے کا معاملہ جب سامنے آیا تو وزیر اعظم نے اے راجا کو وزارت سے برخاست کرنے کی بجائے ان کا بچائو کیا تھا۔ پھر سی وی سی کی تقرری کے معاملے میں بھی منموہن سنگھ کا رخ کئی سوالوں کو کھڑا کرتا ہے۔ سی وی سی کو مقرر کرنے والی کمیٹی میں بھی تین ممبر ہوتے ہیں: وزیر اعظم، وزیر داخلہ اور لوک سبھا کے اپوزیشن لیڈر۔ پی جے تھامس پر بدعنوانی کے الزامات عائد تھے۔ سی وی سی کے لیے تین نام تھے۔ لوک سبھا کی اپوزیشن لیڈر سشما سوراج نے پی جے تھامس کے نام پر اعتراض ظاہر کیا تھا۔ انھوں نے یہ کہا تھا کہ پی جے تھامس کے علاوہ کسی کو بھی سی وی سی بنایا جا سکتا ہے۔اس اعتراض کو درکنار کر کے منموہن سنگھ اور پی چدمبرم نے پی جے تھامس کو سی وی سی بنا دیا۔ کیا اس میں وزیراعظم کی ذمہ داری نہیں ہوتی ہے۔ پھر اِسرو کامعاملہ سامنے آیا۔ اِسرو نے ایک کمپنی کو فائدہ پہنچانے کی خاطر تمام قوانین کی اندیکھی کی۔ وزیر اعظم پر ایک نیا سوال کھڑا ہو گیا، کیونکہ اِسرو وزیر اعظم کے پاس ہے۔ اس معاملہ میں کیا کارروائی ہوئی یہ کسی کو نہیں معلوم۔دولت مشترکہ کھیلوں کے نام پر مچی لوٹ مار پر بھی حکومت نے کچھ نہیں کیا۔ آخر میں حکومت کوکھیل مقررہ وقت پر کرانے کی ذمہ داری لینی پڑی تھی۔ دولت مشترکہ کھیلوں میں ہوئی بے ضابطگیوں کی تفتیش کے لیے وزیرا عظم نے شگلو کمیٹی کی تشکیل کی تھی۔ اس کی رپورٹ بھی آ گئی، کئی بڑے بڑے سیاسی افسران پر سوال کھڑے ہوئے لیکن کسی پر کارروائی نہیں ہوئی۔ اب جب دیاندھی مارن کا نام سامنے آیا ہے تب وزیراعظم خاموش ہیں۔سوال یہ ہے کہ حکومت اور کانگریس پارٹی نے کیا وزارت کی اجتماعی ذمہ داری کے اصولوں کو بھلا دیا ہے۔ملک میں کئی اسکیمیں عمل میں ہیں جس کی براہ راست ذمہ داری کیبنٹ سکریٹریٹ کی ہے۔ان اسکیموں میں بڑے پیمانے پر بدعنوانیاں چل رہی ہیں ، آخر اس کے لیے ذمہ دار کون ہے۔ملک میں ریزرو بینک اور وزارت خارجہ کی غلطیوں کی وجہ سے ملک کے بینکوں سے جعلی نوٹ نکل رہے ہیں۔ وزیر اعظم کی ناک کے نیچے سے لاکھوں کروڑوں روپے کا کوئلہ گھوٹالہ ہوجاتا ہے ، جس کی کسی کو خبر تک نہیں ہوتی ہے۔ شیبو سورین کے جانے کے بعد وزارت کوئلہ وزیراعظم کے پاس تھی۔ یاد رہے کہ یہ تمام گھوٹالے میڈیا کے ذریعہ روشنی میں آئے ہیں۔بدعنوانی کی کہانی صرف چند وزارتوں تک ہی محدود ہے۔ میڈیا ملک کی کئی وزارتوں کے کارناموں سے واقف ہے لیکن ٹھوس ثبوت کی کمی کی وجہ سے معاملہ دبا ہوا ہے۔
انا ہزارے پھر بھوک ہڑتال پر بیٹھیں گے، کیونکہ حکومت جس طرح کا لوک پال بل چاہتی ہے اس سے وہ مطمئن نہیں ہیں۔ کانگریس اسے دھمکی بتا رہی ہے۔ کانگریس انا کی ٹیم کے رویہ کو غیر جمہوری بتاتی ہے۔ کانگریس کا ماننا ہے کہ یہ منتخب شدہ حکومت کو دھمکانے جیسا ہے لیکن بھوک ہڑتال یا دبائو کے ذریعہ پارلیمنٹ سے ان کا حق نہیں چھینا جا سکتا۔ کپل سبل مرکزی وزیر کے ساتھ ساتھ ملک کے جانے مانے وکیل ہیں۔قانون کی سمجھ ان سے زیادہ کسے ہو سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ سول سوسائٹی کے رخ پر سوال اٹھارہے ہیں۔کہتے ہیں کہ ان کے دیگر مطالبات ایسے ہیں جن پر اکیلے حکومت فیصلہ نہیں کر سکتی کیونکہ ملک میں پارلیمانی جمہوریت ہے۔ہر قانون بنانے کا حق پارلیمنٹ کو ہے۔ سول سوسائٹی حکومت کا حصہ نہیں ہے اور وہ حکومت کو ہدایت نہیں دے سکتی۔ قانون کے نظریہ سے کانگریس پارٹی کی دلیل صحیح ہے لیکن سوال یہ ہے کہ ایسی حکومت کو دھمکانے کی صورتحال کیوں پیدا ہوئی۔منتخب شدہ حکومت پر سے لوگوں کا اعتماد کیوں ختم ہو گیا۔ پارلیمنٹ سے اس کا حق چھینے جانے کا سوال کیوں اٹھا۔ اس کے لیے ذمہ دار کون ہے۔ جس ملک میں ممبر پارلیمنٹ پیسے لے کر سوال پوچھتے ہوں، حمایت کے لیے جہاں ممبران اسمبلی اور ممبران پارلیمنٹ کی خرید و فروخت ہوتی ہو، جہاں پیسے دے کر پارلیمنٹ میں حمایت خریدی جاتی ہو، مشروط حکومت بنانے کے نام پر بلیک میلنگ اور سودے بازی ہوتی ہو، جہاں نیرا راڈیا جیسی میڈیا منیجر یہ طے کرتی ہو کہ وزیر کون بنے گا تو اس ملک کے وزیر کو پارلیمانی جمہوریت کی دہائی دینے کا کیا اختیار ہے ۔جس ملک میں امیدوار بننے کے لیےاپنی ہی پارٹی کو رشوت دینا پڑے، ووٹ لینے کے لیے پیسے تقسیم کرنے پڑیں، جیل میں بند لوگ بھی دولت اور رسوخ کے سہارے عوامی نمائندے چنے جاتے ہوں، جس ملک میں جرائم پیشوں کو ٹکٹ دینے کی سیاسی پارٹیوں میں مقابلہ آرائی ہوتی ہو،تو ایسے ممبران پارلیمنٹ کو جمہوریت کا علم بردار کیسے مانا جائے۔ ہندوستان پرکانگریس پارٹی کی حکمرانی پچاس سال رہی۔ کیا ان حالات کے لیے کانگریس ذمہ دار نہیں ہے۔کیا ایسی پارلیمنٹ اور ایسے ممبران پارلیمنٹ ملک کی جمہوریت کے لیے خطرہ نہیں ہیں؟ انا ہزارے اور ان کی ٹیم کو غیر منتخب تانا شاہ بتانے سے پہلے ملک کے عوام یہ جاننا چاہیں گے کہ جو منتخب عوامی نمائندے ہیں وہ کونسا تیر مار رہے ہیں۔ لوک پال کے ایشو پر اپوزیشن پارٹیوں کا رخ بھی سوالوں کے گھیرے میں ہے۔ بی جے پی اور بایاں محاذ نے شاید اپوزیشن کی سیاست کے اصول کو ہی بھلا دیا ہے۔ جو کام انا ہزارے اور رام دیو کرر ہے ہیں وہ دراصل اپوزیشن پارٹیوں کا کام ہے۔ لیفٹ کیرالا اور بنگال کے الیکشن کیا ہارگئی گویاکوما میں چلی گئی ۔ اس نے تمام قومی ایشوز پر خاموشی اختیار کر لی ہے۔ ملک کے عوام متحرک ہیں، لیکن اپوزیشن قیادت دینے سے قاصر ہے۔ بی جے پی کانگریس سے اپنا حساب برابر کرنے میں لگی ہوئی ہے۔ دونوں طرف سے ایسے بیان دیے جا رہے ہیں جو سیاست کے گرے معیار کو نشان زد کرتے ہیں۔ ان پارٹیوں کو سمجھنا چاہیے کہ اس سے لوگوں کا اعتماد اور حوصلہ پست ہوتا ہے۔ لوک پال بل کو لے کر بی جے پی کا کیا موقف ہے اسے لے کر ملک کے عوام اندھیرے میں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انا جیسے لوگ جب بدعنوانی کے خلاف تحریک چلاتے ہیں تو حمایت ملتی ہے۔ انا اور رام دیو لوگوں میں امید جگاتے ہیں ، وہیں سیاسی جماعتیں مایوسی کی علامت بن چکی ہیں۔ اگر تمام اپوزیشن پارٹیاں ایک طاقتور اور بدعنوانی سے نجات دلانے والے لوک پال کی کھلی حمایت کرتیں تو حکومت کی یہ ہمت نہیں ہوتی کہ وہ اسے ٹال سکے۔
اگرلوک پال بل نہیں بنتا ہے تو اس کے لیے انا ہزارے اور ان کی ٹیم کی بھی ذمہ داری ہوگی۔انا ہزارے اور ان کے ساتھیوں کا مقصد عوامی لوک پال بل کا نفاذ نہیں، بلکہ اس کا شرف حاصل کرنا ہے۔ان کے پاس لوک پال کے علاوہ کوئی دوسرا طریقہ ہی نہیں ہے۔ مستقبل کا نہ کوئی منصوبہ ہے اور نہ ہی آئیڈیالوجی۔ کیا ایک ہی کنبہ کے دو دو ممبران کو عوامی نمائندہ بنانا غلطی نہیں ہے، کیا اس ملک میںماہر قانون کی کمی ہے؟ یہ کہنا کہ عوامی لوک پال بل ہم نے بنایا ہے اور اسے کوئی دوسرا سمجھ نہیں سکتا، یہ بات بھی غلط ہے۔ اگر ملک میں لوک پال بنے گا تو وہ انا ہزارے نہیں بنائیں گے۔ پارلیمنٹ میں بل کو پاس کیا جائے گا۔ انا کی ٹیم اگر عوامی لوک پال بل کو جوائنٹ کمیٹی میں پاس بھی کرا لیتی ہے ، پھر بھی اس پر حتمی فیصلہ پارلیمنٹ ہی کرے گی۔ وہاں مختلف سیاسی جماعتیں ہیں۔جس طرح سے انا کی ٹیم نے ممبران پارلیمنٹ اور لیڈران کوتحریک میں شامل نہیں ہونے دیا، سیاسی پارٹیوں کے خلاف بیان بازی کی اور ممبران پارلیمنٹ کے خلاف بدعنوانی ثابت کرنے کی کوششیں کیں، اس سے کانگریس کے علاوہ دوسری سیاسی جماعتیں بھی ناراض ہو گئی ہیں۔ کیا انا ہزارے کو یہ پتہ نہیں ہے کہ اگر قانون بنے گا تو اسے پارلیمنٹ کی اکثریت کی ضرورت پڑے گی۔ ممبران پارلیمنٹ نے ووٹنگ کے وقت ناراضگی ظاہر کر دی تو یہ بل کیسے پاس ہوگا۔ اس کی حکمت عملی تو انا ہزارے کو پہلے ہی بنانی چاہیے۔ انا ہزارے کو چاہیے تھا کہ تحریک کی کامیابی کے بعد وہ کمیٹی کے لیے ایسے لوگوں کے نام آگے کرتے ، جس سے لوک پال بل نہ صرف تیار ہو جاتا بلکہ پارلیمنٹ میں اسے پاس ہونے کی گارنٹی بھی مل جاتی۔ اگر اس کمیٹی میں ارون جیٹلی، سیتا رام یچوری ، سبرامنیم سوامی، پھالی ایس نریمن اور اروند کیجریوال ہوتے تو یہ سرکاری نمائندوں پر نہ صرف بھاری پڑتے، بلکہ اس بل کو پارلیمنٹ میں پاس ہونے کی گارنٹی بھی مل جاتی۔ یہ بات سچ ثابت ہوئی ہے کہ انا کی ٹیم حکومت کے نمائندوں کے سامنے ٹک نہیں پائی۔ اگر عوامی لوک پال بل کا نفاذ مقصد تھا تو انا ہزارے اور ان کی ٹیم کے لوگوں کو عوامی نمائندہ نہیں بننا چاہیے تھا۔ اس سے انا کی ساکھ بھی مضبوط ہوتی اور حکومت کو سنبھلنے کا موقع تک نہ ملتا۔ انا کو جو لوگ گاندھی بتا رہے ہیں انہیں یہ بھی معلوم کرنا چاہیے کہ گاندھی کبھی کسی قانونی کمیٹی کے ممبر نہیں رہے۔ گاندھی نے تحریک کی اور سمجھوتہ کی بات ماہرین پر چھوڑ دی۔ انا گاندھی کے اس فلسفہ کو سمجھ نہیں پائے ۔ جو غلطی رام دیو نے کی وہی غلطی اناہزارے نے کی ہے۔ وہ یہ بھی نہیں سمجھ سکے کہ سیاسی جماعتوں سے لڑنے کے لیے سیاست آنی چاہیے۔
جمہوریت کے دو پہلو ہوتے ہیں: نظام اور اصول۔ نظام جمہوریت کا جسم ہوتاہے تو اصول جمہوریت کی روح۔ جمہوری نظام کی بنیاد مقننہ، عدلیہ ،عاملہ اور انتخابات وغیرہ ادارے ہیں لیکن جمہوریت کی روح تو عوامی رائے ہے۔اگر روح ہی مر جائے تو جسم کا کیاکریں گے۔ ملک کی عوامی رائے بدعنوانی کو جڑ سے ختم کرنے کی کسی بھی مہم کے ساتھ ہے۔ اس ملک کی بدقسمتی ہے کہ جمہوری نظام کو ڈھال بنا کر سیاسی طبقہ جمہوریت کی روح کو ہی برباد کرنے پر آمادہ ہے۔

ڈاکٹر منیش کمار

ڈاکٹر منیش کمار کے پاس الیٹرانک میڈیا کا طویل تجربہ ہے۔ وہ ایک بیباک اور تیکھے سیاسی تنقید کار ہیں۔ ان کو سیاست میں بنتے بگڑتے حالات اور ”چوتھی دنیا“ سے سروکار رکھنے والے مدعوں کی باریک سمجھ ہے۔ ”چوتھی دنیا“کے کوآرڈینیشن ایڈیٹر کی اہم ذمہ داری ان کے کندھوں پر ہے۔

Latest posts by ڈاکٹر منیش کمار (see all)

Share Article

ڈاکٹر منیش کمار

ڈاکٹر منیش کمار کے پاس الیٹرانک میڈیا کا طویل تجربہ ہے۔ وہ ایک بیباک اور تیکھے سیاسی تنقید کار ہیں۔ ان کو سیاست میں بنتے بگڑتے حالات اور ”چوتھی دنیا“ سے سروکار رکھنے والے مدعوں کی باریک سمجھ ہے۔ ”چوتھی دنیا“کے کوآرڈینیشن ایڈیٹر کی اہم ذمہ داری ان کے کندھوں پر ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *