اف اتنی بے رحمی کا مظاہرہ : یہ مظلومین اب کہاں جائیں گے؟

Share Article

ڈاکٹر وسیم راشد 
یہ کیسی حکومت ہے؟اتنی بے حسی اتنی بے دردی کا مظاہرہ کہ اس کڑاکے کے جاڑے میں کیمپوں سے بھی اجاڑ دیا گیا۔مظفر نگر کا فساد یقینا گزرے سال کا سب سے بڑا سانحہ تھا۔ اسی فساد نے ہزاروں لوگوں کو گھر سے بے گھر کردیا تھا اور اجڑے ہوئے کنبے کیمپوں میں رہنے پر مجبور ہوگئے تھے۔ بے پناہ سردی میں ان کیمپوں میں تقریباً 34 بچے پہلے ہی لقمۂ اجل بن چکے ہیں لیکن اب ان پناہ گزیں پر ایک بار پھر سے قیامت ٹوٹ گئی ہے۔ مظفر نگر اور شاملی میں فساد زدگان کے کیمپ بند کیے جارہے ہیں اور ایسا کہا جارہا ہے کہ 15 جنوری تک سارے کیمپوں کو بند کردیا جائے گا۔ ملائم سنگھ اور اکھلیش یادو کو شرم نہیں آئی کہ پہلے مسلمانوں کے ووٹ لے کر حکومت بنائی ،ملا ملائم بن کر گھومتے رہے،مسلمانوں کے دل میں جگہ بنانے کے لئے کبھی ٹوپی پہنی کبھی مدرسوں میں گئے کبھی افطار پارٹی میں نظر آئے اور جب یو پی کے مسلمانوں نے ان کو اپنا مسیحا بنا کر ووٹ دیا اور ان کے بیٹے اکھلیش کی حکومت بنی تو ان ہی مسلمانوں کا قتل عام کیا گیا۔ ان ہی کی بہو بیٹیوں کی عزت لوٹی گئی۔ ان ہی کو گھر سے بے گھر کردیا گیا ۔نہ ان کی بازآبادکاری کاکام ہوا نہ ان کو گھر نصیب ہوئے اور اب کیمپوں میں سے بھی ان کو اجاڑا جارہا ہے۔ یہ کیمپ تھے بھی کیسے۔ تین طرف سے پلاسٹک سے ڈھکے ہوئے اور چوتھا حصہ اس کڑاکے کی سردی میں پوری طرح کھلا ہوا۔ تبھی تو ان کیمپوں میں تقریباً 34 بچوں کی موت ہوگئی اور حکومت کے کانوں پر جوں تک نہ رینگی۔لیکن اب جبکہ ان مظلومین کو کیمپوں میں سے بھی نکالا جارہا ہے تو اب یہ غریب کہاں جائیں گے ۔کاندھلہ کیمپ میں رہنے والوں کو باہر نکال کر ان کی آنکھوں کے سامنے بلڈوزر چلا دیا گیا۔ یہ خالی کرانے کا کام مقامی انتظامیہ کے سپرد ہے اور وہ لوگ اتنے بے درد ہیں کہ ان کو نہ شدید سردی کا احساس ہے نہ ہی ان غریبوں کے معصوم بچوں کا۔ ان کو جو حکم ملا اس کے حساب سے انہوں نے کیمپوں کو خالی کرایا۔ ان کا کہنا ہے کہ جن لوگوں کو معاوضہ مل چکا ہے ان کو اپنی زمین لے کر کہیں دوسری جگہ شفٹ ہوجانا چاہئے ۔مجھے ایک شعر یاد آرہا ہے کہ :
لوگ ٹوٹ جاتے ہیں صرف ایک گھر بنانے میں
تم ترس نہیں کھاتے بستیاں جلانے میں
یہ غریب لوگ جن کے گھر پوری طرح اجڑ چکے ہیں ۔ ان کا نقصان لاکھوں کا ہے ۔یہ پانچ لاکھ کا معاوضہ لے کر کیسے گھر بنا سکتے ہیں۔ جن کی لاکھوں کروڑوں کی جائداد بربادہوئی ہے ۔ ان کے لئے یہ معاوضہ بے حد کم ہے۔جن لوگوں کا 40,35,30,25لاکھ کا نقصان ہوا ہے۔ ان کو حکومت صرف 5 لاکھ دے کر اپنی جان چھڑانا چاہتی ہے لیکن افسوس تو یہ ہے کہ یہ معاوضہ بھی پوری طرح نہیں مل پارہا۔سرکا ر کی نااہلی کا اس سے بڑا ثبوت کیا ہوگا کہ 162 گائوں کے لوگ متاثر ہوئے ہیں اور سرکار صرف آٹھ گائوں کو ہی متاثرین مان رہی ہے۔ عطا ء الرحمن نام کے شخص نے بتایا کہ میرا نقصان دس لاکھ کا ہے اور حکومت نے صرف مجھے 25 ہزار روپے ہی دیے ہیں ۔ عیدگاہ کی زمین پر جو کیمپ لگا ہوا تھا اس کو بھی ختم کردیاگیا۔کاندھلہ کیمپ میں تو تقریباً 267 کنبے رہ رہے تھے ۔ ان غریبوں کا اجڑنے کے بعد کوئی پرسان حال نہیں ہے۔ یہ اب دوسری جگہوں پر جھگی جھونپڑی ڈال کررہنے کی کوشش کررہے ہیں۔ ملک پورہ کیمپ کو بھی 4 جنوری کو بند کرالیا گیا۔

مسلمانوں نے ملائم سنگھ کا اس حد تک ساتھ دیا کہ بابری مسجد شہید کرانے والے کلیان سنگھ کے ان کے ساتھ کو بھی فراموش کردیا اور ملائم سنگھ کا بھرپور ساتھ دیا۔ مسلمان کرے بھی تو کیا کرے جو کوئی بھی اسے تھوڑا اپنا حامی نظر آتا ہے مسلمان اس کو جی جان سے اپنا لیتا ہے لیکن ہر بار اسے دھوکہ اور فریب ہی ملتا ہے۔بھلا ضلع کلکٹر اور ایس پی کی اتنی ہمت کیسے ہوسکتی ہے کہ وہ کیمپوں کو اکھاڑ کر پھینک دے۔ جب تک حکومت کا حکم نہ ہو۔ کاندھلہ کیمپ کے اجاڑنے سے تقریبا ً1000 لوگ بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ ان مظلوموں کے بچوں کو ایک گاڑی میں بیٹھا کر کاندھلہ سے باہر جنگلات کے آس پاس چھوڑ دیا گیا اور ان کے ماں باپ کے سرپر گھر کا سامان ہے ..

فسادات تو چند دن میں ہی ختم ہوگئے لیکن اس کے اثرات ابھی تک باتی ہیں اور ان میں سب سے زیادہ حکومت کی بے حسی اور اس کا جانبدار رویہ ہے۔ اکھلیش یوں تو نوجوان ہیں سمجھدار ہیں ،پڑھے لکھے ہیں لیکن اندازہ یہ ہوا کہ نہایت ہی بے حس اور ناکارہ ہیں ۔ ان کی حکومت مظفر نگر کے فساد کو روکنے میں تو ناکام رہی لیکن اس کے ساتھ ہی ان متاثرین کی بازآبادکاری کا کام کرنے میں بھی بری طرح ناکام رہی ہے ۔جانے کیوں ایسا محسوس ہورہا ہے کہ منظم اور منصوبہ بندطریقے سے ان متاثرین کے ساتھ سلوک کیا جارہاہے۔ حالانکہ سپریم کورٹ نے بھی ریلیف کیمپوں میں متواتر ہونے والی اموات اور وہاں کی حالت زار پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اترپردیش حکومت کو تمام تر سہولتیں فراہم کرانے کی ہدایت دی تھی لیکن اکھلیش سرکار نے تو ان غریبوں کے سر سے سائبان بھی چھین لیا وہ بھی اس شدید سردی کے موسم میں ۔ ہندوستان کی تاریخ جب لکھی جائے گی تو مورخ یقینا گجرات فساد اور مظفر نگر کے فساد کا ذکر کرتے ہوئے اکھلیش کی بے حسی اور اس کے مظالم کا ذکر بھی کرے گا۔
ملائم سنگھ یادو کو اپنے جانشیں سے سوال کرنا چاہئے کہ جن مسلمانوں نے آج اس کو وزیر اعلیٰ کی کرسی تک پہنچایا ہے۔ان کے ساتھ یہ ظلم کیوں؟ ان ہی کی لاشوں پر سے اکھلیش یادو بے رخی اور لاتعلقی سے گزر رہا ہے۔کہیں ایسا نہ ہو کہ لا تعلقی اور بے حسی اکھلیش کو مہنگی پڑ جائے۔
ان کیمپوں میں نہ تو سردی سے بچنے کا کوئی انتظام تھا نہ ہی ضروریات زندگی گزارنے کا کوئی وسیلہ نہ ہی دوائیاں نہ ہی سردی سے بچنے کے لئے لحاف ، گدے اور رضائیاں۔مظفر نگر فساد میں پولیس اور انتظامیہ کا رویہ پہلے ہی مسلمانوں کے خلاف تھا۔ مسلمانوں کو چن چن کر قتل کیا گیا ۔ ان کی بہو بیٹیوں کی عصمت لوٹی گئی۔ان کے بچوں کو زندہ جلا دیا گیا۔ ان کے شوہروں کو ان کی آنکھوں کے سامنے قتل کردیا گیا۔ ان کی جائداد اور ان کے گھروں کو تباہ کر دیا گیا۔ گائوں کے گائوں مسلمانوں کے خالی ہوگئے۔ حتی کہ ریلیف کیمپوں تک میں عصمت دری کے واقعات ہوتے ہیں ۔ملائم سنگھ آج ان کیمپوں میں رہنے والوں کوبی جے پی اور کانگریس کا ایجنٹ بتا رہے ہیں ۔راہل گاندھی آئی ایس آئی کے ایجنٹ کہہ رہے ہیں۔
مسلمانوں نے ملائم سنگھ کا اس حد تک ساتھ دیا کہ بابری مسجد شہید کرانے والے کلیان سنگھ کے ان کے ساتھ کو بھی فراموش کردیا اور ملائم سنگھ کا بھرپور ساتھ دیا۔ مسلمان کرے بھی تو کیا کرے جو کوئی بھی اسے تھوڑا اپنا حامی نظر آتا ہے مسلمان اس کو جی جان سے اپنا لیتا ہے لیکن ہر بار اسے دھوکہ اور فریب ہی ملتا ہے۔بھلا ضلع کلکٹر اور ایس پی کی اتنی ہمت کیسے ہوسکتی ہے کہ وہ کیمپوں کو اکھاڑ کر پھینک دے۔ جب تک حکومت کا حکم نہ ہو۔ کاندھلہ کیمپ کے اجاڑنے سے تقریبا ً1000 لوگ بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ ان مظلوموں کے بچوں کو ایک گاڑی میں بیٹھا کر کاندھلہ سے باہر جنگلات کے آس پاس چھوڑ دیا گیا اور ان کے ماں باپ کے سرپر گھر کا سامان ہے اور یہ مظلوم لوگ اس سامان کو ڈھوئے ڈھوئے پھر رہے ہیں۔ کیمپ میں سب سے زیادہ متاثرگائوں لساڑھ ، کوانہ ، ٹیلکری، نالہ، ڈانگرول کے خاندان تھے۔ ان میں وہ خاندان بھی شامل تھے جن کے سر پرستوں کو ان کی آنکھوں کے سامنے آرا مشین سے کاٹ دیا گیا تھا اور اسی گائوں کے 13 افراد ابھی تک لا پتہ بھی ہیں۔ اسی گائوں میں سب سے زیادہ خواتین کی عصمت دری ہوئی تھیں۔
یہ فساد زدگان کہاں گئے ہوں گے۔کیسے راتیں گزاریں ہوں گی ۔ ان کے بچوں نے کہاں کیسے سردی سے پناہ لی ہوں گی یہ سب سوچ کر ہی کلیجہ منہ کو آتا ہے۔ یہ ہے مہذب سماج یہ ہے پڑھا لکھا سماج۔یہ ے انسانیت کا دم بھرنے والا سماج جہاں بے دردی سے انسان انسان کو کاٹ ڈالتا ہے اور لوگ بے دردی سے ان کو بے گھر کردیتے ہیں۔3000 فسادیوں کے خلاف ایف آئی آر درج کرائی گئی جس میں سے صرف 200 ہی گرفتار کیے گئے ہیں۔اس کا مطلب ہے کہ باقی یا تو بھاگ گئے ہیں یا حکومت کی اور بی جے پی کی پناہ میں ہیں ۔یہ کیا گارنٹی ہے کہ یہ فسادی دوبارہ ان لوگوں پر حملہ نہیں کریں گے اگر وہ واپس اپنے گائوں کو لوٹیں گے۔ یو پی حکومت کی ا س سخت دلی اور اس کے اس بہیمانہ رویے پر مرکزی سرکار کو الیکشن لینا چاہئے۔کہاں ہیں ہیومن رائٹس کمیشن والے۔ اب جبکہ انسانیت کا خون ہورہا ہے ۔ہم کیسے خاموش رہ سکتے ہیں۔

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *