اب حکومت کو بیدار ہو جانا چاہئے

Share Article

ہمارے سامنے خطرے دھیرے دھیرے ہی صحیح مگر بڑھتے جا رہے ہیں اورخوف زدہ بھی کر رہے ہیں۔ خطرہ جمہوریت پر ہی نظر آئے تو یا تو ہم زیادہ حساس ہو گئے ہیں یا پھر جو کسی طرح کا خطرہ نہیں دیکھتے وہ زیادہ سمجھدار ہیں۔جب ملک کی حکومت یہ کہہ دے کہ تقریباً سات ریاستوں میں نظم ونسق نافذ کرنے والی ایجنسی، جس کا مطلب پولس اور نیم فوجی دستے ہیں جو ایک طرح سے ناکارہ ہو گئی ہیں، اور انہیں فوج کی مدد چاہئے، تو اس کا کیا مطلب نکالا جائے۔ دراصل یہ اشارہ ہے کہ ہمارا پورا سسٹم خراب ہو چکا ہے۔
مائونوازوں سے متاثر ریاستوں میں اگر فوج بھیجی جائے تو فوج کا ردعمل کیا ہوگا، اسے جاننے کے لئے وزیر دفاع سینٹرل کمانڈ کے ہیڈ کوارٹر گئے مگر اس سے پہلے ایک بار بھی مرکزی حکومت نے ریاستی حکومتوں سے نہیں پوچھا کہ آخر حالات اس سطح پر پہنچے تو کیسے پہنچے۔خواہ نظم ونسق ہو یا ترقی، تعلیم ہو یا صحت، سبھی کی ذمہ داری ریاستی حکومتوںپر ہے۔مرکز ی حکومت کا کردار صرف ایک مددگار کا ہی ہے۔مرکزی وزیر داخلہ چدمبرم صاحب کی سمجھ میں کیوں نہیں آتا کہ وہ ریاستی حکومتوں کے ذریعہ چلائے جانے والے نظم ونسق کے ڈھانچہ کا امتحان لیں۔اگر یہ ڈھانچہ ریاستی حکومتوں کی بزدلی کی وجہ سے برباد ہوا ہے تو ریاستی حکومتوں سے سوال پوچھیں۔
اس کی بجائے ریاستی حکومتوں کی سستی کو چھپانے کی کوششیں ہوتی ہیں۔ان ریاستوں میں جمہوری تحریکیں ختم ہو گئی ہیں۔ لوگ اپنے مطالبات کولے کر دھرنا اور مظاہرہ کرنے سے کترانے لگے ہیں۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ انہیں یقین ہو گیا ہے کہ پر امن طریقہ سے مطالبات کرنے پر کوئی ان کی بات کو سنے گا ہی نہیں۔ ترقیاتی کام پوری طرح ٹھپ ہیں بدعنوانیاں ہیں لیکن کوئی سنوائی نہیں ہو رہی ہے، نہ انتظامیہ کو چاق و چوبند بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے اور نہ اسے جوابدہ ہونے کی قوت دی جا رہی ہے۔ جمہوریت بدامنی کے مترادف بنتی جا رہی ہے۔
نکسل متاثرہ ساتوں اضلاع قبائلی اکثریت والے ہیں یا پھر یہاں غریب بڑی تعداد میں ہیں۔ انہیں لوٹنے میں ساہوکار لیڈر اور پولس نے برابر کا تعاون دیا ہے۔ جس نے شروع میں اس تال میل کے خلاف آواز بھی بلند کی اور اسے ماؤ نواز یا غیر سماجی عناصر کہہ کر جیل میں ڈال دیا گیا۔ اب جب بڑی تعداد میں لوگوں نے اس کے خلاف آواز اٹھانے والے مائونوازوں کی حمایت شروع کی ہے تو انتظامیہ اور پولس عوام کے درمیان جانے سے ڈر رہی ہے۔فوج سے مدد طلب کرنے کی یہی ایک وجہ ہے۔
مرکزی اور مقامی انتظامیہ کا حال یہ ہے کہ اس ملک کے کئی حصوں میں ٹرینوں کی آمد و رفت روک دی جاتی ہے، کئی ٹرینوں کو ایک ساتھ جلانے کا منصوبہ بنایا جاتا ہے۔ لاکھوں میل لمبی ریل لائن کی حفاظت کسی بھی حکومت یا پولس کے بس کی بات نہیں ہے۔ریل لائنیں جنگل، پہاڑ ، ندی،نالوں سے گزرتی ہیں۔ ریل لائنیں ملک کی لائف لائن ہیں۔ ان سے صرف مسافر ہی نہیں چلتے، ڈیزل، پیٹرول، دوائیاں، یہاں تک کہ فوج کی بھینقل وحرکت ٹرین کے ذریعہ ہی ہوتی ہے۔ اگر ملک کے عوام، خواہ وہ آدیواسی ہوں، غریب ہوں،کسان ہوں یا اقلیت ہوں،اگر انتظامیہ سے ناراض ہوتے ہیں اور ان کے دل میںیہ احساس پیدا ہوجاتا ہے  کہ یہ ملک ان کا نہیں ہے، تو اسے خطرناک نہیں کہیں گے تو کیا کہیں گے۔ جب ایسی صورت حال پیدا ہوجائے تو سمجھ لینا چاہئے کہ سوچنے اور دانشمندی سے غور کرنے کا وقت آگیا ہے۔
جب حکومت نے فوج سے کہا کہ وہ اس کا استعمال اندرون ملک کرنا چاہتی ہے تو فوج نے حکومت سے 13سوالات کئے ،جن کا مطلب نکلتا ہے کہ کیا سول انتظامیہ فیل ہوگئی ہے؟ فوج نے واضح طور پریہ بھی  کہا کہ اسے سول انتظامیہ کے رابطے میں آنے پر اعتراض ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جب جب فوج سول انتظامیہ کے رابطے میں آئی ہے تب تب فوج میں بد عنوانی بڑھی ہے۔ فوج کا مقصد بھی صاف ہے کہ جب اس کا فوجی گولی چلائے تو کسی کی موت ہو۔ فوج کا سپاہی ا نتباہ دینے کے لئے گولی نہیں چلاتا۔
فوج کو اس حقیقت کا پتہ ہے کہ حکومت جنہیںاپنا دشمن تصورکررہی ہے وہ اپنے ہی ملک کے غریب ، محنت کش ، آدیواسی اور انتظامیہ کے ستم رسیدہ ہیں، اس انتظامیہ کے ، جو لوگوں کا بھلا نہیں سوچتا اور جس نے ملک کو اس حالت میں پہنچا دیا ہے۔ شاید اسی لئے فوج نے حکومت سے صاف کہا ہے کہ ہم اپنے لوگوں پر گولی نہیں چلائیںگے۔ ہندوستانی فوج کو اس کے اس جذبے اور رخ پر سلام کرنا چاہیے۔ جمہوری ملک کی فوج ایسی ہی ہوتی ہے، لیکن فوج کے ریٹائرڈ افسر، جنرل، میجرجنرل، بریگیڈیرایسا نہیں سوچتے۔ ان کے ذہن میں لیڈروں کے حوالے سے بہت سے سوال ہیں۔ شام کو جب بھی کوئی بڑا افسر ملتا ہے تو 30منٹ کے اندر لیڈروں، کلرکوں اور افسروں کو گالی دینے لگتا ہے۔ ان کا سوال ہوتا ہے کہ سرحد کو فوج دیکھے، حادثہ کو فوج دیکھے اور اب نظم ونسق کو بھی فوج دیکھے۔ پولس اور لیڈر مل کر صرف لوٹیں اور دہلی، لکھنؤ، بھوپال اور چھتیس گڑھ کے شاندار گھروں میں بیٹھ کر آرام کریں۔ یہ زیادہ دن نہیں چلنے والا۔ مجھے اندیشہ ہے کہ فوج کے ریٹائرڈ افسروں کا یہ غصہ کہیں فوج میں کام کر رہے افسروں کے ذہن میں بھی آ گیا تو کیا ہوگا؟ سب سے افسوسناک حالت میڈیا کی ہے، جو اس حالت کو دکھانا تو دور پہچاننا ہی نہیں چاہتا۔ میڈیا دراصل ملک کے ساتھ غداری کر رہا ہے۔ میڈیا ٹٹہری کی طرح برتاؤ کر رہا ہے، جو آسمان کی جانب پیر کر کے سوتی ہے کہ آسمان گرے گا تو وہ اسے اپنے پیروں پر روک لے گی یا پھر اس مرغے کی طرح برتاؤ کر رہا ہے کہ وہ جب تک نہیں بولے گا تب تک نہ سورج نکلے گا اور نہ صبح ہوگی۔ میڈیا کے نہ دکھانے سے یا نہ لکھنے سے لوگوں کا درد اور تکلیف ختم نہیں ہو جاتی، بلکہ مزید بڑھ جاتی ہے اور تب اس کی زد میں جمہوریت آتی ہے۔ میڈیا کی پہلی ذمہ داری جمہوریت کی حفاظت کے لیے انتظامیہ، مقننہ اور عدلیہ کو سچائی سے آگاہ کرانا ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ میڈیا کا بڑا حصہ اپنے اس فرض کو بھولتا جارہا ہے اور جمہوریت کے لیے مشکلیں پیدا کرتا جارہا ہے۔ وقت آگیا ہے، سچ مچ آگیا ہے کہ سیاست میں بونے قد کے لیڈر اپنی ذمہ داری کو سمجھیں اور ملک کے حالات کو سدھارنے کے لیے فیصلہ لیں۔ حکومت کی اہم ذمہ داری یہ ہے کہ وہ ملک میں رہنے والوں کو بنیادی سہولتیں مہیا کرائے، اسی لیے وہ منتخب کی جاتی ہے۔ اگر وہ اپنی اس ذمہ داری کو نبھانے میں ناکام رہتی ہے تو وہ اپنا کم ملک اور جمہوریت کا زیادہ نقصان کرے گی۔ اب بیدار ہونے کا وقت آگیا ہے۔

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *