ڈاکٹر وسیم راشد 
آروشی میری 15 سالہ بیٹی کی سہیلی کا بھی نام ہے۔ معصوم سی پتلی،دبلی،بڑی بڑی آنکھوں والی بالکل آروشی جیسی یعنی جیسی آروشی کی تصویریں ہم نے میڈیا کے ذریعے دیکھی ہیں۔جب یہ تصویریں دیکھتی ہوں ،سوچتی ہوں کہ کیسے کوئی ماں باپ ایسی معصوم ننھی سی بچی کو مار سکتے ہیں؟کیسے کوئی اپنے اکلوتے جگر کے ٹکڑے کو اتنی بے رحمی سے ختم کرسکتا ہے؟کیسے اور کون سے دل سے ماں باپ نے اپنی ہی بیٹی کو مار ڈالا؟اور اس سے بھی زیادہ یہ کہ کیسی بے دردی سے گلا کاٹ کر اپنی اولاد کو کوئی مار سکتا ہے؟بے شمار سوالات ہیں جو آج اس آروشی قتل کا فیصلہ آجانے کے بعد ہم سب کے دل میں ہیں۔ بلکہ سچ اگر آپ مجھ سے پوچھئے تو آج بھی پورا میڈیا اور ہندوستان کے عوام یہ فیصلہ نہین کر پارہے ہیں کہ تلوار جوڑے کے ساتھ صحیح ہوا یا غلط؟
میں نے سبھی چینلز پر لگاتار کئی سو لوگوں کے بیانات ، تاثرات اور خیالات سنے اور اس نتیجے پر پہنچی کہ 90فیصد لوگ ابھی بھی یہ نہیں سمجھ پارہے ہیں کہ آخر کیا ہوا ہوگا؟ کیسے ہوا ہوگا؟کیوں ہوا ہوگا؟ہاں یہ ضرور ہے کہ 50 فیصد لوگ یہ بات مان چکے ہیں کہ قتل والدین نے ہی کیا ہوگا ۔لیکن کیوں اور کیسے؟یہ سوال آج بھی سب کے ذہن کو جھنجھوڑ رہا ہے ۔اس فیصلہ کے آنے کے بعد کئی دن تک میرا ذہن اور دل و دماغ منتشر رہا اور بار بار اپنی 15 سالہ معصوم بچی کو دیکھ دیکھ کر جیتی رہی ،کبھی اسے کلیجے سے لگا لیتی ،کبھی اسے بے ساختہ پیار کرنے لگتی اور پھر دھیان جاتا نوپور تلوار کی طرف کہ ایک ماں جو اپنے بچے کو دیکھ کر جیتی ہے ،جس کو بڑھتا دیکھنا ہی اس کی زندگی کا مقصد ہوتا ہے،اس ماں پر کیا گزر رہی ہوگی؟ لیکن ایک بات ہمیشہ میرے دل کے اندر رہی کہ کیوں نو پور تلوار کے چہرے پر آج بھی اتنی ہی سختی نظر آرہی ہے جتنی روز اول سے میں دیکھ رہی ہوں۔
2008 میں جب یہ کیس ہوا تھا تب بھی لگا تار نوپور تلوار کی چٹان جیسی سختی،جذبات و احساسات سے عاری چہرہ مجھے یاد ہے۔ اس وقت بھی ہمارے گھر اور ملنے جلنے والے یہ بات کرتے تھے کہ نہ جانے کیوں ماں کے چہرے سے یہ نہیں لگتا کہ اسے بہت دکھ ہے جو ایک کھونے کا احساس اور پچھتا وا ہوتا ہے، وہ نوپور تلوار کے چہرے سے کہیں نظر نہیں آتا۔کئی چینلز پر اس وقت نوپور تلوار نے جو بیان دیے ، اسی پورے ہفتے پھر کئی چینلز نے ٹیلی کاسٹ کیے ۔وہ اسی طرح کے ہیں کہ ’’ اس بچی کے ساتھ یہ بہت ہی غلط ہوا ہے ۔اس بچی کو ہم کیسے قتل کرسکتے ہیں‘‘۔اگر کوئی ماں جس کی بچی کو اتنی بے دردی سے اتنی چھوٹی سی عمر میں مار ڈالا جائے وہ ماں تو بلک بلک کر کہے گی کہ میری بچی کے ساتھ غلط ہوا ،میری بچی کو ظالموں نے مار ڈلا۔نوپور تلوار کی باڈی لنگویج نے مجھے کئی بار جھنجھوڑ ڈالا۔میری اخبار کی ٹیم کے لوگ بھی بار بار یہی کہہ رہے ہیں کہ شاید سوتیلی ماں ہے۔بلکہ ایک نے تو ثابت بھی کیا کہ ہاں سوتیلی ہی ہے۔ ایک نے کہا کہ نہیں ماں سگی ہے ،شاید باپ سوتیلا ہے۔
کہنے کا مطلب یہ ہے کہ ماں اور باپ دونوں کی باڈی لنگویج،دونوں کے بیانات ،دونوں کی شکل دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ کہیں کچھ ایسا ضرور ہے جو ابھی بھی تلوار جوڑے نے نہیں بتایا ہے۔ ابھی بھی سچائی سامنے نہیں آئی ہے۔راجیش تلوار کے بھائی دنیش تلوار بھی اور ان کی بیوی بھی بار بار میڈیا سے یہی کہہ رہی ہیں کہ سچائی سامنے نہیں آئی ہے۔حیرت ہے 5 سالوں میں جب خود تلوار جوڑے نے سی بی آئی انکوائری کی درخواست کی تھی ۔اگر اب بھی سچائی سامنے نہیں آئی تو آخر کب آئے گی؟ آخر دنیش تلوار کو اب بھی کیوں یہ احساس ہورہا ہے کہ ان کی تمام شواہدات کو ٹیبل نہیں کیا گیا اور سی بی آئی نے سچائی کو سامنے آنے نہیں دیا۔
گزشتہ دو ہفتے میں آروشی پر ہر اخبار نے لکھا ۔تمام مدیران نے اس پر اظہار خیال کیا لیکن کسی نے بھی نوپور تلوار کی باڈی لنگویج پر بات نہیں کی جو ایک ماں کی ہونی چاہئے تھی۔جو درد ایک ماں کے چہرے پر ہونا چاہئے تھا وہ درد مجھے ایک ماں ہونے کے ناطے آج تک نوپور کے چہرے پر نظر نہیں آیا۔ وہ آج بھی خود کو بے گناہ بتا رہی ہیں۔اگر وہ بے گناہ ہیں تو وہ اس بات کا جواب کیوں نہیں دیتیں کہ ان کی معصوم بچی کو کوئی کیوں مارے گا؟ ان کے گھر میں کوئی لوٹ مار کی واردات نہیں ہوئی۔ ان کے گھر میں کوئی آیا نہیں نہ کوئی گھر سے باہر گیا۔ان کے گھر میں ان کی معصوم 15 سالہ بچی سے کسی کو کیا دشمنی تھی اور اگر ہیمراج ان کی بچی کا جنسی استحصال کر رہا تھا تو اس کی اتنی ہمت کیسے ہوئی؟وہ اگر آروشی کو بلیک میل کر رہا تھا تو نوکر تو نوکر ہی ہوتا ہے۔ وہ اتنی ہمت کیسے کر سکتا ہے؟ اور اگر یہ رضامندی سے جنسی عمل کا معاملہ ہے تو پھر بھی اصلیت کیا ہے سامنے آنی ہی چاہئے تھی۔اب تو آروشی کے والدین کو عمر قید کی سزا ہوگئی ہے ۔اس سے بڑھ کر اور کیا سزا ہوگی ،اب تو نوپور تلوار کو اور راجیش تلوار کو پوری سچائی من وعن بتانی چاہئے۔
اگر آپ مجھ سے پوچھئے تو یہ ماں باپ اپنی معصوم بچی کو روز ہی قتل کر رہے ہیں ،روز ہی اس کے کردار کو پوری دنیا کے سامنے مشکوک بنارہے ہیں۔ کون سی ایسی گھنائونی باتیںہیں جو اس بچی کو لے کر نہیں کہی گئیں۔پورا جنسی عمل تک میڈیا نے باتوں باتوں میں آنکھوں کے سامنے گزاردیا،اس لئے اب یہ وقت تھا جب ان ماں باپ کو سچائی سامنے لانی چاہئے تھی۔کیونکہ صرف اور صرف اسی پورے دردناک حادثہ کی وجہ سے چودہ، پندرہ اور سولہ سال کی بچیوں کا اعتماد ماں باپ پر سے ختم ہورہا ہے۔ایسا میں پورے وثوق کے ساتھ کہہ رہی ہوں ۔اس فیصلہ کے بعد لگاتار میں آروشی کی عمر کی بچیوں سے بات کر رہیہوں ۔خود اپنی بچی سے بھی میں نے بات کی کہ کیا کوئی ماں باپ اپنے بچے کو مار سکتے ہیں لیکن مجھے زبردست دھکا لگا جب ان بچیوں نے کہا کہ ہاں آپ لوگ آنر کے لئے اپنے بچوں کو مار سکتے ہو،آپ ماں باپ ظالم ہو،سبھی ظالم ہوتے ہیں ،آپ آج بھی لڑکیوں کو لڑکوں کے مقابلے بوجھ سمجھتے ہیں ۔آپ ماں باپ اپنی ساکھ اور اپنی عزت بچانے کے لئے اپنے بچوں کو بھی دائوں پر لگادیتے ہیں۔ میں نے خود اپنی بچی کے اسکول کی نویں اور دسویں کلاس کی بچیوں سے بات کی جس میں سبھی نے ماں باپ کو الزام دیا۔ میں نے اور دوسرے اسکولوں میں پڑھنے والی اس عمر کی بچیوں سے بھی صرف اپنی روح کی تسکین کے لئے بات کی کہ شاید ان بچیوں میں سے کوئی ایک یہ کہہ دے کہ آروشی کی غلطی رہی ہوگی مگر حیرت ہوئی جب ساری اس عمر کی بچیاں آروشی کے ساتھ تھیں۔ سب کا یہی کہنا تھا کہ ماں باپ ایسا کرسکتے ہیں۔دو تین بچیوں نے کہا کہ آروشی کو قابل اعتراض حالت میں دیکھ کر جو بے ساختہ رد عمل ہوتا ہے غم و غصہ میں، شاید وہی ہوا ہوگا۔ ماں باپ نے غصہ میں گولف اسٹک سے مارا ہوگا جو زیادہ زور سے لگ گئی ،وہ نازک سی تو تھی ،چوٹ کی شدت سے مرگئی ہوگی۔،مگر پھر ایک بچی نے مجھ سے یہ سوال کرلیا کہ اگر عدالت کی مان لیں کہ ماں باپ نے ہی مارا ہے تو کیا کوئی ماں یا باپ غصہ میں بھی اپنی مری ہوئی اکلوتی بچی کا گلا کاٹ سکتا ہے؟اس سوال نے مجھے جھنجھنا کر رکھ دیا۔ سچ کہا اس بچی نے کہ کوئی اپنی بچی کی لاش کے ساتھ بھی یہ گھنائونی حرکت نہیں کرسکتا تو پھر آخر سچائی کیا ہے؟آخر کیا ہوا؟اب کیا باقی رہ گیا ہے اس کیس میں جو ماں باپ ابھی بھی پوری سچائی نہیں بتا رہے ہیں۔سی بی آئی جو ملک کی سب سے بڑی تفتیشی ایجنسی ہے ،اگر وہ بھی اس کیس کو حل نہیں کرسکی تو پھر کون کرپائے گا۔
آنر کلنگ کی بات بھی اگر کریں تو حیرت بھی ہو رہی ہے اور تعجب بھی کیونکہ دونوں ہی بے حد پڑھے لکھے اور ماڈرن ماں باپ ہیں۔یہاں ایک بات ضرور کہنا چاہتی ہوں کہ جو ماں باپ دونوں ہی اپنی مصروفیت کی وجہ سے بچوں کو وقت نہیں دے پاتے اور اکیلا چھوڑ دیتے ہیں ،ان کے بچے تنہائی کا شکار ہوجاتے ہیں۔ شاید ہی کچھ بچے ایسے ہوتے ہوں گے جو اس تنہائی اور اکیلے پن کا مثبت فائدہ اٹھاتے ہوں گے ورنہ زیادہ تر بچے انٹرنیٹ کے ذریعہ اور موبائل کے ذریعہ اپنے وقت کو غلط کاموں میں ہی لگاتے ہیں۔کہیں بچوں کو تنہا چھوڑنا ماں باپ کی مجبوری ہوتی ہے کہ ان کو اچھی تعلیم دلانے اور بہتر زندگی دینے کے لئے دونوں کو کام کرنا پڑتا ہے اور کہیں شوق ہوتا ہے اور فیشن کی دنیا میں اپنا مقام بنانا ۔ایسے میں جو بچے تنہائی کا شکار ہوتے ہیں،انہیں یہ تنہائی اچھی لگنے لگتی ہے۔ لہٰذا ایک وقت ایسا آتا ہے کہ ان کو گھر میں ماں باپ بھی برے لگنے لگتے ہیں۔
جن گھروں میں 12 سے 16 سال تک کی لڑکیاں اکیلی رہتی ہیں ان پر ماں باپ کو بہت زیادہ نظر رکھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔موبائل کو وقتاً فوقتاً چیک کرنا چاہئے۔ خود پیار سے لڑکیوں سے بات کرکے انہیں اپنا دوست بنا کر رکھنا چاہئے۔ اگر نوکری کرنا واقعی مجبوری ہے تو پھر بار بار بچوں کو اس مجبوری کا احساس کرانا چاہئے کہ آپ کا دل نہیں چاہتا کہ اپنے بچوں کو اکیلا چھوڑ یں مگر ان ہی کی بہتر زندگی کے لئے ایسا کررہے ہیں۔
خیر آروشی کے ساتھ کچھ بھی ہوا ہو۔یہ بات ضرور دھیان میں رکھنا چاہئے کہ زیادہ تنہائی شیطان کو جگہ دیتی ہے تو یہی شیطان شاید آروشی کو کھا گیا۔ یہ شیطان ہیمراج بھی ہوسکتا ہے اور کوئی دوسرا بھی۔ مگر اسی شیطان سے والدین کا فرض ہے کہ بچوں کو بچا کر رکھیں ۔خدا نہ کرے کہ ایسا حادثہ کسی دشمن کے ساتھ بھی ہو ۔ آج بھی یہ اداریہ لکھتے لکھتے آروشی کی بڑی بڑی کاجل بھری آنکھیں میرے سامنے ہیں اور مجھ سے جیسے کہہ رہی ہیں ’مجھے ابھی بھی انصاف نہیں ملا‘۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here