آپکے پاس ایسا ہتھیار ہے جو بدعنوانوں کی نیند حرام کر سکتا ہے

Share Article

جی اسپیکٹرم گھوٹالہ میں سرمایہ داروں، لیڈروں، افسروں اور دلالوں کے گٹھ جوڑ کو دماغ ہلانے والا قرار دیا۔جن لوگوں پر ایمانداری اور خلوص جذبے سے ملک کو چلانے کی ذمہ داری ہے وہ ملک اور عوام کو لوٹ رہے ہیں۔ملک کا سرکاری نظام اس قدر سڑ چکا ہے کہ اگر ہم سبھی اکیلے یامل کر کوشش نہیں کریں گے تو یہ نظام سدھرنے والا نہیں ہے۔ہم ایسا نہیں کریںگے تو کون کریگا؟حکومت گویا گہری نیند میںسوئی ہوئی ہے۔ وزیر اعظم راجہ کو ہٹانے میں اتنا وقت لے لیتے ہیں جس سے ان کی صاف و شفاف شبیہ بھی شک کے دائرے میں آ جاتی ہے۔یہ بات دیگر ہے کہ راجہ کو ہٹانے میں انہیں اپنی کرسی ہلتی ہوئی نظر آ رہی تھی۔
یہ بات کتنی دلچسپ ہے کہ ملک میں عام آدمی کو تحفظ دینے والا صرف ایک قانون ہے، آر ٹی آئی قانون۔اس میں بھی ترمیم کی بات چل رہی ہے۔ یعنی اس کی دھار کو کند کرنے کی بات۔ملک کا ہر شہری جانتا ہے کہ آر ٹی آئی نے اسے نہ صرف سوال پوچھنے کی طاقت دی بلکہ اسے بہتر زندگی جینے کا حق بھی دیا۔ آج یہ قانون ہمارے لیڈروں اور افسروں کی آنکھوں میں کانٹا بن کر چبھ رہا ہے۔ وہ نہیں چاہتے کہ کوئی ملک کا شہری ان سے سوال پوچھے، ان کے کالے کاموں میں روڑہ بن کر کھڑا ہو، لیکن حکمراں اور افسر شاید یہ بھول رہے ہیں کہ ہر کام کی انتہا ہوتی ہے۔آپ ملک کے غریب عوام کے خون پسینے کی کمائی کو یوں ہی نہیں اڑا سکتے۔جب عوام حساب لیتے ہیں تو بے حساب لیتے ہیں۔ان کے حساب کے اعداد و شمار نہیں ہوتے۔عوام بھول جاتے ہیں کہ کل تک یہ آدمی ان کا حکمراں ہوا کرتا تھا،وہ اس کی تعظیم کرتے تھے، عزت کرتے تھے۔اس سے قبل کہ عوام ملک کی باگ ڈور اپنے ہاتھوں میں لے لیں، ہمارے لیڈروں اور افسروں کو سنبھل جانا چاہئے،اپنے کیے پر نادم ہونا چاہئے، ان سے معافی مانگ لینی چاہئے اورجس خلوص دل سے عوام نے انہیں منتخب کرکے پارلیمنٹ اور اسمبلیوں میں پہنچایا ہے اسی خلوص دل سے انہیں بھی عوام کی خدمت کے لیے اپنے آپ کو وقف کر دینا چاہئے۔ وہ اپنے فرض کو یاد کریں، اس لمحے کو یاد کریں جب انھوں نے حلف لیا تھا کہ وہ اپنے فرض کے تئیں ایماندار اور ملک کے تئیں وفادار ہونگے۔ ملک کے عوام کی بے غرض خدمت کریں گے، لیکن اس حلف کو وہ شاید محض ایک رسم گردانتے ہیں۔یعنی حلف تو اٹھائو، ایمانداری کی قسمیں بھی کھائو، لیکن کرو وہ کام جس سے جیب گرم ہوتی ہو، آئین کی دھجیاں اڑتی ہوں،قسموں کی پامالی ہوتی ہو، ایمانداری کا قتل ہوتا ہو اور وہ مفادات پورے ہوتے ہوں جن کی بنیاد ملک اور عوام کے ساتھ غداری پر رکھی ہوئی ہو۔
محض ایک قانون ہمارے پاس ہے جو بے لگام حکمرانوں اور افسروں کو سبق سکھا سکتا ہے۔ ان کے کالے کاموں کو بند کر سکتا ہے۔انہیں اپنے فرض کے تئیں ذمہ دار اور ملک کے تئیں وفادار بنا سکتا ہے۔ہاں! صرف آر ٹی آئی ہی وہ قانون ہے جو ملک کے اندر بدعنوانی کی گہری جڑوں کو ختم کر سکتا ہے۔ ہندوستان کو بدعنوانی سے پاک ملک بنا سکتا ہے۔ آر ٹی آئی کے ذریعہ آپبدعنوان افسران کی راتوں کی نیند حرام کر سکتے ہیں۔ انہیں صحیح لائن پر لا سکتے ہیں۔ہاں! یہ بھی یا د رکھئے کہ اگر ہم ان بدعنوان افسران اور حکمران کی لگام نہیں کسیں گے تو وہ دن دور نہیں جب وطن عزیز دنیا بھر میں بدعنوانی کے معاملے میں سر فہرست ہوگا اور عوام گھٹ گھٹ کر مرنے پر مجبور ہونگے۔فاقہ کشی کی نوبت آجائے گی۔ملک کا سرمایہ بیرون ممالک منتقل ہو جائے گا۔ ملک بھر میں افراتفری کا عالم ہوگا، چاروں طرف بے چینی ہوگی، کونے کونے میںغربت کا بسیرا ہوگا۔ لوگ افلاس کی زندگی گزارنے پر مجبور ہونگے۔تو کیا آپ ایسے حالات دیکھنے کے لیے تیار ہیں؟آپ ملک کو تاریک کنویں میں دھکیلنے کے لیے تیار ہیں ؟یقیناً آپ ایسا نہیں چاہتے ہونگے، تو آیئے اٹھ کھڑے ہوں اپنا حق مانگنے کے لیے، ملک کو بدعنوانی سے پاک کرنے کے لیے،بدعنوان حکمران اور افسران کو سبق سکھانے کے لیے۔آر ٹی آئی کا استعمال کیجئے اور ملک کو ایک نئی سمت دیجئے۔
کئی بار ایسی خبریں آتی ہیں کہ کسی نے آر ٹی آئی کا استعمال کیا تو اسے جان سے مارنے کی دھمکیاں ملی ہے۔بعض اوقات آر ٹی آئی کارکن کو کسی فرضی کیس میں پھنسا کر جیل بھی بھیج دیا جاتا ہے۔آر ٹی آئی رضاکاروں کو اپنا حق مانگنے کے لیے جاں بحق بھی ہونا پڑا ہے، لیکن ان کی موت ایک نظیر ہے، انھوں نے عوام کے حق کے لیے موت کو گلے لگایا ہے۔ اس سال ایسے تقریباً8لوگ جاں بحق ہوئے ہیں۔ ان لوگوں نے ایک سوال پوچھا تھا۔ سچ کے سپاہی کے سوالوں نے ناجائز کان کنی کرنے والے مافیائوں کی پول کھول دی تھی۔ اراضی گھوٹالوں کا پردہ فاش بھی انہیں گھوٹالوں کے ذریعہ ہوا تھا۔یہ ایسے سوال تھے جن سے بدعنوان لوگوں کی نیند حرام ہو گئی تھی۔سچ اور اطلاعات کے یہ سپاہی بد عنوان لوگوں کے لیے بڑا خطرہ بن گئے تھے۔یہ وقت فیصلہ کرنے کا وقت ہے۔ حکومت سے اطلاعات مانگے کا یہ حق ہمیں ملک کے قانون نے دیا ہے، لیکن افسران یہی چاہتے ہیں کہ آپ صرف ویسے ہی سوال پوچھیں جس سے حکومت و انتظامیہ میں بیٹھے لوگوں کو پریشانی نہ ہو، اگر پریشانی ہوئی تو آپ کو خاموش کرانے کی کوشش کی جائے گی۔پھر بھی نہیں مانے تو آپ کا قتل کرا دیا جائے گا، کیونکہ قاتلوں کو معلوم ہے کہ لیڈر اور افسر سے لیکر پولس تک اس بدعنوان نظام میں حصہ دار ہیں۔ان کا کوئی کچھ نہیں بگاڑ پائے گا۔بدعنوان افسران اور قاتلوں کی یہ چال زیادہ دن تک چلنے والی نہیں ہے۔ آپ آگے آئیں اور کسی بھی ایشو پرآر ٹی آٹی درخواست داخل کریں۔ ایسا نہیں ہے کہ اطلاع مانگنے پر آپر کوئی حملہ کر دے گا۔پہلے وہ آپ کی خوشامد کریں گے تاکہ آپ اپنی درخواست واپس لے لیں۔آپ جب افسران کو پریشانی میں ڈالنے والی کوئی درخواست دیتے ہیں تو کوئی آپ کے پاس بڑی ہمدردی کے ساتھ اس درخواست کو واپس لینے کی گزارش کرنے آئے گا۔اگر ایسا ہوتا ہے تو آپ چوکنا ہوجائیں۔ اپنے 15دوستوں کو بھی فوراً اسی دفتر میں وہی اطلاع مانگنے کے لئے آر ٹی آئی درخواست ڈالنے کو کہیں۔ اس معاملے کو میڈیا میں وسیع کوریج دلوائیں، پھر کوئی پریشانی نہیں ہے آپ کو اطلاع بھی ملے گی۔ آپ اپنے قصبے اور شہر کے لیے مثال بھی  بنیں گے اور یہی ملک سے بدعنوانی کو ختم کرنے کے لیے آپ کا بیش قیمتی تعائون بھی ہوگا۔

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *