آپ کے مسلم ایم ایل اے نے آپ کے لئے کیا کیا؟

Share Article

وسیم راشد 
پانچ ریاستوں کے اسمبلی الیکشن میں سے 2 میں پولنگ ہوگئی اب 3 ریاستوں راجستھان، دہلی اور میزورم باقی ہیں۔ دہلی کا الیکشن اس بار زبردست ہونے جارہاہے۔ پہلی بار کانگریس اور بی جے پی کے علاوہ کوئی تیسری پارٹی’’عام آدمی پارٹی‘‘ اپنے پورے وجود کے ساتھ عوام کے دل و دماغ پر حاوی ہے۔ لیکن دیکھنا یہ ہے کہ جو ایم ایل اے اب تک دہلی اسمبلی پر راج کرر ہے تھے انہوںنے اور خاص طور پر مسلم علاقوں سے جن مسلم ایم ایل اے کو چنا گیا تھا انہوں نے اب تک کیا کام کیا؟انہوں نے عوام کا کتنا درد محسوس کیا؟اس کا جائزہ لینا بے حد ضروری ہے۔شیلا دکشت تو جاتے جاتے دہلی جل بورڈ میں ہوئی بد عنوانی کا داغ اپنے دامن پر لے کر گئیں لیکن کانگریس تو بے شرم سرکار ہے ،بے پناہ گھوٹالوں کی تاریخ رقم کرا کے اب پھر سے انتخابی میدان میں پورے دم خم سے اتر آئی ہے۔

مسلم علاقوں کا جن کے ایم ایل اے مسلمان ہیں ۔یہ سب طاقتور لیڈران ہیں۔یہ چاہیں تو مسلم علاقوں کی تقدیر بدل سکتے ہیں لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ سب اپنی روٹی پر دال کھینچنے کے چکر میں ہیں ۔سیاست کی شعبدہ بازی اور بازی گری میں سارے مسلم لیڈران لگے ہوئے ہیں۔ اب پھر سے اسمبلی الیکشن ہونے والے ہیں۔پھر سے ان مسلم امیدواروں کو ٹکٹ مل گئے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ لوگ ان کے لئے کیا فیصلہ کرتے ہیں۔

شیلا دکشت نے بحیثیت وزیر اعلیٰ دہلی کو کیا دیا؟ ٹوٹی پھوٹی سڑکیں ، گندگی کے انبار،کارپوریشن میں دھاندلیاں،دہلی سرکار کے تحت چلنے والے بد عنوان ادارے، برسات میں بند سیور اور ان سے گلیوں اور روڈ پر بھرا پانی اور بے پناہ جام۔شیلا دکشت نے کامن ویلتھ گیمس کے دوران یہ وعدہ کیا تھا کہ دہلی کو پیرس جیسا بنادیںگی،لیکن ان کا یہ خواب صرف دکھانے کے لئے تھا،ہوا کچھ بھی نہیں ۔ یوں تو بڑے بڑے فلائی اوور بن گئے ہیں ۔دہلی میں میڑو اپنی پوری رفتار سے دوڑ رہی ہے لیکن پھر بھی جیسا مرکز کو ہونا چاہئے ویسی دہلی ابھی بھی نہیں ہے۔ جس طرف چلے جائیں گندگی کے انبار لگے ہوئے ہیں۔ سڑکوں پر بے پناہ جام ہیں اور عصمت دری کے واقعات نے تودہلی کو پورے ملک میں کیاپوری دنیا میں ہی بدنام کرڈالا ہے۔ دہلی میں روز بروز بڑھتے عصمت دری کے واقعات نے دہلی کو جرائم سٹی بنا دیا ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے کہ مجرم و غنڈے یہ سوچ کر ہی دہلی کا رخ کرتے ہیں کہ یہاں کھل کر عیاشی ،قتل و غارت گری کرنے اور عصمت لوٹنے کے مواقع ملیں گے اور اس طر ح دہلی بار بار اپنی بد نامی درج کراتی جارہی ہے۔
چلئے دیکھتے ہیں ہمارے مسلم ایم ایل اے نے اب تک کیا کام کیا؟ کتنا کام کیا؟ مسلم محلوں کی حالت سدھارنے میں کیا حصہ داری نبھائی ہے؟ دہلی کی 70 سیٹوں میں سے سب سے پہلے رخ کریں مشرقی دہلی کا یعنی سیلم پور کا۔وہاں کے ایم ایل اے چودھری متین احمد ہیں اور چودھری متین دہلی وقف بورڈ کے چیئرمین بھی ہیں۔سیلم پور کی حالت زار کے بارے میں جب وہاں کے لوگوں سے بات چیت ہوئی تو انہوں نے بتایا کہ سڑکیں اندر سے بالکل ٹوٹی ہوئی ہیں۔ مین روڈ کی سڑکوں پر بھی براہ نام کام ہوا ہے۔
سڑک پر بڑے بڑے کوڑا گھر ہیں جن کا کوڑا پورے روڈ پر پھیلا رہتا ہے اور غلیظ جانور خنزیر، کتے ان پر منڈلاتے رہتے ہیں۔ نالیاں بارش کے علاوہ عام دنوں میں بھی بہتی رہتی ہیں۔ اسکولوں کی عمارتیں بھی خستہ ہیں ۔ ایم ایل اے نے اپنے فنڈ سے کتنا کام کرایا ہے۔ اس کا کسی کو علم نہیں ہے۔ اس کے ساتھ ہی پورا علاقہ غنڈوں ، مافیائوں کا اڈا بنا ہوا ہے۔ بے پناہ مچھر اور مکھیاں گندگی کے ڈھیر کی وجہ سے وہاں ہیں۔ بیماریاں بھی اسی طرح پھیلتی ہیں ۔یہی چودھری متین صاحب دہلی وقف بورڈ کے چیئرمین بھی ہیں۔ 2009 میں ان کی ٹرم ختم ہوگئی تھی۔اب 2011 سے دوبارہ وقف بورڈ کے چیئر مین بنائے گئے ہیں لیکن وقف بورڈ کی جائدادوں کی خرد برد کا حال کسی سے چھپا ہوانہیں ہے۔اس کا لیگل سیل بالکل بے کار ہے۔ وقف بورڈ کے وکلاء کسی بھی پیشی میں حاضر نہیں ہوتے ہیں اور اس طرح نہ جانے کتنے ہی جائدادوں سے متعلق کیس وقف بورڈ ہار جاتا ہے۔ چودھری متین نے اپنے علاقہ کے لئے کیا کیا؟ کتنا کیا؟اس کا حساب کتاب سیلم پور کے لوگ ہی لگا سکتے ہیں۔
مصطفی آباد بھی سیلم پور کے ساتھ ہی لگا ہوا علاقہ ہے۔ میں خود اس علاقہ میں کئی بار گئی ہوں۔ وہاں کے ایم ایل اے حسن احمد ہیں ۔ وہاں کی سڑکوں کا بھی یہی حال ہے۔ بجلی، پانی کی کمی تو اپنی جگہ، علاقہ بے حد گندا اور بدبودار ہے۔ سیور لائن سب جام ہیں ۔ گلیوں میں سے بد بو اور تعفن کے بھبھکے اٹھ رہے ہیں۔ گوشت کی دکانوں کے باہر بھی گندگی دکھائی دیتی ہے۔ پان ،بیڑی ، سگریٹ کی دکانوں کے آس پاس جا بجا پان کی پیک کے دھبے نظر آتے ہیں۔ گلیاں بے حد تنگ ہیں۔ آوارہ گرد لڑکے گھومتے رہتے ہیں ۔ اس علاقہ میں بھی کچھ خاص کام نہیں ہوا ہے۔
اب شعیب اقبال کی کارکردگی پر آئیے۔مٹیا محل حلقہ سے شعیب اقبال کا نام یقینا کسی تعارف کا محتاج نہیں ہے لیکن 20 سال سے ایم ایل اے رہے شعیب اقبال نے علاقہ کے لئے کتنا کام کیا۔میں خود وہاں کی رہنے والی ہوں۔ہر دن جانا آنا لگا رہتا ہے ۔ ابھی بھی جب وہاں کی سڑکوں سے گزرو تو ٹوٹی پھوٹی سڑکیں سلام کرتی ہیں۔ سڑکوں کا یہ عالم ہے کہ رکشا میں بیٹھ کر کوئی حاملہ عورت گزر جائے تو ان سڑکوں سے درد زہ شروع ہوجائے اور عجیب نہیں کہ بچے کی ولادت سڑ ک پر ہی ہوجائے۔
چوتھی ٹرم شعیب اقبال پوری کررہے ہیں۔ لیکن مسلم محلوں کی جو قسمت ہے گندگی اور کوڑے کے ڈھیر ۔وہی میرے علاقے مٹیا محل میں بھی نظر آتے ہیں۔مینا بازار کی گندگی اور وہاں پر موجودہ10 سے 17 سال تک کے بچے سب اسمیک ،گانجا اور شراب کی لت میں پڑے ہوئے ہیں۔یہ وہ علاقہ ہے جہاں رات جاگتی ہے اور صبح تک بچے اور نوجوان ادھر سے ادھر گالی گلوچ بکتے ہوئے پھرتے رہتے ہیں۔ بے حد دکھ ہوتا ہے ان نوجوانوں اور بچوں کو دیکھ کر۔ شعیب اقبال نے علاقہ کی تعمیر و ترقی کے لئے جو بھی کام کئے ہیں وہ ان کی 20 سالہ مدت کے حساب سے بہت کم ہیں۔ دکھ اس بات کا ہے کہ شعیب اقبال کی دہلی اسمبلی میں بہت دھاک ہے ۔وہ بے باک اور نڈر لیڈر ہیں ۔وہ اگر چاہیں تو اس خالص مسلم علاقے کے نوجوانوں کی تقدیر بدل سکتے ہیں ۔
اب آجائیے اوکھلا پر۔ اوکھلا کی بد نصیبی کہہ لیجئے کہ اس پورے علاقے کو جیسے یتیم بنا کر بے یارو مددگار چھوڑ دیا گیا ہے۔ آصف محمد خاں اس علاقہ کے ایم ایل اے ہیں۔ اکثر صبح کو اس طرف جاتے ہوئے اسکوٹر پر نظر آجاتے ہیں۔ اپنے اسکول جو کالندی کنج کے کونے پر واقع ہے جو کبھی ایک چھوٹی سی جگہ ہوا کرتی تھی ۔ اب اسی جگہ کا بہت بڑا حصہ آصف صاحب کے قبضے میں ہے۔ پورا اوکھلا گندگی اور بد بو کا شکار ہے۔ جگہ جگہ کوڑے گھر کے باہر کوڑے کے انبار لگے ہوئے ہیں۔ ٹوٹی پھوٹی سڑکیں ہیں۔ شاہین باغ سے اوکھلا ہیڈ تک آئو تو پورا راستہ کوڑے کے ڈھیر سے پٹا ہوا ہے۔کتے ، خنزیر ادھر آزادانہ گھومتے رہتے ہیں۔ سب سے زیادہ ڈینگو کے کیس بھی اوکھلا میں ہی ہوتے ہیں کیونکہ پوری دلی میں اتنی گندگی نہیں ہے جتنی اکیلے اوکھلا میں ہے۔ کالندی کنج سے اوکھلا ہیڈ تک پولیس چوکی کے آگے راستہ اتنا جام رہتا ہے کہ اس راستے کے جام کے ڈر سے لوگوں نے اپنے مکان بیچ دیے ہیں۔اگر کسی کو آفس ، اسپتال یا کسی ضروری کام سے جانا ہوتو 2 گھنٹے پہلے نکلنا پڑتا ہے۔ پوری دہلی گھوم آئو لیکن یہاں کا جام نہیں کھلتا ہے۔ ناجائز تعمیرات کا یہ حال ہے کہ پورا علاقہ بدر پور، ریت، بجری ، روڑی سے پٹا پڑا ہے۔ کہیں بھی نکلنے بڑھنے کی جگہ کسی گلی میںنہیں ہے۔ آوارہ کتوں کے ڈر سے لوگ راتوں کو گھر سے نہیں نکلتے ۔ اوکھلا پوری طرح گندگی کا ڈھر بن چکا ہے۔ بے پناہ آبادی کی وجہ سے رش اس قدر ہے کہ کئی کئی گھنٹے گاڑیاں جامعیہ ملیہ کے سامنے والی سڑک سے نہیں نکل پاتی ہیں۔
یہ حال ہے ہمارے مسلم علاقوں کا جن کے ایم ایل اے مسلمان ہیں ۔یہ سب طاقتور لیڈران ہیں۔یہ چاہیں تو مسلم علاقوں کی تقدیر بدل سکتے ہیں لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ سب اپنی روٹی پر دال کھینچنے کے چکر میں ہیں ۔سیاست کی شعبدہ بازی اور بازی گری میں سارے مسلم لیڈران لگے ہوئے ہیں۔ اب پھر سے اسمبلی الیکشن ہونے والے ہیں۔پھر سے ان مسلم امیدواروں کو ٹکٹ مل گئے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ لوگ ان کے لئے کیا فیصلہ کرتے ہیں۔

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *