آپ کے غیر معروف مسلم امیدوار کیسے جیتے؟

Share Article

اے یو آصف
p-3ستر سیٹوں والی دہلی اسمبلی کے لیے 2015کے انتخابات میں کل 673امیدواروں میں 68مسلمان تھے، جبکہ 2013کے انتخابات میں کل 810امیدواروں میں108مسلم امیدوار کھڑے ہوئے تھے۔ ان میں کانگریس کے 4اور جے ڈی یو کے ایک امیدوار جیتے تھے، جبکہ عآپ کی مسلم امیدوار شاذیہ علمی انتخاب بہت کم ووٹوں سے ہار گئی تھیں۔ مگر 2015میں عآپ کے ٹکٹ پر کھڑے ہوئے 5مسلمانوں میں 4کامیاب ہوئے اور مصطفیٰ آباد سے ایک حاجی یونس ناکام ہوئے اور تیسرے نمبر پرچلے گئے۔
عآپ کے یہ کامیاب مسلم امیدوار اپنے علاقے سے باہر نہیں کے برابر متعارف ہیں۔ یہ کامیاب مسلم امیدار ہیں:مٹیا محل سے عاصم احمد خاں، بلی ماران سے عمران حسین، سیلم پور سے حاجی محمد اشراق عرف بھورے اور اوکھلا سے امانت اللہ خاں۔ ان میں مٹیا محل کے عاصم خان کا پس منظر یہ ہے کہ ان کے والد محمد شمیم خاں، جن کی مینا بازار میں دوکان ہے، جامع مسجد دہلی کے شاہی امام سید احمد بخاری سے بہت قریب ہیں۔ امام بخاری نے اسی قربت کی بنا پر عاصم خاں کو کانگریس سے گزشتہ بار میونسپل کارپوریشن کے انتخابات میں جامع مسجد سے ٹکٹ دلوایا تھا، مگر وہ ہار گئے تھے۔ اسی طرح بلی ماران کے عمران حسین بھی اسی کارپوریشن انتخابات میں حصہ لے کر کامیاب ہوئے او رکونسلر بن گئے۔ یہ بھی تاجر ہیں۔ ویسے پرانی دلی میں عآپ کے یہ دونوں کامیاب امیدوار ریئل اسٹیٹ کا بھی کام کرتے ہیں۔ یہ اپنے اپنے علاقے میں تو جانے پہچانے چہرے ہیں، مگر انھیں علاقے سے باہر کوئی نہیں جانتا ہے۔ان میں سے ایک عاصم کو کریڈٹ جاتا ہے کہ انھوں نے پرانے تجربہ کار سیاست داں شعیب اقبال کو شکست دی اور دوسرے کے سر یہ سہرا جاتا ہے کہ ان کے ہاتھوں سابق وزیر ہارون یوسف کو شکست کا منہ دیکھنا پڑا۔ یہ دونوں کامیاب عآپ ایم ایل ایز نوجوان ہیں اور نوجوانوں میں مقامی طور پر جانے پہچانے جاتے ہیں۔
تیسرے کامیاب عآپ ایم ایل اے حاجی محمد اشراق عرف بھورے بھی تجارت کرتے ہیں اور اپنے علاقے سیلم پور میں معروف ہیں۔لوگوں کے کام آتے ہیں۔ انھوں نے مقامی طور پراپنا امیج یقیناً بنایا ہے۔ انھیں بھی یہ کریڈٹ جاتا ہے کہ انھوں نے چودھری متین احمد جیسی قد آور شخصیت کو ہرایا ہے۔ انھوں نے کوئی خاص تعلیم حاصل نہیں کی ہے، مگر اپنے سماجی کام سے سیلم پور کے باشندگان میں اپنی پہنچ تو بنائی ہے۔
چوتھے کامیاب عآپ ایم ایل اے امانت اللہ خاں ہیں۔ انھوں نے ایک عرصہ سے بٹلہ ہاؤس اور شاہین باغ کے مقامی ایشوز کو اٹھایا ہے، جن میں غیر قانونی کالونیوں کا ریگولرائزیشن، پانی ، سیور اور صفائی کے ساتھ ساتھ قبرستان کی چہار دیواری کے ایشوز ہیں۔ ان کا یہ کام بھی قابل ذکر ہے کہ انھوں نے گزشتہ پارلیمانی انتخابات سے قبل بٹلہ ہاؤس میں چوراہے پر میز لگا کر ووٹر لسٹ میں ہزاروں نام کو شامل کرانے کی کامیاب مہم چلائی۔ سب سے عجب بات یہ ہے کہ اوکھلا کے تینوں امیدواروں میں تعلیم 12ویں کلاس سے زیادہ نہیں ہے۔ 41سالہ کامیاب عآپ ایم ایل اے 12ویں کلاس، کانگریس کے 51سالہ آصف محمد خاں 10ویں کلاس اور بی جے پی کے 50سالہ برہم سنگھ بھی 10ویں پاس ہیں۔ویسے امانت اللہ خان بد نام بھی ہیں۔ معروف قانون داں شانتی بھوشن نے جن کریمنلز کو ٹکٹ دینے کی بات کی تھی، ان میں ان کا بھی نام ہے۔ نیز وال پوسٹر معاملے میں انھوں نے پولیس کے سامنے عآپ کے دلیپ پانڈے کا دفاع کرتے ہوئے اپنا نام لے لیا تھا اور پھر ایک دوروز کے لیے حراست میں بھی رہے۔ نیز ان کے خلاف کئی کریمنل مقدمے بھی چل رہے ہیں۔
عآپ کے ان چاروں امیدواروں کی کامیابی میں ہر ایک کا مقامی ایشوز میںدلچسپی لینا اصل وجہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اپنے علاقے سے باہر غیر معروف ہوتے ہوئے ان سبھی نے اپنے سماجی کام اور اسی کے ساتھ ساتھ کجریوال سنامی سے بھر پور فائدہ اٹھایا اور سبھوں کو چونکا دیا۔
قابل ذکر بات یہ بھی ہے کہ عآپ مسلم امیدوار جن 5حلقوں میں کھڑے ہوئے تھے، وہاں مصطفیٰ آباد میں یہ بی جے پی سے ہار کر تیسرے نمبر پر چلے گئے، جبکہ کانگریس یہاں دوسرے نمبر پر رہی۔ اس کے بر عکس ان چار حلقوں جہاں یہ کامیاب ہوئے، ان میں اوکھلا، بلی ماران اور سیلم پور میں بی جے پی کے برہم سنگھ کو 60,321ووٹ سے، شیام لال موروال کو 33,877ووٹ سے او رسنجے جین کو 27,887ووٹ سے ہرایا۔ علاوہ ازیں مٹیا محل میں کانگریس کو 26,096ووٹ سے شکست دی۔ اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ ان 5مسلم اکثریتی حلقوں میں سے 3حلقوں میں عآپ کے مسلم امیدواروں کا سیدھا مقابلہ بی جے پی سے اور ایک حلقہ میں کانگریس سے تھا،جبکہ باقی ایک میں کامیاب بی جے پی امیدوار نے برہ راست کانگریس کو شکست دی۔
لوک نیتی کے تجزیے کے مطابق دہلی کے 77فیصد مسلمانوں نے اس بار عآپ کو تمام 70اسمبلی حلقوں میں ووٹ دیے ہیں۔ ویسے ان کا ووٹ زیادہ تر مسلم اکثریتی حلقوں میں کانگریس کے ساتھ تقسیم ہوا ہے۔ سب سے زیادہ ووٹ تقسیم مصفطے آباد میں ہوا جس کی وجہ سے وہاں بی جے پی صرف 6031ووٹ سے نکل گئی اور کامیاب ہوئی۔ اس کے بعد مسلم ووٹ کی عآپ اور کانگریس میں تقسیم مٹیا محل میں ہوئی، جہاں عآپ نے 26,096ووٹ سے کانگریس کو شکست دی۔ باقی تین حلقوں اوکھلا، بلی ماران اور سیلم پور میں کانگریس اور عآپ کے درمیان مسلم ووٹ کی تقسیم کم ہوئی۔ تبھی تو عآپ نے یہاں بی جے پی کو براہ راست ہرایا۔
تازہ نتائج سے اس بات کا بھی اندازہ ہوتا ہے کہ 2013کے گزشتہ انتخابات میں عآپ اور کانگریس کے درمیان زیادہ تقسیم ہوئی تھی، اس بار اس سے بہت کم تقسیم ہوئی۔ گزشتہ بار مسلم جھکاؤ زیادہ کانگریس کی طرف تھا، جبکہ اس بار یہ جھکاؤ زیادہ عآپ کی طرف رہا۔
ظاہر سی بات ہے کہ عآپ کو کامیاب بنانے میں متفقہ طور پر تما م مسلم تنظیموں کا رول نہیں رہا۔ ان میں سے بعض اس بار بھی ٹیکٹیکل ووٹنگ کی اپیل کرتی رہیں کہ بی جے پی کو شکست دینے کے لیے عآپ اور کانگریس میں سے کسی ایک کو تمام نشستوں پر کامیاب بنائیں۔ لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان کا23فیصد ہی رسپانس رہا۔ باقی77فیصد مسلمانوں نے عآپ کو ووٹ دیا۔
دلچسپ بات تو یہ ہے کہ انتخابات سے عین قبل مولانا سید احمد بخاری نے عآپ کی حمایت میں اپیل کردی۔ مگر عآپ نے اسی وقت ان کی حمایت کو ٹھکرانے کا اعلان کردیا۔ عیاں رہے کہ پچھلی بار 2013میں مولانا بخاری نے اوکھلا میں اس وقت کے عآپ امیدار عرفان اللہ خاں علیگ کی حمایت کا اعلان کیا تھا اور وہ ہار گئے تھے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *