آنکھ بند کرنے سے مسئلہ حل نہیں ہوتا

Share Article

سنتوش بھارتیہ
جب اٹل جی وزیر اعظم بنے تو بی جے پی اس جیسا دبائو نہیں ڈال پائی جیسا اس نے وی پی سنگھ پر دبائو ڈالا تھا۔ صاف کہہ دیا تھا جارج فرنانڈیز، نتیش کمار، شرد یادو، ممتا بنرجی نے کہ اگر آپ نے ایک بار بھی نام لیا رام جنم بھومی تنازعہ کا اور مندر بنانے کا تو ہم آپ کی حکومت سے علیحدگی اختیار کر لیں گے۔یہ تھا تیسرے محاذ کا یا سماجوادی آئیڈیا لوجی کا اثر۔ یہ کانگریس کی بدقسمتی تھی کہ وہ خود کو سوشلسٹ کہتی ہے لیکن ان جماعتوں کو اپنے ساتھ نہیں ملا پائی جن کا سوشلزم میں اعتماد تھا۔دراصل سوشلسٹ، کانگریس کو بناوٹی سوشلسٹ کہتے رہے ہیں۔ نظریاتی اختلافبھی بہت رہا ہے۔ اس نظریاتی اختلافکے پیچھے ڈاکٹر لوہیا کا بہت بڑا نظریہ  آج بھی کھڑاہے ، لیکن کانگریس اگر چاہتی تو بی جے پی کے مقابلہ وہ زیادہ مقبول پارٹی تھی، لیکن وہ نہیں کر پائی۔ اب جب کہ نہ تو بی جے پی آگے بڑھ رہی ہے اور نہ ہی کانگریس ایسا کچھ کرتی دکھائی دے رہی ہے، تیسرے محاذ کا تصوریا تیسرے محاذ کی اسٹریم میں یقین کرنے والے لوگ اگر ایک ساتھ ملتے ہیں اور مل کر پروگرام طے کرتے ہیں تو وہ ملک کے لیے ایک نیا امکان دکھا سکتے ہیں۔کون ان کے ساتھ جائے گا، کون نہیں جائے گا۔ لوگوں کی حمایت ملے گی یا نہیں ملے گی، آج نہیں کہا جا سکتا۔ لیکن ایک امکان پیدا ہوگا، کیونکہ آج امکانات ہی زیادہ ختم ہو رہے ہیں۔ آج بھی نتیش کمار، ملائم سنگھ یادو، شرد یادو لالو یادو، رام ولاس پاسوان اور اجیت سنگھ جیسے لیڈر ہیں اور یہ اگر مل جائیں ، ان کی پارٹیاں مل جائیں، ان کے کارکنان مل جائیں تو کم از کم شمالی ہندوستان میں یہ مضبوط سیاسی طاقت کی شکل میں اپنا اثر ڈال سکتے ہیں اور عوام کے سامنے ایک مضبوط متبادل پیش کر سکتے ہیں۔ مایاوتی جی اتر پردیش کی وزیر اعلیٰ ہیںلیکن مایاوتی سوچتی ہیں کہ یہ کوشش بیکار کی کوشش ہے اور وہ خود پورے ملک میں واحد متبادل بننا چاہتی ہیں۔ ابھی تک اتر پردیش سے باہر مایاوتی جی کو کہیں بھی حمایت نہیں ملی ہے۔ گزشتہ اسمبلی انتخابات میں ان کے لوگ جہاں بھی جیتے تھے، وہ جیتی ہوئی پارٹیوں میں شامل ہو گئے۔ کچھ راجستھان میں کانگریس میں شامل ہو گئے۔ ایسی مثال ہر ریاست کی ہے۔ ابھی جو پانچ ریاستوں کے انتخابات ہوئے ان میں مایاوتی جی کو کوئی سیٹ نہیں ملی۔ تیسرے محاذ کے تصور میں مایاوتی جی کا ساتھ نہیںہے۔ تیسرے محاذ میں وہ جماعت ہے جن کا سوشلزم میں، کسانوں میں، مزدوروں میں تھوڑا بہت بھروسہ آج بھی ہے۔ اب ان کی حمایت کمیونسٹ پارٹیاں کریں یا نہ کریں، بی جے پی کرے یا نہ کرے ، یہ مستقبل کے سوال ہیں۔ لیکن اگر یہ آپس میں ملتے ہیں تو جہاں ایک جانب ملک کے لوگوں کو کانگریس اور بی جے پی کا متبادل نظر آئے گا وہیں اس ریاست یا اس زبان کو دوبارہ سننے کی امید پیدا ہوگی جس زبان میں غریب مرکز میں رہتا تھا، محروم مرکز میں رہتا تھا، لیکن یہ ہونا آسان بھی نہیں ہے۔ کیونکہ جب جب یہ تیسرے محاذ کے لوگ آپس میں ملے ہیں تب تب انھوں نے اپنے ساتھی کی گردن پر تلوار چلائی ہے۔ جتنے نام میں نے لیے ہیں اُن میں  نتیش جی اور شرد جی کو چھوڑ کر سب الگ الگ کھڑے ہیں۔ آج یہ سبھی لوگ الگ الگ پارٹیوں میں ہیں۔ کبھی یہ سب ایک ہی پارٹی میں ہوا کرتے تھے۔ آج یہ سبھی وزیر اعظم کے عہدہ کے دعویدار ہیں اور تیسرے محاذ کے بننے میں اگر سب سے بڑا کوئی روڑہ ہے تو وہ ہے وزیر اعظم کا عہدہ۔ان کی بدقسمتی یہ ہے کہ جب یہ دوسری جماعتوں کے ساتھ رہتے ہیں،خواہ ملائم سنگھ جی ہوں، لالو جی ہوں، رام ولاس جی ہوں، شرد جی ہوں یا نتیش جی ہوں، تب ان کی خواہش  دبی رہتی ہے لیکن جیسے ہی یہ ساتھ میں ہوتے ہیں ان کو لگتا ہے کہ یہی اکیلے سب سے بڑے لیڈر ہیں اور باقی سب چھوٹے ہیں۔ ایسی سوچ ملک کے عوام اور دبے کچلے لوگوں کے ساتھ انصاف نہیں ہے بلکہ یہ ان لوگوں  اور  ان کی پارٹیوں کی نا انصافی ہے۔ اس لیے یہ ضروری ہے کہ جس طرح انھوں نے گزشتہ سالوں میں ایک دوسرے کو نقصان پہنچایا، ایک دوسرے سے دور رہے، ایک دوسرے کے لوگوں کو توڑنے کی کوشش کی، اس سے اگر کوئی سبق یہ لوگ لیتے ہیں تو اس ملک کی جمہوریت کو مضبوط کرنے میں اور زیادہ وسیع بنانے میں ان کا رول ہوگا۔ ورنہ آنے والا لوک سبھا الیکشن ضرور یہ طے کر دے گا کہ مستقبل میں تیسرا محاذ یا سوشلسٹ آئیڈیا لوجی یا غریبوں، پسماندہ، دلتوں کا نام لینے والے لوگوں کی سیاست میں معنویت رہے گی یا نہیں رہے گی اور اگر یہ معنویت ختم ہو تی ہے اور آپس میں یہ اسی طرح ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچتے رہتے ہیں یا ایک دوسرے کی پیٹھ میں خنجر گھونپتے رہتے ہیں تو یہ ملک کی جمہوریت کے لیے اسی طرح خطرناک ہے جس طرح موجودہ وقت میں بی جے پی کا اپوزیشن کا رول نہ ادا کرنا خطرناک ہے۔اس وقت ملک میں کوئی اپوزیشن نہیں ہے۔ ملک میں اپوزیشن کے نام پر ایک ایسی پارٹی ہے جو حکمراں پارٹی کی بی ٹیم ہے۔ایک طاقتور اپوزیشن کے لیے ضروری ہے کہ وہ غریبوں کی بات سنے۔چیلنج کانگریس کے سامنے بھی ہے۔ اگر وہ غریبوں کی بات نہیں سنتی، ان کی بات نہیں کرتی تو ان ریاستوں کے انتخابات کے اشارے اس کے لیے بہت اچھے نہیں ہیں۔ منموہن سنگھ اس بات کو نہیں سمجھنا چاہتے کہ وہ جب اقتدار میں آئے تھے تو اس وقت 60اضلاع نکسل ازم سے متاثرتھے۔ آج جب ہم بات کر رہے ہیں تو تقریباً270اضلاع میں نکسلی سرگرم ہیں۔ یہ اعداد و شمار اگر منموہن سنگھ جی کو نہیں ڈراتے اورحکمراں اور اپوزیشن پارٹی کو بے چین نہیں کرتے تو میں صرف اتنا ہی کہہ سکتا ہوں کہ آپ نے خود کو اس شکل میں ڈھال لیا ہے جسے تلسی داس جی نے کہا تھا کہ ’’مندہو آنکھ کتہوں کچھو ناہی‘‘۔ تلسی داس جی کے کہنے کا مطلب یہ تھا کہ کچھ لوگ ایسے ہیںجو آنکھ بند کر لیتے ہیں اور سوچتے ہیں کہ دنیا میں اب نہ کوئی پریشانی ہے، نہ مسئلہ ہے،نہ دقت ہے۔ امید کرنی چاہیے کہ ہندوستانی سیاست اس بھنور سے نکلے گی اور ملک کو نئے متبادل دینے کی اہل ہوگی۔

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *