p-8bآئین کی مذمت کرنے والوں میں دو پارٹیاں اہم ہیں، پہلی کمیونسٹ پارٹی اور دوسری سوشلسٹ پارٹی۔ آخر یہ پارٹیاں آئین کی مذمت کیوں کر رہی ہیں؟ کیا واقعی میں یہ ایک بیکار آئین ہے؟ اس پر میرا جواب ہوگا، نہیں۔ کمیونسٹ پارٹی چاہتی تھی کہ آئین عام لوگوں کے تاناشاہی اصولوں کی بنیاد پر بنے۔ اس نے آئین کی مذمت اس لیے کی، کیوں کہ یہ آئین پارلیمانی جمہوریت پر مبنی ہے۔ سوشلسٹوں کی دو خواہشیں تھیں۔ پہلی یہ کہ وہ چاہتے تھے کہ جب وہ اقتدار میں آئیں، تو آئین انہیں اس بات کی آزادی دے کہ وہ لوگوں کی نجی ملکیت کو بغیر ہرجانہ دیے ہی قومی ملکیت ہونے کا اعلان کردیں۔ سوشلسٹ دوسری چیز یہ چاہتے تھے کہ آئین میں بنیادی حقوق کی کوئی حد طے نہ کی جائے، تاکہ جب وہ اقتدار میں آئیں، تو ان پر کسی طرح کی کوئی روک نہ ہو اور وہ ایک طرح سے بے لگام ہو کر برتاؤ کریں۔ وہ جو بھی کریں، اس کی تھوڑی بھی تنقید نہ ہو اور اس طرح سے ریاست کی ہار بھی ہو جائے۔
یہ بنیادی اسباب ہیں، جن کی وجہ سے لوگ آئین کی مذمت کر رہے ہیں۔ میں یہ نہیں کہنا چاہتا کہ پارلیمانی جمہوریت کا اصول ہی سیاسی جمہوریت کی سب سے بہتر شکل ہے۔ میں یہ نہیں کہنا چاہتا کہ بغیر ہرجانہ کے نجی ملکیت کو تحویل میں لینے کا اصول جائز ہے۔ میں یہ بھی نہیں کہنا چاہتا ہوں کہ بنیادی حقوق کبھی بھی مجموعی طور پر صحیح نہیں ہو سکتے اور ان کی حدود میں تبدیلی نہیں لائی جا سکتی۔ میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ میں نے آئین میں جو اصول پیش کیے ہیں، وہ آج کی نسل کے خیالات ہیں یا اگر آپ میرے ان خیالات کو بڑھ چڑھ کر مانتے ہیں، تو میں یہی کہوں گا کہ یہ آئین ساز مجلس کے اراکین کے خیالات ہیں۔ آپ ڈرافٹنگ کمیٹی کو یہ چیزیں آئین میں پیش کرنے کے لیے کیوں قصوروار ٹھہرا رہے ہیں؟ آپ آئین ساز مجلس کے ایک رکن کو بھی کیوں قصوروار ٹھہرا رہے ہیں؟
جیفرسن نے امریکی آئین کی تدوین میں بہت اہم رول ادا کیا ہے۔ انہوں نے آئین سازوں کے لیے بہت ہی عمدہ خیالات رکھے ہیں، جنہیں خارج کرنا آسان نہیں ہے۔ انہوں نے ایک جگہ کہا ہے کہ ہم ہر نسل کو ان کے حقوق اور اکثریتی طبقہ کی خواہشوں کی بنیاد پر متحد کر سکتے ہیں، لیکن کسی دوسرے ملک کے باشندوں کو ہم متحد نہیں کر سکتے۔ دوسری جگہ انہوں نے کہا کہ وہ مشورہ، جس پر کوئی ادارہ قومی مقاصد کو پورا کرنے کے لیے قائم کیا گیا ہو، اسے نہ تو بدلا جا سکتا ہے اور نہ ہی اسے جدید بنایا جاسکتا ہے۔ میں یہاں کہنا چاہوں گا کہ جیفرسن نے جو کہا، اس میں تھوڑی سی نہیں، بلکہ پوری سچائی ہے۔ اس لیے اس پر کوئی سوال نہیں کھڑا کیا جا سکتا۔ کیا جیفرسن کے ذریعے رکھے گئے اصولوں سے آئین ساز مجلس پیچھے ہٹ سکتی ہے؟ یہ یقینی طور پر الزام کے لائق ہی نہیں، بلکہ مذمت کے بھی لائق ہے۔ کوئی آئین میں ترمیم سے جڑے ضابطوں کی جانچ کرتا ہے؟ آئین ساز مجلس نے آئین پر حتمی طور پر مہر لگانے کے لیے صرف روکا ہی نہیں، جیسا کہ کناڈا میں ہوا، بلکہ آئین میں ترمیم کا بہت ہی آسان طریقہ بھی بتایا۔
میں آئین پر کسی بھی تنقید کو چیلنج کرتا ہوں کہ دنیا کی کوئی بھی آئین ساز مجلس اس بات کو ثابت کرکے دکھائے کہ وہ آئین میں ترمیم کے ایسے آسان طریقے بتا سکتی ہے۔ جو لوگ اس آئین سے مطمئن نہیں ہیں، انہیں دو تہائی اکثریت حاصل کرنی ہوگی اور اگر وہ دو تہائی اکثریت پارلیمنٹ میں اپنے حق میں نہیں حاصل کر پاتے، تو ان کی رائے کو عوام خود ہی ٹھکرا دیں گے۔ ہم نے بیرونی ممالک سے آئین کی بہت ساری چیزیں مستعار لی ہیں۔ ان میں صرف ایک بات اہم ہے، جس کے بارے میں میں نے بتایا ہے۔ ایک سنگین سوال یہ اٹھایا گیا ہے کہ یہ بہت ہی مرکزیت کا حامل ہے اور ریاست نے میونسپل کونسل کے اختیارات کم کر دیے ہیں۔ یہ صاف ہے کہ یہ خیال صرف مبالغہ ہی نہیں ہے، بلکہ یہ غلط فہمی بھی پیدا کرتا ہے کہ آخر آئین کیا کرنا چاہتا ہے۔ مرکز اور صوبے کے رشتوں کو دیکھا جائے، تو یہ ضروری ہو جاتا ہے کہ بنیادی اصولوں کو دھیان میں رکھا جائے۔ وفاقی نظام کا بنیادی اصول یہ ہے کہ مرکز اور صوبے کے درمیان قانونی اور انتظامی اختیارات کی تقسیم ہوتی ہے۔ یہ تقسیم مرکز کے ضابطہ کی بنیاد پر نہیں ہوتی، بلکہ آئین کے ضابطوں کے تحت ہوتی ہے۔
صوبے ہمارے آئین کے اندر ہیں، جو اپنے قانونی اور انتظامی اختیارات کے لیے مرکز پر انحصار نہیں کرتے۔ مرکز اور صوبہ اس ایشو پر ایک جیسے ہیں۔ اسے دیکھ کر یہ مشکل لگتا ہے کہ آئین کو مرکزیت کا حامل کیسے کہا جاتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ آئین مرکز کو بہت بڑا علاقہ، قانونی اور انتظامی اختیارات دیتا ہے، جو کسی بھی وفاقی آئین میں نہیں ملتا ہے۔ آئین میں خصوصی اختیارات صرف مرکز کو دیے گئے ہیں، نہ کہ صوبوں کو، لیکن یہ خصوصیتیں وفاقی نظام کی علامت کو نہیں بتاتیں۔ جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا ہے کہ وفاقی نظام کی بنیادی پہچان قانونی اور انتظامی اختیارات کا مرکز اور آئین کے ذریعے قائم کردہ اکائیوں کے درمیان بٹوارہ ہے۔ ہمارے آئین کی یہ بنیادی خاصیت ہے۔ اس بارے میں کوئی غلطی نہیں کی گئی ہے، اس لیے یہ غلط ہے کہ صوبوں کو مرکز کے اندر رکھا گیا ہے۔ نہ تو مرکز اپنی خواہش کے مطابق اس تقسیم کو غصب کر سکتا ہے اور نہ ہی عدلیہ۔ اس کے بارے میں کسی نے ٹھیک ہی کہا ہے، عدالتیں اس میں اصلاح کر سکتی ہیں، لیکن وہ اسے ہٹا نہیں سکتیں۔ وہ ترمیم کر سکتی ہیں، نئے حقائق دے سکتی ہیں، نئے نکات پیش کر سکتی ہیں اور کچھ معاملوں میں درمیان کی لائن کھینچ سکتی ہیں، لیکن یہاں بھی ایک مجبوری ہے، کیوں کہ وہ اسے پاس نہیں کرسکتیں۔ وہ موجودہ اختیارات کی بہتر تشکیل میں مشورے دے سکتی ہیں، لیکن کسی ایک اکائی کو اس کے لیے بااختیار نہیں کر سکتیں کہ وہ پورا اختیار کسی دوسرے کو دے دے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here