آئین کا صحیح نفاذ ہونا چاہیے

Share Article

اتراکھنڈ میں اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے سے قبل ہی صدر راج نافذکرنے کے معاملے کی سنوائی اتراکھنڈ ہائی کورٹ سے ہوتی ہوئی سپریم کورٹ پہنچ گئی ہے۔ اس معاملے کے دو پہلو ہیں۔ پہلا یہ کہ اس معاملے کی نوعیت سیاسی ہے۔ اس میں عدالت بہت کچھ نہیں کر سکتی۔ دراصل سیاسی پارٹیوں کو اس سلسلے میں صحت مند معیار قائم کرنے چاہئیں۔ دل بدل قانون جس مقصد کے لیے نافذ کیا گیا تھا وہ مقصد پورا نہیں ہو پارہا ہے۔ لوگوں کے اندر اخلاقیات الگ سے نہیں بھری جا سکتی ہے۔ ایک پارٹی سے انتخاب جیتنا اور بعد میں کسی دوسری پارٹی میں چلے جانا آخرکار اخلاقی موضوع ہی تو ہے۔ اسمبلی کے ممبران کو دل بدل قانون کے دائرے میں لانے سے کوئی مقصد پورا نہیں ہوگا۔ جو اتراکھنڈ میں ہوا یا اس سے پہلے دوسری ریاستوں میںہوا، اس میں عام طورپر دیکھا گیا کہ جب اسمبلی کے ممبران کی تعداد اتنی نہیں ہوتی کہ وہ پارٹی کو قانونی طور پر توڑ سکیں، تو اپنی رکنیت بچانے کے لیے وہ بغاوت کر دیتے ہیں۔ ایسے میںحزب اقتدار کا اسپیکر ان کی رکنیت ختم کر دیتا ہے یا انہیں معطل کر دیتا ہے۔ اس طرح ہاﺅس کی صلاحیت غیر فطری طور پر کم کر دی جاتی ہے اور یہ طے ہو جاتا ہے کہ حزب اقتدار کی حکومت بنی رہے گی۔ مرکزی حکومت، خواہ کسی بھی پارٹی کی کیوں نہ ہو، صدر راج نافذ کر دیتی ہے۔ اگر نیا وزیر اعلیٰ آ جاتا ہے یا نیا اسپیکر آجا تا ہے تو وہ ان کی رکنیت واپس کر دیتا ہے۔ یہ ایک سیاسی کمزوری ہے اور اس سے جمہوریت کے اقدارمیں مضبوطی نہیں آتی۔ اسپیکر کو انصاف پسند ہونا چاہیے، لیکن موجود ہ سیاسی ماحول میں سبھی اسپیکر حزب اقتدار کے مفاد کے لیے کام کرتے ہیں۔

مرکزی حکومت نے اترا کھنڈ میںاپنا جو موقف رکھا اس میں کہا گیاکہ صدر کے فیصلے کو چیلنج نہیں کیا جا سکتا ۔ یہ ایک غلط خیال ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ صدر ملک کی علامت ہوتے ہیںاور ذاتی طور پر ان کے خلاف کچھ بھی نہیں کہا جا سکتا ہے۔ لیکن، ان کے کسی فیصلے پر سوال نہیں اٹھا یا جا سکتا، یہ بات گلے سے نہیں اترتی۔ صدر کا ہر فیصلہ مرکزی کابینہ کی صلاح اور مدد سے لیا جاتا ہے۔ آئین میں جہاں بھی لفظ صدر آتا ہے، تو اس کا مطلب ہوتا ہے مرکزی کابینہ (آپ اسے مرکزی حکومت بھی پڑھ سکتے ہیں)۔ صدر کی بات مرکزی حکومت کی بات ہوتی ہے۔ ان کے الفاظ حکومت کے الفاظ ہوتے ہیں۔ اس لیے صدر کے فیصلے کی جانچ پڑتال یا اس کاتجزیہ عدالت میںہو سکتا ہے۔مثال کے طورپر اگر صدر کوئی آرڈیننس جاری کرتے ہیں ، تو اسے عدالت میں چیلنج کیا جا سکتا ہے، کیونکہ صدر صرف نام کے لیے ہی اس آرڈیننس کو جاری کرتے ہیں۔ اصل میںوہ آرڈیننس مرکزی حکومت کی جانب سے جاری کیا جاتا ہے۔ اس لیے یہ کہہ دینا کہ صدر نے کوئی فیصلہ لیا ہے، تو کوئی سوال نہیں اٹھایا جا سکتا، غلط ہے۔ عدالت کی سنوائی خواہ جس سمت جائے، معاملہ یہ ہے کہ صدر راج کے خاتمے کے بعد جو بھی وزیر اعلیٰ بنے گا وہ اپنا اسپیکر بحال کرے گا، جو دل بدل قانون کے دائرے میں آئے نو ارکان اسمبلی سے جڑے فیصلے کو الٹ دے گا۔ یہ جمہوریت کے لیے صحیح نہیں ہوگا۔
ایک ایسا طریقہ دریافت کرنا چاہیے، جس کے ذریعہ اس طرح کے بحران کا حل نکل سکے۔ اگر کوئی حقیقی بحران پیدا ہوتا ہے تو اسمبلی تحلیل کی جانی چاہیے اور نئے انتخابات کرانے چاہئیں، تاکہ عوام کی عدالت میں صحیح فیصلہ ہو سکے۔ جمہوریت میں سب سے بڑے جج عوام ہوتے ہیں۔

یہ ایک بھدا کھیل ہے، جو پہلے اروناچل میں کھیلا گیا اور اب اترا کھنڈمیں۔ کانگریس نے بھی درجنوں بار ایسا کھیل کھیلا ہے۔ یہ خیال کیا جا رہا تھا کہ نریندر مودی ایک نیا ٹرینڈ شروع کریں گے اور بی جے پی کچھ اچھے معیار قائم کرے گی۔ لیکن افسوس کہ ایسا کچھ نہیں ہوا۔ دلی میںجب صر ف پانچ رکن اسمبلی کی ضرورت تھی ، تب بی جے پی نے ایسا نہیں کیا۔ لوگوں میں امید جاگی کہ بی جے پی اس طرح کا کھیل نہیں کھیلے گی۔ بی جے پی نے دلی حکومت کے لیے جوڑ توڑ کی سیاست پر انتخابات کوترجیح دی ۔ بی جے پی الیکشن میں گئی لیکن اسے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ فی الحال وہاں عام آدمی پارٹی کی حکومت ہے۔ لیکن مجھے لگتا ہے کہ بہار انتخابات کے بعد انہیں سمجھ میں آ گیا کہ عوام کو ہلکے میں نہیں لیا جا سکتا ہے۔ اس لیے انہوں نے کانگریس کے طریقے اختیار کرنے شروع کر دےے۔ بی جے پی کو احساس ہوا کہ یہی ایک واحدعملی طریقہ ہے۔ اس طریقہ کو اس نے اترا کھنڈ اور اروناچل میں اپنایا اور شاید آگے ہماچل پردیش میں بھی اپنائے۔ یہ نہایت افسوس ناک حالت ہے۔ جتنی جلد تما م سیاسی پارٹیاں ایک جگہ بیٹھ کر آئین پر صحیح طریقے سے عمل درآمد کے لیے بہتر راستہ نکالیں ملک کے لیے اتنا ہی بہتر ہوگا۔

تشویش کی دوسری وجہ مہاراشٹر اور ملک کے دیگر حصوں میں خشک سالی کی صورت حال ہے۔ بہتر مانسون اور اس کے ساتھ آنے والا سیلاب سالانہ مسئلے ہیں۔ یا تو بہت زیادہ بارش ہوگی یا بہت کم۔ نتیجہ خشک سالی اور سیلاب کے حالات۔ میں نہیں سمجھتا کہ ہمارے پاس ایسے حالات سے مقابلہ کرنے کے لیے کوئی قومی منصوبہ ہے۔ ہمارے یہاں نیشنل ڈیزاسٹر ریلیف کمیشن موجود ہے، جسے واجپائی حکومت کے دوران قائم کیا گیا تھا، جو ٹھیک ہے ۔ اس طرح کے حالات میں کام کرنے کے لیے یہی ایک واحد ادارہ ہے۔ لیکن ملک میںڈیزاسٹر روکنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔ بے شک ندیوں کو آپس میں جوڑنے کی بات ہورہی ہے، لیکن اس میں بھی ماحولیات سے جڑے تحفظات ہیں۔ فی الحال خشک سالی اور سیلاب سے جو سب سے زیادہ متاثرہ علاقے ہیں، وہاںمائکرو مینجمنٹ کی ضرورت ہوگی۔ بہار میں جب بھی ندیاں اپنے شباب پر آتی ہیںتو وہاں سیلاب آجاتا ہے اور پھر اس کے بعد ہم کوئی قدم اٹھاتے ہیں۔ اس پر سنجیدگی سے غور کیا جا نا چاہیے۔ وزیراعظم ماہرین کی ایک کمیٹی تشکیل دے سکتے ہیں، جو اس مسئلے کامطالعہ کرے اور اپنی تجاویز پیش کرے۔ اگر اس میں کوئی بڑی رقم خرچ ہوتی ہے، تو بھی کوئی بات نہیں۔ کیونکہ جو نظام اس کے لیے بنا یا جائے گا، وہ اس قابل ہوگا کہ ایسے حالات کا سامنا کر سکے یا ایسے حالات پیداہونے سے روک سکے۔ سیلاب یا خشک سالی کے بعد آپ جو پیسہ خرچ کر رہے ہیں وہ اس سے کہیں زیادہ ہے۔ امید کرنی چاہیے کہ حکومت اس پر دھیان دے گی۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *