آہ دگ وجے سنگھ۔۔ادھورے رہ گئے ترقیاتی خواب

Share Article

سروج سنگھ
دگ وجے سنگھ، جنہیں ہر کوئی پیار سے دادا کہہ کر بلاتا تھا، اکثر کہا کرتے تھے کہ گجرات کیوں ، بہار کیوں نہیں؟ کیا نہیں ہے بہار میں؟ بس ترقی کا ویژن ہونا چاہئے، سب کچھ پٹری پر دوڑتا نظر آئے گا۔ دادا نہیں رہے، لیکن خوابوں کی کوئی عمر نہیں ہوتی، انہیں تو بس دیکھنے والی آنکھیں اور آگے لے جانے والے کندھے چاہئیں۔دادا کو پیار کرنے والا ہر شخص آج یہی چاہتا ہے کہ بہار اور ملک کے لئے انہوں نے جو خواب بنے تھے، انہیں ہر صورت میں عملی جامہ پہنایا جائے، تاکہ کوئی یہ نہ کہے کہ دادا کو خراج عقیدت دینے میں کوئی کمی رہ گئی۔
لندن جانے سے ٹھیک پہلے پٹنہ کے سنتوش اپارٹمنٹ میں ان سے آخری ملاقات ہوئی۔ ہمیشہ کی طرح انہوں نے گرم جوشی سے استقبال کرکے بٹھایا اور پھر ملک اور دنیابھر کی سرگرمیوں پر بات چیت شروع ہوگئی۔ سامنے ٹی وی پر نشر ہورہے بنگال کے بلدیاتی الیکشن کے نتائج سے مسرور دادا کہنے لگے، ممتا دو تہائی اکثریت سے اسمبلی الیکشن جیتے گی۔ممتا بنرجی کی تعریفوں کے پل باندھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جد وجہد کرنا کوئی ان سے سیکھے۔ اتنے میں پی کے سنہا آگئے تو کسی نے کہا کہ لیجئے، آگئے بہار کے ممتا بنرجی۔ دادا نے بھی اس بات کو دہرایا اور پھر بات بہار کی ترقی کے تعلق سے شروع ہوئی۔بجلی، صنعت، سرمایہ کاری اور تعلیم کے معاملے میںپسماندہ بہارکے لئے دادا خاصے متفکر رہتے تھے ۔اس دن بھی بات بجلی کے تعلق سے ہوئی تو کہنے لگے، دس سال لگ جاتے ہیں ایک پروجیکٹ کو پورا ہونے میں ۔ کیا کہیں، اتنا وقت بیت گیا، ابھی تو کسی پروجیکٹ کی شروعات بھی نہیں ہوپائی ہے۔اب دیر ہورہی ہے۔ مانگ میں دن بہ دن اضافہ ہوگا۔ اگر اب بھی ہم بیدار نہیں ہوئے تو آنے والی نسل کو کیا جواب دیں گے۔ کسی نے کہا ، شاید مرکز بھی تعاون نہیںکررہا ہے۔ دادا کی آواز تیز ہوگئی، ارے مرکز تعاون کیسے نہیں کرے گا۔ ہم تو لڑکر بہار کا حق لیں گے۔ ایسا تھوڑی ہوتا ہے۔دیکھئے بجلی نہیں ہوگی تو کچھ نہیں کر پایئے گا۔ا ندھیرے میںکون پیسہ لگائے۔
میں دادا سے جب بھی ملا تو میں نے محسوس کیا کہ ان کا زور بہار کی حقیقی ترقی پر تھا۔ کہتے تھے ، جب تک بہار کا پیسہ ریاست میں نہیں لگے گاتب تک نقل مکانی کا سلسلہ نہیں رکے گا۔صحیح معنوںمیںترقی اسی وقت ہوگی جب پوری ریاست میں صنعتوں کاجال بچھایاجائے گا۔ چھوٹی بڑی صنعتوں کی بنیاد ہی بہار کے خواب کو شرمندہ تعبیر کرے گی۔دادا چاہتے تھے کہ کسانوں کو ان کی پیداوار کی صحیح قیمت ملے۔ وہ ایسی اکائیاںقائم کرنا چاہتے تھے ، جن میں کسانوں کی پیداوار کی کھپت ہو، تاکہ ان کی زبوں حالی دور ہوسکے۔ دادا روزگار سے جڑی تعلیم کے حق میں تھے۔ وہ کہا کرتے تھے کہ اگر نوجوانوں کو صحیح تعلیم اور اس کے بعد روزگار نہیں ملے گا تو تباہی ہی آئے گی۔ اس لئے وہ ریاست میں اعلیٰ تکنیکی تعلیم کو فروغ دینا چاہتے تھے۔
دادا کی سیاست ذات برادری اور مذہبی تفریق سے بالاتر ہوتی تھی ۔ان کی تمام تر توجہ ترقی کی سیاست پر ہوتی تھی۔ بانکا سے الیکشن جیتنے کے بعدان کے حامیوں میں سے ایک نے کہا کہ آپ تو پورے راجپوت سماج کے لیڈر ہوگئے۔ دادا اس بات پر کافی ناراض ہوئے اور انہوں نے کہا کہ مجھے ذات کے بندھن میں مت باندھو۔ لوک مورچہ کی تشکیل دینے کے پس پشت ان کا مقصد اچھے اور کام کرنے والے لوگوں کوایک پلیٹ فارم پر جمع کرنا تھانہ کہ کسی مخصوص ذات کے لوگوں کو۔ بانکا سے ممبر پارلیمنٹ بننے کے بعد ان پربہار میں زیادہ سے زیادہ وقت دینے کا دباؤ پڑنے لگا۔ ان کی بے داغ اور صاف ستھری شبیہ اور ترقی کے تئیں ان کے ویژن کو دیکھتے ہوئے کئی بڑے لیڈروں کو محسوس ہونے لگا کہ بہار کے عوام دادا کو لیڈر کے طور پر قبول کرلیں گے۔ کسان مہاپنچایت کی تیاریوں کے سلسلے میں دادا جہاں بھی گئے، وہاں لوگوں نے انہیں ایک متبادل کے طور پر دیکھا۔ ایک بار جب میں نے ان سے پوچھا کہ مہا پنچایت کے کچھ لیڈروں کی شبیہ پوری طرح صاف ستھری نہیں ہے تو وہ تھوڑی دیر رکے پھر بولے ، بہار کی لڑائی لڑنی ہے تو اسے بہار کے لوگ ہی لڑیں گے۔ کوئی باہر سے آدمی نہیں آئے گا۔ کوشش کریں  کہ سبھی لوگ بہار کے بارے میں ہی سوچیں اور اسے آگے لے جانے کی پہل کریں۔ بہارکے تعلق سے  ان کی فکر چوتھی دنیا میں شائع ان کے ایک انٹر ویو میں بھی صاف جھلکتی ہے، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ بہار کی مٹی میں پیدا ہوا ہوں، اس لئے یہاں کا درد سمجھتا ہوں۔ اگر اس مٹی کے لئے کچھ کر پایا تو اپنے آپ کو بہت بڑا خوش قسمت سمجھوںگا۔
دادا بہت کچھ کرنا چاہتے تھے، لیکن وقت نے ان کو کچھ کرنے کی مہلت ہی نہیں دی۔ لیکن اب سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا ان کے خواب بکھر جائیں گے۔ ان کے خاندان کے افراد ، ان کے دوست، انہیں چاہنے والوں کے دلوں میں آخر کیا چل رہا ہے۔دادا سبھی کو چاہتے تھے اور یہی ان کی طاقت تھی۔ اسی طاقت کی بنیاد پر انہوں نے اپنے دوستوں اور چاہنے والوں کا ایک بہت وسیع حلقہ بنالیا۔ لال کوٹھی میں ان کے حامیوں کے دل اور آنکھوں کا جائزہ لینے کے بعد پتاچلاکہ سبھی چاہتے ہیں کہ دادا کا ہر خواب پورا ہو۔ دادا کو کوئی کھونا نہیں چاہتا ہے اور یہ اسی وقت ممکن ہے جب ان کے خواب کو عملی جامہ پہنایا جائے اور ترقی کے ان کے ویژن کوعملی شکل دی جائے۔ جس طرح کی سیاست کے وہ طرفدار تھے ، اسے استحکام عطا کیا جائے اور جس بہار کو وہ گجرات سے آگے لے جانا چاہتے تھے،اس کے لئے رات دن ایک کردیا جائے۔دادا کے جانے کے بعد ان کی اہلیہ پتل سنگھ پر کیا بیت رہی ہوگی ، اس کا اندازہ آسانی سے لگایا جاسکتا ہے۔ ان کی دونوں بیٹیاں اور بھائی تری پراری جی غم میں ڈوبے ہیں۔ یہ فطری چیز ہے، لیکن ایک بات کی یاد دہانی کرانی ہے اور وہ یہ کہ جب بانکا سے دادا کو جنتا دل (متحدہ) کا ٹکٹ نہیں ملا تو انہوں نے سمجھوتے کا راستہ نہ اپناکر جد وجہد کو اپنا نصب العین بنایا۔انہوں نے راجیہ سبھا سے استعفیٰ دے کر اپنے ارادوں کو اور مضبوط بنایا ۔ گاؤں گاؤں پیدل گھوم کر لوگوں کو یہ بتایا کہ عزت نفس سے سمجھوتہ نہیں ہوگا، جد وجہد کی راہ پر ہوں،اب آپ کا تعاون چاہئے۔ بانکا میں دادا کو سبھی کا تعاون ملا اور وہاں جیت حاصل کرکے انہوں نے یہ ثابت کردیا کہ اگر راستہ صحیح ہو اور ارادہ پختہ ہوتو دشوار سے دشوارترین منزل بھی حاصل کی جاسکتی ہے۔ آج ایک بار پھر بحران کا وقت آگیا ہے، صحیح راستہ منتخب کرنے کا وقت آن پہنچا ہے۔ دادا کے خوابوں کو پورا کرنے کا سخت چیلنج سامنے ہے۔ دوست اور دشمن کے چہرے یکساں لگ رہے ہیں۔ فیصلہ پتل سنگھ کو لینا ہے۔ جس راہ پر انہیں چلنا ہے، وہ آسان نہیں ہے، لیکن ایسے ہی حالات میں رہنما ابھرتے ہیں۔ آزمائش کی اس کٹھن گھڑی میں دادا کے چاہنے والے لاتعداد لوگوں کے جذبات اور بہار کے تعلق سے ان کے خوابوں کو دیکھنا ہے۔ دادا کے خوابوں کو پتل سنگھ کا بھر پور تعاون ملنا ضروری ہے، تاکہ بہار کے تعلق سے ان کے خوابوں کو شرمندہ تعبیر کیا جاسکے اور انہیں صحیح معنوں میں خراج عقیدت پیش کیا جاسکے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *