یہ اصل میںکوئی خبر نہیں ہے اورایسا کچھ خاص نہیں کیا گیا ہے، جس پر تبصرہ کیا جاسکے۔ یہ آسانی سے سمجھا جاسکتا ہے کہ یوپی اور پنجاب کا الیکشن آرہا ہے اور کسی کو بھی کافی سوچ سمجھ کر آگے بڑھنا ہوگا، تاکہ اپنی پارٹی کے لیے بہتر ماحول بنایا جاسکے۔ یہ ایک عام تجزیہ بھی بتا دے گا کہ وزراء کے انتخاب اور پورٹ فولیو بانٹنے میںپارٹی صدر امت شاہ کا اہم کردار رہا۔ اترپردیش کے حساب سے دیکھیں، تو انوپریا پٹیل ایسی لیڈر ہیں، جنھیں اترپردیش میں کُرمی ووٹ کے لیے لیا گیا ہے۔ پٹیل وہاں ایس پی کے بینی پرساد ورما اور نتیش کمارکو کاؤنٹر کرسکتی ہیں۔ اب وہ کتنی کامیاب اورمؤثر ہوتی ہیں، یہ ایک الگ موضوع ہے۔ دیگر لیڈر کوئی ہیوی ویٹ (بھاری بھرکم) لیڈر نہیںہیں، جو حقیقت میںالیکشن کو متاثر کرسکیں۔
راجستھان کو دیکھیں، تو بی جے پی نے دو وزیروں کو ہٹاکر دو نئے لوگوں کو کابینہ میں شامل کیا ہے۔ یہ تبدیلی ٹھیک ہے۔ جن دو کا ہٹایا ہے، وہ اچھا نہیں کررہے تھے۔ اب نئے دو وزیر کیسا کام کرتے ہیں، دیکھنا ہوگا۔ گجرات سے بھی کچھ بدلاؤ ہوئے ہیں، جس پر پارٹی کی نگاہ سے دیکھیں،تو امت شاہ کی چھاپ دیکھنے کو ملتی ہے۔ سرکار کی نگاہ سے دیکھیں، تو کوئی بہت زیادہ بدلاؤ نہیںآئے گا، کیونکہ زیادہ تر چیزوں کو پی ایم او سے ہی کنٹرول کیا جائے گا۔ سدانند گوڑا جیسے نان پرفارمنگ منسٹر، جنھیں پہلے ریلوے سے وزارت قانون میںبھیجا گیا تھا،کو اب سائڈ لائن کردیا گیا ہے، کیونکہ وہ واقعی اچھا نتیجہ نہیں دکھا سکتے ہیں۔ دو سال بعد ہونے والے کرناٹک انتخاب کو دیکھتے ہوئے انھیںکابینہ سے ہٹایا نہیں گیا ۔ ایسا کرکے بی جے پی کرناٹک کی ووکّالیگا کمیونٹی میںغلط پیغام نہیں پہنچانا چاہتی تھی۔ باقی پورٹ فولیو میںبدلاؤ روٹین ہے۔ اس کے بارے میں زیادہ کچھ نہیں کہا جاسکتا ہے۔
سرکار کی اصل کارکردگی اقتصادی حالت کو دیکھ کر سمجھی جاسکتی ہے۔ مہنگائی اب بھی اونچی سطح پر ہے۔ دال کی قیمتیں آسمان چھو رہی ہیں۔ عام آدمی پریشان ہے۔ سرکار ان سب سے کیسے نمٹے گی ، کوئی نہیں جانتا۔ایسا لگتا ہے کہ سوچ میںکوئی آہنگی نہیں ہی نہیں ہے۔ یہ سرکار سدھار کی بات کرتی ہے۔ 1991 میںجب نرسمہا راؤ اور منموہن سنگھ نے سدھار کی شروعات کی، ہم جیسے سماجوادی خیالات کے لوگوں نے اس پر اپنی رضامندی نہیں دی تھی۔ لیکن اس کے بعد کی سبھی سرکاروں نے اس خیال کو اپنایا۔ 25 سال بعد آج آپ دیکھ سکتے ہیں کہ ان 25 سالوں میں 25 لاکھ نوکریاں بھی پیدا نہیں ہوسکیں۔ بنا نوکری پیدا کیے، سرمایہ کاری کے لیے ماحول بنائے بغیر، سدھار (ریفارم) کو کامیاب نہیں مانا جا سکتا ہے۔ یہ کچھ معاملوں میںضرور کامیاب ہوا۔ امیر لوگوں کی زندگی آسان ہوئی۔سڑکیں بنیں، مال بنے، ملٹی پلیکسس، بیرونی ملک سے سامان کا مفت امپورٹ وغیرہ ہونے لگا۔ لہٰذا امیر لوگوں کی زندگی آسان ہوگئی۔ اس فیصلے کا ایک نتیجہ یہ بھی ہوا کہ زیادہ تر قوانین کو غیر مجرمانہ بنادیا گیا۔ واجپئی سرکار نے فیرا کوفیما میںبدل دیا۔
بدقسمتی سے یہ سرکار بھی الجھن میںنظر آرہی ہے۔ یہ سرکار ہمیشہ لوگوں کو جیل بھیجنے کا خوف دکھاتی رہتی ہے۔وجے مالیا ملک چھوڑ کر جا چکے ہیں۔دیگر لوگ بھی خوف محسوس کر رہے ہیں۔ فیما ایک منی لانڈرنگ ایکٹ ہے۔ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کچھ لوگوں کو جیل میں ڈالنے کے لیے اس کا غلط استعمال کر رہا ہے۔ حقیقت میں یہ سرکار کرنا کیا چاہتی ہے، یہ واضح نہیں ہے۔
صنعت کاروں کی طرف سے یہ سوال کیا جا رہا ہے کہ آپ (سرکار) ایف ڈی آئی لانے کے لیے مدعو کر رہی ہے، اس کا مقصد کیا ہے؟ ہندوستان میں کافی تعداد میں صنعت کار ہیں۔ سرکار بینکرپسی قانون لانا چاہتی ہے۔ امریکہ سے کسی قانون کی نقل کر کے لانے کا کوئی مطلب نہیںہے۔ امریکہ کی ایک الگ قسم کی معیشت ہے۔ وہاں ایک حقیقی سرمایہ دار طبقہ ہے۔ ہندوستان میں کتنے ایسے ارب پتی ہیں جو سرمایہ کاری کرنے میں دلچسپی رکھتے ہوں؟ میرے خیال سے ایسے بہت ہی کم ہیں۔ اگر آج سرکار کسی پبلک سیکٹر کمپنی کو بیچنے کی کوشش کرے تو مشکل سے پانچ یا چھ بڈر (بولی لگانے والے) سامنے آئیں گے ۔ ان میں بھی اڈانی ، امبانی، ٹاٹا، برلا، یہی نام ہوں گے۔
پرائیوٹ سیکٹر کی بات کریں تو 1969میں ہوئے بینکوں کے نیشنلائزیشن کے بعد ہی اس میں تھوڑی بہت تیزی آئی۔ اس سے پہلے کچھ مٹھی بھر گھرانے ہی صنعت وغیرہ چلاتے تھے۔ بینکوں کے نیشنلائزیشن کے بعد ایک عام آدمی ٹرک خرید سکتا تھا، رکشہ خرید سکتا تھا، ٹیکسی خرید سکتا تھا اور ایک خوکفیل کاروباری بن سکتا تھا۔ آج پھر اسی طرح کے ماحول کی ضرورت ہے،جب ایک چھوٹا آدمی قرض لے کر خود کفیل بن سکے۔ گزشتہ 15سالوں میں بینکوں نے صرف بڑی کمپنیوں کو لون دیا اور وہ لون اب این پی اے بن چکے ہیں۔ اس لیے اس طرح کی حکمت عملی کامیاب نہیں ہوسکی۔ بجائے اس طرح کی حکمت عملی کو بدلنے کے، سرکار این پی اے کے لیے مجرم کو جیل بھیجنے کی بات کرتی ہے، ان کی راتوں کی نیند حرام ہوجائے گی۔ آپ کیا کرنا چاہتے ہیں؟
اگر آگے بڑھناسرکار کا مقصد ہے، اگر انفرا سٹرکچر بہتر کرنا ہے، سرمایہ کاری بڑھاناہے، تو پھر یہ ماحول صحیح نہیں ہے۔آپ کو یہ یقین دلانا ہے کہ کوئی جیل نہیں جائے گا۔ اگر کوئی آدمی لون لیتا ہے اور اسے ادا نہیں کرپاتا ہے، تو یہ کوئی مجرمانہ فعل نہیںہے۔ قانون کے لحاظ سے کام کیجئے، املاک ضبط کیجیے، اپنا لون وصول کیجیے۔ سبرتو رائے کو بغیر کسی چارج کے جیل میں رکھنے سے، وجے مالیا کے ملک سے باہر جانے سے آپ کو پیسہ کیسے ملے گا؟ یہ بات سمجھ سے باہر ہے۔ رگھو رام راجن ایسا لگتا ہے کہ بینکوں پر شکنجہ کسنے کا سبب بنے تھے ، جب انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دوبارہ عہدہ نہیں لیںگے ،تب بینکوں نے راحت کی سانس لی۔ کئی بینکرس مجھ سے ملے اور انہوں نے کہا کہ وہ اپنے ان کھاتوں کی دوبارہ جانچ کریں گے، جن میں گڑبڑی پیدا ہوئی ہے اور اس کا حل نکالنے کی کوشش کریں گے۔ مجھے نہیں معلوم کہ کیا واقعی رگھو رام راجن رکاوٹ پیدا کرر ہے تھے۔ اگر ایسا تھا تو اچھا ہے کہ انہیںدوبارہ مقرر نہیں کیا جارہا ہے۔ ہمیں ایک آزاد اور سرکاری لائن سے الگ سوچ والے ایک آربی آئی گورنر کی ضرورت ہے، لیکن وہ کام بھی کرے۔ مانیٹری پالیسی کا تعین ریزرو بینک ہی کرتا ہے، کرنا بھی چاہیے۔ سود کی شرح بھی آربی آئی کو ہی طے کر نا ہے۔ میں یہ نہیں چاہتا کہ آپ یہ تبصرہ کریں کہ رگھورام راجن سود کی شرح نہیں گھٹارہے تھے، اس لیے وہ برے ہیں۔ ہم ایک طرف چاہتے ہیںکہ مہنگائی کی شرح کم ہو، اس کے لیے ریزرو بینک کے پاس جو واحد طریقہ ہے وہ ہے سود کی شرح کو کم کرنا ۔ نئے آربی آئی گورنر کا انتخاب وزیر اعظم اور وزیر خزانہ کے ذریعہ ہی کیا جا نا چاہیے۔ سرکار اس کے لیے سرچ کمیٹی کی بات کرتی ہے، یہ مضحکہ خیز ہے۔ امریکہ، یوکے، یا کسی بھی مغربی ملک میں سنٹرل بینک کے چیف کا انتخاب اقتدار میں بیٹھی سرکار کے ذریعہ ہوتا ہے، نہ کہ کسی کمیٹی کے ذریعہ۔ اس عہدے کے لیے میڈیا میں جتنے بھی نام آئے ہیں، ان میں سے کچھ نام اچھے ہیں، کچھ ایسے ہیں جنہیں اگر گورنر بنا دیا جائے، تو یہ کسی سانحہ سے کم نہیں ہوگا۔ میں امید کرتا ہوں کہ مودی بہتر لوگوں سے مشورہ لیںگے اور کسی اچھے شخص کو گورنر بنائیں گے۔ آپ جس راستے پر آگے بڑھنا چاہتے ہیں ،اس کے لیے آپ کو اقتصادی قوانین کا ڈیکرمنلائیزیشن کرنا ہوگا۔ ایسا کرنا وقت کی ضرورت ہے ورنہ موجودہ پالیسی کو بدل کر 1991سے پہلے کی پالیسی کو اپنائیے، یہ برا بھی نہیں ہوگا۔ یہ ضرور ہے کہ امیر لوگوں کو تھوڑی پریشانی ہوگی، انہیں لائسنس، پرمٹ کی ضرورت ہوگی۔ ان کی زندگی تھوڑی کنٹرول ہو جائے گی۔ لبرلائزیشن کے 25سال بعد کیا ہوا؟ ہرکوئی تو مرسیڈیز کار میں نہیں گھوم رہا ہے۔ اس کا مقصد کیاتھا؟ غریب آدمی آج بھی وہیں ہے جہاں تھا، کسان وہیں ہے جہاں تھا، کسانوں کی زندگی میں بہت معمول بہتری آئی ہے۔ اگر ہم واقعی ایسا ملک بنانا چاہتے ہیں جیسا ملک بنانے کی بات مودی کرتے ہیں،تو بہت ساری پالیسیوں میں تبدیلی کی ضرورت ہوگی۔ انہیں الگ خیالات والے لوگوں پر مشتمل ایک تھنک ٹینک بنانا چاہیے۔ ان کے پاس ایک گرومورتی ہیں۔ اگر وہ گرومورتی کو پالیسی کے تعین میں شامل کریں ،تو یہ ایک بہتر قدم ہوگا۔’ سودیشی جاگرن منچ‘ ہمیشہ چھوٹی اور درمیانی صنعتوں کے مفادات کے لیے جدجہد کرتا رہاہے ۔ یہ سرکار کے لیے اچھا ہوگا کہ اگر وہ ترقی پر مبنی پالیسی بناتی ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here