ابھیشیک رنجن سنگھ 
کیا آدیواسی ہونا اس ملک میں گناہ ہے؟شاید ہاں ، کیونکہ اگر حکومت اور انتظامیہ کی یہ ذہنیت نہ ہوتی تو وہ آدیواسیوں کو اپنی ملکیت نہ سمجھتے۔ آدیواسی اس ملک کے اصلی باشندے ہیں۔ وہ فطرت اور اتفاق باہمی کے ساتھ اپنی زندگی جیتے ہیں۔ہمارے ملک میں ترقی کی ایسی پالیسی بنائی گئی، جس سے آدیواسی زمین سے الگ ہونے کو مجبور ہوئے۔ پہلے ان سے جنگل چھینا گیا۔ اس کے بعد ان کی زمین۔ اس کے بعد بھی من نہیں بھرا تو اب آدیواسی عورتوں اور لڑکیوں کی آبرو کے ساتھ کھیلا جارہاہے۔ چھتیس گڑھ میں موجود کانکیر میں ایک ریاستی آدیواسی ہاسٹل میں نابالغ لڑکیوں کا جنسی استحصال ہونا ثابت کرتا ہے کہ ملک کا یہ محروم طبقہ کہیں بھی محفوظ نہیں ہے۔
کانکیر ضلع کے ایک سرکاری ہاسٹل میں 11نابالغ آدیواسی لڑکیوں کے ساتھ جنسی استحصال کا ایک شرمناک معاملہ سامنے آیا ہے۔ یہ علاقہ چھتیس گڑھ میں نکسل کے زیر اثر نرہرپور بلاک کے جھلیاماری گائوں کا ہے۔ آبروریزی کے ملزم اسکول کے ایک ٹیچر اور چوکیدار ہیں،جنہیں پولیس نے گرفتار کر لیا ہے۔اس ہاسٹل میں تقریباً 50 لڑکیاں رہتی تھیں، جن میں سے سات سے بارہ سال کی 11 لڑکیوں کے ساتھ لگاتار دو برسوں تک آبروریزی کی گئی۔ حادثہ کی تصدیق ہونے کے بعد اسکول کے تین ملازمین کو برخاست کر دیا گیا۔ مقامی لوگوں کے مطابق، اسکول کے ٹیچر منورام گوٹی اور چوکیدار دینا ناتھ شراب کے نشے میں ہاسٹل میں رہنے والی طالبات کا جنسی استحصال کرتے تھے۔ حادثہ کے بعد ریاست کی اپوزیشن پارٹیوں نے گورنر سے اس معاملے میں مداخلت کرنے کی مانگ کی ہے۔ اپوزیشن لیڈروں کا کہنا ہے کہقبائلیوں کی سیکورٹی کے اختیار آئین میں گورنر کو دیے گئے ہیں۔ ایسے میں گورنر اپنے اختیارات کا کیوں استعمال نہیں کرتے؟
کانکیر کا حادثہ سامنے آنے کے بعد سوال یہ اٹھتا ہے کہ آدیواسی عورتوں کی عزت و آبرو کی حفاظت کے لئے آخر سرکار اور ٹرائب منسٹری کیا کر رہی ہے۔ملک بھر میں آدیواسی ویلفیئر ڈپارٹمنٹ کے ذریعہ سینکڑوں ایسے ہاسٹلز ہیں، جہاں جنگل میں رہنے والی لڑکیاں پڑھتی ہیں۔ ان ہاسٹلز کی حالت قابل رحم ہے۔اب آدیواسی اکثریتی ریاست جھارکھنڈ کی ہی مثال دیکھئے، سکنڈ کیپٹل دُمکا میں آدیواسی ہاسٹلز کی حالت دیکھ کر یہی سوال اٹھتا ہے کہ ملک میں آدیواسیوں کی بہبود کے لئے فارسٹ منسٹری آخر کر کیا رہی ہے؟ جھارکھنڈ کا سنتھال پرگنہ آدیواسی اکثریتی علاقہ ہے۔ یہاں ویلفیئر ڈپارٹمنٹ کی طرف سے آدیواسی ہاسٹلز کی تعمیر کرائی گئی ہے، تاکہ وہاں رہ کر غریب آدیواسی طالبات پڑھ سکیں۔حالانکہ یہاں رہنے والی طالبات کی قسمت ،تعلیمی مرکز کہے جانے والے دہلی،ممبئی، الٰہ آباد،بنارس، لکھنؤ اورحیدر آباد میں موجود طالبات کی طرح نہیں ہے۔
جھارکھنڈ کے آدیواسی ہاسٹلز کی جو حالت ہے، اس سے کہیں بہتر حالت ہمارے ملک میں قیدخانے کی ہے۔ سنتھال پرگنہ کالج میں طالبات کی کل تعداد ڈیڑھ سو ہے ،جہاں محض ایک بیت الخلاء ہے، باقی خراب ہو چکے ہیں۔ یہاں باری باری سے طالبات بیت الخلاء کا استعمال کرتی ہیں۔ اوسطاً ایک طالبہ کو فارغ ہونے میں پانچ سے سات منٹ کا وقت لگتا ہے۔اس لحاظ سے دیکھا جائے تو ان کے کئی اہم گھنٹے ضائع ہوجاتے ہیں۔ سب سے تکلیف دہ بات یہ ہے کہ طالبات کو بازار سے لکڑی اور کوئلہ خود لانا پڑتا ہے، وہ بھی اپنے سر پر رکھ کر۔ یہاں ہاسٹلز میں ان کی سیکورٹی کا کوئی بندوبست نہیں ہے۔ ہاسٹل کا احاطہ پوری طرح غیر محفوظ ہے۔ کبھی کبھی منچلے شراب پی کر ہنگامہ کرتے ہوئے ہاسٹل کے احاطے میں گھس جاتے ہیں۔ ایسے واقعات سے یہاں کی طالبات ہمیشہ خوفزدہ رہتی ہیں۔ اس سلسلے میں ہاسٹل سپرنٹنڈنٹ کا جواب حیران کن تھا۔ ان کے مطابق مذکورہ تمام طالبات آدیواسی ہیں۔ سانپ بچھو دیکھ کر ہی بڑی ہوئی ہیں، اس لئے یہ کوئی بڑا مسئلہ نہیں ہے۔ ہاسٹل میں طالبات کے لئے کہیں بہتر نظام ہے، کیونکہ ان کے گھروں کی حالت اس سے بھی خراب ہے۔ پورے ملک میں سرکاری بے اعتنائی کی وجہ سے آدیواسی طلباء و طالبات جانوروں سے بھی بد تر زندگی گزارنیپر مجبور ہیں۔
ملک میں کئی فلاحی منصوبے ہیں،لیکن ان کا کیا حشر ہو رہا ہے، یہ آدیواسی کلیان ہوسٹلوں میں دیکھا جا سکتاہے۔ ایک طرف سرکار ’رائٹ ٹو ایجوکیشن‘ لاگو کرنے کی بات کرتی ہے، وہیں دوسری طرف اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے آئے آدیواسی طلباء و طالبات جس طرح رہ رہے ہیں، اس سے سرکار کی اصلیت سامنے آجاتی ہے۔ آج ملک کی آدیواسی طالبات کی حالت سب کے سامنے ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ مرکزی سرکار اس سے واقف نہیں ہے، پھر بھی وہ بے بس بنی ہوئی ہے۔ اصل میں سرکار جس طرح آدیواسیوں کی قیمت پر سرمایہ داروں کے مفاد کے لئے کام کر رہی ہے، اس سے محروم طبقہ کے لوگوں میں شدید غصہ ہے۔ اگر سرکار جلد ہی آدیواسی طلباء و طالبات کے مسائل کا حل نہیں کرے گی تو یقینی طور پر قلم ، کتاب چھوڑ کروہ سڑکوں پر اتر آئیں گے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here