میرٹھ میں ڈاکٹر سمیت تین لوگوں پر آئی سی یومیں گینگ ریپ کا الزام، اب تک تین گرفتار

Share Article
Meerut

میرٹھ: کہتے ہیں ڈاکٹر بھگوان کا دوسرا روپ ہوتا ہے اور اگر یہی بھگون شیطان بن جائے تو؟ ایسا ہی ایک معاملہ دہلی سے چند کلومیٹر دور میرٹھ سے آیا ہے۔جہاں ایک اسپتال میں ڈاکٹر پر خاتون مریض کے ساتھ گینگ ریپ کا الزام لگا ہے۔خاتون کا الزام ہے کہ، اسپتال کے آئی سی یو(انٹینسیو کیئریونٹ) میں اس کے ساتھ مبینہ طور پر گینگ ریپ کیا گیا۔جس کے بعد پولیس حرکت میں آئی اور اب تک اس معاملے میں پولیس نے تین افراد کو گرفتار کیا ہے۔ وہیں ایک ملزم فرار ہے۔ بتا دیں کہ پولیس کی طرف سے گرفتار ملزمان میں ایک ڈاکٹر۔ نرس بھی شامل ہے۔

واقعہ اترپردیش کے میرٹھ کے ایک پرائیویٹ اسپتال کا ہے۔ پولیس نے بتایا کہ 21 مارچ کو متاثرہ خاتون کو ایک پرائیویٹ اسپتال میں داخل کروایا گیا۔ جسے سانس لینے میں دقت ہو رہی تھی۔وہیں چیکنگ کے دوران خاتون کے فیٹی لیور ہونے کا بھی معاملہ سامنے آیا۔ جس کے بعد اسے آئی سی یو میں داخل کر دیا گیا۔

متاثرہ کے شوہر کی طرف سے جو ایف آئی آر درج کرائی گئی ہے، اس کے مطابق ہفتہ (21 مارچ) کو آئی سی یو میں داخل کیا گیا جہاں پہلے نرس نے اسے ایک نشے کا انجکشن دیا جس کے بعد تین لوگوں نے اس کے ساتھ گینگ ریپ کیا۔ وہیں خاتون کو اس بات کی جانکاری اس وقت ہوئی جب اسے ہوش آیا اور اس نے پایا کہ وارڈ بوائے اس کے ساتھ لیٹا ہوا ہے۔ جس کے بعد وہ چلاّئی، لیکن جب تک میں (شوہر) اندر آئی سی یو میں پہنچا تبتک وہ ملزم وہاں سے بھاگ گیا تھا۔ اس کے بعد متاثرہ فریق کی جانب سے پولیس میں FIR درج کروائی گئی۔

میرٹھ پولیس کے مطابق، طبی معائنہ میں ریپ کی تصدیق ہونے کے بعد چار لوگوں کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ پولیس نے دفعہ 376 کے تحت نیاجو، اشوک ملک، شاداب اور نرس لکشمی کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے۔ وہیں شاداب اس معاملے کا اہم ملزم ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *