ameer
جنوبی ایشیا میں گاؤں عموماً کچی سڑکوں، کچے مکانات اور پسماندگی کے لیے جانے جاتے ہیں لیکن ریاست گجرات میں واقع بلدیا گاؤں کو گجرات کا امیر ترین گاؤں تصور کیا جاتا ہے۔ چوڑی چوڑی سڑکیں اور بڑے بڑے خوبصورت مکانات اس کی خوشحالی کا پتہ دیتے ہیں۔ اس گاؤں کی خوبصورتی اور خوشحالی یوروپی گاؤں کا بھرم پیدا کرتی ہے۔یہاں کے 9 بینکوں کا دو سال کا ڈیٹا اگردیکھیں تو ان میں ڈیڑھ ہزار کروڑ روپے جمع ہیں۔ ڈاکخانوں میں بھی میں بھی پانچ سو کروڑ روپے سے زیادہ لوگوں نے جمع کر رکھے ہیں۔
گاؤں کے اکثر مکانوں پر تالے پڑے ہوئے ہیں۔ یہاں کے بیشتر باشندے دیگر ممالک میں مقیم ہیں ۔کسی مکان میں بوڑھے والدین مقیم ہیں تو کسی مکان میں دیکھ بھال کے لئے نوکر ہیں ۔ یہاں کا آبائی پیشہ زراعت ہے۔ یہاں کے لوگ کئی ملکوں میں پھیلے ہوئے ہیں۔اس گاؤں کے لوگ افریقہ، خاص طور سے نیروبی میں زیادہ ہیں۔ کچھ برطانیہ میں آباد ہیں۔ بہت سے لوگ سیشیلز میں بھی ہیں اب آسٹریلیا بھی جا رہے ہیں۔
تقریبا سو سال پہلے یہاں کے لوگوں نے تجارت اور ایک بہتر زندگی کی تلاش میں بیرونِ ملک جانا شروع کیا۔ وہاں سے وہ ایک بہتر سوچ اور دولت کے ساتھ واپس آئے جسے انھوں نے مزید آگے بڑھایا۔ لوگوں نے گاؤں سے اپنا رشتہ قائم رکھا ہے۔لوگ فیملی کے ساتھ جاتے ہیں، وہاں پیسہ کماتے ہیں۔ لیکن آخر میں وہ یہیں آکر رہتے ہیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here